اسلامی زر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامی زر یا اسلامی کرنسی ( انگریزی: Islamic Money or Shariah Currency) دراصل اسلامی اصولوں کے مطابق زر یا پیسے کو کہا جاتا ہے۔ اسلام کی تیرہ سو سال تاریخ میں ‘‘کرنسی ‘‘ یا ‘‘زر’’ہمیشہ سونے اور چاندی سے بنے سکے ّ ہوا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کرنسی کا ذکر قرآن میں کیا ہے تو سونے کے دینار اور چاندی سے بنے دراہم کا ذکر کیا ہے۔
سونے کے دینار اور چاندی کے دراہم کو’’شرعی زر’’اس لیے کہا جاتا ہے کہ شریعت نے اس کے ساتھ دین کے کئی معاملوں کا تعلق جوڑ دیا ہے۔ مثلاً زکوٰۃ، مہر اور حدود وغیرہ میں۔ لہٰذا سونے اور چاندی کا ہر سکّہ دینار و درہم نہیں کھلائے گا بلکہ وہ سکہّ جو کم از کم بائیس(22k) قرات سونے سے بنا ہو اور اس کا وزن 4.25 گرام ہو تو اُسے ہم ایک دینار کہیں گے اور کم از کم 99%چاندی سے بنا سکہ جس کا وزن 2.975گرام ہو اُسے ہم ایک درہم کہیں گے۔ اور ان دونوں کو شریعت نے ثمن قرار دیا ہے۔ اس لیے اسلامی معاشی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کو معلومات کی جلد رسائی کے لیے استعمال کیا جائے گا ناکہ بطورِ ‘‘زر’’۔

تاریخ[ترمیم]

حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلّم کے دور کا ساسانی طلائی دینار، جس پر خسرو پرویزثانی (628-570) کا مہ رہے۔
حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلّم کے دور کا ساسانی نقرئی درہم، جس پر خسرو پرویزثانی (628-570) کا مہ رہے۔
خلافت امویہ کے عبدالملک بن مروان کے عہد کے طلائی دینار

حضرت محمد صلی اللہ عليہ وسلّم کے دور میں سونے اور چاندی کے ساسانی اور یونانی سکّے استعمال ہوا کرتے تھے، چاندی کے سکّے کا وزن 3 گرام سے لے کر 5۔ 3 گرام ہوا کرتا تھا۔ جبکہ سونے کے سکّے کا وزن4.44 گرام سے لے کر 4.5گرام ہوا کرتا تھا۔ اہل عرب اس کاتبادلہ وزن کے حساب سے کیاکرتے تھے لیکن محمدصلی اللہ عليہ وسلّم نے ایک دینار کا وزن ایک مثقال قرار دیا، جو 72 جو(جو) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے۔ اور جدید معیار وزن کے مطابق اس کا وزن تقریبا 4.25 گرام ہوتاہے۔ حضرت عمر کے دور میں ان سکّوں کو کاٹھا گیا اور اس کے وزن کوایک مثقال تک لایاگیا۔ کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک معیار قائم کیا کہ سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو۔ لہذا ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ اور حضرت عمر کے دور ہی میں اس پر بسم اللہ لکھا گیا۔ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت امیر معاویہ نے پہلی مرتبہ اپنے سکّے جاری کیے۔ بعد میں عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں میں باقائدہ طورسے اپنے سکّے ڈھالنے شروع کیے۔ جس کاوزن نہایت احتیاط کے ساتھ 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) رکھا گیا۔[1]

چاندی کا درہم جس پرحضرت عمر کے دور میں بسم اللہ لکھا گیا۔ اس کا وزن تقریبا 3 گرام ہے۔ اس کوحضرت عمر نے 5۔ 3 گرام سے کم کرکے 3 گرام کیا تھا۔

معیارِ وزن و خالصیت[ترمیم]

جدید طلائی دینار اور نقرئی درہم کے اوزان بھی ایک مثقال کی بنیاد پررکھی گئی ہیں۔ ایک مثقال کا وزن 72 جو(جو) کے دانوں کے وزن کے برابر ہوتاہے، جو 25۔ 4 گرام کے برابر ہوتاہے۔ اس لیے جدید طلائی دینار کا وزن 25۔ 4 گرام ہوتا ہے۔ اور اس کی خالصیت کم ازکم 22 قیرات (یعنی 7۔ 91 فیصد) ہونی چاہئیے۔ قول ِرسول کی بنا پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکے قائم کردہ معیارکے مطابق سات دینار کا وزن دس دراہم کے برابر ہو، تو ایک درہم کا وزن تقریبا 2.975 گرام (تقریبا 3 گرام) ہوتاہے۔ اس لیے جدید طلائی دینار و نقرئی درہم بنانے والی اکثرکمپنیاں مثلاً عالمی اسلامی ٹکسال، وکالہ انڈیوک نوسنتارہ، ضراب خانہ اسعار سنّت وغیرہ اسی معیار کو استعمال کرتی ہیں۔[2]

قرآن میں شرعی زر کا ذکر[ترمیم]

قرآن کی سورۃ العمران کی آیت نمبر 75 میں دینار کا ذکر آیا ہے جبکہ درہم کا ذکر سورۃ یوسف کی آیت نمبر20 میں آیا ہے۔

زر قانونی(Legal Tender) کی ممانعت[ترمیم]

مغربی نظامِ معیشت میں حکومت کو یہ کھلا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شے کو ‘‘زر’’قرار دے سکتی ہے مثلاً حکومت اگر کہے کہ کاغذی نوٹ ‘‘زر’’(Money) ہے تو سب کو ماننا پڑے گا اور اگر کہے کہ پلاسٹک سے بنے کارڈ ‘‘زر’’ہے تو سب کو ماننا پڑے گا۔ لہٰذا دنیا کے تمام ممالک کے آئین اور دستور میں یہ بات درج ہے کہ کاغذی نوٹ ‘‘زر’’ہے اور اِسے چھاپنے والے صرف مرکزی بینک ہوں گے تو جس ‘‘زر’’کے پیچھے حکومت کا قانون کارفرما ہو اُسے ‘‘زرِ قانونی’’کہاجاتا ہیں اور انگریزی میں اُسے “Legal Tender”کہا جاتا ہے۔ یا اس کو ‘‘کرنسی’’(Currency) بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان کی کرنسی کا نام روپیہ ہے، افغانستان کی کرنسی کا نام افغانی اور امریکا کی کرنسی کا نام ڈالر ہے وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص پاکستانی روپیہ لینے سے انکار کرے تو حکومت اُسے مجرم قرار دے کر سزا دے سکتی ہے لیکن اسلام میں کوئی ‘‘زرِ قانونی’’نہیں ہے۔ کوئی بھی اسلامی حکومت عوام پر بزور کوئی ‘‘زر’’نافذ نہیں کر سکتی بلکہ یہ عوام کی منشا پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ کوئی بھی چیز آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

کاغذی کرنسی اسلام میں جائز یا نا جائز[ترمیم]

امام مالک ؒ نے ‘‘زر’’کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے ‘‘کہ ہر وہ جنس جو عوام آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال کرنا قبول کرے اُسے ‘‘زر’’یعنی پیسہ (Money)کہا جائے گا۔ اب مغربی نظامِ معیشت میں ‘‘زر’’کی قیمت اس کے اندر بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی مثلاً سونے اور چاندی کے سکوّں کو بھی بطورِ زر استعمال کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ کاغذی نوٹ، پلاسٹک کارڈ وغیرہ بھی ‘‘زر’’(Money)کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسلامی نظامِ معیشت میں ‘‘زر’’کی قدر اس کے اندر ہونی چاہیے، چاہے وہ کوئی بھی جنس ہو مثلاً سونا، چاندی، گندم، کھجور وغیرہ۔ رسیدوں کو بطورِ ‘‘زر’’استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اسلامی معاشی نظام میں کاغذی کرنسی، پلاسٹک کرنسی، برقی کرنسی (Digital Currency)مکمل طور پر حرام ہے۔ کیونکہ اس کے استعمال سے غرر لازمی آتا ہیں، جس کی اسلام میں ممانعت ہیں۔ رسید اگر دو بندوں کے درمیان نجی معاملہ ہو تو وہاں تو حلال ہیں لیکن اس کو تیسرے اور چوتھے بندے پر بیچ نہیں سکتے ہیں جب تک اس مال پر قبضہ نہ کیا جائے جس کی یہ رسید نمائندگی کرتی ہے۔ اب اس حدیث کو ملاحظہ کیجئے۔ "امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکو مت میں لوگوں کوجار (بازار کا نام) کے غلّے کی رسیدیں (سندیں) ملیں۔ لوگوں نے رسیدوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضہ میں لائے تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابی (ابو ہریرہ) مروان کے پاس گئے اور کہا، کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان! مروان نے کہا، معاذاللہ کیا کہتے ہو۔ تو انہوں نے کہا کہ رسیدیں جن کو لوگوں نے خریدا ،پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبل غلّہ لینے کے۔ مروان نے چوکیداروں کو بھیجا کہ وہ رسیدیں لوگوں سے چھین کر رسید والوں (مالکان) کے حوالے کر دیں۔ "[3][4]
یعنی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ رسیدوں میں تجارت کو حرام سمجھتے تھے۔
1840ء میں خلافت عثمانیہ میں سب سے پہلے کاغذی نوٹوں کی ابتدا ہوئی، جس کے خلاف اس وقت کے سب علما نے فتوی دیا۔ لہٰذا اس پر پابندی لگائی گئی۔ کچھ وقت بعدیہ پھر ابھری لیکن اس پر پھر پابندی لگائی گئی۔ اور اس وقت کے مفتی ا‍ عظم شیخ علیش نے اس کے استعمال کو حرام قرار دیا۔ لیکن بعد میں سقوط خلافت کے بعد ہما رے نئے جدّت پسند (modernist)علماءنے اس کے استعمال کو جائز قرار دیا۔ اور یوں اس کی آمد نے ‎شرعی زر کی جگہ لے لی۔
مفتی ڈاکٹرعمران نزار حسین صاحب نے اپنی کتاب ‘‘اسلام کی مستقبل کا زر’’میں کاغذی کرنسی کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔ لہٰذا اسلامی معاشی نظام میں خلیفہ وقت بھی عوام کو مجبور نہیں کر سکتا کہ فلاں چیز ‘‘زرِ قانونی’’ہے اور فلاں چیز نہیں۔ لہٰذا ہمارے نظام میں ‘‘زرِ قانونی’’کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ لیکن موجودہ دور میں بعض علما کی یہ رائے ہے کہ "یہ مال ہے رسید نہیں اور چونکہ کاغذی نوٹ ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے، لہٰذا اس کے ادا ہو نے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور اس کا وہی حکم ہے جو فلوس کا ہے۔ "
اگر آپ اس کا بغور جائزہ لے، تو موجودہ کاغذی کرنسی کی تاریخ کی روشنی میں کہ پہلے یہ سونے اور چاندی کے رسیدیں ہوا کرتی تھیں۔ سن 1945ء میں سارے دنیا کے کاغذی کرنسی کے پیچھے ڈالر رکھا گیا اور ڈالر کے پیچھے سونا رکھا گیا۔ اور 1971ء میں ڈالر کے پیچھے سے بھی سونا ہٹایا گیا اور اب کسی ملک کی کاغذی کرنسی اس ملک کی ساری معیشت کی نمائنگی کرتی ہے نا کہ صرف سونے کی۔ لہٰذا اب بھی موجودہ کاغذی کرنسی رسیدیں ہیں آپ کے ملک کی مختلف اشیاء اور خدمات کی۔ لہٰذا اگر آپ ایک ہزار کا نوٹ پاکستان کے مرکزی بینک کے پاس لے جائے تو وہ آپ کو براہ راست سونا فراہم نہیں کرے گی بلکہ آپ سے کہے گی کہ یہ ہماری ملک میں پڑے مختلف اشیاء کی نمائندگی کر رہی ہے لہٰذا آپ بازار جا کر اس سے سونا خریدے یا ضرورت کی کوئی دوسری شے۔ لہٰذا اب بھی یہ رسیدیں ہی ہیں مال نہیں۔ اس وجہ سے اس پر احکام رسیدوں کے جاری ہوں گے نا کہ مال کے۔ کیونکہ اگر یہ مال ہوتا تو ہر ملک زیادہ کرنسی چھانپنے سے زیادہ مالدار ہوتا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنی ملک میں موجود پیداواری اشیاء اور خدمات کی بنسبت زیادہ کرنسی نوٹ چھاپے گا تو اس کی کرنسی کی قدر میں اضافے کی بجائے کمی ہو گی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مال نہیں، رسیدیں ہیں۔
اور جہاں تک مال عرفی کا تعلق ہیں تو اس پر احکام عرف کے جاری نہیں ہوں گے بلکہ اس پر احکام اس کی حقیقت کے جاری ہوں گے یعنی رسید کے۔ مثلاً اگر کسی شخص کا نام عبد اللہ ہے اور عرف میں اس کو شیر کہاجاتا ہے۔ اب اگر یہ شخص چوری کرے تو اس پر انسانوں والے احکام جاری ہو نگے نا کہ ‎جانوروں کے، باجود اس کے کہ اس کا ‎عرف جانور کا ہے نا کہ انسان کا۔ اور رہی بات اس کے احکام فلوس ہونے کے، اس بات پر تقریباً سارے علما متفق ہے کہ فلوس کو بطور زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ کیونکہ در حقیقت، فلوس ایک درہم کے ایک چھوٹے سے حصّے کے رسید ہوا کرتے تھے۔ اور اس کا استعمال صرف ریزگی (small change) کے طور پر ہوا کرتا تھا کیو نکہ اس وقت ایک درہم کی بہت سے چھوٹے چھوٹے حصّے کرنا اور پھر اس کو بطور سکّہ استعمال کرنا مشکل تھا لہٰذا چھوٹی خریداری کے لیے اس کی اجازت دی گئی۔ لیکن یہ کبھی بھی دینار و درہم کے خاتمے اور اس کی جگہ لینے کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔ جبکہ موجودہ کاغذی نوٹوں نے سونے کے دینار اور چاندی کے دراہم کو صفحہ ہستی سے ایسے مٹا دیا جیسے وہ تھے ہی نہیں۔
لہٰذا موجودہ کاغذی نوٹ ہر گز ہرگز مال نہیں بلکہ رسید ہے مال کی۔ اسی لیے اگر سونے کے دینار اور چاندی کے درہم بازار میں موجود نہ ہو تو مجبورا کاغذی کرنسی میں زکوٰۃ ادا کرنے کی تو ایک صورت بنتی ہے لیکن اگر بازار میں سونے کے دینار اور چاندی کے درہم موجود ہو تو کاغذی کرنسی میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ اور مفتی عمران اور شیخ عمرکے علاوہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے بھی 'فتاوی دار العلوم دیوبند' میں اس کو رسید کہا ہے نا کہ مال۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں دینار تحریک کے بانی شیخ عمر صاحب نے دار العلوم کراچی، پاکستان میں شرعی زر متعارف کروایا، جس کی وہاں کے علما اور طلبہ نے خوش آمدید کی۔ اور پاکستان کے تقریباً پچاس مفتیوں نے سونے کے دینار کے حق میں فتوے دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ اور آج کل وہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے حکومت کے ساتھ سونے کے دینار اور چاندی کے دراہم متعارف کرانے میں مصروف ہے۔

استعمال[ترمیم]

طلائی دینارکے بہت سے استعمالات ہیں۔ جن میں چند ایک مندرجھ ذیل ہیں۔[1]

بطورِ زر(Money)[ترمیم]

اسلام کی تیرہ سو سال تاریخ میں ‘‘کرنسی ‘‘ یا ‘‘زر’’ہمیشہ سونے اور چاندی سے بنے سکے ّ ہوا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کرنسی کا ذکر قرآن میں کیا ہے تو سونے کے دینار اور چاندی سے بنے دراہم کا ذکر کیا ہے۔

بطورِمعیار نصابِ زکوٰۃ[ترمیم]

یعنی اگر آپ کے پاس بیس (20) دینار ہے تو ایک سال گزرنے کے بعد آپ پرزکوٰۃ واجب ہو گئی اور آپ کو آدھا دینار زکوٰۃ میں دینا پڑے گا۔ زکوٰۃ کا حساب لگانے کا انتہائی آسان طریقہ یہی ہے۔ لہٰذا بیس دینار 85گرام سونا بنتا ہے اور آدھا دینار 2.125گرام سونا بنتا ہے۔ یعنی جمع دولت کا 2.5%فیصد حصّہ آ پ زکوٰۃ میں دیں گے۔ اور اسی طرح اگر آپ کے پاس دوسو (200) ددہم ہے تو ایک سال گزرنے کے بعد آپ پرزکوٰۃ واجب ہو گئی اور آپ کو5 دراہم زکوٰۃ میں دینا پڑے گا۔ زکوٰۃ کا حساب لگانے کا انتہائی آسان طریقہ یہی ہے۔ لہٰذا بیس دینار 595 گرام چاندی بنتا ہے اور 5 دراہم 875۔ 14گرام چاندی بنتا ہے۔ یعنی جمع دولت کا 2.5%فیصد حصّہ آ پ زکوٰۃ میں دیں گے۔

بطورِادائیگی زکوٰۃ[ترمیم]

اسلام میں زکوٰۃ ہمیشہ حقیقی دولت میں دیا جاتاہے۔ حقیقی دولت کا مطلب ہے سونا، چاندی،زمین،یا دوسری اشیاء جن کی اپنی قیمت ہو۔

مہر کا نصابِ معیار[ترمیم]

مہر کا نصابِ معیارمقرر کرنے کے لیے شرعی زر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً فقہ حنفی کے مطابق مہر کا کم سے کم مقدار دس (10) نقرئی درہم ہے۔

اسلامی قوانینِ سزاوجزا (حدود) میں اس کا استعمال[ترمیم]

اسلامی قوانینِ سزاوجزا (حدود) میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جدید دور میں اس کا استعمال[ترمیم]

فوائد[ترمیم]

سونے اور چاندی کے سکوّں کے بہت سے فوائدہیں۔* سونے اور چاندی کے سکوّں کے بہت سے فوائد ہیں۔ کیونکہ کرنسی کی قیمت اس کے اندر ہونی چاہیے۔ لہٰذا سونے اور چاندی کے سکوّں کی اپنی ایک قدر و قیمت ہے جو پوری دنیا میں قابل قبول ہے کیونکہ یہ ایک حقیقی دولت ہے کوئی ردّی کاغذ نہیں۔[5]

  • جدید معاشی نظام سے پہلے جب لوگ آپس میں تجارت کرتے تھے تو وہ جفرافیائی حدود سے آزاد تھے۔ وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے تھے سونے اور چاندی کے سکے ّ وہاں وزن کے حساب سے قبول کیے جاتے تھے۔ لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوا کرتی تھیں۔ ایسا ممکن نہ تھا کہ امریکا میں بیٹھا کوئی بینکر یا شخص ہندوستان کی پوری قوم کو غلام بناسکے۔ اور اس کے علاوہ یہ بھی ممکن نہ تھا کہ افغانستان میں بیٹھا ہوا کوئی شخص اگر تجارت کرے تو یورپ میں بیٹھا ہوا کوئی بینکر اس میں سے اپنا حصّہ نکال لے۔ یعنی تجارت حقیقی دولت میں ہوا کرتی تھیں اسی لیے انسان آزاد تھے۔[6]
  • اس کے ساتھ ساتھ لوگ حکومت کے دھوکوں سے بھی آزاد تھے۔ اگر کوئی حکومت یا بادشاہ منڈی میں دولت لانا چاہتا تھا تو اسے سونا یا چاندی کہیں سے ڈھونڈ کر لانا پڑتا تھا۔ ایسا نہ تھا کہ بے دریغ دولت(کاغذی کرنسی)کے روپ میں یکدم منڈی میں ڈال دی جاتی، روپے،ڈالر وغیرہ کی قیمت میں کمی ہوجاتی۔ جس کی سزا عام عوام کو بگتنی پڑتی۔

یعنی اس دور مین جب کوئی حکومت یا بادشاہ ملکی خزانہ لوٹ لیتے ہیں تو پھر ان کے پاس سرکاری ملازمین وغیرہ کو تنخواہ دینے کے پیسے(کاغذی کرنسی)کم پڑجاتی ہے تو وہ زیادہ کاغذی کرنسی چھاپ دیتے ہیں تاکہ ملازمین کو تنخواہیں دی جاسکے تو کاغذی کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے، لہٰذا اگر کسی مزدور نے پچھلے دس سالوں میں ایک لاکھ روپے جمع کیے ہیں۔ تو حکومت کی کاغذی کرنسی کی زیادہ چھپوانی سے اب اس کے ایک لاکھ روپے کی قدر پچاس، ساٹھ ہزار روپے ہوگی۔ لہٰذا اس مزدور کی آدھی دولت حکومت نے ہڑپ کرلی اور اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں کہ اصل میں کیا ہوا اس کے ساتھ۔[7]. لہٰذا کاغذی کرنسی کے زیادہ چھپوائی کے ذریعے دنیا کی ہر حکومت اپنی عوام کی دولت کو لوٹنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے اگر کرنسی سونے کی ہو تو حکومت کے لیے ممکن نہیں کہ زیادہ کرنسی کو چھپوا سکے کیونکہ اب کرنسی کاغذ کی نہیں بلکہ سونے کی ہے۔ لہٰذا سونے اور چاندی سے بنے کرنسی سے عوام کی دولت، حکومت اور بین الاقوام ادارہ برائے زر(بین الاقوامی مالیاتی فنڈ)کے دھوکوں سے محفوظ رہتیں ہیں۔[8]

  • اس کے علاوہ سونے اور چاندی کے سکے ّ اپنی قیمت ہر دور میں برقرار رکھتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سونے اور چاندی کے سکے ّ ہو تو آپ خواہ کسی بھی ملک میں چلے جائے تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی دور ہو یا جیسے بھی حالات ہو، جنگ کا زمانہ ہو یا امن کا دور، ملک کی معاشی حالت خراب ہو یا اچھی ہو، ہر حالت میں سونا اپنی قیمت کو برقرار رکھتی ہے۔ کیوں کہ سونے سے بنے کرنسی کی وجہ سے، کرنسی کی قیمت و قدر اس کے اندر ہوتی ہے جب کہ کاغذ سے بنی کرنسی کی قدر اس کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک کاغذ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے اگر ایک انسان سونے اور چاندی کے سکوّں کو زمین میں دبادے اور چھار، پانچ سو سال بعد کوئی شخص اس کو نکالے، تب بھی اس کی قیمت برقرار رہے گی اور اس کے لیے یہ سکے ّ ایک قیمتی خزانے کی شکل اختیار کریں گے۔ اس لیے اگر کسی کو آج سے چھار پانچ سو سال پہلے کے دور کے سکے ّ مل جائے تو ہم کہتے ہے کہ اس کو خزانہ مل گیا ہے۔ یہ خزانہ دراصل اس دور کی کرنسی(روپیہ،پیسہ)ہی ہے، جو خزانے کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے۔ اب آپ ذرا سوچئے کہ اگر اس دور میں بھی کرنسی کاغذ کی ہوتی تو پھر اس کی قدر ردّی کاغذ کے سوا کچھ بھی نا ہوتی۔ اس لیے اگر انسان سونا لیکر زمین میں دبا دے اور سو سال بعد اس کو نکالا جائے تو اس کی قیمت برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا سونے چاندی کی وجہ سے وہ پرانا معاشی نظام پائیدار تھا۔[9]
  • اس کے علاوہ سونے چاندی کے سکوّں کا یہ فائدہ بھی پہلے حکومتوں اور عوام کو ہوا کرتا تھا کہ اگر کوئی دشمن ملک آپکی کرنسی بنانا چاہتا تھا، تو اسے بھی سونے اور چاندی کے سکے ّ ہی بنانے پڑتے تھے۔ اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی بھی ردّی کاغذ چھپوالیتا اور کرنسی کاپی کرلیتا۔

یعنی اس دور میں کرنسی کو دشمن ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن ملک آپ کی کرنسی کو چھاپ کر آپ کے ملک کے منڈی میں لاتا ہے، تو آپ کے ملک میں کرنسی زیادہ ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے اور ملک کا پیسہ تباء ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے معیشت خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن اس نظام میں یہ ممکن نہیں جہاں کرنسی سونے اور چاندی سے بنی ہو۔ چنانچہ دنیا کا سب سے پائیدار معاشی نظام ایک ایسا نظام ہو سکتا ہے جس میں کرنسی کی قدر میں کمی نہ ہو، یعنی کرنسی کی اصل قدر اس کے اندر ہو۔[9]

  • اس کے علاوہ اگر دشمن ملک آپ کی کرنسی چھاپ لے تو وہ صرف کاغذ کے چند نوٹوں کے بدلے آپ کے ملک کے مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید سکتے ہیں۔ مثلاً وہ آپکے مارکیٹ سے سونا، چاندی،گندم، وغیرہ، غرض ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن سونے کی صورت میں یہ ممکن نہیں۔[5]
  • کاغذی نوٹ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، پٹ جاتے ہیں، پانی لگنے سے خراب ہو جا تے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتے ہیں لیکن سونا اور چاندی نا جل کر راکھ ہو تی ہیں اور نا ہی پانی لگنے سے خراب ہوتی ہیں اور 22 قیرات سونے کا سکّہ جس کی ساتھ تھوڑا سا تانبا ملا ہوا ہو، کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یعنی ساٹھ سال مسلسل استعمال کے بعد شاہد اس کے وزن میں ایک فیصد کمی آ جائے، جس کو واپس ٹکسال لے جا کر اس میں ایک فیصد سونا ڈالنا ہو گا۔ جب کہ کاغذی کرنسی کی عمر دو سے تین سال ہوتی ہیں۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Ibn Khaldun, The Muqaddimah, ch. 3 pt. 34.
  2. Vadillo, Umar Ibrahim. The Return of the Islamic Gold Dinar: A Study of Money in Islamic Law & the Architecture of the Gold Economy. Madinah Press, 2004.
  3. صحیح مسلم، کتاب البیوع باب 8 حدیث 3849
  4. موطّا امام مالک، کتاب البیوع، باب 19 حدیث 83
  5. ^ ا ب Vadillo, Umar Ibrahim. "The Return of the Islamic Gold Dinar." Kuala Lumpur: The Murabitun Institute (2002).
  6. ^ ا ب Meera, Ahamed Kameel Mydin. The Islamic Gold Dinar. Pelanduk Publications, 2002.
  7. Evans, Abdalhamid. "The Gold Dinar-A Platform For Unity." Proc. of the International Convention on Gold Dinar as An Alternative International Currency. 2003.
  8. "Introduction of Islamic dirham, dinar urged to get rid of usury"۔ Pakistan Today News, Date: Saturday, 14 July, 2014,۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2014۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  9. ^ ا ب Rab, Hifzur. "Problems created by fiat money gold Dinar and other alternatives." 2002), International Conference on Stable and Just Global Monetary System., IIUM, Kuala Lumpur. 2002.