فتح سندھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

712ء کواموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے لیے بھیجا۔ اس لشکر نے ملتان تک کے علاقے کو فتح کرکے اسلامی قلمرو میں شامل کیا۔

وجوہات[ترمیم]

فتح مکران کے موقع پر تصادم[ترمیم]

راجہ داہر حاکم سندھ نے مسلمانوں کے ساتھ خواہ مخواہ کی دشمنی شروع کر دی تھی۔ 22 ھ میں مسلمان مجاہد ایران فتح کرنے کے بعد مکران پر حملہ آور ہوئے تو سندھیوں نے ان کی بھرپور مخالفت کی۔ مسلمانوں نے سندھ اور مکران پر کے متحدہ لشکر کو شکست دی ۔ لیکن اس وجہ سے مسلمانوں اور حکومت سندھ کے درمیان عناد کا بیج بویا گیا۔

باغیوں کی پشت پناہی[ترمیم]

باہمی دشمنی کی فضا کو راجہ داہر نے برقرار رکھا اور جب مکران میں ایک سردار محمد علافی نے مکران کے گورنر کو قتل کرکے سندھ کی راہ لی تو راجہ داہر نے اسے اپنے ہاں پناہ دی اور اپنی فوج میں اسے عہدہ بھی دیا۔

راجہ داہر کی ظالمانہ حکومت[ترمیم]

راجہ داہر چونکہ متعصب ہندو اور برہمن زادہ تھا ۔ اس لیے اس نے بدھ مت کے پیروکاروں پر بے پناہ مظالم ڈھائے ۔ اور بزور شمشیر ان کو مٹانے کی پالیسی پر عمل کیا ۔مظلومین میں جاٹ اور لوبان قومیں بھی شامل تھیں۔ جن کو راجہ داہر کے باپ چچ نے ذلیل و رسوا کرنے کے لیے ان پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ اصلی کی بجائے مصنوعی تلوار اپنے پاس رکھیں۔ قیمتی کپڑے ، ریشم مخمل اور شال استعمال نہ کریں۔ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سواری کریں ننگے سر اور ننگے پیر رہیں اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنا کتا ساتھ رکھیں۔ راجہ داہر نے بھی ان پابندیوں کو قائم رکھا ۔ سندھ کے یہ مظلوم طبقے مسلمانوں سے مدد کے طالب تھے۔

ایران پر قبضہ کی وجہ سے استحقاق[ترمیم]

سندھ قدیم زمانے میں ساسانی حکومت کا حصہ رہا ۔ جو اب مسلمانوں کے قبضے میں آ چکی تھی۔ اس لیے مسلمان اسے اپنی حکومت کا ایک ٹوٹا ہوا حصہ قرار دیتے تھے۔

فوری وجہ[ترمیم]

راجا داہر کا ڈاکوؤں کی سرکوبی کرنے سے انکار[ترمیم]

تجارت کی غرض سے کچھ مسلمانوں تاجر لنکا میں آباد ہو گئے تھے۔ لنکا کے راجہ کے حجاج کے ساتھ بہت خوشگوار تعلقات تھے۔ اس نے ان تعلقات کو مزید خوشگوار بنانے کے لیے کچھ قیمتی تحائف اور وفات شدہ تاجروں کے بیوی بچے ایک جہاز میں سوار کرکے بصرہ روانہ کر دیے۔ لیکن جب دیبل کے قریب پہنچا میدھ قوم کے کچھ ڈاکوؤں نے اسے لوٹ لیا اور عورتوں کو قیدی بنا لیا۔ انہی عورتوں میں سے ایک عورت نے حجاج کے نام دہائی دی۔ اس واقعہ کی اطلاع جب حجاج کو ملی تو اس نے فوری کارروائی کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے راجہ داہر کو سامان واپس کرنے ، یتیموں اور عورتوں کو رہا کرنے اور ڈاکوؤں کو اسلامی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس نے بڑا روکھا جواب دیا۔ اور کہا ڈاکوؤں کو پر میرا کوئی اختیار نہیں اور نہ ہم ان کی تلاش کر سکتے ہیں۔ جہاں تک قیدی عورتوں کا تعلق ہے انہیں تم خود ہی چھرانے کی کوشش کرو۔ حجاج یہ جواب سن کر آگ بگولا ہوگیا۔ اور فوراً فوجی کارروائی کا انتظام کیا اس طرح راجہ کی ہٹ دھرمی نے عربوں کو سندھ پر حملہ آور ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

مفروروں کا حوالے نہ کیا جانا[ترمیم]

اس حملے کی دوسری وجہ محمد بن حارث علافی اور اسکے پانچ سو ساتھی کو امویوں کے حوالے نہ کیا جانا بھی بتایا جاتا ہے [حوالہ درکار]۔حجاج کے مقرر کردہ مالیاتی عامل جس کا نام سعید تھا، نے سفہوی بن لام الحمامی کو قتل کر دیا، جواب میں علافی قبیلے والوں نے سعید کو قتل کر دیا، حجاج نے علافیوں کے کئی لوگوں کو قتل کروایا۔ اس کے علاوہ حجاج نے اپنے نئے گورنر کو کہا " علافیوں کو تلاش کرنا اور کسی طرح بھی انہیں قبضہ میں کر کے سعید کا انتقام لینا "۔اسی وجہ سے علافی قبیلہ کے لوگ بھاگ کر راجہ داہر کے ہاں پناہ لینے آ گئے۔

واقعات[ترمیم]

عبید اللہ اور بدیل کی مہمات کی ناکامی[ترمیم]

حجاج بن یوسف نے راجہ داہر کے نامعقول رویہ کی وجہ سے 710 ء میں عبید اللہ کی قیادت میں ایک فوج بھیجی لیکن اسے شکست ہوئی۔ اگلے سال دوسری مہم بدیل کی سرکردگی میں بھیجی گئی لیکن اسے بھی راجہ داہر کے بیٹے نے شکست دی۔ ان دونوں مہمات کی ناکامی کے بعد مسلم حکومت کے وقار کو بحال کرنے کے لیے سندھ کی فتح ناگزیر ہوگئی تھی۔ اس لیے حجاج بن یوسف نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اس کی اجازت حاصل کی۔

محمد بن قاسم کی فتوحات[ترمیم]

محمد بن قاسم حجاج کا بھتیجا تھا بعض روایت کے مطابق چچیرا بھائی تھا۔ وہ اس وقت فارس کا گورنر تھا ۔ سترہ سال کا کم عمر نوجوان ہونے کے باوجود انتہائی ہوشیار اور قابل جرنیل تھا۔ حجاج بن یوسف |حجاج]] نے اس کی نگرانی میں 12 ہزار فوج تیار کی اور سوئی دھاگہ سے لے کر منجنیق تک ضرورت کی ہر چیز کا سامان مہیا کیا۔ بھاری سامان ایک بحری بیڑے کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ حجاج بن یوسف |حجاج]] نے گزشتہ مہمات سے سبق لیتے ہوئے بڑی احتیاط سے کام لیا۔ فوج کی اصل کمان اس کے اپنے ہاتھ میں تھے۔ اور محمد بن قاسم کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوجی کارروائی کے دوران مرکز کی ہدایات پر عمل کرے۔

دیبل کی فتح 712ء[ترمیم]

[[محمد بن قاسم]] مکران کے راستے سندھ کی طرف روانہ ہوا اور پنجگوار اور ارمن بیلہ کو فتح کرتا ہوا دیبل پہنچا۔ بحری راستے سے روانہ ہونے والی فوج یہیں اس سے آملی ۔ دیبل کی بندر گاہ کراچی کے قریب تھی۔ اہل شہر قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہے۔ کئی ماہ محاصرہ جاری رہا لیکن شہر فتح ہونے میں نہ آتا تھا۔ آخر کار حجاج بن یوسف کی ہدایت کے مطابق منجنیق کو ایک خاص زاویہ پر نصب کرکے شہر پر سنگباری شروع کی گئی اسی اثناء میں محمد بن قاسم کو معلوم ہوا کہ جب تک شہر کے وسط کا گنبد محفوظ ہے۔ شہر والوں کے حوصلے بلند رہیں گے۔ چنانچہ محمد بن قاسم نے خصوصی طور پر گنبد کو نشانہ بنایا ۔ گنبد گرنے سے اہل شہر کے حوصلے پست ہوگئے اور راجہ داہر کا حاکم شہر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ محمد بن قاسم نے شہر پر قبضہ کرکے ایک مسجد تعمیر کروائی ۔ اس نے دشمن کر مرعوب کرنے کے لیے تمام مخالف لشکر کو تہ تیض کر دیا ۔ اور بدھ مت کے پجاریوں اور مسلمان قیدیوں کو ظالم ہندوؤں سے نجات دلائی ۔ اس سے بدھ مت کے حامی کھلم کھلا مسلمانوں کی حمایت کرنے لگے۔

نیرون[ترمیم]

نیرون کی آبادی اور حاکم بدھ مت کا پیروکار تھے ۔ وہ مسلمانوں سے خائف بھی تھی۔ اور انہیں اپنا نجات دہندہ بھی سمجھتے تھے۔ اس لیے محمد بن قاسم کے نیرون پہنچنے سے پہلے ہی نیرون کے حاکم نے حجاج سے امان نامہ منگوا لیا تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر کے پہنچنے پر اس نے امان ناہ پیش کیا۔ سالار لشکر کی خدمت میں تحائف پیش کیے اور سندھ کی تسخیر کے لیے قابل قدر مشور ے دیے۔ اسلامی لشکر کے لیے اس نے رسد کا بھی انتظام کیا۔ محمد بن قاسم نے بھی اس کی ہر طرح قدر افزائی کی ۔ شہر میں ایک مسجد تعمیر کی گئی اور مسلمانوں کی کالونی بسائی گئی۔

سیوستان کی فتح[ترمیم]

نیرون کے بعد محمد بن قاسم سیوستان کی طرف بڑھا۔ نیرون کا بدھ راجہ رہنمائی کے لیے ساتھ تھا۔ راستے میں بہرج کی بدھ آبادی نے اطاعت قبول کر لی۔ سیوستان پر راجہ داہر کا بھتیجا بجہرا حکومت کرتا تھا۔ اگرچہ یہاں کے عوام مسلمانوں کی اطاعت کر لینے پر تیار تھے لیکن راجہ مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔ تاہم جب مقابلہ ہو ا تو شہر کی آبادی نے اس کاساتھ نہ دیا۔ اور وہ شہر چھوڑ کربھاگ گیا شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔

سیسم کی فتح[ترمیم]

راجہ بجہرا سیوستان سے بھاگ کر سیسم چلا گیا۔ جہاں کا راجہ بدھ مت کا پیروکار تھا۔ اور مسلمانوں سے لڑنا نہ چاہتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کی خدمت میں حاضر ہو کر اطاعت قبول کر لی۔ محمد بن قاسم نے اس کی بہت عزت افزائی کی۔ جس سے اہل سندھ بہت متاثر ہوئے ۔ اور کاکاکو اس کی ریاست کا انتظام دوبارہ سونپ دیا گیا۔ اس نے تسخیر سندھ میں تعاون کا وعدہ کیا اور آئندہ مہمات میں ساتھ رہا۔ راجہ بجہرا کو جو ابھی تک سیسم میں ہی مقیم تھا۔ وہاں سے نکالا نہ جا سکا۔ اس پر محمد بن قاسم نے سیسم پر حملہ کر دیا۔ راجہ بجہرا نے دوسرے سرداروں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا اور سبھی مارے گئے۔ سیسم پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ باقی ماندہ فوج نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی۔

اشیہار کی فتح[ترمیم]

سیسم کی فتح کے بعد حجاج کی طرف سے حکم ملا کہ راجہ داہر کے پایہ تخت پر حملہ کیا جائے اور خود راجہ داہر سے مقابلہ کیا جائے ۔ اس لیے محمد بن قاسم نیروان واپس پہنچا اور داہر کے پایہ تخت پہنچنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ چنانچہ اس نے اشیہار کے قلعہ پر حملہ کیا ۔ جہاں لوگوں نے خندق کھود کر زبردست حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔ ایک ہفتہ کے سخت محاصرہ کے بعد اہل قلعہ نے اطاعت قبول کر لی۔ اور محمد بن قاسم ان سے حسن سلوک سے پیش آیا۔

راجہ موکا کی اطاعت[ترمیم]

محمد بن قاسم کے لیے دریا عبور کرنا مشکل تھا۔ جب تک اسے سورتہ کے حاکم راجہ موکا کا تعاون حاصل نہ ہو۔ چنانچہ اس نے موکا کو خط لکھ کر اطاعت اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے اپنے علاقے کے علاوہ کچھ کا حکمران بھی بنانے کا وعدہ کیا۔ راجہ نے لکھا کہ میری داہر کے ساتھ قرابت داری ہے۔ اس لیے اگر کھلم کھلا میں آپ کا ساتھ دیتا ہوں تو خاندان کی ناک کٹتی ہے۔ اپنے بیس سرداروں کے ساتھ لڑکی کی شادی کرنے کے بہانے ساکڑ جاتا ہوں۔ آپ ایک ہزار سپاہ بھیج کر مجھے گرفتار کرو لیجیے۔ چنانچہ محمد بن قاسم نے موکا کو گرفتار کر لیا۔ اور اسے بیس ٹھاکر گرفتار ہوگئے۔ محمد بن قاسم نے راجہ موکا کی عزت افزائی کے لیے ان کے رواج کے مطابق اسے سردربار کرسی پر بٹھایا اور خلعت فاخرہ سے نوازا تاکہ تالیف قلب ہو سکے۔

راجہ داہر سے مقابلہ[ترمیم]

محمد بن قاسم چاہتا تھا کہ دریائے سندھ کو عبور کرکے داہر کا مقابلہ کرے کہ داہر نے موکا کی اطاعت سے برہم ہو کر ایک فوج بھیجی جو دریائے سندھ کو عبور کرکے مسلمانوں کے مقابلہ پر آئی لیکن شکست کھائی ۔ محمد بن قاسم نے ایک نو مسلم کو راجہ داہر کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا۔ سفیر جو دیبل کا ایک معزز ہندو گھرانے سے متعلق تھا اور راجہ داہر اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کے دربار میں شاہی آداب بجا لانے سے انکار کر دیا۔ اس پر راجہ داہر سخت برہم ہوا اور کہا کہ ’’افسوس تم سفیر بن کر آئے ہو ورنہ قتل کے سوا تمہاری کوئی سزا نہ تھی۔‘‘ سفارت ناکام ہوگئی اور راجہ داہر اپنا لشکر لے کر دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر خیمہ زن ہو گیا اور اپنے ایک سردار کو دریائے سندھ کی حفاظت پر متعین کر دیا۔ تاکہ اسلامی لشکر دریا عبور نہ کر سکے ۔ اسی دوران سیوستان میں بغاوت ہو گئی ۔ جس کو فرو کرنے کے لیے محمد بن قاسم کو ایک دستہ روانہ کرنا پڑا۔

محمد بن قاسم کے لیے بڑا مسئلہ دریا عبور کرنا تھا۔ داہر نے موکا کے بھائی راسل کو دریا کی حفاظت پر متعین کر رکھا تھا۔ مسلمانوں نے کشتیوں کا پل بنانے کا ارادہ کیا۔ لیکن دوسرے کنارے پر راسل کے سپاہی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتے تھے۔ بالآخر ایک رات مسلمانوں نے کشتیوں کو دریا کے طول کے رخ پر کھڑا کرکے انہیں عرض کے رخ پر کھینچ دیا۔ راجہ راسل کے جن سپاہیوں نے مزاحمت کی وہ تیر اندازوں کے ہاتھ سے مارے گئے اور مسلمانوں فوج نے دریا عبور کرکے راسل کی فوج پر بھرپور حملہ کر دیا اور ان کے قلعے فہم کے پھاٹک تک ان کا تعاقب کیا۔ صبح راجہ داہر کو مسلمان فوج کے دریا عبور کرنے اور راسل کی شکست کی خبر سنائی گئی۔ تو اس نے اسے بدشگونی قرار دیا اور راجہ راسل نے بھی بدلتے ہوئے حالات کو بھانپ کر محمد بن قاسم کی اطاعت قبول کر لی۔

اسلامی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا ۔ نرانی ۔ نامی گاؤں پر قابض ہو گیا۔ راجہ داہر کے بالکل سامنے واقع قصبہ کاجی جاٹ میں مقیم تھا۔ درمیان میں صرف ایک جھیل تھی۔ موکا اور راسل نے ایک کشتی کے ذریعے تین تین آدمی جھیل کے پار بھیجنے شروع کر دئیے۔ یہاں تک کہ تمام لشکر پار جا اترا ۔ راجہ نے اپنے اہل و عیال کو دراوڑ کے قلعے میں بند کر دیا اور خود لڑائی کی تیاری کی۔

راجہ داہر ایک سو ہاتھیوں ، دس ہزار زرہ پوش سوار اور تیس ہزار پیدل فوج کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے مقابلہ پر آیا۔ چار دن تک مقابلہ جاری رہا۔ منہ زور ہاتھیوں کے سامنے مسلمانوں کا زور نہ چلتا تھا۔ آخر پانچویں مسلمانوں مسلمانوں نے پچکاریوں کے ذریعہ آتش گیر مادہ ہاتھیوں پر پھینکنا شروع کیا۔ جس سے وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ راجہ داہر کا ہاتھ بھی میدان سے بھاگا۔ لیکن راجہ داہر ہاتھی سے اتر کر پیادہ لڑتا رہا یہاں تک کہ ایک عرب نے اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کے مرتے ہی فوج قلعہ دراوڑ کی طرف بھاگ گئی۔ اس معرکہ میں محمد بن قاسم کی کل فوج ساڑھے پندرہ ہزار تھی جن میں 4 ہزار سندھی جاٹ بھی شامل تھے۔ اور تین ہزار فوج موکا کی تھی۔

رواڑ کی فتح[ترمیم]

راجہ داہر کے لڑکے جے سنگھ نے شکست خورہ فوج کو راوڑ میں جمع کیا اور مقابلہ کی ٹھانی لیکن اس کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ رواڑ کی بجائے برہمن آباد زیادہ محفوظ مقام ہے وہاں جاکر مقابلہ کرنا چاہیے۔ جے سنگھ تو برہمن آباد چلا گیا۔ لیکن راجہ داہر کی بیوی رانی بھائی (راجہ داہر کی بہن جس کے ساتھ اس نے خود شادی بھی کی تھی ۔ تاریخ سندھ 78) نے مقابلہ کیا۔ لیکن جب دیکھا کہ قلعہ بچانا مشکل ہے تو اس نے دوسری عورتوں سمیت ستی کی رسم ادا کی اور راوڑ پر مسلمانوں کے قدم مضبوط ہوگئے۔

بہرور اور وہلیلہ کی فتح[ترمیم]

محمد بن قاسم راوڑ سے برہمن آباد کی طرف بڑھا۔ راستے مین بہرور اور وہلیلہ دو مضبوط قلعے پڑتے تھے۔ محمد بن قاسم پہلے بہرور پر حملہ آور ہوا۔ اور دو ماہ کے سخت محاصرے اور شب و روز کی جنگ کے بعد بہرور پر قبضہ کر لیا۔ اس کے وہلیلہ پر حملہ کیا۔ یہاں کے لوگ بد دل ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اور قلعہ با آسانی فتح ہو گیا۔

راجہ کے وزیر سی ساکر کی اطاعت[ترمیم]

راجہ داہر کا دور اندیش وزیر سی ساکر بھانپ گیاتھا کہ اب مسلمانوں کے حملے کو روکنا ناممکن ہے۔ اس نے محمد بن قاسم کے پاس جان بخشی کی درخواست کی او ر تعاون کا یقین دلایا ۔ اور وہ عورتیں بھی پیش کیں جن کو قزاقوں نے لوتا تھا ۔ اور جن کی وجہ سے سندھ پر حملہ ہوا تھا۔ سی ساکر نے خیر خواہی اور وفاداری سے محمد بن قاسم کا اعتماد حاصل کر لیا۔ محمد بن بن قاسم نے بھی اسے اپنا مشیر خصوصی بنا لیا او راس کے مشورے سے وہلیلہ کی حکومت ایک ہندو نوبہ کے حوالے کی گئی۔

برہمن آباد کی فتح[ترمیم]

راجہ داہر کا لڑکا جے سنگھ اپنی فوج کے ساتھ یہاں مقیم تھا۔ جن دنوں برہمن آباد پر محمد بن قاسم نے حملہ کیا۔ ان دنوں جے سنگھ فوجی ضروریات کے تحت باہر گیا ہو تھا۔ جب وہ واپس لوٹا تو اسلامی فوجیں شہر کا محاصرہ کر چکی تھیں۔ جے سنگھ نے مسلمانوں کی رسد بند کرنے کی کوشش کی۔ لیکن راجہ موکا کی قیادت میں ایک دستے نے اس پر حملہ کیا تو وہ شہر کو اپنے بھائی گوپی کے حوالے کرکے کشمیر کی طرف نکل گیا۔ چند دنوں بعد شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۔ یہاں راجہ داہر کی بیوی لاڈی گرفتاری وئی۔ محمد بن قاسم نے حجاج کی اجازت سے اس کے ساتھ شادی کر لی۔

ارور کی فتح[ترمیم]

ارور جو روہڑی سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے ، راجہ داہر کی راجدھانی اور سندھ کا اہم ترین مقام تھا۔ برہمن آباد کی فتح کے بعد حجاج بن یوسف نے ملکی انتظام کے بارے میں بہت سی ہدایات دیں اور ساتھ ہی ارور اور ملتان فتح کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ محمد بن قاسم برہمن آباد کی رہنمائی میں اسلامی لشکر ارور پہنچا ۔ ایک ماہ کے بعد اہل قلعہ صلح پر آمادہ ہوگئے۔ اور عربوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ داہر کا بیٹا گوپی قلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔

ملتان کی طرف پیش قدمی[ترمیم]

ارور کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے ملتان کی طرف پیش قدمی کی راستے میں قلعہ بابیہ تھا ۔ جن پر راجہ داہر کا بھتیجا کسکا حکمران تھا۔ جو داہر کے قتل کے بعد اس قلعہ پر قابض ہوگیا تھا۔ محمد بن قاسم نے لوگوں سے تحقیق کی کہ وہ واقعی داہر کے خاندان سے ہے۔ اس کے بعد کاہ کہ اگر میرے پاس آئے تو میں اس کی قدر افزائی کروں ۔ کسکا کو معلوم ہوا تو فوراً حاضر خدمت ہوا اور وزیر مال مقرر ہوا۔ اور قلعہ فتح ہو گیا۔ اس کے بعد اسکندہ پر حملہ کیاگیا جو کم و بیش ایک ہفتہ کی مزاحمت کے بعد فتح ہوا۔ یہاں کے حاکم سنگھ رائے بھاگ کر سکہ چلا گیا۔ جہاں کا حاکم بجہرا کا نواسہ تھا۔ اس لیے اپنے نانا کا انتقام لینے کے لیے لڑا۔ لیکن ایک رات قلعہ سے بھاگ کر ملتان کی طرف نکل گیا۔ اورقلعہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔

ملتان کی تسخیر 714ء[ترمیم]

ملتان سندھ کا اہم سیاسی ، ثقافتی اور مذہبی مرکز تھا۔ یہاں گور سنگھ کی حکومت تھی۔ جو بہت مضبوط راجہ سمجھا جاتا تھا۔ اس نے دو روز تک قلعہ سے باہر نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ سخت جنگ ہوئی۔ جس میں بہت سے اہم مسلمان جرنیل شہید ہو گئے۔ اس کے بعد وہ قلعہ بند ہو گیا۔ اس بے آب و گیاہ علاقہ میں مسلمانوں کے لیے زیادہ دیر تک محاصرہ جاری رکھنا ممکن نہ تھا۔ ان کے لشکر میں قحط پڑ گیا۔ اس لیے انہوں نے بھرپور حملہ کرکے شہر پر قبضہ کرکے قحط سے نجات پانے کا منصوبہ بنایا بہت زودار معرکے ہوئے۔ بالآخر مسلمانوں کو اس نالے کا علم ہو گیا جو اہل شہر کو پانی مہیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس کا رخ بدل دیا۔ اہل شہر پیاسے مرنے لگے اور مجبوراً قلعہ سے باہر نکل کر لڑے۔ لیکن شکست کھا کر پھر قلعہ بند ہوگئے اتفاقاً ایک قیدی سے مسلمانوں کو قلعہ کی فصیل کا کمزور حصہ معلوم ہوگیا۔ اور دو تین دن کی سنگ باری سے شہر کی فصیل ٹوٹ گئی۔ اور مسلمان قلعہ میں داخل ہوگئے۔ ملتان سے محمد بن قاسم کو ایک مندر کا محفوظ خزانہ ہاتھ لگا جو سینکڑوں من سونے پر مشتمل تھا۔ محمد بن قاسم نے اس خزانہ سے وہ وعدہ پورا کیا جو حجاج نے خلیفہ ولید سے کیا تھا کہ وہ مہم پر خرچ ہونے والی تمام رقم کا دگنا شاہی خزانہ میں داخل کر دے گا۔

ملتان محمد بن قاسم کی آخری قابل ذکر فتح تھی۔ اس کے بعد اس نے کچھ سرحدی قلعے مزید فتح کیے۔ انتظام سلطنت کو درست کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ قنوج پر بھی حملہ کرے ۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک لشکر روانہ کیا اور اودہے پور تک گیا۔ خود وہ کشمیر کی طرف بڑھا۔ لیکن اس دوران میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا۔ نیز خلیفہ ولید بن عبدالملک بھی چل بسا ۔ اور نئے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے محمد بن قاسم کی گرفتاری اور واپسی کے احکام صادر کر دئیے

فتح سندھ کی اہمیت[ترمیم]

عربوں نے فتح سندھ ولید بن عبدالملک کے زمانے کی بہت سی فتوھات میں سے ایک ہے۔ لیکن تاریخ عالم میں اس واقعہ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس اہمیت کے چند نکات درج ذیل ہیں

برصغیر جنوبی ایشیاء میں اسلام کی بھرپور لہرآئی۔ سندھ کو باب الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہوا اور ایک ایسے خطہ زمین میں اسلام کا بیج بویا گیا جو منگولوں کے فتنہ کے زمانے میں تمام مظلوموں کی پناہ گاہ ثابت ہوا۔

سندھ میں نئے حکمرانوں کے ساتھ نیا مذہب ، نئی تہذیب اور سوچ کے نئے انداز بھی داخل ہوئے اور ایک زیادہ ترقی یافتہ نظام حکومت بھی برصغیر میں پہنچا جس میں عوام کی فلاح کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لوگوں کے انسانی حقوق بھی حاصل تھے اور مذہبی آزادی بھی ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ مل گیا۔

اسلامی تہذیب و تمدن نے سندھ کو متاثر کیا۔ اور وہاں ایک مشترکہ ثقافت وجود میں آئی۔ سندھ زبان کا عربی رسم الخط ، سندھی میں شامل بے شمار عربی الفاظ اور معاشرت میں عربوں کے اثرات اسی فتح کے نتیجہ کے طور پر وجود میں آئے ۔ عربی گھوڑا ور صحرائی جہاز اونٹ ، صحرائے سندھ میں بھی استعمال ہونے لگا۔ فن تعمیر میں محراب و مننبر اور مینار کا استعمال شروع ہوا اور کھلی اور ہوا دار عمارتیں بننے لگیں اور عوام میں قانون و اخلاق کی پابندی کا جذبہ پیدا ہوا۔

فتح سندھ کے نتیجہ کے طور پر پرصغیر میں تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ اور اس کے بعد کی برصغیر کی تاریخ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی نہیں ہے

فتح سندھ نے برصغیر کی فتح کا راستہ کھول دیا۔ کیونکہ سندھ میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے مراکز قائم ہوئے۔ آبادی مسلمان ہوگئی اور مسلمان حکومتیں قائم ہوئیں اور مسلمانوں کو اس خطہ زمین کے اندرونی حالات سے آگاہی ہوئی نیز یہ بھی اندازا ہوگیا کہ اس ملک کی فتح کے لیے سندھ کے شمال میں واقع زرخیز میدانوں کی طرف پیش قدمی ہونی چاہیے۔