غرر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غرر یا تو غَرہ بالفتح سے بمعنی مجہول الانجام چیزیعنی خطرناک یا غِرہ بالکسر سے بنا بمعنی دھوکا،اسی سے غرور ہے۔ بیع غرر کی بہت صورتیں ہیں بیع منابذہ اور پتھر پھینکنے کی بیع وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں،دریا میں مچھلی، ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے ،بھاگے ہوئے غلام کی بیع سب بیع غرر ہیں۔ امام شافعی کے ہاں یہ بیع فاسد ہیں احناف کے ہاں کبھی فاسد،کبھی باطل۔ خیال رہے کہ احناف کے ہاں فاسد وباطل بیع میں فرق ہے کہ بیع فاسد سے بعد قبضہ ملک حاصل ہوجاتی ہے،بیع باطل میں کبھی ملک حاصل نہیں ہوتی مگر امام شافعی کے ہاں دونوں بیعیں ایک ہی ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،مفتی احمد یار خان،جلد 4،صفحہ 456، نعیمی کتب خانہ گجرات