اسلامی آزاد بازار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

زمرہ جات


اسلامی آزاد بازار (انگریزی:Islamic Open Markets) قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں کے مطابق بنائے گئے بازار کو کہا جاتا ہے۔ مغربی نظام معیشت کا قلب ‘‘سود’’ہے جبکہ اسلامی نظامِ معیشت کا قلب ‘‘تجارت’’ہے۔ رسول ﷺ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تو وہاں جاکر دو بڑے ادارے قائم کیے۔ ایک مسجد اور دوسرا بازار(مارکیٹ)۔ اور دونوں کو اوقاف کہا جس طرح مسجد کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ یہ وقف ہوتا ہے اور اس پر اس علاقے کے تمام افراد کا یکساں حق ہوتا ہے۔ کوئی بھی مسجد میں اپنے لیے جگہ خاص نہیں کر سکتا لہٰذا جو مسلمان پہلے آئے گا وہ پہلے صف میں کھڑا ہونے کا حقدار ہوگا۔ اسی طرح اسلامی نظامِ معیشت میں بازار بھی وقف ہوتا ہے اور وہ اس علاقے کے سارے عوام کی مجموعی ملکیت ہوتا ہے۔ اس لیے بازار کے لیے جگہ حکومت فراہم کرے گی اور اس جگہ پر ہر شخص کا یکساں حق ہوگا۔ جیسا کہ مال وغیرہ کارخانے میں بنتا ہے، پھر گوداموں اور تھوک فروشی کے مراکز میں آتا ہے۔ پھر وہاں سے مارکیٹ /بازار میں آتا ہے۔ رسول ﷺ کے دَور میں بازار کے لیے خاص جگہ مخصوص تھی لیکن گوداموں اور کارخانوں کے لیے خاص جگہ مخصوص نہیں تھی بلکہ اکثر چھوٹے کارخانے اورتھوک فروشی ایک ہی جگہ ہوا کرتے تھے، جس کو ‘‘سوق’’کہتے تھے لیکن بعد کے اَدوار میں تینوں کے لیے الگ الگ جگہیں بنائیں گئیں اور خلافتِ عثمانی میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس لیے ہم اوقاف کو کم از کم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ (i سوق المفتوحہ (آزاد بازار) (ii الخان المفتوحہ (آزاد مال تقسیم کرنے کے مراکز) (iii حرفۃ المفتوحہ (آزاد پیداواری مراکز)[1][2]

سوق المفتوحہ (آزاد بازار)[ترمیم]

‘‘سوق’’عربی میں بازار کو کہتے ہیں۔ سوق المفتوحہ کے لفظی معنی ہے 'آزاد بازار' یعنی وہ بازار جس کے لیے جگہ حکومت فراہم کرے اور اس میں معاملات سود اور قمار وغیرہ سے پاک ہو اور جس میں ‘‘زر’’شرعی زر استعمال ہوتی ہو یعنی دینار و درہم۔ حکومت اس جگہ کی فراہمی کے لیے کسی بھی قسم کا محصول (Tax)، کرایہ وغیرہ نہیں لے گی۔ ہر وہ بندہ جو پہلے آئے گا وہ اپنے لیے جگہ مخصوص کرکے اپنی اشیاء بیچے گا۔ اور جو ہی وہاں سے اُٹھ گیا تو جگہ دوسرے کے لیے خالی ہو جائے گی۔ اس لیے وہاں کوئی شخص اپنا مستقل دُکان قائم نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جگہ ایک شخص کی نہیں بلکہ سارے عوام کی ملکیت ہے۔ موجودہ دور میں سستے بازاران کی بہترین مثال ہیں۔ مغربی معاشی نظام میں ملک کی ساری خور و نوش کی اشیاء کی خرید و فروخت پر چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتا ہے مثلاً برطانیہ میں تقریباً ستّرفیصد(70%) اشیاء خور و نوش کا قبضہ صرف پانچ بڑی کمپنیوں کے پاس ہیں جو ہر چیز پر اجارہ داری قائم کرکے اشیاء کی قیمتوں میں آسانی سے اضافہ کر سکتی ہیں۔ لہٰذا مغربی نظام معیشت ہمیں سُپر سٹورز، ہائیپر سٹورز اور بڑے بڑے مالز(Malls) فراہم کرتا ہے جبکہ اسلام ہمیں آزاد بازار فراہم کرتا ہے جہاں ہر چھوٹا بڑا تاجر اپنے سامان کی تجارت کر سکتا ہے۔

الخان المفتوحہ (مال تقسیم کرنے کے آزاد مراکز)[ترمیم]

بازار میں مال آنے سے پہلے یہ گوداموں اور تھوک فروشی کے مراکز میں آتا ہے۔ خلافتِ عثمانی میں مال تقسیم کرنے کے لیے الگ مراکز قائم کیے گئے ،جہاں پر مقامی اور بین الاقوامی مال آتا تھا اور وہاں سے پھر بازاروں میں تقسیم ہوتا تھا۔ ان مراکز کو عربی میں ‘‘خان’’کہا جاتا تھا۔ ترکی زبان میں اُسے ‘‘حان’’، فارسی زبان میں اُسے ' کاروان سرائے ' کہا جاتا تھا۔ آزاد بازار کی طرح ان مراکز کے لیے بھی جگہ حکومت فراہم کرتی تھیں اور ضروریات کی دوسری اشیاء بھی سب مل کر استعمال کرتے تھے۔ وہاں پر تجارت زیادہ تر قرض کی بنیاد پر ہوتاتھا لیکن مغربی نظام کے آنے کے بعد ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹایا گیا جیسا کہ وہ تھے ہی نہیں۔

حرفۃ المفتوحہ (صنعت و پیداوارکے آزادمراکز)[ترمیم]

حرفۃ المفتوحہ، صنعت و پیداورا کے آزاد مراکز کو کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے بھی جگہ اور دوسرے ضروریات کے وسائل حکومت فراہم کرے گی جہاں ہر شخص اپنی چھوٹی یا بڑی صنعت بنائے گا۔ جس پر حکومت اس سے کوئی محصول(Tax)، کرایہ وغیرہ وصول نہیں کرے گا۔ حرفت میں اکثر کاروبار شراکت کی بنیادپر ہوتا ہے۔ لہٰذا اوقاف کی وجہ سے ہر چھوٹے سے چھوٹے تاجر و صنعت کار کے لیے پیداواری مراکز، تھوک فروشی اور بازار تک براہِ راست رسائی ہوگی جبکہ مغربی نظام معیشت میں صنعت، تھوک فروشی اور بازار پر چند سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتاہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Subhi Y. Labib (1969), "Capitalism in Medieval Islam", The Journal of Economic History 29 (1), p. 79-96 [81, 83, 85, 90, 93, 96].
  2. Robert Sabatino Lopez, Irving Woodworth Raymond, Olivia Remie Constable (2001), Medieval Trade in the Mediterranean World: Illustrative Documents, Columbia University Press, ISBN 0-231-12357-4.