اسلامی نجکاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

زمرہ جات


اسلامی نجکاری (انگریزی:Islamic Privatization) قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں کے مطابق نجکاری کو کہا جاتا ہے۔ نجکاری کو مغربی نظام معیشت خصوصا سرمایہ دارانہ نظام میں خصوصی اہمیت حاصل ہیں لیکن اسلامی اقتصادی نظام میں اس کو محدود کیا گیا ہے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں سرکاری اور عوامی ذرائع اور اداروں کی نجکاری نہیں کی جاسکتی۔

سنن ابودا‎وداورابن ماجہ میں ابن عبّاس سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا،

سارے مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں، پانی، چراگاہ اور آگ۔

[1][2][3]

اس حدیث کے روشنی میں دریا‎ؤں کے پانی کی نجکاری نہیں کی جا سکتی اور نا ہی ڈیموں کی نجکاری کی جاسکتی ہیں اور نا ہی ان سے نکالی گئی نہروں کی نجکاری کی جا سکتی ہیں۔ چراگاہوں اور جنگلات کی نجکاری بھی منع ہیں۔ اور رسول صلی اللہ عليہ وسلم اللہ کے زمانے میں آگ دو مقاصد کے لیے استعمال ہوا کرتی تھیں، ایک ایندھن اور دوسری روشنی کے لیے۔ یعنی تیل، گیس،سلفر اورکوئلے وغیرہ کی ذخیروں اور کانوں کی نجکاری نہیں کی جا سکتیں اور نا ہی بجلی کی پیداواری ذرائع کی نجکاری کی جاسکتی ہیں۔[4]

سنن ترمذی اورابن ماجہ میں ابیض بن حمل مربی سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ عليہ وسلم اللہ نے ان سے نمک کا کان واپس لے لیا، جس کو رسول صلی اللہ عليہ وسلم اللہ نے ان کو تحفے میں دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ اس وقت ان سے واپس لیا جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ مسلمانوں کی مشترکہ استعمال میں تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابوداؤد، حدیث نمبر:3470
  2. ترمذی، کتاب البیوع، باب: 864، حدیث نمبر: 1280
  3. ترمذی، کتاب البیوع، باب: 864، حدیث نمبر:1281
  4. Muhammad Sharif Chaudhry۔ "Fundamentals of Islamic Economic System: Public Ownership"۔ MuslimTents.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2014۔