ایمان بالکتب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایمان
ایمان باللہ ایمان بالملائکہ
ایمان بالکتب ایمان بالرسالت
ایمان بالقدر ایمان بالآخرت



ایمان بالکتب، یعنی اللہ تعالیٰ کی اپنے نبیوں پر نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔

ایمان بالکتب[ترمیم]

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تک جتنے بھی انبیا کرام مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض پر کتابیں اور بعض پر صحائف اتارے، ان تمام صحیفوں اور کتابوں (یعنی ان کے منزل من اﷲ ہونے) پر ایمان لانا ایمان بالکتب ہے۔

مشہور آسمانی کتابیں[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے گزشتہ زمانے میں مختلف قوموں کی ہدایت کے لیے صحیفے اور کتابیں نازل کی ہیں، ان میں سے چار مشہور کتابیں یہ ہیں، جو اللہ نے اپنے پیغمبروں پر نازل فرمائیں۔

توریت[ترمیم]

توریت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی۔

زبور[ترمیم]

زبور سیدنا داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی۔

انجیل[ترمیم]

انجیل سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی۔

قرآن مجید[ترمیم]

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری اور افضل و اکمل کتاب ہے، جو اس نے سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی۔

سابقہ آسمانی کتابوں میں تحریف[ترمیم]

آج روئے زمین پر قرآن حکیم کے علاوہ دوسری آسمانی کتابیں، تورات، انجیل، زبور اور دیگر آسمانی صحائف میں سے کوئی بھی اصلی حالت میں موجود نہیں۔ پہلی قوموں کے لوگوں نے اپنی مرضی کے مطابق ان کتابوں کے احکامات میں تبدیلی کر دی، لیکن قرآن حکیم ایک ایسی بے مثل کتاب ہے، جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ[1]

’’بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘

قرآن حکیم ہی وہ کتاب ہے جو قیامت تک بنی نوع انسانی کے لیے کامل ہدایت اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔

سابقہ کتب بارے حکم[ترمیم]

قرآن حکیم کے نزول کے بعد سابقہ کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن ان کے احکامات پر عمل کرنے کا حکم باقی نہیں رہا کیونکہ قرآن حکیم سے پہلے کوئی بھی آسمانی کتاب عالمگیر اور آفاقی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ تمام سابقہ کتب ایک خاص قوم کی رہنمائی کے لیے آئی تھیں۔ نزول قرآن سے پہلے تمام مذاہب اختلافات کا شکار تھے اس وجہ سے ہر مذہب کے پیروکار اپنے ہی عقیدے کو صحیح سمجھتے تھے، لہٰذا اس وقت کا تقاضا تھا کہ کوئی ایسی کتاب نوع انسانی کی ہدایت کے لیے نازل ہو جو تمام بنی نوع انسان کے لیے ہو اور اس کے احکامات آفاقی ہوں۔ اس لیے قرآن حکیم میں اللہ تعالٰیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ :

إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ[2]

’’یہ قرآن جملہ جہان والوں کے لیے نصیحت ہی تو ہے۔‘‘

لہٰذا قرآن حکیم قیامت تک آنے والے سب انسانوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کی بے نظیر کتاب بن کر آئی۔

حوالہ جات[ترمیم]