جزیہ
بسلسلہ مضامین: |
اہم شخصیات
|
تعطیلات ومناسبات
|
زمرہ جات | |
| |
|
| |
جزیہ (عربی: الجِزْيَة) وہ ٹیکس ہے جو کسی ملک کو فتح کرنے کے بعد وہاں کی غیر مسلم رعایا سے وصول کیا جاتا تھا۔ جب مسلمان کسی علاقے کو فتح کرتے تو وہاں کے باشندوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے؛ اگر وہ اسلام قبول نہ کرتے تو ان سے جزیہ لیا جاتا۔[1]
لغوی اصل
[ترمیم]عام خیال یہ ہے کہ "جزیہ" خالص عربی لفظ ہے، جس کا مادہ "ج ز ي" ہے اور جس کے معنی بدلہ دینے، ادا کرنے اور کفایت کرنے کے ہیں؛ اسے ذمی کے ذمے واجب حق کی ادائیگی کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔[2] تاہم بعض محققین کے نزدیک یہ اصلاً فارسی لفظ "گزیہ" سے معرب ہے، جس کا مطلب خراج ہے اور اسی بنا پر بعض علما اسے اسلام سے پہلے کا رائج طریقہ بھی سمجھتے ہیں۔
شرعی حیثیت اور مقصد
[ترمیم]جزیہ ادا کرنے والوں کو اہل ذمہ یا ذمی کہا جاتا تھا۔ انھیں اپنی عبادت اور مذہبی رسوم ادا کرنے کی مکمل آزادی حاصل تھی اور ان کی جان و مال کی حفاظت اسلامی حکومت کا فرض ہوتا تھا۔ وہ جنگی خدمت سے مستثنیٰ تھے جبکہ یہ ذمہ داری مسلمانوں پر فرض تھی۔[1] اسی مناسبت سے فقہا نے وضاحت کی ہے کہ جزیہ کے بدلے ریاست ذمیوں کے دفاع کی ذمہ داری قبول کرتی تھی۔[1] جزیہ کی مشروعیت قرآن مجید کی سورۃ التوبہ کی آیت 29 سے ثابت کی جاتی ہے۔[3]
مقدار اور مستثنیات
[ترمیم]جزیہ ہر بالغ اور کمانے کی صلاحیت رکھنے والے مرد سے اس کی مالی حیثیت کے مطابق نقد یا جنس کی صورت میں لیا جاتا تھا۔ فقہ حنفی اور خلیفہ عمر بن الخطاب کے طریقے کے مطابق مالدار پر سالانہ زیادہ سے زیادہ (روایات میں چالیس سے اڑتالیس) درہم، متوسط طبقے پر چوبیس درہم اور کم آمدنی والے پر کم از کم چھ سے بارہ درہم جزیہ عائد ہوتا تھا۔[4] اگر اس دور کی تنخواہوں سے موازنہ کیا جائے تو ایک عام سپاہی کو کم از کم تین سو درہم سالانہ ملتے تھے، جبکہ افسران کو سات سے دس ہزار درہم تک ملتے تھے۔
بوڑھوں، بچوں، عورتوں، اپاہجوں، غلاموں، پاگلوں اور انتہائی غریب افراد کو جزیہ سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا تھا۔[4] اگر کوئی ذمی اسلام قبول کر لیتا تو اس سے جزیہ ساقط ہو جاتا تھا، جیسا کہ حدیثِ نبوی میں ہے: "کسی مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔"[5]
تاریخی واقعات
[ترمیم]جنگ یرموک سے پہلے جب رومی شہنشاہ ہرقل انطاکیہ میں بڑی فوج جمع کر رہا تھا تو مسلمانوں نے اپنی فوجیں مختلف شہروں سے واپس بلا لیں۔ جب مسلمان فوجوں نے دمشق، حمص اور دیگر شہروں کو خالی کیا تو وہاں کے باشندوں کو جزیے کی رقم واپس کر دی گئی، کیونکہ اب مسلمان ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے اور اس صورت میں جزیہ لینا جائز نہیں سمجھا گیا۔
جزیہ خلافتِ عثمانیہ کے دور تک جاری رہا اور اس کی رقم بیت المال میں جمع کی جاتی تھی۔ ابتدا میں جزیہ ادا کرنے والے کے گلے میں دھات کی ایک مہر لٹکائی جاتی تھی، لیکن بعد میں خلیفہ ہشام نے اس کی جگہ تحریری رسید کا طریقہ رائج کیا۔
جزیہ اور خراج میں فرق
[ترمیم]جزیہ شخصی اور ذاتی نوعیت کا ٹیکس تھا جو افراد پر عائد ہوتا تھا، جبکہ خراج زرعی زمین اور اس کی پیداوار پر لگایا جانے والا علاقائی ٹیکس تھا۔[2]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 محمد عبد الرؤوف المناوی (1990)۔ التوقيف على مهمات التعاريف۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 126
- 1 2 ابن منظور (1997)۔ لسان العرب۔ بیروت: دار إحياء التراث العربي۔ ج 14۔ ص 147
- ↑ سعدی ابو حبیب (1988)۔ القاموس الفقهي لغة واصطلاحا۔ دمشق: دار الفكر۔ ج 1۔ ص 52
- 1 2 نشوان بن سعید الحمیری (1999)۔ شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم۔ بیروت: دار الفكر المعاصر۔ ج 1۔ ص 1080
- ↑ ابن الاثیر (1963)۔ النهاية في غريب الحديث والأثر۔ قاہرہ: المكتبة الأزهرية للتراث۔ ج 1۔ ص 270
- محمود الحسن صدیقی، چراغ حسن حسرت۔ تاریخ اسلام۔ ص 87