ابوہریرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

آپ کےنام کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔آپ کا نام کفر میں عبدالشمس اور اسلام میں عبدالرحمن ابن صخردوسی ہے،کسی نے عمر بن عامر، کسی نے عبداللہ بن عامر بھی لکھا خیبر کے سال اسلام لائے،چار سال سفر و حضر میں حضور کے ہمراہ سایہ کی طرح رہے،آپ کو بلی بڑی پیاری تھی،حتی کہ ایک بار اپنی آستین میں بلی لیے ہوئے تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ابوہریرہ یعنی بلیوں والے ہو،تب آپ اس کنیت سے مشہور ہوگئے،مدینہ منورہ میں ۳۵ھ؁میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے ۸۷ سال عمر ہوئی،غضب کا حافظہ تھا،آپ سے چار ہزارتین سو چونسٹھ حدیثیں مروی ہیں۔[1] قبول اسلام کے بعد رسول اللہ نےآپ کا نام عمیر رکھا۔ ہریرہ، ہرہ (بلی) کی تصغیر ہے۔ آپ کو بلیوں سے بہت انس تھا اس لیے اس کنیت سے مشہور ہوئے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر مدینہ آکر اسلام قبول کیا اور زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ کی صحبت میں گزارا۔ حدیث کے سب سے بڑے راوی ہیں اور سلطان الحدیث کہلاتے ہیں۔ حضرت عمر کے زمانے میں مدینے میں گوشہ نشین ہوگئے اور یہیں بعض روایات کے مطابق ٧٨ سال کی عمر میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد 1 صفحہ25نعیمی کتب خانہ گجرات