نسیم حجازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نسیم حجازی
معلومات شخصیت
پیدائش 19 مئی 1914  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع گرداسپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 مارچ 1996 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

نسیم حجازی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام "نسیم حجازی" سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنہوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔

عملی زندگی کا آغاز[ترمیم]

نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔

نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد، انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ، معظم علی اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ، قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیدہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈراما سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔

نسیم حجازی کی تصانیف[ترمیم]

نام صنف تاریخی دور/واقعات
خاک اور خون ناول برطانوی راج، تقسیم ہند، تحریک پاکستان
یوسف بن تاشفین ناول اندلس، طوائف الملوکی کا پہلا دور، دولت مرابطین، استرداد
آخری چٹان ناول خوارزمیہ پر منگول حملہ، سقوط بغداد (خلافت عباسیہکا خاتمہ)
آخری معرکہ ناول محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں سے متعلق
اندھیری رات کے مسافر ناول استرداد، سقوط غرناطہ
کلیسا اور آگ ناول مسلمانوں کا اندلس سے انخلاء]]-اندھیری رات کے مسافر کا اگلا حصہ
معظم علی ناول برطانوی راججنگ پلاسی، تیسری جنگ پانی پت، اینگلو میسور جنگیں (سلطان حیدر علی کا دور)
اور تلوار ٹوٹ گئی ناول اینگلو میسور جنگیں (ٹیپو سلطان)کا دور۔ معظم علی سے آگے
داستان مجاہد ناول خلافت امویہ- فتح اندلس، فتح سندھ،, فتح وسط ایشیاء اور فتح المغرب۔
انسان اور دیوتا ناول قدیم ہندوستان-برہمناورکھشتریذات کے لوگوں کے شودروں پر مظالم
محمد بن قاسم ناول فتح سندھ
پاکستان سے دیار حرم تک سفر نامہ
پردیسی درخت ناول برطانوی راج، تقسیم ہند سے چند سال پہلے
گمشدہ قافلے ناول برطانوی راج، تقسیم ہند، تحریک پاکستان-(پردیسی درخت سے آگے۔)
پورس کے ہاتھی ڈراما پاک بھارت جنگ 1965ء
قافلئہ حجاز ناول خلافت راشدہ، فتح ایران
قیصر و کسر'ی ناول Byzantine–Sasanian War of 602–628، جزیرہ نما عرب میں ترویج اسلام
ثقافت کی تلاش ڈراما، طنزومزاح
شاہین ناول استرداد، سقوط غرناطہ اندلس کے نوجوان حریت پسند بدربن مغیرہ کی داستان
سو سال بعد ناول، طنزومزاح
سفید جزیرہ ناول، طنزومزاح

روابط[ترمیم]

نسیم حجاری کے ناولوں پر پی ایچ ڈی کا ایک مقالہ