عبد اللہ بن عامر بن کریز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن عامر بن کریز
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 622  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 678 (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن عامر بن کریز عبشمی قریشی، جلیل صحابی ہیں، خراسان کے کے پورے خطہ کے فاتح ہیں، عثمان بن عفان کے زمانے میں بصرہ کے والی تھے، پھر معاویہ بن ابو سفیان نے معزول کر دیا۔ اپنی قوم کے نہایت شریف اور نیک انسان تھے، قریش اور عرب میں ان کی سخاوت و کرم کا شہرہ تھا۔[1][2][3]

نسب[ترمیم]

ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، عبشمی قریشی۔

والدہ:- دجاجہ بنت اسماء بن الصلت بن حبیب بن حارثہ بن ہلال بن حرام بن سمال بن عوف بن امرؤ القیس بن بہثہ بن سلیم بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس عیلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، سلمیہ۔

ولادت[ترمیم]

عبد اللہ بن عامر کی ولادت پیغمبر اسلام Mohamed peace be upon him.svg کی حیات میں ہجرت کے چوتھے سال (سنہ 4ھ) میں مکہ میں ہوئی، جب محمد Mohamed peace be upon him.svg 7ھ میں عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے، تو عبد اللہ کو ان کی خدمت میں پیش کیا گیا، اس وقت ان کی عمر تین سال تھی، رسول اللہ نے تحنیک کی انھوں نے ان کا لعاب نگل لیا۔ رسول اللہ نے فرمایا: "یہ ہمارا بیٹا ہے، ہمارے مشابہ ہے، اسے پانی پلایا جائے گا (پیاسا نہیں رہے گا)۔" چنانچہ جس سرزمین پر بھی قدم رکھتے وہاں پانی نکل جاتا تھا۔

فتوحات[ترمیم]

خراسان کے پورے خطے اور سارے علاقوں کی فتح انھیں کا کارنامہ ہے۔ انھوں نے عبدالرحمن بن سمرہ کو سیستان بھیجا، انھوں نے اسے صلح پر فتح کیا، پھر "داور" کو بھی فتح کیا۔ عبد اللہ بن عامر "بارز" اور فارس کے قلعوں کو فتح کر رہے تھے، "اصطخر" کو دوبارہ فتح کیا۔ اسی طرح جور، کاریان اور فنسجان کو بھی فتح کیا، پھر خراسان کو فتح کرنے کی چاہت ہوئی۔ عثمان بن عفان سے اجازت طلب کی، اور بصرہ میں ابو الاسود الدؤلی کو اپنا جانشیں بنایا۔ خراسان اور کرمان کے درمیان کے علاقہ کو فتح کر کے قبضہ میں لیا، مرو کا رخ کیا، چنانچہ حاتم بن نعمانی باہلی اور نافع بن خالد طاحی نے اسے فتح کیا۔ پھر عبد اللہ بن سوار عبدی کو "مرو الروذ" کے لیے بھیجا، انھوں نے فتح کیا۔ یزید حرشی کو "زام"، "باخرز" اور "جوین" بھیجا انھوں نے تمام کو فتح کیا۔ عبد اللہ بن خازم کو سرخس بھیجا انھوں نے صلح پر اسے فتح کیا۔ اور دوسری طرف عبد اللہ بن عامر نے "ابر شہر عنوہ"، طوس، "طخارستان"، نیشاپور، بوشنج، باذغیس، ابیوزد، بلخ، طالقان اور فاریاب کو فتح کیا۔ صبرہ بن شیمان ازدی کو ہرات بھیجا انھوں نے وہاں کے قلعوں کو فتح کیا۔ عمران بن فصیل برجمی کو آمل روانہ کیا انھوں نے اسے فتح کیا۔ ابن سمرہ کو مزید آگے بڑھنے کا حکم دیا انھوں نے "بست" اور مضافات کو فتح کیا، پھر کابل اور زابلستان کو بھی فتح کیا اور مال غنیمت عبد اللہ بن عامر کی خدمت میں بھیجا۔ اس طرح انھوں نے اس زمانے کے پورے خراسان کو تھوڑا تھوڑا کر کے فتح کر لیا۔

وفات[ترمیم]

عبد اللہ بن عامر کی وفات سنہ 57ھ یا سنہ 58ھ میں ہوئی۔ انھوں نے عبد اللہ بن زبیر کی حق میں خلافت کی وصیت کی کی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "معلومات عن عبد الله بن عامر بن كريز على موقع babelnet.org". babelnet.org. 10 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. "معلومات عن عبد الله بن عامر بن كريز على موقع id.loc.gov". id.loc.gov. 10 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  3. "معلومات عن عبد الله بن عامر بن كريز على موقع id.worldcat.org". id.worldcat.org. 10 ديسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة
  • الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني
  • الاستيعاب لابن عبد البر
  • الطبقات الكبير لابن سعد الزهري