حیا (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حیا کے لغوی معنی وقار، سنجیدگی اور متانت کے ہیں۔  یہ بے شرمی، فحاشی اوربے حیائی کی ضد ہے۔ امام ابو الا اعلیٰ مودودی کے نزدیک اسلام کی اصطلاح میں حیا سے مراد وہ شرم ہے جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اورخدا کے سامنے محسوس کرتا ہے۔[1] امام راغب اصفہانی نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ’’حیا وہ وصف ہے جس کی وجہ سے برا کام کرنے سے نفس میں تنگی محسوس ہوتی ہے۔علامہ ابن حجرؒ کے نزدیک ’’حیا وہ خلق ہے جو انسان کو نیکی کرنے اور برائی نہ کرنے پر اُبھارتا ہے۔‘‘

حیا کا استدلال[ترمیم]

امام مودودی اپنی معرکہ آرا تصنیف پردہ میں لکھتے ہیں کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ناجائز صنفی تعلقات کو روکنے کے لیے عورتوں اورمردوں کے درمیان میں حجابات حائل کرنا اور معاشرت میں اْن کے آزادانہ اختلاط (میل جول) پر پابندیاں عائد کرنا دراصل اْن کے اخلاق اور اْن کی سیرت پر حملہ ہے۔اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ گویا تمام افراد کو بدچلن فرض کر لیا گیا ہے اور یہ کہ ایسی پابندیاں لگانے والوں کو نہ اپنی عورتوں پر اعتماد ہے نہ مردوں پر۔ بات بڑی معقول ہے مگر اسی طرز استدلال کو ذرا آگے بڑھائیے۔ہر تالا جو کسی دروازے پر لگایا جاتا ہے گویا اس امر کا اعلان ہے کہ اس کے مالک نے تمام دنیا کو چور فرض کر لیا ہے۔ ہر پولیس مین کا وجود اس پر شاہد ہے کہ حکومت اپنی تمام رعایا کو بدمعاش سمجھتی ہے۔ ہر لین دین میں جو دستاویز لکھوائی جاتی ہے، وہ اس امر پر دلیل ہے کہ ایک فریق نے دوسرے فریق کو خائن قرار دیا ہے۔اس طرز استدلال کے لحاظ سے تو آپ ہر لمحے چور، بدمعاش، خائن اور مشتبہ چال چلن کے آدمی قرار دیے جاتے ہیں، مگر آپ کی عزتِ نفس کو ذرا سی بھی ٹھیس نہیں لگتی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صرف اسی ایک معاملہ میں آپ کے احساسات اتنے نازک ہو گئے ہیں؟[1][2]

قرآن کی روشنی میں[ترمیم]

قرآن پاک سے یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ حیا مرد اور عورت دونوں کا یکساں اخلاقی وصف ہے۔ یہ وصف ہمیں پوری آب و تاب کے ساتھ قصۂ آدم و حوا میں نظر اتا ہے۔ جب دونوں میاں بیوی نے ابلیس کے دھوکے میں آکر شجرِممنوعہ کا پھل کھالیا تو ان کا جنت کا لباس اْتروا لیا گیا تھا۔ دونوں کو اپنی برہنگی کا احساس ہوا اور اس حالت میں انہیں اور کچھ نہ سْوجھا تو انہوں نے فوراً جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہیں ڈھانپنے کی کوشش کی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو اْن کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔

— (الاعراف:22)

حجاب کا حکم قرآن حکیم کی سورہ نور کی آیت نمبر 31میں بھی نازل ہواہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے نبی(صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیں۔

انبیا کا طرزِ عمل[ترمیم]

تمام انبیا باحیا تھے اور حیا کو پسند کرنے والے تھے۔انبیا کرام کی سنتوں سے بھی ہمیں حیاکی تاکید ملتی ہے۔ہر دور میں اللہ نے اس معاشرے کا سب سے باحیا شخص بطور نبی مبعوث کیاہے۔حضرت موسی علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر تھے جو اللہ سے براہ راست ہم کلام ہوئے۔اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے قصے میں بیان کیا کہ جب مصر سے نکل کر مدین پہنچے، گرمی کا موسم تھا، پاؤں ننگے تھے، سفر کی تھکاوٹ اور پیدل چل چل کر پاؤں میں چھالے پڑچکے تھے۔ ذرا آرام کرنے کے لیے درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر کنواں ہے وہاں سے کچھ نوجوان اپنی بکریوں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے کچھ فاصلے پر دو باحیا لڑکیاں کھڑی ہیں۔ جب آپ نے ان کو دیکھا تو حیرانی کی انتہا نہ ہیں کہ یہ دونوں لڑکیاں جنگل میں کھڑی ہو کر کس کا انتظار کر رہی ہیں ہیں حضرت موسی نے جب وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں ہے باپ بوڑھا ہے وہ اس قابل نہیں کہ چل پھر سکے۔ دونوں اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے آئی ہیں کہ جب تمام لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں تو آخر میں یہ اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گی۔ حضرت موسی ان کی بات سننے کے بعد آگے بڑھے اور خود پانی کنویں سے نکالا اور ان کی بکریوں کو پلا دیا۔ لڑکیاں جب خلاف معمول جلدی گھر پہنچی تو باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی دونوں نے باپ کو پوری حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ باپ خود بھی پیغمبر تھے ان فرمایا کہ جاؤ اس نوجوان کو بلا کر لاؤ تاکہ ہم اس کو پورا پورا بدلہ دیں۔ جب ایک لڑکی حضرت موسی کو بلانے آئی تو وہ کس طرح آئی اس کا انداز کیا تھا قرآن نے اس کے چلنے کا انداز جو شرم و حیا سے لبریز تھا اس طرح بیان کیا ہے۔ترجمہ:

پھر ان دونوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی۔ وہ کہنے لگی کہ میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بدلہ دے جو آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ظالم قوم سے نجات پائی۔

— (القصص:25)

احادیث کی روشنی میں[ترمیم]

حقیقت یہی ہے کہ یہ بے حیائی اور بے شرمی کی وباء مغرب سے مسلمانوں میں آئی ہے اور اس بے حیائی اور بے شرمی کو منظم انداز میں مسلمانوں کے اندر عام کر نا یہ یہود و نصاریٰ اور ہنود وغیرہ کی ایسی سازش ہے جو آج مکمل طور پر کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے مسلمان کس طرح مغربی انداز کو اختیا ر کر ہا ہے، کس طرح سے آنکھیں بند کر کے کافروں کی پیروی کر رہا ہے یہ بات محتاجِ بیان نہیں المختصر قیامت قریب سے قریب تر آرہی ہے، حضور ﷺ کے اس فرمان کو ملاحظہ فرمائیے:[3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:نبی پاک ﷺ نے فرمایا: پہلی شے جسے اس امت سے اٹھا لیا جائے گا وہ حیاء اور امانت ہے پس تم ان دونوں چیزوں کا اللہ تعالی سے سوال کرو!

یقینا وہ دور آچکا ہے، شرم و حیاء اٹھ چکی ہے، اسلام کے جس کا مزاج ومدار ہی حیاء تھا آج اس کے ماننے والے اسی وصفِ حیاء سے عاری ہو چکے ہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:[4]

نبی پاک ﷺ نے فرمایا: بے شک ہر دین کا ایک خُلُق ہوتا ہے اور اسلام کا خُلُق شرم و حیاء ہے۔

ہمیں احساس کرنا پڑے گا، وصفِ حیاء سے خود کو متصف کرنا پڑے گا نیز شرم و حیاء کا یہ پیغام حسبِ طاقت و منصب پھیلانا ہوگا ورنہ کہیں ایسا نہ ہو بے شرمی و بے حیائی کے اس طوفان میں متاعِ ایمان ہاتھ سے نکل جائے، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں:

نبی پاک ﷺ نے فرمایا: حیاء اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے جب جاتے ہیں تو دونوں ساتھ جاتے ہیں۔

ایک دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ [5]

حیاء اور ایمان دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، ان میں سے اگر ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا خود بخوداٹھ جاتا ہے

یعنی کہ ایمان و حیاء لازم و ملزوم ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادگرامی ہے :

ہر دین کاکوئی نہ کوئی امتیازی وصف ہے اوردین اسلام کا امتیازی وصف حیاء ہے۔

ہمارے رسول اللہﷺ کے بارے میں حضرت ابوسعید الخدریؒ سے روایت ہے:

رسول اللہﷺ تخلیہ میں بیٹھی ایک کنواری دوشیزہ سے بھی کہیں بڑھ کر صاحبِ حیا تھے۔ حضورﷺ کو جب کوئی چیز ناگوار گزرتی تو ہم آپﷺ کے چہرے سے بھانپ لیا کرتے تھے۔

— (بخاری و مسلم)

بلاشبہ حیاء وہ عمدہ اخلاق ہے جو انسان کو ہر برائی سے باز رکھتا ہے ارتکاب معاصی میں حائل ہو کر آدمی کو گناہ سے بچاتا ہے۔ اسلام کا عملا دارو مدار حیاء پر ہے کیونکہ وہی ایک ایسا قانون شرعی ہے جو تمام افعال کو منظم اور مرتب کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کرام نے حیاء دار اخلاق پر زور دیا ہے۔ تمام عقل وفطرت مستقیمہ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے اور یہ وہ امر ہے جس میں جن وانس کے تمام شیاطین مل کر بھی تبدیل نہیں کرسکے۔ جس میں حیاء ہوتی ہے اس میں نیکی کے تمام اسباب موجود ہوتے ہیں اور جس شخص میں حیاء ہی نہ رہے اس کے نیکی کرنے کے تمام اسباب معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ حیاء انسان اور گناہ کے درمیان میں حائل ہونے والی چیز ہے۔ اگر حیاء قوی ہے تو گناہ کی قوت ماند پڑ جائے گی۔ اور اگر حیاء کمزور پڑ جائے تو گناہ کی قوت غالب آجاتی ہے۔ حیا ایمان سے جْڑ کر حلال و حرام کی تمیز پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں سے منع کیا ہے، اْن کے کرنے سے روکتی اور جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا، ان کو بجا لانے کی تحریک دیتی ہے۔ جب یہ شعور کی روشنی بنتی ہے تو اس سے اللہ کی وحدانیت کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ ایمان باللہ کو تقویت ملتی ہے، تَعَلْق بِاللّٰہ میں مضبوطی آتی ہے اور باطن سے حْب اللہ کی شعاعیں پھوٹتی ہیں، توکل علی اللہ کی خاصیت اجاگر ہوتی ہے۔ (تزکیۂ نفس میں حیا کا اثر)

دُکھ، خوشی اور غصے کے اظہار کے طریقے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں جبکہ شَرْم و حیا ایسا وصف ہے جو صرف انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ جانور اور انسان کے درمیان میں وجہِ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے۔ اگر لب و لہجے، حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے حصار (دائرے) میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔

رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی لیے ارشاد فرمایا: [6]

جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔

دیگر اقوال[ترمیم]

حضرت مدائنی رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں :[7]

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا: یعنی: اے ابو جعفر! عیش کسے کہتے ہیں؟ آپ نے جواباً فرمایا: نفسانی خواہش کا انسان پر سوار ہو جانا اور انسان کا حیاء کو ترک کر دینا۔

حضرت وہب بن منَبَّہ علیہ الرحمہ نے جو بات ارشاد فرمائی تھی ان کے اس قول کو ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے شرمی اور بے حیائی کے تناظر میں دیکھتے ہیں تومستقبل کے حوالے سے مایوسی نظر آتی ہے، حضرت وَہْب بن مُنَبَّہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: [8]

جب بچے میں دو عادتیں ہوں خوف اور شرم و حیاء، تو اس کی ہدایت کی امید کی جا سکتی ہے۔

موجودہ صورت حال[ترمیم]

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ میڈیا ذرائع مَثَلاً ریڈیو، ٹی وی کے مختلف چینلز اور مُتعدِّد رسائل اور اَخبارات بے حیائی کو فَرُوغ دینے میں مصروف ہیں جس کی بِناء پر ہمارا مُعاشَرہ فَحَّاشی، عُریانی و بے حیائی کی آگ کی لپیٹوں میں آچکا ہے بالخصوص نئی نسل اَخلاقی بے راہ روی و شدید بدعملی کا شکار ہے، فلمیں ڈِرامے، گانے باجے، بیہودہ فنکشنز اور تہواروں کی کثرت ہو گئی ہے اکثر گھر سینما گھر بن چکے ہیں گویا کہ ایسا دَ ور آچکا ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر معاذاللہ جہنم میں گرنا چاہتا ہے، اس تباہی اور بر بادی کا اندازہ خوشی کے موقع پر منعقد کردہ تقاریب میں ہوتا ہے کہ اگر کسی کے پاس مال و دولت کم ہے تو صرف فلمی گانوں کی ریکارڈنگ فنکشن میں لگاتا ہے، جو کچھ مال دار ہوتا ہے وہ ان تقاریب میں مُووی بھی بنواتا ہے اور جو کچھ زیادہ مالدار ہوتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کرتا ہے پیشہ ور گلوکار اور گلو کارہ کو، کا میڈین کو بلو ا کر ڈانس پارٹی، بیہودہ باتوں کی مجلس گرم کی جاتی ہے، مرد و عورت مُوسیقی کی دُھن پر بے ڈھنگے پن سے ناچتے، گاتے ہیں، مہمان خوب اُودہم مچاتے، بیہودہ فِقرے کَستے، مزید اس پر ہنستے، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویاشرم و حیاء کا جنازہ نکل چکا ہے ہر جگہ شرم و حیاء کا قتلِ عام اور بے حیائی کی دھوم دھام ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب مودودی، مولانا ابو الاعلیٰ. پردہ. 
  2. ملک، قدسیہ. "حیا ہی سے زینت ہے". جسارت. اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2021. 
  3. "باب فضیلۃ الحیاء و جسیم خطرہ، 213". مکارم الاخلاق للخرائطی. صفحات ص: 111. 
  4. "باب الحیاء". سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد. صفحات برقم:1814، 2/9931. 
  5. ابی شیبۃ، ابن. "ما ذکر فی الحیاء". کتاب الادب. صفحات برقم: 05352، 5/312. 
  6. اسماعیل بخاری، محمد بن. "حدیث:3484". بخاری. جلد 2. صفحہ 470. 
  7. "الجزء الثانی والعشرون". المجالسۃ و جواہر العلم. صفحات برقم:8703، 7/471. 
  8. منبہ، ، وھب بن. حلیۃ الاولیاء، فمن الطبقۃ الاولی من التابعین. صفحات 4/53.