عثمان بن عفان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عثمان ابن عفان سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عثمان بن عفان
تخطيط اسم عثمان بن عفان بالخط العربي
ابو عبد الله، ابو عمرو، ذو النورين، ذو الہجرتين
ولادت 576ء تقريبًا، سنہ 47 ق ھ[1]
طائف[1] أو مكہ[2]، شبہ جزيرہ عرب
وفات 656ء، بمطابق 35ھ
مدينہ منورہ، حجاز، شبہ جزيرہ عرب
قابل احترام اسلام: اہل سنت و جماعت، اباضیہ، الدروز، زیدیہ شیعہ
المقام الرئيسي جنت البقیع
نسب والد: عفان بن ابی العاص
والدہ: اروی بنت كريز
أشقاؤه لأبيه: آمنہ بنت عفان
أشقاؤه لأمه: وليد بن عقبہ، خالد بن عقبہ، عمرو بن عقبہ و ام كلثوم بنت عقبہ
ازواج: ام عمرو بنت جندب، فاطمہ بنت وليد، رقيہ بنت النبی محمد، ام كلثوم بنت النبی محمد، فاختہ بنت غزوان، ام البنين بنت عيينہ، رملہ بنت شيبہ، و نائلہ بنت الفرافصہ
ذريت: عمرو، خالد، ابان، عمر، مريم، وليد، سعيد، ام سعيد، عبد الله، عبد الله الصغير، عبد الملک، عائشہ، ام ابان، ام عمرو، ام خالد، ام ابان الصغری، اروی۔


عثمان بن عفان اموی قریشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء - 656ء)[1] اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول، اور جامع القرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔
عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہونچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد، اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
سنہ 23 ھ (644ء) میں عمر بن خطاب کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔[3] ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بیزنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔[3][4]

ان کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوا۔[5] ‏سنہ 35 ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران شہید کر دیا گیا، اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔[6]

ابتدائی زندگی

نسب

عثمان غنی کا نسب حسب ذیل ہے: «عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ (اسی کا لقب قریش تھا) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، عثمان غنی کا نسب عبد مناف بن قصی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔

والدہ: «اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیہب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، ان کی والدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، اور ان کی نانی کا نام بیضا بنت عبدالمطلب تھا۔[7][8][9][10]

نشو و نما

عثمان بن عفان کی پیدائش سنہ 576ء میں عام الفیل کے چھ سال بعد[1] طائف میں ہوئی،[1] تاہم ایک قول مکہ میں پیدائش کا بھی ہے۔[2] یہ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف میں پیدا ہوئے، یہ قبیلہ سرداران قریش میں سے تھا۔ ان کے والد عفان ابو سفیان بن حرب کےچچا زاد بھائی تھے۔ عثمان غنی کی ایک بہن بھی تھی جس کا نام آمنہ بنت عفان تھا۔ عفان کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کر لیا، جس سے تین بیٹے اور بیٹیاں ہوئیں، ولید بن عقبہ، خالد بن عقبہ، عمارۃ بن عقبہ اور ام کلثوم بنت عقبہ، یہ سب عثمان غنی کے ماں شریک بھائی بہن تھے۔[11] عثمان غنی کی والد اروی بنت کریز نے اسلام قبول کیا تھا اور انہی کے دور خلافت میں وفات پائیں،[12] جبکہ ان کے والد عفان کا انتقال زمانہ جاہلیت ہی میں ہو گیا تھا۔

عثمان غنی زمانہ جاہلیت ہی سے انتہائی شریف الطبع،[2] ذہین اور صائب الرائے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل کبھی کسی بت کو سجدہ کیا اور نہ شراب پی۔[13] نیز علوم عرب مثلاً انساب، امثال اور جنگوں کے بڑے عالم تھے، شام اور حبشہ کا سفر کیا تو وہاں غیر عرب قوموں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا، جس کی وجہ سے ان اقوام کے حالات، طور طریقے اور رسم و رواج سے انھیں واقفیت حاصل ہوئی، یہ خصوصیت ان کی قوم میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں تھی۔[14] عثمان غنی کا پیشہ تجارت تھا جو ان کے والد سے انھیں وراثت میں ملی تھی، اس پیشہ سے انھوں نے خوب دولت حاصل کی اور بنو امیہ کی اہم شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ عثمان غنی انتہائی سخی اور کریم النفس تھے، زمانہ جاہلیت میں ان کی کنیت ابو عمرو تھی، لیکن جب رقیہ بنت محمد سے ان کے گھر میں عبد اللہ کی ولادت ہوئی تو مسلمان ان کو ابو عبد اللہ کی کنیت سے پکارنے لگے۔[15]

اوصاف

عثمان غنی کا رنگ سفید لیکن کچھ زردی مائل تھا، خوبصورت اور خوش قامت تھے۔ دونوں ہاتھوں کی کلائیاں خوش منظر تھیں، بال سیدھے یعنی گھنگریالے نہیں تھے۔ ناک ابھری ہوئی اور جسم کا نچلا حصہ بھاری تھا۔ پنڈلیوں اور دونوں بازوؤں پر کثرت سے بال تھے۔ سینہ چوڑا چکلا، اور کاندھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی تھی تھیں۔ چہرہ پر چیچک کے متعدد نشانات، دانت ہموار اور خوبصورت تھے۔ داڑھی بڑی گنجان اور زلفیں دراز، آخر عمر میں زرد خضاب کرنے لگے تھے۔ جسم کی کھال ملائم اور باریک تھی۔۔[16][17][18]

لباس

تجارت میں کامیابی کی باعث خاصی وسعت تھی، چناں چہ عمدہ لباس پہنتے اور سو سو دینار کی یمنی چادریں اوڑھتے تھے، لیکن لباس پہننے میں سنت نبوی کا خیال رہتا۔ سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ «عثمان بن عفان آدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے اور فرماتے کہ میرے محبوب کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔»[16] بائیں ہاتھ میں انگوٹھی بھی پہنتے تھے۔

غذا

اسی فراخی کے باعث غذا بھی عمدہ اور پرتکلف ہوا کرتی تھی۔ عثمان غنی پہلے مسلم خلیفہ تھے جو چھنا ہوا آٹا استعمال کرتے تھے۔[16]

گفتگو

فطرتاً کم سخن تھے لیکن جب کسی موضوع پر اظہار خیال کرتے تو گفتگو سیر حاصل اور بلیغ ہوتی۔[16]

اسلام

عثمان بن عفان نے چالیس سال کی عمر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔

ذوالنورين

ذوالنورين کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہاجاتاہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبا دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں،کسی بھی نبی کا امتی یہ اعزاز نہ ھاصل کر سکا۔آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ متعدد بار جنتی ہونے کی بشارت بزبان نبوت آپ کو نصیب ہوئی۔ جب اپنی دولت دین پر نچھاوع کرنے کی حد کردی تو آمنہ کے در یتیم مدنی کریمؐ نے یہاں تک فرمادیا:

عثمان آج کے بعد کوئی عمل کرے یا نہ کرے عثمان جنتی ہے۔

ہجرت

آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ کی جانب اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔

خلافت

چاندی کا درہم جس پرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بسم اللہ لکھا گیا۔اس کا وزن تقریبا 3 گرام ہے۔اس کوحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 5۔3 گرام سے کم کرکے3 گرام کیا تھا۔

حضورﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عثمان سے فرمایا:

ائے عثمان اللہ تجھے خلافت کی قمیص پہنائے گا لوگ اتارنا چاہیں گے تو مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ،حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

جامع قرآن

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔= [19] ابن ابی داود نے بسند صحیح حضرت سوید بن غفلہ سے روائت کی انہوں نے فرمایا حضرت علی کا فرمان ہے کہ حضرت عثمان کے بارے میں خیر ہی کہو ؛ کیونکہ انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنی رائے سے نہیں بلکہ ہماری ایک جماعت کے مشورہ سے کیا گیا [20] ان ہی سے روایت ہے میں خلیفہ ہوتا تو مصحف کے بارے میں وہی کرتا جو حضرت عثمان نے کیا {{ ===اختلاف لغات===}}قبائل عرب میں عربی زبان میں کافی اختلافات تھے مثلا جس کلمہ ء مضارع کا عین ماضی مکسور ہو اس کی علامات مضارع ا ۔ ت۔ ۔ن کو غیر اہل حجاز کسرہ دیتے تھے اسی طرح علامات مضارع کو ی کو جب کہ اس کے بعد کوئی دوسری یا ہو اس لئے وہ تعلم م پیش کے ساتھ کو تعلم ت زیر اور م زبر کے ساتھ بولتے [21] اسی طرح نبی ھذیل حتی کو عتی اہل مدینہ کے یہاں تابوت کا تلفظ تابوہ تھا بنی قیس کاف تانیث کے بعد ش بولتے ضربک کی بجاءے ضربکش کہتے اس طریقہ تلفظ کو کشکشہ قیس سے تعبیر کیا جاتا بنی تمیم ان ناصبہ کو عن کہتے، اسی طرح ان کے نزدیک لیس کے مشابہ ماولا مطلقا وامل نہیں ، ماہذا بشرا ان کے لغت پر ماہذا بشر ہو گا اسی طرح کے اور بہت سے اختلاف تھے

شہادت

اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافت راشدہ اک نظر نہ بھاتی تھی. يہ منافق رسول اللہ سے بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کریں گے. ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا متفقہ خلیفہ بنا لیا. حضرت ابو بکر کی خلافت راشدہ کے بعد ان منافقوں کے سینے پر اس وقت سانپ لوٹ گیا جب امت نے کامل اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اسلام چن لیا.حضرت عمر کے بعد ٱپ کا سریر آراۓ خلافت ہونا بھی ان مسلمان نما منافقوں کے لۓ صدمہ جانکناہ سے کم نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور آپ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی اور ايسے وقت ميں کاشانہ خلافت کا محاصرہ کيا جب اکثر صحابہ کرام حج کے ليے مکہ گۓ ھوۓ تھے.آپ نے اپنی جان کی خاطر کسی مسلمان کو مزاحمت کرنے کی اجازت نہ دی. روایوں کی جانب سے یہ بات پورے وثوق سے لکھی گئی ہے کہ اس سانحہ میں ملوث باغیوں میں حضرت ابو بکر کا بیٹا محمد بن ابی بکر بھی شامل تھا . حضرت علی اس صورتحال سے سخت پریشان تھے انہوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرب حسن اور حضرت حسین کے ہمراہ کئی صحابہ زادوں جن میں حضرت طلحہ کے صاحبزادوں سمیت حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر بھی شامل تھے ان سب کو کاشانہ خلافت کی حفاظت پر مامور کیا۔ تاہم اور چالیس روز تک محبوس رہے. چالیس روز بعد باغی آپ کے گھر میں داخل ہو گئے اور آپ کو شھيد کرديا.اس دلخراش سانحہ مين آپ کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنا کی انگشت مبارک بھی شھيد ھو گئیں. آپ کی شہادت کے بعد حضرت علی نے خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت سے خلافت سنبھالی۔

ابن عساکرزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ محمد رسول عربی نے فرمایا ایک دن عثمان میرے پاس سے گزرے اور اس وقت ایک فرشتہ میرے قریب تھا جس نے کہا یہ شخص (عثمان) شہید ہو گا۔

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 1.4 نداء الإيمان: كتاب عثمان بن عفان، الفصل الأول «حياة عثمان»، من تأليف: محمد رضا الأديب
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 صحابة رسول الله: عثمان بن عفان اموی
  3. ^ 3.0 3.1 موقع الرقية الشرعية: عثمان بن عفان
  4. الخلافة والخلفاء الراشدون، ص: 222
  5. طبقات ابن سعد (1/ 39 - 47)، البدایہ و النہایہ (7/ 144 - 149) الخلفاء الراشدون از خالدی، ص: 112
  6. طبری، تاريخ الأمم والملوك ج 2/ص 688، ابن اثیر، الكامل في التاريخ ج 3/ص: 69
  7. مسعودہ، مروج الذهب ج 2/ص 340
  8. طبری، تاريخ الأمم والملوك ج 2/ص: 692
  9. ابن اثیر، الكامل في التاريخ ج 3/ص: 74
  10. تاريخ الإسلام ج 1/ص: 252
  11. نداء الإيمان الطبقات الکبری، ذكر ضرب النساء - أروى بنت كريز
  12. الخلافة الراشدة والدولة الأموية، از ڈاکٹر یحیی الیحیی، ص388
  13. مشروع سلسلة العلامتين الوقفي: عثمان بن عفان
  14. عبقرية عثمان از عقاد، ص: 72
  15. التمهيد والبيان في مقتل الشهيد عثمان، ص: 19
  16. ^ 16.0 16.1 16.2 16.3 حضرت عثمان غنی کے سو قصے، ص 18 خطا در حوالہ: Invalid <ref> tag; name ".D8.AD.D8.B6.D8.B1.D8.AA_.D8.B9.D8.AB.D9.85.D8.A7.D9.86_.D8.BA.D9.86.DB.8C_.DA.A9.DB.92_.D8.B3.D9.88_.D9.82.D8.B5.DB.92.D8.8C_.D8.B5_18" defined multiple times with different content خطا در حوالہ: Invalid <ref> tag; name ".D8.AD.D8.B6.D8.B1.D8.AA_.D8.B9.D8.AB.D9.85.D8.A7.D9.86_.D8.BA.D9.86.DB.8C_.DA.A9.DB.92_.D8.B3.D9.88_.D9.82.D8.B5.DB.92.D8.8C_.D8.B5_18" defined multiple times with different content
  17. الوافي بالوفيات، صفدی، ط إحياء التراث، جلد 20 ص 28
  18. ابن كثير، البداية والنهاية ج 7/ص 192
  19. (قرآن کیسے جمع ہوا ازمحمد احمد اعظمی مصباحی)
  20. (الاتقان ص 61)
  21. (شرح کافیہ للرضی ص 187 ج ۲ مطبوعہ نولکشور لکھنو۱۲۷۹ ھ)

بیرونی روابط

اسلامی مؤرخین کے افکار:

حضرت عثمان عرب وسیط میں:

نظریات اہل تشیع:

عثمان بن عفان
ذیلی شاخ قریش
وفات: 17 جولائی 656ء
مناصب سنت
پیشتر
عمر بن خطاب
خلیفہ راشد
644ء656ء
اگلا
علی بن ابی طالب
شاہی القاب
پیشتر
یزدگرد سوئم
شاہ فارس
651ء656ء
عہدہ
خلافت میں مدغم ہوا