نزول عیسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نزول عیسیٰ سے مراد مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس کے مطابق پیغمبر عیسی ابن مریم کی آمد ثانی یقینی ہے یعنی اِس دنیائے ارضی میں وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔ عیسی ابن مریم کی اس آمدِ ثانی کو علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ اُن کی آمد قربِ قیامت واقع ہوگی۔

عقیدہ نزول عیسیٰ[ترمیم]

اِسلامی عقیدہ کے مطابق عیسی ابن مریم نہ تو صلیب پر چڑھائے گئے اور نہ ہی اُن کی طبعی وفات واقع ہوئی بلکہ وہ زِندہ آسمان پر اُٹھا لیے گئے ہیں، اِسی بنا پر آخری زمانے میں اُن کی دوبارہ آمد اِس دنیا میں ہوگی۔ اِس عقیدے کے متعدد شواہد و ثبوت پیغمبر محمد کی احادیث میں ملتے ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث میں یہ عقیدہ یوں بیان ہوا ہے کہ:

اُس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ضرور وہ وقت آنے والا ہے جب عیسیٰ ابن مریم عادل حاکم بن کر اُتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جنگ موقوف کر دیں گے اور مال کی اِس درجہ کثرت ہوگی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔[1][2]

بوقت نزول حلیہ مبارک[ترمیم]

امام احمد بن حنبل (متوفی 241ھ) نے مسند احمد بن حنبل میں کسی قدر طویل اور مفصّل روایت کو نقل کیا ہے جس میں نزول عیسی ابن مریم کے متعلق تفصیل سے علامات ملتی ہیں جس سے اُن کو اُن کی آمد کے وقت پہچاننا باآسانی ممکن ہو سکے گا۔ مسند احمد بن حنبل میں نقل کردہ روایت کے مطابق بوقت نزول عیسی ابن مریم کا حلیہ یوں ہوگا: ’’میانہ قد، سرخ و سفید رنگت والے ہوں گے، اُن کے بدن پر سرخی مائل دو چادریں ہوں گی اور وہ اِس حال میں نازل ہوں گے کہ گویا ابھی غسل کرکے آ رہے ہیں (یعنی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا)۔‘‘[3]

مقام نزول[ترمیم]

ابوہریرہ سے ایک روایت صحیح مسلم میں مروی ہے کہ: نزولِ مسیح (عیسی ابن مریم) شام میں اُس وقت ہوگا جب اہل اسلام دشمن سے ایک بڑے معرکے کے دوران میں نماز پڑھنے لگے ہوں گے (یعنی مسلمان اُس وقت نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے)۔‘‘[4]

دوسری روایت قدرے تفصیل سے نقل ہوئی ہے کہ جسے کم از کم بیس سے زائد صحابہ کرام نے روایت کیا ہے۔ نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قربِ قیامت کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:

قیامت کے قریب دجال ظاہر ہوگا، اُس کو ہلاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ عیسی ابن مریم کو نازل فرمائیں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے۔ اُن کے بدن پر دو چادریں ہوں گی (پہلی روایت کے مطابق سرخی مائل چادریں ہوں گی)۔‘‘[5]

نزولِ عیسیٰ ابن مریم سے متعلق متعدد روایات[ترمیم]

احادیث مبارکہ میں نزولِ عیسیٰ ابن مریم سے متعلق متعدد روایات نقل ہوئی ہیں جن کا مجموعہ یہ ہے:

  • وہ رات سخت تاریک ہوگی۔
  • اور لوگ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے (مذکورہ روایت اوپر گزر چکی ہے)۔
  • صبح کی تاریکی میں اچانک کسی کی آواز سنائی دے گی (کہ تمہارا فریاد رَس آ پہنچا)، لوگ تعجب سے کہیں گے کہ: ’’یہ تو کسی شکم سیر کی آواز ہے۔‘‘
  • (نمازِ فجر کے وقت) عیسیٰ ابن مریم کا نزول ہوگا (ایک دوسری روایت میں وقتِ عصر میں بیان ہوا ہے لیکن متفقہ روایات کے مطابق وقتِ فجر ہوگا)۔۔
  • نزول کے وقت وہ (عیسیٰ ابن مریم) اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح بخاری: کتاب الانبیاء، باب 49، جلد 2، صفحہ 370، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  2. صحیح مسلم: جلد 1، صفحہ 135، رقم الحدیث 242، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  3. صحیح مسلم: جلد 8، صفحہ 176، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  4. صحیح مسلم: جلد 8، صفحہ 198، مطبوعہ قاہرہ، 1374ھ
  5. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 14، حصہ 2، صفحہ 368، مطبوعہ لاہور، 1987ء