اسلامی فتح مصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسلمانوں کی فتح مصر
حصہ اسلامی فتوحات اور عرب بازنطینی جنگیں
Giza Plateau - Great Sphinx with Pyramid of Khafre in background.JPG
تاریخ 639–642
مقام مصر، لیبیا
نتیجہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
علاقائی
تبدیلیاں
مسلمانوں نے مصر، برقہ، طرابلس، علاقہ اور فزان پر قبضہ کر لیا۔
شریک جنگ
بازنطینی سلطنت خلافت راشدہ
سپہ سالار و رہنما

بادشاہ ہرقل
تھودوروس
آرٹائن
قسطن ثانی

Cyrus of Alexandria

عمر بن خطاب
عمرو ابن العاص
زبیر ابن عوام
مقداد بن اسود
عبادہ بن صامت

Kharija bin Huzafa

عمرو بن عاص 4000 گھڑ سواروں کے ہمراہ مصر فتح کر نے کے لئے روانہ ہوئے مصر پران دنوں رومی شہنشاہ ہرکولیس کی حکومت تھی رومی افواج نے 640ء میں فيوم اور عین شمس میں شکست کے بعد وہاں کا کنٹرول کھودیا امر نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔ شکست خوردہ رومی افواج بےبیلون کے قلعے میں جمع ہوگئیں امر بن عاص ؓ نے انہیں شکست دے کر قلعے سے باہر نکا لا اور وہاں بھی شکست سے دوچار کیا۔

کوروش نے جو کہ مصر کا گورنر تھا اس نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے امن مذاکرات شروع کیے اور اپنے اس فیصلے کی ہرکولیس سے تائید چاہی شہنشاہ نے امن معاہدے کو مسترد کر کے کوروش کو باغی قرار دے دیا فروری 641ء میں شہنشاہ کا انتقال ہو گیا اور اسی سال بےبیلون کے ہتھیار ڈالنے کے بعد کوروش امن قائم کرنے کے قابل ہوا۔ مصر ماسوائے اسکندریا مسلمانوں کے زیر قبضہ آچکا تھا نئے شہنشاہ قسطنطین سوم نے دفاع کے لئے ایک بڑی فوج روانہ کی امر بن عاص نے اسکندریا کی طرف قدم بڑھائے اور اپنی مہارت و شجاعت کے باعث ایک بار پھر رومی افواج کو شکست دینے میں کامیاب رہے اسکندریا بھی اب مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا،خلیفہ عثمان نے عمرو بن عاص کو مصر کا گورنر مقرر کر دیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]