اسلامی فتوحات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسلامی فتوحات
Map of expansion of Caliphate.svg
  رسول اللہ کے زمانے کی فتوحات, 622–632/A.H. 1–11
  خلفائے راشدین کے زمانے کی فتوحات, 632–661/A.H. 11–40
   بنو امیہ کے زمانے کی فتوحات, 661–750/A.H. 40–129
تاریخ623–1050s
مقامبین النہرین, قفقاز, ایران, سرزمین شام, شمالی افریقہ, اناطولیہ, جزیرہ نما آئبیریا, Gaul and خراسان
Territorial
changes
محارب
Derafsh Kaviani.png ساسانی سلطنت
Derafsh Kaviani.png Lakhmids
Simple Labarum.svg بازنطینی سلطنت
Simple Labarum.svg غساسنہ
Bulgarian Empire
مملکت مقرہ
خاندان گاوبارگان
خذر
Turgesh Khaganate
Göktürk Khaganate
سغد rebels
Kurdish tribes
بربر
Visigoths
مسیحی عرب
فرانکیا
Kingdom of the Lombards
Duchy of Aquitaine
تانگ خاندان
Pratihara Empire
Chalukya Dynasty
Sindh kingdom
خلافت راشدہ
خلافت امویہ (after Rashidun period)
خلافت عباسیہ (after Umayyad period)
کمانڈر اور رہنما

اسلامی فتوحات (Muslim conquests) یا جسے بعض اوقات عرب فتوحات بھی کہتے ہیں کا آغاز 7 ویں صدی میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے اظہار نبوت کے بعد سے شروع ہوئی۔ آپ ﷺ نے عربوں میں ایک ایسی اتحاد قائم کی کہ اسلامی طاقت آپکے بعد خلفاء راشدین، بنو امیہ اور عباسی خلافت تک کئی صدیوں تک پھیلتی رہی۔ حتیٰ کے انکی سرحدیں عرب صحراء سے نکل کر ہندوستان ،چین، وسطی ایشیاء ،مشرق وسطی، جبکہ تمام شمالی آفریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے تک پھیل گئیں۔ اڈوارڈ گبن عروج وزوال سلطنت روما میں اس متعلق لکھتا ہے کے ۔

خلافت بنی امیہ کے آخری ادوار میں اسلامی سلطنت اتنی پھیل گئی تھی کہ مشرق میں تاتاریوں اور ہندوستان سے مغرب میں بحراوقیانوس کے ساحلوں تک کا سفر 200 دن کا ہوچکا تھا . اور اگر ہم مسلمان لکھاریوں کی طرح اسے آستینیں چڑھا کر لکھیں تو لکھیں گئیں , افریقا کی طویل اور تنگ صوبے , فرجانہ سے عدن تک کی مستحکم اور مضبوط ریاستیں, طوس سے سورت تک جیسی جگہوں کو دیکھنے کے لیے ہمارے قافلے کو ہر جگہ چار سے پانچ ماہ لگیں گیں۔ہم آگستس اور انٹونی کی مضبوط حکومتوں کی نظم و ضبط کو جانتے ہیں جہاں شورشیں بحر حال اٹھتے رہتے تھے;لیکن اسلام کی کامیابی دیکھیں کہ اس نے لوگوں کے طور طریقے اور سوچ تک میں یکسانیت بھر دی.جس میں قرآنی قوانین کو سمرقند سے اشبیلیہ تک محبت سے پڑھا جاتا تھا۔اور ایک ہندوستانی مسلمان سپین کے مسلمان کے ساتھ اخوت کے ساتھ حج پر جاتا تھا۔

حوالہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]