ہرم بن حیان عبدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہرم بن حیان عبدی
معلومات شخصیت

ہرمؒ بن حیان عبدی تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

ہرم نام،والد کا نام حیان تھا، عبدی کی نسبت غیر معلوم ہے لیکن ان کے حالات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عبدیتکا حقیقی مظہر تھے؛چونکہ طبقات ورجال کی کتابیں زیادہ تر علمی اغراض کے لیے لکھی گئی ہیں اور ان کے لکھنے والے محدثین ہیں،اس لیے ان میں عموماً انہی لوگوں کی حالات ملتے ہیں ،جن کا تعلق کسی نہ کسی حیثیت سے علم سے تھا اور ان بزرگوں کے حالات جو اس مکتب کے تربیت یافتہ نہ تھے یا جن کی روحانیت کے نور نے ان کی علمی روشنی کو مدہم کردیا تھا،بہت کم ملتے ہیں ابن حبان بھی اس مقدس زمرہ میں تھے،اس لیے ان کے حالات جو اس مکتب کے تربیت یافتہ نہ تھے یا جن کی روحانیت کے نور نے ان کی علمی روشنی کو مدہم کردیا تھا، بہت کم ملتے ہیں،ابن حبان بھی اسی مقدس زمرہ میں تھے،اس لیے ان کے حالات ابن سعد کے علاوہ کسی کتاب میں نہیں ملتے۔کان لہ فضل وعبادۃ

علمی حیثیت[ترمیم]

اگرچہ ابن حیان ظاہری علوم سےبے گانہ تھے،لیکن ان کا شمارصاحب فضل تابعین میں ہے،ان کے ہم مشرب حضرت خواجہ حسن بصری نے ان سے روایت کی ہے لیکن وہ کسی اور ہی مکتب کے تربیت تھے،اس لیے انہوں نے علم کی قبا نہیں پہنی اورنہ اس زمرہ میں ان کا شمار ہوا۔

روحانی کمالات[ترمیم]

ان کا اصل رنگ زہد وعبادت اورفنا فی اللہ تھا،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں: کان لہ فضل وعبادۃ

ایک سبق آموز مثال[ترمیم]

ان کے رنگ طبع کے اعتبار سے ان کو دنیاوی امور سے کوئی مناسبت نہ تھی،لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ میں کوئی عہدہ یا کوئی خدمت ان کے متعلق کی تھی،لیکن اس سے ان کو کیا نسبت ہوسکتی تھی ،دنیاوی عہدوں کے اوصاف ولوازم میں سے ان کے پاس اگر کوئی چیز ہوسکتی تھی تو دیانت تھی،جس کا ثبوت انہوں نے ایک سبق آموز شکل میں دیا عہدہ ملنے کے بعد انہوں نے اپنے اعزہ واحباب کی یورش کے خیال سے غالباً گزرگاہ پر یا کسی اورشکل سے اس طرح آگ جلوادی کہ وہ ان کے اورباہر آنے والوں کے درمیان حائل ہوجائے؛چنانچہ کچھ لوگ آئے اور دور سے سلام کرکے کھڑے ہوگئے ،ہرم نے ان کے ساتھ ظاہری اخلاق صرف کیا اورخوش آمدید کہہ کر بلایا،انہوں نےکہا آئیں کس طرح ہمارے اورآپ کے درمیان تو آگ حائل ہے،آپ نے یہ سبق آموز جواب دیا کہ تم لوگ خود تو اتنی آگ کو عبور نہیں کرسکتے اور مجھ کو اس سے زیادہ آتشِ سوزان میں جھونکنا چاہتے ہو یہ جواب سُن کر وہ لوٹ گئے۔

عمل کی اہمیت[ترمیم]

علم کو وہ زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے،اصل شئے عمل کو سمجھتے تھے اور بے عمل علماء سے سخت نفرت کرتے تھے اورانہیں فاسق کہتے تھے، ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ فاسق علماء سے بچتے رہو،حضرت ؓ عمر کو اس کی اطلاع ہوئی تو سخت متعجب ہوئے کہ عالم فاسق کیسے ہوسکتا ہے؟ انہوں نے ابن حیان سے پوچھ بھیجا،انہوں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم امیر المومنین اس میں میری نیت نیک تھی،بسااوقات امام کہتا تو علمی باتیں ہے،لیکن عمل فسق کا کرتا ہے اس لیے لوگ شبہ میں پڑ کر گمراہ ہوجاتے ہیں۔

خواجہ اویس قرنی کی باتیں[ترمیم]

حضرت اویس قرنی ان کے ہم مشرب وہم مذاق تھے اس لیے ان دونوں کی ملاقاتیں نہایت پر کیف ہوتی تھیں،ابن حیان ان کی ایک ملاقات کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میں بصرہ سے آرہا تھا کہ فرات کے کنارہ اویس سے ملاقات ہوئی،میں نے پوچھا میرے بھائی کیا حال ہے،کیسا مزاج ہے،اویس کیا حال ہے کیسامزاج ہے،انہوں نے کہا میرے بھائی تم کیسے ہو؟ اس ابتدائی آداب ملاقات کے بعد میں نے ان سے فرمائش کی کہ کوئی حدیث سنائیے،جواب دیا میں اپنے اوپر یہ دروازہ کھول کر محدث قصہ گو اورمفتی بننا پسند نہیں کرتا یہ کہہ کر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر روئے،میں نے کہا کچھ قرآن ہی سنائیے،آپ نے یہ آیتیں تلاوت کیں: حم ، وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ،إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ [1] حم یہ کتاب جو واضح ہے،ہم انے اس کو مبارک رات میں اتارا کہ لوگوں کو ڈرانے والے تھے۔ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ تک سنا کر بے ہوش ہوگئے، ہوش آنے کے بعد فرمایا مجھے عزلت اورتنہائی زیادہ پسند ہے۔

وصیت وفات[ترمیم]

اس رنگ کے باوجود جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ہمیشہ آمادہ رہتےتھےاور آپ کے سامان میں زرہ اورگھوڑا رہتا تھا،اسی سلسلہ میں کسی مہم کے لیے نکلے اورانتقال کرگئے غالباً دوران علالت میں یا کسی اورموقع پر کسی نے عرض کیا کہ کچھ وصیت فرمائیے،فرمایا کیا وصیت کروں بس صرف یہ وصیت ہے کہ میری زرہ بیچ کر میرا قرض ادا کرنا اگر زرہ کافی نہ ہو تو گھوڑی بھی بیچ ڈالنا،اگر یہ بھی کافی نہ ہو تو غلام بھی فروخت کردینا،سورہ نحل کی ان آخری آیات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ خدا کے راستہ پر حکمت اورموعظتِ حسنہ کے ساتھ لوگوں کو بلاؤ تجہیز وتکفین کے بعد آسمان نے قبر پر ابر رحمت کے موتی برسائے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (الدخان:۳)
  2. (یہ تمام حالات ابن سعد،ج۷،ق اول،ص ۹۱ تا ۹۷ سے ماخوذ ہیں)