اسلامی اقتصادی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زمرہ جات



اسلامی اقتصادیات[ترمیم]

اسلامی معیشت کی بنیاد محدود خواہشات(بنیادی ضروریات) اور لامحدود وسائل پر قائم ہے جس سے انڈسٹری ترقی کرتی ہے اور ملک خوشحال ہوتا ہے۔ مسلمان دیانتداری اور کوالٹی میں مستقل مزاجی کو اپنائیں تو عالمی سطح پر ان کا وقار بحال ہوجائے گا۔ اسلام مساوی معاشی حقوق(حق معیشت میں مساوات[1]) کی بات کرتا ہے۔ اور سرمایہ داری اور سوشل ازم دونوں کےمقابل اپنا ایک مستقل معاشی نظام رکھتا ہے ۔سوشل ازم بعض اصولوں میں اسلامی معاشی نظام کے قریب معلوم ہوتا ہے جب کہ سرمایہ داری نظام اسلام کے بالکل متضادہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کا ردعمل تھا اس وجہ سے اس کے تمام معاشی اصول سرمایہ دارانہ نظام کے برخلاف(اُلٹ) ہیں جبکہ اسلام تعاون باہمی کی اساس پر بزنس مین (کارخانہ دار)اور عوام (مزدور)دونوں ں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے ۔ [1]

اسلام کا معاشی نظام اعتدال پر مبنی ہے۔ اگر فرد متاثر ہو رہا ہو تو اسلام معاشرے کو فائدہ نہیں دیتا اور اگر فرد کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہو رہا ہو تو فرد کو رعایت نہیں دیتا اگر ایک ادارے کا نظام درست ہے اور اس کے ملازم اس کے خلاف ہوگئے ہیں تو اسلام ادارے کو تحفظ دے گا اور اگر ملازم درست ہیں اور ادارے کا نظام درست نہیں تو ملازموں کو فائدہ دے گا۔ اسلام نے مالک اور گاہک دونوں کے حقوق متعین کیے ہیں۔ اسلام کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا اور منافع کی تقسیم کا عادلانہ نظام دیتا ہے اور بزنس میں مقابلے کیلئے کوالٹی پر زور دیتا ہے اور مد مقابل کا بزنس منفی ہتھکنڈوں سے خراب کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ اسلام اداروں میں ایسے نظام کی بات کرتا ہے جہاں ملازم اپنا موقف بلا خوف بیان کرسکے۔ اسلام اجارہ داری کے خلاف ہے اور مثبت مقابلے اور کنٹرول مارکیٹ کی بات کرتا ہے۔ آج غیر اسلامی دنیا اسلام کے زریں اصولوں کو اپنائے ہوئے ہے۔

اسلام جہاں اداروں کو ملازم کے حقوق کا پابند بناتا ہے وہاں ملازم کو بھی پابند کرتا ہے کہ کمپنی کے سیکرٹ محفوظ رکھے اور زیادہ مالی مفاد کیلئے کمپنی کو نہ چھوڑے کیونکہ کمپنی نے برے حالات میں بھی اس کا خیال رکھا ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تجارت کی اخلاقیات سکھائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی، گلوبل وارمنگ اور پانی کی آلودگی کی اسلام نے 14سو سال قبل بات کی تھی۔

آج مغرب دہشت گرد کو مسلم دہشت گرد کہتا ہے تو وہ بد دیانت بزمین کو بددیانت مسلم بزمین بھی کہتا ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور بزنس کی اسلامی اخلاقیات اور قدروں کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ ایک مسلم ملک کے مضبوط ہونے سے مسلم اُمہ مضبوط ہوگی۔ ۔۹۔دولت کے پجاری امرااور ان کے لیے لمحۂ فکریہ :۔

  • امرانے ہمیشہ ہر پیغمبر کی مخالفت کی۔
  • فرعون اور فرعونی امرا کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بددعا کہ یا الہٰی ان کی دولت تباہ کر دے اور ان کے دل سخت کر دے کہ سخت مصیبت کے بغیر ایمان نہ لاویں۔
  • کتنی بستیاں تباہ کی گئیں جو اپنی معیشت پر اترا گئی تھیں۔
  • اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ اس کے اہالی ظالم نہ ہوں۔
  • اللہ تعالیٰ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک ان میں پیغمبر نہ بھیج دے۔
  • اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آسودہ حال لوگوں پر احکام بھیجتا ہے۔ وہ لوگ ان احکام میں بے حکمی کرتے ہیں اور ان کی بے حکمی کے سبب بستی کو ہلاک کر دیاجاتا ہے۔ آسودہ حال لوگوں کے یہ حکام ایسے ہی ہو سکتے ہیں جن سے ان کو مالی نقصان کا اندیشہ ہو۔
  • امیروں کے خصائص :۔
  • راہگیروں سے مذاق۔ ہمیشہ زندہ رہنے کا یقین۔ پکڑ میں سختی۔
  • اللہ کا جوش غضب امرا کے خلاف بھڑک اٹھتا ہے۔
  • امراکے لیے عذاب۔
  • کیا ان امیروں نے اپنے سے پہلوں کا حشر نہیں دیکھا۔ سوشلسٹ ممالک میں امراکا حشر۔
  • سونا اور چاندی جوڑنے والوں کے جسم گرم سکوں سے داغے جائیں گے۔
  • اللہ نے لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ ورنہ اعمال کے حساب سے ایک جی بھی زمین پر نہ چھوڑتا۔
  • اللہ جن سے ناامید ہوتا ہے ان پر دولت کے دروازے کھول دیتاہے۔ پھر اچانک پکڑ لیتا ہے اور وہ دلشکستہ ہو جاتے ہیں۔
  • ظالم لوگ قیامت کو عذاب سے بچنے کی خاطر دنیا بھرکا مال بھی فدیہ میں دینے کو تیار ہوں گے بلکہ ایسی ایک اور دنیا کا مال بھی۔
  • مکر کرنے والوں کے خلاف اللہ کی خفیہ تدبیر زبردست ہے۔
  • اللہ نے ضعیفوں پر احسان فرما کر زبردستوں پر غالب کر دیا۔
  • اسلامی قانون رائج ہونا چاہیے۔
  • غنڈوں کی اسلامی سزا۔
  • غنڈوں کاعذر۔
  • جس پر اللہ کا غضب واجب ہوا، وہ تباہ ہوا۔
  • خدا کی نگاہ میں انسان کا معیار دولت نہیں سخاوت ہے۔
  • یہودیوں کی ایک خاصیت۔
  • منافقین کی خاصیت۔

امرا نے ہر پیغمبر سے یہی کہا کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے دین پر قائم رہیں گے اور تمہاری بات نہ مانیں گے۔نیک امراء باغوں اور چشموں میں رہتے ہیں۔ رات کو کم سوتے تھے۔ پچھلی رات استغفار کرتے اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق تھا۔ علامہ محمد یوسف جبریل واہ کینٹ www.oqasa.org yousuf gabreil foundatiion Pakistan Back to Conversion Tool

Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

  1. ^ 1.0 1.1 اسلام کا اقتصادی نظام مولفہ مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی