نافع بن جبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نافع بن جبیر
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 717  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد جبیر بن مطعم  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فقیہ،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نافع بن جبیرؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

نافع نام، ابو محمد کنیت، صحابی رسول جبیر بن مطعم کے بیٹے اور قریش کے مشہور کافر سردار، حامی رسول مطعم بن عدی کہ جس نے تبلیغ اسلام کے ابتدائی دور میں جبکہ آنحضرت ﷺ پر ہر طرف سے مشرکین کا نرغہ تھا، آنحضرت کی بڑی حمایت کی تھی، کے پوتے تھے، نسب نامہ یہ ہے، نافع بن جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبدمناف بن قصی ماں کا نام ام قتال تھا، نانہالی شجرہ یہ ہے، ام قتال بنت نافع بن ضریب بن نوفل۔

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے نافع اکابر تابعین میں تھے، امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ امام اور فاضل تھے، ان کی توثیق وجلالت پر سب کا اتفاق ہے۔[1] ابن خراش کہتے ہیں کہ وہ ثقہ مشہور اور ائمہ میں سے تھے۔

حدیث[ترمیم]

اگرچہ حدیث میں ان کا کوئی بلند پایہ نہ تھا، لیکن انہوں نے زمانہ ایسا پایا تھا، جب مدینہ کی گلی گلی سمعت و حدثنا کے ترانوں سے گونج رہی تھی، اور علم کے ساتھ ادنٰی ذوق رکھنے والے بھی اس سے محروم نہ تھے، اس لیے نافع بن جبیر کا دامن بھی اس دولت سے خالی نہ رہا؛ چنانچہ انہوں نے اپنے والد جبیر بن مطعم، مولا علی، حضرت عباس بن خدیج، عبداللہ بن عباس ابوہریرہ، ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور ام سلمہ وغیرہ جیسے اکابر ملت سے فیض اٹھایا تھا۔[2] ان کے فیض سے نافع کا دامن علم اتنا وسیع ہوگیا تھا کہ شائقین حدیث ان کے کمالاتِ علمی سے استفادہ کرتے تھے۔ ان سے روایت کرنے والوں میں عروہ بن زبیر، سعید بن ابراہیم، امام زہری، حبیب بن ابی ثابت، صالح بن لیسان، صفوان بن سلیم، عبداللہ بن فضل ہاشمی، موسیٰ بن عقبہ، عمرو بن دینار اور عتیبہ بن مسلم وغیرہ لائقِ ذکر ہیں۔ [3]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی انہیں بہت درک تھا، وہ مدینہ کے صاحبِ افتا علماء میں تھے اور ان کے فتاوی معتبر سمجھے جاتے تھے۔[4]

فصاحت وبلاغت[ترمیم]

قریش کی فصاحت وبلاغت مشہور ہے، یہ خاندانی وصف ان کے حصہ میں وافر آیا تھا، وہ بڑے فصیح و بلیغ تھے اور بڑی کڑک دار آواز سے بولتے تھے۔[5]

فضائل واخلاق[ترمیم]

فضائل اخلاق و عمل کی دولت سے بھی بہرہ ور تھے ابن حبان ان کو خیار ناس میں لکھتے ہیں۔[6]

پاپیادہ حج[ترمیم]

آرام کے وسائل رکھتے ہوئے راہِ خدا میں تکلیف اٹھانا بڑی عبادت ہے، نافع محض حصولِ اجر کے لیے پاپیادہ حج کیا کرتے تھے، عمران بن موسیٰ کا بیان ہے کہ نافع پاپیادہ حج کرتے تھے اور ان کی سواری ان کے پیچھے ہوتی تھی۔

دبدبہ وشکوہ[ترمیم]

ان کے خاندان میں پشتہا پشت سے سرداری چلی آتی تھی، اس لیے ان کے مزاج میں اس کی بو باقی تھی، نہایت بھاری اور بلند لہجہ میں باتیں کرتے تھے، بعض بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں خود پرستی و تمکنت تھی، لیکن ان کی ظاہری شوکت سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے وہ خود اس کی تردید کرتے تھے، ایک مرتبہ کسی نے ان سے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ میں تکبر ہے، انہوں نے جواب دیا خدا کی قسم میں گدھے پر سوار ہوا ہوں، شملہ پہنا ہے، بکریوں کا دودھ دوہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے یہ کام کیے اس میں تکبر کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا پھر میں متکبر کیسے ہو سکتا ہوں۔[7]

اصلاحِ نفس[ترمیم]

ان کے واقعاتِ زندگی سے بھی اس کی تردید ہوتی ہے وہ عمداً ایسے کام کیا کرتے تھے جو پندار کے خلاف ہوتے تھے، جعفر بن نجیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ نافع بن جبیر، علا بن حرقی کے حلقہ درس میں جو حرقہ کے غلام تھے، شریک ہوئے علا کے درس تمام کرنے کے بعد نافع نے حاضرین سے مخاطب ہوکر کہا، آپ لوگ جانتے ہیں آپ لوگوں کے پاس کیوں آکر بیٹھا ہوں، انہوں نے جواب دیا درس سننے کے لیے، نافع نے کہا نہیں؛ بلکہ اس لیے کہ آپ کے پاس بیٹھنے سے خدا کے پاس تواضع کا اظہار ہو، اسی طریقہ سے ایک مرتبہ ایک بہت معمولی شخص کو امامت کے لیے بڑھایا، نماز ختم ہونے کے بعد اس سے پوچھا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں آگے بڑھایا تھا اس نے کہا نماز پڑھانے کے لیے، کہا نہیں؛ بلکہ اس لیے کہ تمہارے پیچھے نماز پڑھنے سے خدا کے حضور میں تواضع ظاہر ہو۔[8]

وفات[ترمیم]

سلیمان بن عبدالملک کے آخر عہدِ خلافت 93ھ میں وفات پائی۔[9]

اولاد[ترمیم]

وفات کے بعد محمد، عمر، ابوبکر اور علی کئی لڑکے یادگار چھوڑے۔

حلیہ ولباس[ترمیم]

بالوں میں سیاہ خضاب کرتے تھے، دانتوں میں سونےکے تار کسے ہوئے تھے لباس عموماً سپید اور قیمتی پہنتے تھے، خز جو ایک پیش قیمت کپڑا ہے زیادہ استعمال کرتے تھے۔[10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تہذیب الاسماء، ج اول، ق2، ص122)
  2. (تہذیب التہذیب:10/405)
  3. (تہذیب التہذیب:1/405)
  4. (ایضاً)
  5. (ابن سعد، ج5، ص153)
  6. (ایضاً)
  7. (ابن سعد، 5/153)
  8. (ابن سعد ایضاً)
  9. (ابن سعد ایضاً)
  10. (ابن سعد ایضاً:152)