ادبی تنقید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انگریزی زبان و ادب میں نثر اور شاعری پر تنقیدی جائزے اور تجزیے سے متعلق ایک تصویری پیش کش

ادب کی تاریخ میں ادبی تنقید (انگریزی: Literary criticism) کی کچھ مثالیں ہر دور میں ملتی آئی ہیں۔تاہم اس شعبے میں باقاعدہ علمی کام بیسویں صدی کے آغاز میں نظر آتا ہے جس میں ایک نمایاں مثال رشین فارمل ازم Formalizim ہے جس میں ہیئتی نظام ، لفظی تراکیب، بحث و مباحثہ اور زبان کے استعمال کی بنیاد پر تنقید وتحسین کے تجزیئے ہونے شروع ہونے لگے ۔ اس سے قبل کلاسیکیت اور رومانیت میں معیاری شعر وادب کا اعزاز زیادہ تر مصنف کے بلند کردار ،منفرد انداز اور متعلقہ زبان پر عبور رکھنے کو دیا جاتا تھا۔اس کے بعد رفتہ رفتہ تنقید کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہیں اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اسٹرکچرلزم اور ماڈرنزم (جدیدیت) کے رجحانات کوفروغ ملا ۔ ان رجحانات جن میں ساختیات ، پس ساختیات ، جدیدیت ، مابعد جدیدیت اور رد تشکیلیت شامل ہیں۔ ایک مشترکہ صفت یہ ہے کہ یہ سب محض ادب کے فریم ورک میں ہی مقید ہیں ۔ [1] اردو کے ادبی نقاد اور ادبی اور ثقافتی نظریہ دان احمد سہیل ننے لکھا ہے۔ " ادبی تنقید کے آفاق اور سیاق میں نامیاتی رشتوں کو مسمار کیا گیا جس میں تمام ادبی تنقیدی مخاطبوں کو مشکوک بنادیا گیا۔ تخلیقیت کی کی دنیا میں تنقیدی نظریہ کو " گستاخ" سمجھا گیا اور ان کی ساکھ کو ناقابل یقین حد تک " بدنام" ہے مگر اس کے روایتی خدوخال کو نشان زدہ کرنے کا کام ہوا جیسا ٹیری ایگلٹن نے بیاں کیا ہے۔ انھوں نے اس ریڈیکل ازم کی طرف اشارہ کیا ہے اور یوں متصاذات نظریات کی شروعات ہوئی ۔ پیرس میں مشل فوکو نے 1960 میں طالب علوں کی ساتھ مل کر جامعات اور سڑکوں پر کارل مارکس، ماو زوتنگ اور مارکیوز کے نعروں کے ساتھ اپنےفکری، ادبی اور ثقافتی تنقیدی رویوّں کو تشریح کرنا چاھا۔ ادبی انتقادات معاشرتی اور بشریاتی نظریہ یساریت پسندی کی طرح اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ ان نظریات کے پس منظر میں تجربات، معطیات، اعداد شمار اورمنطقی متعلقات کی طویل تاریخ موجود ہے۔ جس میں ترمیمات کی گئی اور انھیں مسترد بھی کیا گیا ساتھ ہی انھیں ہر زمانے میں چیلنج کیا گیا اور کچھ ادبی تنقیدی معاملات کو اپنے طور پر ردوبّدل کیا گیا۔ اس سلسلے میں اعتدال پسندانہ اور مناسبت انداز میں مطالعہ وقرات بھی کیا گیا مگر ادبی نظرئیے اور اس کی تنقیدی میں معاشرتی نظریات کی طرح سائینسی نہیں ہوتی۔ ادبی تنقید میں سچ کو دریافت کے لیے مسترد نظریات پر نظرثانی بھی کی جاتی ہے۔ جب ادبی نقاد کا ذہن اپنا " علم" خود پیدا کرتا ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ نوآبادیاتی، صنفی مطالعے، ثانیثییت، ، پس رتّشکیل، نسلی تنقید، نیوکلیائی مخاطبہ اور پس رد ساختیات جیسے نظریات میں مصنف کی چھپی ہوئی آوازیں اور معاشرتی حیاتیات کو غیر جانبدارانہ طور پر ان سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اردو کے ناقدیں معاشرتی تنقید کی مناجیات اور نظریات سے اغماّض برتے ہیں۔ اس سبب وہ ادبی دیگر اصناف جیسے شاعری، فکشن، ڈرامہ اور تنقید کی ثقافت اور سائیکی کو سمجھ نہیں پاتے۔ کیونکہ وہ مبینہ طور پر اپنے فکری بنجر پن کے سبب اس کی مخالفت کرتے ہیں لہذا وہ معاشرتی اور بشری مطالعات اور مناجیات کے معاشرتی تعامل اور انسانی حیاتیات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اور اس التباس میں وہ اسے "سازش" اور معاشرتی تحقیقات کو بغیر سوچے سمجھے " فاسد" قرار دے دیتے ہیں۔ اور کمال ہوشیاری سے ان موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ جس کا " فسانے میں ذکر" نہیں ہوتا۔ اسی سبب مفاہیم اور تشریحات کا بحران ، تشکیک اور ابہام پیدا ہوتا ہے ۔ جو کئی فکری تنازعات کے طوفان کھڑا کردیتے ہیں۔ شاید اسی سبب پچھلی صدی میں ادبی نظریاتی تنقید اور بالخصوص مابعد جدیدیت کے نظرئیے میں زندگی اور موت کی " گرانڈ تھیوری" کی روایت میں دانشور اور کئی مبصرین اپنی یاد دہانی کی شکست کا اظہار کرتے ہیں۔ جیسے وہ اپنے مفاہیم کی اصل اسطوریہ کو قابل احترام تصور کئے بیٹھے ہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ نوے/90 کی دہائی اور نئی صدی کے شروعات میں نظرئیے کی موت کا اعلان کیا گیا تھا۔ خاص کر نفی دانش کے زعما نے اس میں رچے بسے فرانسیسی ادبی تنقید کے ستاروں نے "موت" اور "تھیوری/ نظرئیے " کی موت اور اس کے جنازہ کیوں اور کہاں اور کیسے دیکھ لیا؟ جن میں اگو منڈن، بوزوگز، نگااری اور رینسز پیش پیش تھے ۔ اس میں " سچ " معروضیت اور عالمگیریت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ غالبا اس کی وجہ ادبی تنقیدی نظرئیے میں جولیا کرسٹیوا اورژاک دریدا کی " صحافیانہ موشگافیاں" اور پر اسرار کردار بھی شامل ہو۔ جس نے اپنے قاری کوغیر ضروری مباحث میں الجھا کر بہت بھٹکایا ہے۔*** {احمد سہیل}

مزید دیکھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]