دجال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

دجال یا مسیح دجال مسلمانوں کے نزدیک اس شخص کا لقب ہے جو قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک اور قرب قیامت یعنی آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ امام رازی لکھتے ہیں:

" وأمّا المسيح الدجّال فإنّما سُمّي مسيحاً لأحد وجهين أولهما : لأنّه ممسوح العين اليمنى، وثانيهما : لأنّه يمسح الأرض أي يقطعها في زمن قصير لهذا قيل له: دجّال لضربه في الأرض وقطعه أكثر نواحيها، وقيل سُمّي دجّالاً من قوله : دَجَلَ الرجلُ إذا مَوَّه ولبَّس "[1]

تعارف[ترمیم]

دجال قوم یہود سے ہوگا۔[2] ہر نبی نے اس کے فتنہ سے اپنی اپنی (قوموں) امتوں کو ڈرایا ہے مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے اس کے فتنہ کو انتہائی وضاحت سے بیان فرمانے کے ساتھ ساتھ بہت سی نشانیاں اور اس سے بچاؤ کے طریقے اپنی امت کو سمجھا دیے ہیں۔ احادیث نبویہ میں "دجال" کا کوئی اصلی نام نہیں آیا، اسلامی اصطلاح میں اس کا لقب "دجال" ہے اور یہ لفظ اس کی پہچان اور علامت بن گیا ہے۔ اس کا فتنہ بہت سخت ہوگا چنانچہ رسول پاک ؐ نے فرمایا! آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت قائم ہونے تک کوئی بھی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔[3]

دجال لفظ کا مادہ[ترمیم]

دجال لفظ کا اصل مادہ د، ج، ل۔ دجال کا لفظ اس مادے سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ دجل کا معنی ہے ڈھانپ لینا ،لپیٹ لینا۔ دجال اس لیے کہا گیا کیونکہ اس نے حق کو باطل سے ڈھانپ دیا ہے یا اس لیے کہ اس نے اپنے جھوٹ، ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی فوجوں سے زمین کوڈھانپ لے گا اس لیے اسے دجا ل کہا گیا ہے اس لقب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (دجال اکبر بہت بڑے فتنوں والا ہے) وہ ان فتنوں کے ذریعے اپنے کفر کو ملمع سازی کیساتھ پیش کریگا اور اللہ کے بندوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیگا نیز یہ کہ اس کا فتنہ عالمی فتنہ ہوگا۔

"دجال" عربی زبان میں جعل ساز، ملمع ساز اور فریب کار کو بھی کہتے ہیں۔ "دجل" کسی نقلی چیز پر سونے کا پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔ دجال کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جھوٹ اور فریب اس کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ہوگا۔ اس کے ہر فعل پر دھوکا دہی اور غلط بیانی کا سایہ ہوگا۔ کوئی چیز، کوئی عمل، کوئی قول، اس شیطانی عادت کے اثرات سے خالی نہ ہوگا۔

تین عالمی مذاہب[ترمیم]

دنیا میں موجود تین بڑے آسمانی مذاہب (اسلام، یہودیت، مسیحیت) کے ماننے والے جو دنیا کی غالب اکثریت بھی ہیں ،ایک ہستی کا انتظار کر رہے ہیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگی اور انسانیت کے لیے نجات دہندہ اور مسیحا ثابت ہوگی۔ ہر آسمانی دین میں اس مسیح موعود کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ناموں کی ان وجوہات میں کوئی تضاد نہیں۔ اس قسم کے تمام فضائل ہی ان میں جمع تھے لہٰذا یہ تمام وجوہات اپنی جگہ درست ہیں اور دجال کا خروج حتمی ہے۔
حدیث شریف

عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله علیہ و آلہ و سلم: "من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدی فقد کفر" ۔[4] ترجمہ: جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جھٹلایا وہ کافر ہے۔

مسیح الدجال[ترمیم]

"دجال" کو احادیث میں مسیح الدجال بھی کہا گیا ہے۔[5] دجال اکبر کا نام مسیح کیوں رکھا گیا؟ بہت سے اقوال میں سے سب سے زیادہ واضح قول یہ کہ:

  • دجال کو مسیح کہنے کی وجہ یہ کہ اس کی ایک آنکھ اور ابرو نہیں ہے۔
  • بے شک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پُھلی ہو گی۔[6][7]

دجال کے جھوٹے ہونے کی علامات[ترمیم]

  1. وہ آنکھوں سے نظر آ رہا ہوگا(حالاں کہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے)۔
  2. وہ کانا ہوگا حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہوگا۔
  3. اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان "کافر"جو ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔[8][9]

دجال کا شخصی خاکہ[ترمیم]

رسول مقبولؐ نے خواب میں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں کہ اس دوران انہیں دجال دکھایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا :

وہ بھاری بھرکم جسم، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال اور ایک آنکھ سے نابینا ہے۔ اس کی آنکھ لٹکے ہوئے انگور کے دانے جیسی ہے۔[10]

ظہور دجال کی احادیث[ترمیم]

اس کے متعلق 4 احادیث ملتی ہیں:

  1. وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راستہ پر نمودار ہوگا۔[8] [11]
  2. خوزوکِرمان(خراسان کی طرف کے علاقے)۔[12][13]
  3. خراسان۔[14]
  4. اصفہان کے مقام یہودیہ۔[15]

تاہم احادیث کی روشنی میں کسی خاص جگہ کو دجال کے ظہور کے لیے مختص نہیں کیا گیا، جیسے ماہ رمضان کی شب قدر کی رات کا خاص تعین نہیں کیا گیا۔ البتہ احادیث کی روشنی میں چار مقامات میں بظاہر تضاد معلوم ہونے کی صورت میں اس کی تطبیق کتاب تحفۃ الالمعی میں یوں بیان کی گئی ہے کہ: دجال کا خروج سب سے پہلے شام اور عراق کے درمیان کی گھاٹی سے ہوگا، مگر اس وقت اس کی شہرت نہ ہوگی، اس کے اعوان و انصار (مدد گار) یہودیہ گاؤں میں اس کے منتظر ہوں گے، وہ وہاں جائے گا اور ان کو ساتھ لے کر پہلا پڑاؤ خوز و کرمان میں کرے گا، پھر مسلمانوں کے خلاف اس کا خروج خراسان سے ہوگا۔[16]

دجال کا برپا کردہ فساد[ترمیم]

دجال اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کرے گا۔[17]اس کے برپا کردہ فساد کی شدت کا اندازہ حدیث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے:

پس مسلمان شام کے جبل دخان کی طرف بھاگ جائیں گے اور دجال وہاں آکر ان کا محاصرہ کرلے گا۔ یہ محاصرہ بہت سخت ہو گا اور ان کو بہت سخت مشقت میں ڈال دے گا۔ پھر فجر کے وقت عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے۔ وہ مسلمانوں سے کہیں گے : “اس خبیث کذاب کی طرف نکلنے سے تمہارے لیے کیا چیز مانع ہے؟ مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جن ہے لہٰذا اس کا مقابلہ مشکل ہے۔“[18]

شارحین حدیث کا کہناہے کہ دجال کی شعبدہ بازی مسمریزم وغیرہ کو دیکھ کر شاید بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہو یا ممکن ہے مسلمان یہ بات بطورِ تشبیہ کے کہیں کہ اس کی حرکتیں اور ایذا رسانیاں جنات کی طرح انہیں لگیں۔

دجال کی دعوت[ترمیم]

دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا چلا جائے گا۔پھر اپنے آپ کو دجال نہیں بلکہ خدا کہے گا۔[19] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے۔ اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔[20]

دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے۔ یعنی یہ ایک عالم گیر فتنہ ہوگا۔نبی اکرمﷺ کا رشاد ہے کہ:

دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اور عورتیں ہوں گی۔[21]
دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار یہودی ہوں گے جو ایرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے۔[22]

یہود کے ہاں اس مسیح کو آل داؤد میں سے مانا جاتا ہے۔ حقیقتاً یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا۔

دجال کی طاقت[ترمیم]

اللہ رب العزت نے دجال کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہوگا تاہم وہ اس کا استعمال برائی اور شر پھیلانے میں کرے گا۔ دجال کی طاقتوں کا اندازہ ذیل میں موجود احادیث سے ملتا ہے۔

  1. اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ (جو) آگ (نظر آئے گی وہ) ٹھندا پانی ہوگا اور (جو) پانی (نظر آئے گا وہ) آگ (ہوگی)[23][24][25][26]
  2. اس (دجال) کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا (مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے)۔نبیؐ نے فرمایا ان باتوں کے لیے وہ نہایت حقیر ہے لیکن اللہ اسے اس کی اجازت دے گا (تاکہ لوگوں کو آزمایا جاسکے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں یا دجال پر)۔[27][28]
  3. اور پھر دجال اپنے ساتھ ایک دریا اور آگ لے کر آئے گا۔ جو اس کی آگ میں پڑے گا، اس کو یقناً اس کا صلہ ملے گا اور اس کا بوجھ کم کر دیا جائے گا۔ لیکن جو اس کے دریا میں اترے گا، اس کا بوجھ برقرار رہے گا اور اس کا صلہ اس سے چھین لیا جائے گا۔[29]
  4. ہم نے پوچھا: " یا رسول اللہ ! وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟" آپؐ نے فرمایا: "جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔"[30][31][32]
  5. وہ (دجال) ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس (گدھے) کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔[33]
  6. اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔[34]
  7. وہ ایک بدّو سے کہے گا۔ اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟ کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں۔ بدّو کہے گا: ہاں! چنانچہ دو شیاطین اس بدّو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے: ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔[35][36]
  8. دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے ربّ ہونے کی گواہی دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو (دجال کے) شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔[37]
  9. کسی علاقے میں سے گزرے گا، اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے پس اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا، سب ہلاک ہو جائیں گے، دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے، اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا وہ بارش برسانے لگے گا، زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی، ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے، کھوکھیں بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔[38]
  10. الدجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا۔ وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجر (سیم زدہ) علاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا۔ الدجال لوگوں سے کہے گا : اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں تو کیا تمہیں میرے دعویٰ میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں! پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ وہ آدمی کہے گا اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال کہے گا: میں اسے قتل کرنا چاہتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔[39]
  11. اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا۔ [40]
  12. اپنے ماننے والوں کو دنیا کا ظاہری مال و متاع خوب دے گا۔ [41]
  13. ایک نو جوان کو مار کر زندہ کر دے گا۔[42][43][44][45]
  14. دجال مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست اور مردے کو زندہ کر دے گا۔[46]

درج بالا احادیث کی روشنی میں

  1. اس کا قبضہ تمام زندگی بخش وسائل مثلاً پانی، آگ اور غذا پر ہوگا۔
  2. اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہونے۔
  3. اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلاً "بارش، فصلیں، قحط اور خشک سالی وغیرہ"۔
  4. وہ زمین پر اس طرح چلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ اس کے گدھے (سواری) کے کانوں کے درمیان 40 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔
  5. وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لائے گا۔
  6. اس کی اعانت و مدد شیاطین کریں گے۔ وہ مردہ لوگوں کی شکل میں بھی ظاہر ہوں گے اور لوگوں سے گفتگو کریں گے۔
  7. وہ زندگی اور موت پہ (ظاہری طور پر) قدرت رکھے گا۔
  8. زندگی اور موت پر اس کا اختیار محدود ہوگا کیونکہ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا۔

دجال کا قیام[ترمیم]

"دجال کہاں ہے؟" یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ خود اسی حدیث شریف میں جس میں دجال کے موجودہ مقام کا تذکرہ ہے، ذکر ہے کہ آپؐ کی پیش گوئی کی تصدیق آپؐ کی حیات مبارکہ میں ہو گئی تھی جس پر آپ نے خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھ چکے تو وہ ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا: "تمام لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں۔ پھر فرمایا: جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا؟" لوگوں نے کہا:" اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔" آپؐ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تمہیں نہ تو کسی چیز کا شوق دلانے کے لیے جمع کیا ہے اور نہ کسی چیز سے ڈرانے دھمکانے کے لیے اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتانے کیلئے جمع کیا ہے تمیم داری پہلے عیسائی تھا۔ وہ آیا۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا ہوں۔

اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سمندر کے سفر پر روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں مہینہ بھر انہیں ادھر اّدھر دھکیلتی رہیں یہاں تک وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو انہیں ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کچھ پتا نہ چل رہا تھا۔

انہوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو تو کیا چیز ہے؟

اس نے کہا کہ میں جساسہ ہوں۔

انہوں نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟"

اس نے کہا: "اے لوگو! خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔"

بیان کرنے والا بتاتا ہے جب اس نے آدمی کا ہم سے ذکر کیا تو ہمیں خوف لاحق ہوا کہ یہ جانور شیطان نہ ہو۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھرکم قدکاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے تھے۔

ہم نے پوچھا "تیرا ستیا ناس ہو تو کیا چیز ہے؟"

اس نے کہا: "میرا پتا تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟"

ہم نے کہا کہ ہم عرب سے آئے ہیں۔ ہم جہاز میں سوار ہوئے۔ سمندر میں طوفان آگیا۔ مہینہ بھر لہریں ہمیں دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس جزیرے کے کنارے لے آئیں۔ ہم کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ یہاں ہمیں ایک جانور ملا جس کے بدن پر بہت بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے اسطکے آگے پیچھے کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ ہم نے اس سے پوچھا: "تیرا ستیاناس ہو، تو کیا چیز ہے؟" اس نے کہا: "میں جساسہ ہوں۔" ہم نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟" اس نے کہ: "خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بہت شوق سے انتظار کررہا ہے۔ ہم تیزی سے تمہاری طرف آئے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو۔"

اس نے کہا: "مجھے بیسان کے نخلستان کا حال بتاؤ۔"

ہم نے کہا: اس نخلستان کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتے ہو؟

اس نے کہا: "میں جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟"

ہم نے کہا: "ہاں آتے ہیں!"

اس نے کہا: "وہ زمانہ قریب ہے جب ان درختوں پر پھل نہیں آئیں گے"

اس نے پوچھا: "مجھے طبریہ کی جھیل کے باے میں بتاؤ۔"

ہم نے پوچھا: "اس کی کون سی بات جاننا چاہتے ہو؟"

اس نے کہا: "کہا اس میں پانی ہے؟"

ہم نے کہا: "ہاں! اس میں بہت پانی ہے۔"

وہ بولا: "اس کا پانی بہت جلد ختم ہوجائے گا۔"

پھر اس نے کہا: "مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ۔"

ہم نے پوچھا: "کون سی بات معلوم کرنا چاہتے ہو؟"

زنجیر میں جکڑے آدمی نے کہا: "کیا چشمہ میں پانی ہے اور لوگ اس پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں؟"

ہم نے کہا: "اس میں بہت پانی اور شہر کے رہنے والے اس سے کھیتوں کی آبیاری کرتے ہیں۔"

پھر اس نے پوچھا: "مجھے نبی الامیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے کیا کیا ہے؟"

ہم نے کہا : "وہ مکہ سے نکل کر یثرب(مدینہ) میں آگئے ہیں۔"

اس نے پوچھا: "کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی؟"

ہم نے کہا: " ہاں!" اس نے پوچھا : "اس نے ان کے ساتھ کیا کیا؟"

ہم نے بتایا کہ وہ اردگرد کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت قبول کرلی ہے۔

اس پر اس نے کہا: "کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے؟"

ہم نے کہا: "ہاں!"

اس پر اس نے کہا: "ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔ اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتاہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی"[47]

یہ واقعہ سنانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصا (لاٹھی) منبر پر مار کر فرمایا:

یہ ہے طیبہ۔یہ ہے طیبہ(یعنی مدینہ منورہ)" پھر آپؐ نے فرمایا : "میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال شام کے سمندر (بحیرہ روم) میں ہے یا یمن کے سمندر (بحر عرب) میں ہے۔ نہیں! وہ مشرق میں ہے! مشرق میں! اور اللہ کے نبیؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔[48]

احتیاطی تدابیر[ترمیم]

اپنی امت کو نبی آخرزماںؐ نے فتنہ دجال سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سکھلائی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:

فتنوں کے درمیان سب سے زیادہ خوش نصیب وہ ہوگا جو چھپا رہے اور پاک و صاف رہے۔ اگر سامنے آئے تو کوئی اسے پہچان نہ سکے اور اگر سامنے نہ ہوتو کوئی اس کا حال احوال نہ پوچھے۔ اور لوگوں میں سب زیادہ بدنصیب وہ خطیب ہوگا جو بلند آواز سے فصیح و بلیغ خطبہ دے گا۔ اور وہ سوار ہوگا جو سواری کو تیز دوڑنے پر مجبور کرے گا۔ ان فتنوں کے شر سے وہی نجات پائے گا جو سمندر میں ڈوبنے والے کی طرح خلوص سے دعا مانگے گا۔[49]

حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے:

ایک وقت آئے گا مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا تاکہ وہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگ جائے۔[50]

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن حجر نے اپنی مشہور تصنیف "فتح الباری" میں لکھا ہے:

سلف الصالحین میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ فتنوں کے زمانے میں صاحب ایمان آدمی عام لوگوں سے کنارہ کش ہوکر علیحدگی اختیار کرے یا نہ؟ بعض حضرات ایمان بچانے کیلئے گوشہ نشینی یا پہاڑوں میں نکل جانے کی اجازت دیتے ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ شہروں میں رہ کر فتنوں کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔۔۔۔ لیکن یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب فتنہ عام نہ ہو، لیکن اگر فتنہ عام ہوجائے تو پھر فتنہ زدہ لوگوں سے علیحدگی اور تنہائی کو ترجیح دی گئی ہے۔[51]

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

"اے عبداللہ بن عمرو! اگر تو ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے درمیان رہ گیا تو پھر کیا کرے گا؟۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے عہدو پیمان اور امانتوں کو ضائع کردیا، پھر وہ ایسے ہوگئے۔" اور آپؐ نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو آپس میں پیوست کرلیا۔ انہوں نے پوچھا: "ایسے وقت میرے لیے کیا حکم ہے؟" آپؐ نے فرمایا: ۔۔۔۔ "عام لوگوں کو چھوڑ کر خاص لوگوں کے ساتھ مل جانا"[52][53][54][55]

درج بالا احادیث کی روشنی میں یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ:

  1. اللہ پر توکل کرکے[56] پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ دجال کی علانیہ بغاوت کی جائے۔
  2. فتنوں کے وقت گوشہ نشنی (یعنی تنہائی) کو ترجیح دی جائے۔
  3. اللہ والوں کے زیادہ قریب ہوجائے۔ تاکہ فتنوں سے محفوظ ہو۔
  4. دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔[57][58][59][60][61][62]
  5. تسبیح ، تحلیل اور تکبیر پڑھنا۔[63]
  6. دجال سے جتنا دور رہنا اور بھاگنا ممکن ہو بھاگا اور دور رہا جائے۔[64][65][66][67]

سورۃ الکہف کی تلاوت[ترمیم]

دجال کے فتنوں سے جو محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہیے کہ سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے۔ اس کی تلاوت دجال کے فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا لیتی ہے۔

[68][69][70][71]

آپؐ کا ارشاد ہے کہ:

تم میں سے جس کسی کے سامنے دجال آجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے منہ پر تھوک دے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔

[72][73][74][75]

فتنوں کے وقت مومن کی خوراک[ترمیم]

حدیث کا راوی کہتا ہے کہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے آپؐ سے پوچھا:

"اے اللہ کے رسولؐ! ان دنوں کون سی چیز لوگوں کیلئے حیات بخش ہوگی!" آپؐ نے فرمایا : "تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تحمید (الحمدللہ) کہنا، تکبیر (اللہ اکبر) کہنا، کھانے پینے کی جگہ ان کے اندر سرایت کر جائے گی۔"

[76]

دجال کی رسائی[ترمیم]

نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں روایت کی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا :

بے شک دجال چار مسجدوں، مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد طور سینا اور مسجد اقصیٰ کے سوا ہر گھاٹ پر پہنچے گا۔[77][78]

مدینہ کا محاصرہ[ترمیم]

حضرت محجن ابن ادرع فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک دن) لوگوں سے خطاب کیا چنانچہ تین مرتبہ (یہ) فرمایا یوم الخلاص و ما یوم الخلاص یوم الخلاص و ما یوم الخلاص۔ کسی نے پوچھا یہ یوم الخلاص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال آئے گا اور احد پہاڑ پر چڑھے گا پھر اپنے دوستوں سے کہے گا کیا اس قصر ابیض (سفید محل) کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ منورہ کی جانب آئے گا تو اس کے ہر راستے پر ہاتھ میں ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ کو مقرر پائے گا۔ چنانچہ سبخۃ الجرف کی جانب آئے گا اور اپنے خیمے پر ضرب لگائے گا۔ پھر مدینہ منورہ کو تین جھٹکے لگیں گے۔ جس کے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور فاسق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔ اس طرح مدینہ (گناہ گاروں سے) پاک ہوجائے گا۔ اور یہی یوم الخلاص (چھٹکارے یا نجات کا دن) ہے۔

[79]

دجال کے ہاتھوں مرنے والوں کا رتبہ[ترمیم]

نعیم بن حماد کی روایات ہیں کہ:

  • جو لوگ دجال کے یا اس کے لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوں گے، ان کی قبریں تاریک اندھیری راتوں میں چمک رہی ہونگی۔[80]
  • ایک اور روایت ہے کہ ان کا شمار افضل ترین شہدا میں ہوگا۔[81]

دجال کا خاتمہ[ترمیم]

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کی ابتدا سے انتہا تک کے بارے امت کی مکمل رہنمائی کی ہے۔ دجال چالیس دن حکومت کرکے عیسیٰؑ ابن مریمؑ کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ مسلمانوں کے ہاں انہی کو مسیح موعود کا درجہ حاصل ہے۔

وہ آخری بار اردن کے علاقے میں "افیق" نامی گھاٹی پر نمودار ہوگا۔  (مسلمانوں اور دجالی لشکروں کے درمیان جنگ ہوگی جس میں) وہ ایک تہائی مسلمانوں کو شہید کر دے گا۔ ایک تہائی کو شکست دے کر بھگا دے گا اور ایک تہائی کو باقی چھوڑے گا۔ رات ہوجائے گی توبعض مومنین بعض سے کہیں گے کہ تمہیں اپنے رب کی خواشنودی کے لیے اپنے (شہید) بھائیوں سے جا ملنے (شہید ہوجانے) میں اب کس چیز کا انتظار ہے؟ جس کے پاس کھانے کی کوئی چیز زائد ہووہ اپنے (مسلمان)  بھائی کو دے دے۔ تم فجر ہوتے ہی (عام معمول کی بہ نسبت) جلدی نماز پڑھ لینا، پھر دشمن سے جنگ پر روانہ ہوجانا۔

پس جب یہ لوگ نماز کے لیے اٹھیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے سامنے نازل ہوں گے اور نماز ان کے ساتھ پڑھیں گے۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ(ہاتھ سے ) اشارہ کرتے ہوئے فرمائیں گے :

میرے اور دشمن خدا (دجال) کے درمیان سے ہٹ جاؤ (تاکہ مجھے دیکھ لے)

ابوحازم (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے فرمایا کہ :

دجال (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی) ایسا پگھلےگا جیسے دھوپ میں چکنائی پگھلتی ہے۔

اس کے علاوہ عبد اللہ بن عمرو نے یہ فرمایا کہ:

(ایسا گھل جائے گا) جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے خاتمے کو واضح طور پر بیان کیا کہ:

عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ پس لوگوں کی ٹانگوں اور آنکھوں کے درمیان سے تاریکی ہٹ جائے گی (یعنی اتنی روشنی ہوجائے گی کہ لوگ ٹانگوں تک دیکھ سکیں گے) اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم پر ایک زرہ ہوگی۔ پس لوگ ان سے پوچھیں گے کہ آپ کون ہیں؟ وہ فرمائیں گے: میں عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اور اس کی (پیدا کردہ) جان اور اس کا کلمہ ہوں (یعنی باپ کے بغیر محض اس کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوا ہوں) تم تین صورتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو:
  1. اللہ دجال اور اس کی فوجوں پر بڑا عذاب آسمان سے نازل کر دے۔
  2. ان کو زمین میں دھنسا دے۔
  3. ان کے اوپر تمہارے اسلحہ کو مسلط کر دے اور ان کے ہتھیاروں کو تم سے روک دے۔

مسلمان کہیں گے: "ائے اللہ کے رسول! یہ (آخری) صورت ہمارے لیے اور ہمارے قلوب کے لیے زیادہ طمانینیت کا باعث ہے۔چنانچہ اس روز تم بہت کھانے پینے والے (اور) ڈیل ڈول والے یہودی کو (بھی) دیکھو گے کہ ہیبت کی وجہ سے اس کا ہاتھ تلوار نہ اٹھا سکے گا۔ پس مسلمان (پہاڑ سے) اتر کر ان کے اوپر مسلط ہوجائیں گے اور دجال جب (عیسیٰ) ابن مریم کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے لگے گا حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام اسے جا لیں گے اور قتل کر دیں گے۔"[82]

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے دجال اور اس کے لشکر پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا۔ چنانچہ وہ ان سب کو قتل کر دیں گے۔ حتیٰ کہ شجرو حجر بھی پکاریں گے کہ اے اللہ کے بندے! اے رحمٰن کے بندے! اے مسلمان! یہ یہودی ہے۔ اسے قتل کر دے۔ غرض اللہ تعالیٰ ان سب کو فنا کر دے گا اور مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ پس مسلمان صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ بند کر دیں گے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. امام رازی رحمۃ اللہ علیہ، تفسیر کبیر
  2. صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال و صفہ وما معہ، حدیث نمبر : 2937
  3. صحیح مسلم جلد سوم:حدیث نمبر 2872
  4. عقد الدرر فی اخبار المنتظر، جزو1، صفحہ نمبر:36
  5. بخاری، حدیث نمبر: 84
  6. صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2866
  7. مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2934
  8. ^ ا ب ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ ،حدیث نمبر : 4077
  9. الحاکم، حدیث نمبر : 8768
  10. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 6709
  11. ترمذی شریف: 2240. 
  12. (مسند ابی یعلیٰ موصلی:5976). 
  13. (الفتن لنعیم بن حماد:1913). 
  14. (ترمذی:2237). 
  15. مستدرک حاکم: 8611. 
  16. تحفۃ الالمعی: 606/5. 
  17. مستدرک حاکم، حدیث نمبر : 8768
  18. مسند احمد ، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 14954
  19. (الفتن لحنبل بن اسحٰق:37). 
  20. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 321
  21. مسند احمد، مسند شامیین، حدیث نمبر : 17226
  22. صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب فی بقیہ احادیث الدجال، حدیث نمبر : 2944
  23. صحیح البخاری، کتاب الانبیاء، باب ماذکر عن بنی اسرائیل، حدیث نمبر : 3266
  24. بخاری شریف: 3450. 
  25. مسلم شریف: 2934. 
  26. ابن ابی شیبہ: 37505. 
  27. صحیح المسلم، کتاب الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ، حدیث نمبر : 2152
  28. صحیح بخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 6705
  29. ابو داؤد، کتاب الفتن، باب ذکر الفتن ودلائلھا، حدیث نمبر : 4246
  30. صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2937
  31. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال و خروج عیسیٰ، حدیث نمبر : 4075
  32. ترمذی: 2240. 
  33. مسند احمد، مسند جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 4954
  34. الماخذ المذکور تحت رقم : 86
  35. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال، حدیث نمبر : 4077
  36. الفتن لحنبل بن اسحٰق: 37. 
  37. الفتن لحنبل بن اسحٰق: 37. 
  38. الفتن لحنبل بن اسحٰق. 
  39. صحیح البخاری، کتاب الحج، ابواب فضائل المدینہ، باب لاید خل الدجال المدینۃ، حدیث نمبر : 1783
  40. ترمذی: 2240. 
  41. ترمذی: 2240. 
  42. ترمذی: 2240. 
  43. بخاری شریف: 1882. 
  44. ابن ابی شیبہ: 37506. 
  45. مسلم شریف: 2938. 
  46. مسند احمد: 20151. 
  47. صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسہ، حدیث نمبر : 2942
  48. نعیم بن حماد، الفتن، باب خروج الدجال و سیرۃ، حدیث نمبر: 1527
  49. نعیم بن حماد، الفتن، بدایۃ الجزء الرابع، حدیث نمبر : 720
  50. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب التعرب فی الفتنہ، حدیث نمبر : 667
  51. فتح الباری، کتاب الفتن، باب التعرب فی فتنہ، تحت حدیث رقم : 6677
  52. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب الامر ونہی، حدیث نمبر : 4344
  53. مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7049
  54. مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7063
  55. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنہ، حدیث نمبر : 3957
  56. ترمذی: 2240. 
  57. ابن ابی شیبہ: 37461. 
  58. مسلم شریف: 132. 
  59. مسلم شریف: 2867. 
  60. نسائی شریف: 5511. 
  61. بخاری: 832. 
  62. مسلم شریف: 588. 
  63. مسند ابو یعلیٰ موصلی: 4607. 
  64. ابن ابی شیبہ: 37459. 
  65. ابوداؤد شریف: 4319. 
  66. طبرانی کبیر: 18/221. 
  67. مستدرک حاکم: 8616. 
  68. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 4323
  69. صحیح مسلم، باب فضائل القرآن و مایتعلق بہٖ، باب فضائل سورۃ الکہف و آیت الکرسی، حدیث نمبر : 809
  70. ترمذی: 2240. 
  71. سنن الکبریٰ للنسائی: 10720. 
  72. المستدرک للحاکم، حدیث نمبر : 8768
  73. طبرانی، حدیث نمبر : 7529
  74. المعجم الکبیر للطبرانی، باب ص، حدیث نمبر : 7644
  75. الفتن لحنبل بن اسحٰق: 37. 
  76. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔۔، حدیث نمبر : 4077
  77. نعیم بن حماد، الفتن، باب المعقل من الدجال، حدیث نمبر : 1578
  78. مسند احمد، حدیث رجل من اصحاب النبیؐ، حدیث نمبر : 23684
  79. علیٰ الصحیحین، ج 4، صفحہ نمبر : 546
  80. نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 2، حدیث نمبر: 1382
  81. نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 1، حدیث نمبر: 1252
  82. مصنف عبدالرزاق، کتاب الجامع، للامام معمر، باب الدجال، حدیث نمبر : 20834

بیرونی روابط[ترمیم]