خارجہ بن زید بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سات فقہائے مدینہ

خارِجہ بن زيد: ولادت (29ھ -650ء وفات 99ھ- 717ء)

نام و نسب[ترمیم]

خارجہ بن زيد بن ثابت الانصاری، کنیت ابو زيد، والد معروف صحابی زید بن ثابت جو نقبائے مدینہ تھے قبیلہ بنی نجار سے تعلق تھا اس لیے نجاری بھی کہلاتے تھے مدینہ منورہ کے فقہائے سبعہ میں سے ایک ہیں یہ تابعی ہیں عثمان غنی کے دور خلافت میں رہے مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔[1] ان کا شمار مدینہ کے مشہور فقہائے سبعہ میں ہوتا تھا۔ یہ ساتوں فقہا مدینہ میں مقیم تھے، یہ ہم عصر تھے اور انھی کے ذریعے سے فتوے اور فقہ کا علم پھیلا۔

درویش منش[ترمیم]

خارجہ بن زید اپنے والد زید بن ثابت کی طرح مسائل وراثت کے ماہر تھے۔ مدینہ کے لوگ خارجہ اور طلحہ بن عبد اﷲ بن عوف کے پاس اپنے گھروں،مال مویشی اور کھجوروں کے باغات کی تقسیم کے مسائل لاتے۔ یہ دونوں ان مسئلوں میں لوگوں کی عملی رہنمائی کرتے،اہل مدینہ کو ان کے فیصلوں پربھروسا ہوتا۔ لوگ ان سے اپنی قانونی تحریریں اور وثیقے بھی لکھواتے۔ خارجہ درویش منش تھے ،اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے انھیں کچھ مال بھیجاتو انھوں نے پاس رکھنے کی بجائے اسے بانٹ دیا۔ ایک موقع پر حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمان جاری کیا: خارجہ کا بیت المال سے روکاجانے والا حصہ انھیں دے دیا جائے۔ خارجہ ابو بکر بن حزم کے پاس گئے اورکہا: میں نہیں چاہتاکہ امیرالمومنین پر اس وجہ سے کوئی حرف آئے، کیونکہ میری طرح اور بھی لوگ ہیں( جن کا نام بیت المال کے رجسٹر سے کاٹا گیا ہے)۔ اگر امیر المومنین اس فرمان میں ان کو بھی شامل کر لیں تو میں عطیہ قبول کروں گا، لیکن اگر وہ یہ نوازش خاص مجھ پر کریں گے تو مجھے یہ اچھا نہ لگے گا۔ عمر نے جواب لکھا: بیت المال اس قدر عطیوں کی گنجایش نہیں رکھتا، اگر اس میں اتنی وسعت ہوتی تو میں کر گزرتا۔

وفات[ترمیم]

خارجہ کی وفات 99ھ میں مدینہ ہی میں ہوئی۔ مرنے سے پہلے انھوں نے خواب دیکھا کہ وہ 70 سیڑھیاں چڑھ چکے ہیں اور پھر نیچے لڑھک گئے ،اتنی ہی ان کی عمر ہوئی۔ ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ان کا جنازہ پڑھایا۔ رجا بن حیوہ نے عمر بن عبد العزیز کوخارجہ بن زید کی وفات کی خبر دی، انھوں نے انا ﷲ وانا الیہ رٰجعون پڑھا ،افسوس سے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: بخدا،اسلام میں شگاف پڑ گیا ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حليۃ الاولياء جلد2:صفحہ 189
  2. سير الاعلام 4 / 382