اسلام میں مذاہب اور شاخیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسلام میں بڑے مذاہب اور شاخیں.[1]
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

اس مضمون میں اسلام سے منسوب مختلف فرقوں اور فقہی مذاہب کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ تمام شاخیں صرف اللہ وحدہُ لا شریک کو معبود برحق قرآن کو آخری الہامی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری رسول مانتی ہیں جبکہ باقی حکام میں انکا اختلاف ہے۔ اس مضمون میں اسلام ازم (نظریہ کہ اسلام ایک سیاسی نظام ہے) کا خلاصہ نیز اسلام میں اجتہاد اور تفسیر کی بناء پر چلنے والی آزاد تحریکوں کا خلاصہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

سنی[ترمیم]

سانچہ:اہلسنت

مسلمانوں میں سنی عقیدہ کے لوگ سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور اہلسنت و الجماعت یا صرف اہلسنت کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ لفظ سنی سنت سے نکلا ہے جو حضرت محمد مصطفٰیﷺ کے تعلیم کردہ طریقوں کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسلیئے سنی کی اصطلاح اُن لوگوں کیلئے استعمال ہوتی ہے جو پیغمبر پاک محمدﷺ کے طریقوں کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگیوں میں زندہ رکھتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں مسلمانوں کی غالب اکثریت سنی ہے اسلیئے وہ اپنے لئے سنی کے سرنامہ کی بجائے مسلمان کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں۔

اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ محمدﷺ نے اپنی وفات سے پہلے کسی بھی شخص کو بطور خاص اپنا جانشیں مقرر نہیں کیا تھا نیز آپﷺ کی وفات کی پریشانی کے ابتدائی دور کے بعد آپﷺ کے معروف صحابہ کا ایک گروہ اکٹھا ہوا اور محمدﷺ کے قریبی دوست اور سسر عبداللہ المعروف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہُ کو بطور خلیفہ اسلام اول منتخب کر لیا۔ اہلسنت پہلے چار خلفاء حضرات یعنی ابو بکر، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بطور خلفاء راشدین یعنی ہدایت یافتہ خلفاء محترم مانتے ہیں۔ سنی یقین رکھتے ہیں کہ خلافت کا منصب جمہوری طریقے پر زیادہ حمایت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن خلفاء راشدین کے بعد خلافت بنو امیہ اور کچھ دوسرے گروہوں کی طرف سے پیدا کردہ انتشار کے باعث موروثی بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ 1923؁ء میں خلافت عثمانی کے خاتمے کے بعد دنیائے اسلام کا کوئی واحد خلیفہ نہیں ہو سکا اور مسلمان مختلف جغرافیائی خطوں کی بنیاد پر تقسیم ہو گئے۔

اہلسنت کے فقہی مذاہب[ترمیم]

مذہب ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اہلسنت کے نزدیک مذہبی معاملات میں کچھ خاص قوانین کے تحت قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنے والوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ صحابہ میں سے کچھ فقیہ صحابہ کے انفرادی مذاہب تھے، پھر یہ مذاہب بتدریج چار مسلم فقہی مذاہب میں منظم ہو گئے۔ ان مذاہب کے فلسفہ میں اختلاف کے باعث عملی عبادات میں بھی کچھ تنوع نظر آتا ہے۔ سنی مسلمان عموماً اپنی شناخت کسی خاص مذہب کے حوالے سے کروانے کے بجائے مسلمان یا سنی کے طور پر کرواتے ہیں باوجود اسکے کہ کچھ علاقوں کی آبادی اکثر قصداً یا بلا قصد دوسرے مذاہب کے پیروؤں کا احترام کرتے ہوئے کسی خاص مذہبی نظریات کی پیروی کرتی ہے۔

حنفی[ترمیم]

نعمان بن ثابت المعروف حضرت امام ابو حنیفہؒ مذہب حنفی کے بانی تھے۔ مشرقی بحر روم، وسطی ایشیا، افغانستان، پاکستان، ہندوستان، بنگال، جنوب مغربی مصر، عراق، ترکی، جزیرہ نما بلقان اور روس کے زیادہ تر مسلمان اس مذہب کے پیروکار ہیں۔ مشرقی ایشیا اور ہندوستان کے زیادہ تر حصوں میں بریلوی، دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے نام سے مشہور تحریکیں تحریکوں کے لوگ بھی اسی مذہب کے پیرو ہیں۔

مالکی[ترمیم]

مالک بن انسؒ مالکی مذہب کے بانی تھے۔ شمالی و مغربی افریقہ، متحدہ عرب امارات، کویت، بالائی مصر اور سعودی عرب کے زیادہ تر مسلمان اس مذہب کے پیروکار ہیں۔ عالمی تحریک مربطون تحریک کے لوگ بھی اس مذہب کے پیرو ہیں۔ ماضی میں یورپ پر اسلامی اسلامی حکومت کے دور میں بالخصوص ہسپانیہ، امارات سسلی میں بھی اس مذہب کی پیروی کی جاتی تھی۔

شافعی[ترمیم]

محمد بن ادریس شافعیؒ اس مذہب کے بانی تھے۔ سعودی عرب، زیریں مصر، انڈونیشیا، اردن، فلسطین، فلپائین، سنگاپور، صومالیہ، تھائی لینڈ، یمن، کردستان کے مسلمان، کیرالہ کے موفلا اور بھارت کے کوکانی مسلمان اس مذہب کے پیرو ہیں۔ برونائی دارالسلام اور ملائیشیا کا یہ سرکاری مذہب ہے۔

حنبلی[ترمیم]

احمد بن حنبلؒ اس مذہب کے بانی تھے۔ قطر، عراق اور شام کے کچھ جبکہ سعودی عرب کے زیادہ تر مسلمان اس مذہب کے پیرو ہیں۔ تحریک سلفی کے زیادہ تر لوگ خود کو اس کا پیرو کہتے ہیں۔

ظاہری[ترمیم]

داؤد الظاہریؒ اس مذہب کے بانی تھے۔ مراکش اور پاکستان میں مسلمانوں کی اقلیت اسکی پیرو ہے۔ ماضی میں میسوپوٹامیہ، پرتگال، جزائر بلیبار، شمالی افریقہ اور ہسپانیہ کے کچھ حصوں میں مسلمانوں کی اکثریت اسکی پیرو رہی ہے۔

تحریکیں[ترمیم]

سانچہ:Islamism sidebar

سلفی تحریک[ترمیم]

سلفی تحریک کے پیروکار قرآن و سنت اور احادیث کی ظاہری لغوی تفسیر پر عمل کرتے ہیں۔ سلفی خود کو اہلسنت ہی کہتے ہیں۔ اسکے پیروکار سلفی، اثری، اہلحدیث، اہل الاثر اور کئی دوسرے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ یہ گروہ قرآن اور سنت کی صحابہ کرام کے طریقہ کے مطابق حقیقی فہم اور پیروی کا دعویدار ہے۔ سلفی حضرات اسلام کے بنیادی اصولوں کے فہم کے سلسلے میں مسلمانوں کے پہلے تین ادوار یعنی صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور ان کے شاگردوں کو پیروی کیلئے حجت تسلیم کرتے ہیں اور اسی کو اسلاف کا طریقہ کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ عقائد اور فقہ کے معاملے میں اثری شاخ کے پیروکار ہیں جیسا کہ محمد بن صالح العثيمين نے ایک مرتبہ اس امر کی اسطرح وضاحت کی کہ عوام المسلمین کیلئے پیروی کا سب سے واضح راستہ یہ ہے کہ وہ ایک مقامی عالم دین کی پیروی کریں۔ البتہ وہ مسلمان جو علم فقہ پر دسترس حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے یہ نصیحت ہے کہ کسی خاص مذہب کے عالم سے علم سیکھیں اور اس فقہ کا مکمل طور پر مطالعہ کریں۔

وہابیت[ترمیم]

یہ تحریک حال ہی میں اٹھارہویں صدی عیسوی کے عالم دین شیخ محمد بن عبدالوہاب کی طرف سے جزیرہ نما عرب میں شروع کی گئی اور یہی تحریک آل سعود کو اقتدار میں لانے کا باعث بنی۔ سلفیت سعودی عرب میں ایک کٹر اسلامی اور قانون پرست تحریک اور اسلام کی ایک معروف شاخ ہے۔ اگرچہ لفظ وہابی محمد بن عبد الوہاب کے پیروکاروں کیلئے بولا جاتا ہے جو سلفی اسلام کی ہی ایک رجعت پسند شاخ ہیں، تاہم وہابیت اور سلفیت کی اصطلاحات عموماً متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

وہابی قرآن اور حدیث کے علاوہ قدیم علماء میں ابن تیمیہ، ابن قیم اور اس کے ساتھ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف کو مذہبی راہنمائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سلفیت عموماً صوفی ازم (اسلام کا روحانی پہلو) اور اہل سنت سے باہر کے تمام فرقوں کی مخالفت کرتی ہیں؛ اور ان فرقوں کو منحرف مانتی ہے۔ وہابی اپنے کردار کو تحریکِ تجدیدِ اسلام کے طور پر دیکھتے ہیں جو بدعات، خرافات، انحرافات اور بت پرستی کی تمام اقسام سے پاک ہے۔

یہ منہج جن ملکوں میں خصوصاً غالب ہے، ان میں سعودی عرب اور جزیرۃ العرف کی دوسری ریاستیں شامل ہیں۔ اس مذہب کے پیروکاروں کی اقلیت برصغیر (اہل الحدیث)، مصر اور تمام عالم اسلام میں پائی جاتی ہے۔ سلفی حضرات اہلسنت کی اکثریت پر انبیاء اور اولیاء کرام سے توسل کرنے کی وجہ سے شرک کا الزام لگاتے ہیں.

اہل الحدیث[ترمیم]

اہل الحدیث ایک سنی اسلامی تحریک ہے جو انیسویں صدی کے وسط میں شمالی ہندوستان میں شروع ہوئی۔ اس تحریک کا مرکزی عقیدہ یہ تھا کہ تقلید واجب نہیں ہے جیسا کہ اہل الرائے کہتے ہیں۔ اسکے متبادل کے طور پر انکی نظر میں صحیح حدیث اور قرآن سے بلا واسطہ راہنمائی حاصل کرنا مسلمان کیلئے بہتر ہے۔ اس تحریک کے پیروکار خود کو اہل الحدیث یا سلفی کہتے ہیں۔ اہل الحدیث اور وہابی کی اصطلاحات عموماً متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں یا بسا اوقات اہل الحدیث کو وہابی تحریک کی ہی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے جبکہ اہل الحدیث خود کو وہابیت سے الگ بتاتے ہیں۔

سیاسی تحریکیں[ترمیم]
الاخوان المسلمین[ترمیم]

اخوان المسلمین ایک تنظیم ہے جس کی بنیاد دار العلوم مصر کے مستند عالم حسن البنا نے رکھی۔ عرب دنیا میں یہ سب سے بڑی سنی تحریک ہے جس سے وابسطہ لوگ زیادہ تر اقوام عرب میں حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہیں نیز اسکی کئی شاخیں ہیں۔ الاخوان المسلمین مذہبی اختلافات سے دور ہے اور چاروں سنی مذاہب کے لوگ اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے پرانا اور سب سے بڑا اسلامی گروہ ہے۔ اسکا مقصد خلافت کی بحالی اور اس دوران معاشرے کو اسلامی اقدار کی طرف زیادہ سے راغب کرنا ہے۔ الاخوان کا مقصد "قرآن اور سنت کو مسلمان فرد، خاندان اور معاشرہ کی زندگی کے احکامات لئے واحد حوالہ کے طور پر اختیار کرنا" ہے۔

جماعت اسلامی[ترمیم]

جماعت اسلامی برصغیر کی سیاسی اسلامی جماعت ہے۔ برصغیر پر برطانوی دور حکومت کے دوران لاہور میں سید ابو الاعلٰی مودودی نے 1941ء میں اسکی بنیاد رکھی اور اب یہ پاکستان اور بھارت کی سب سے قدیم مذہبی جماعت ہے۔ اجکل اس جماعت کے مقاصد اور نظریات کے ساتھ مختلف ساتھی جماعتیں جنوبی ایشیاء کے مختلف ممالک میں موجود ہیں جیسا کہ جماعت اسلامی ہند، جماعت اسلامی بنگلہ دیش، جماعت اسلامی کشمیر ، افغانستان اور سری لنکا نیز ان جماعتوں کے اخوت اسلامی سے متعلق مختلف ممالک کی دوسری سیاسی جماعتوں مثلاً اخوان المسلمین وغیرہ سے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ایک اسلامی حکومت چاہتی ہے جو ملک کو اسلامی قوانین کے مطابق چلائے۔ یہ مغربیت اور مغربی نظاموں بشمول سرمایہ داری، اشتراکیت اور اس سے ملتے جلتے نظام جیسا کہ بنکوں کا سودی نظام وغیرہ کے خلاف ہے اور اسلامی معاشی نظام اور خلافت کی حامی ہے۔

جماعت المسلمین[ترمیم]

جماعت المسلمین ایک سنی اسلامی تحریک ہے جو امام سید مسعود احمد نے 1960ء کے عشرے میں شروع کی۔ محمد اشتیاق اس تحریک کے موجودہ قائد ہیں۔

خارجیت[ترمیم]

خارجیت (نکل جانے والے) ایک عمومی اصطلاح ہے جو اسلام سے متعلق اس گروہ کیلئے استعمال کی گئی جو حضرت علی رضی اللہ عنہُ کی خلافت کے آغاز میں انکے ساتھ تھا اور بعد میں انکے خلاف لڑا یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہُ کو کوفہ کی مسجد میں نماز کے دوران شہید کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ خارجیت کے صرف چند گروہ ہی باقی رہ گئے ہیں تاہم یہ اصطلاح ان مسلمانوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو اپنے مخالف عقائد رکھنے والے گروہوں سے مفاہمت کا انکار کرتے ہوئے ان کے خون کو حلال قرار دیتے ہیں۔

اباضیہ[ترمیم]

آجکل خارجیوں کا سب سے بڑا فرقہ اباضیہ ہے۔ یہ فرقہ خارجیت کے فرقہ سے ساتویں صدی میں پیدا ہوا تاہم اباضی خود کو خارجیوں سے الگ کہتے ہیں۔ یہ سب سے پرانا مذہب کہا جاتا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی وفات کے بعد صرف پچاس سال کے عرصے کے دوران پیدا ہو گیا۔ اس مذہب کے پیرو عمان میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اباضیہ کے پیروکار اقلیت میں شمال مشرقی افریقی ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ قرون وسطیٰ کے آغاز میں الجیریا کے سلاطین رستمان بھی اباضی تھے۔

عیساویہ[ترمیم]

آجکل اسرائیلی مسلمانوں کا ایک اقلیتی لیکن بڑھتا ہوا ذیلی خارجی گروہ ہے جو قرائیمی یہودیوں کی ایک شاخ ہے۔ یہ خارجیوں کا اسرائیلی فرقہ ہے جو عیساویہ کے نام سے معروف ہے؛ یہ نام انکی امیر ابو عیسیٰ اصفہانی سے عقیدت کے باعث رکھا گیا۔

ساتویں صدی کے آخر میں ابو عیسیٰ نے پہلا یہودی اسلامی تربیتی ادارہ کھولا۔ یہ ادارہ اصفہان میں واقع ہے اور اس نے اسرائیلی بچوں کا پیغمبرِ پاک محمدﷺ کے تعلق سے کردار کا تعین کیا۔

معدوم خارجی گروہ[ترمیم]

سفرین[ترمیم]

ساتویں اور آٹھویں صدی میں مسلمانوں میں سفرین کے نام سے ایک فرقہ موجود تھا جو خارجیوں کا حصہ تھا۔ انکے عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ تھا کہ قرآن مجید کی سورۃ یوسف معتبر نہیں ہے۔

حروریۃ

چوتھے خلیفہ راشد کے دور میں مسلمانوں میں ایک گروہ حروریۃ کے نام سے تھا۔ یہ نام انکے پہلے رہبر حبیب بن یزید الحروری کی وجہ سے دیا گیا۔

متفرق

اسکے علاوہ خوارج میں ازرقی، نجدی اور نکاری ہیں جو اب معدوم ہو چکے ہیں۔

شیعہ[ترمیم]

شیعہ اسلام میں مسلمانوں کا دوسرا بڑا فرقہ ہے۔ دنیا میں دس سے بیس فیصد مسلمان اس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اہل تشیع اگرچہ دنیائے اسلام میں ایک اقلیت ہیں، تاہم آزر بائیجان، بحرین، عراق اور ایران اور اسی طرح لبنان میں انکی اکثریت ہے۔

قرآن و حدیث کو معتبر اور حضرت محمدﷺ کو آخری رسول ماننے کے علاوہ اہل تشیع اس بات کے بھی قائل ہیں کہ اہل بیت رسول اور آئمہ(اہل بیت کی حقیقی اولاد ) کو معاشرے پر ایک خاص روحانی اور سیاسی اقتدار حاصل ہے۔ انکے عقیدہ کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہُ جو محمدﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد بھی ہیں؛ پہلے امام اور خلیفہ راشد ہیں۔ اسطرح وہ پہلے تین خلفاء راشدین کی خلافت کے جواز کو مسترد کرتے ہیں۔

شیعہ ایک بہت بڑا گروہ ہے جس کے بہت سے ذیلی گروہ ہیں۔ اہل تشیع میں بہت سے مذاہب، فقہ، فلسفے اور روحانی سلسلے ہیں۔ اہل تشیع حضرت محمدﷺ کے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہُ کی شہادت کے فوراً بعد منظر عام پر آئے نیز دوسری صدی میں شیعہ کے عقائد وضع ہوئے اور نویں صدی کے آخر میں شیعوں کی پہلی حکومت اور انجمنیں بنیں۔

اہل تشیع کی اہم آبادیاں مغربی سماٹرا کے ساحلی علاقوں اور انڈونیشیا میں آچے (دیکھیئے تائبوک) کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے علاوہ باقی علاقوں خصوصاً شافعی سنی مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں اہل تشیع بہت قلیل تعداد میں ہیں۔

نائجیریا میں خدونا کی ریاست کے وسط میں ایک اہل تشیع کی اہم اقلیت موجود ہے(دیکھیئے نائجیریا میں اہل تشیع)۔ مشرقی افریقہ میں اسماعیلی شیعوں کی بہت سی آبادیاں ہیں جو بنیادی طور پر نو آبادیاتی دور میں جنوبی ایشیا سے ہجرت کرنے والے لوگوں جیسا کہ خوجوں کے لوگوں کی اولادیں ہیں۔

شیعہ مسلمانوں کے مطابق انکی آبادی کی تعداد کا تخمینہ لگانے میں وجہ تاخیر یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں اہل تشیع ایک اہم اقلیت کے طور پر ہیں جبکہ ملک کی پوری آبادی کو بطور سنی لکھ دیا جاتا ہے جبکہ اسکا برعکس درست نہیں ہے اور اس وجہ سے ہر فرقے کی تعداد کا اندازا درست نہیں لگایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر 1926 میں آل سعود کا عرب میں اقتدار نے شیعوں کے معاملہ میں سرکاری سطح پر امتیاز کو اپنایا۔ اسی طرح صفویین حکمرانوں کے دور میں سنیوں کو زبردستی شیعہ بنانے کے بعد ایران میں سنی مخالف جذبات اور کاروائیاں رہی ہیں جہاں اکثر ان کو عبادت کرنے یا مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

شیعہ میں فقہ کی شاخیں[ترمیم]

شیعہ اسلام تین شاخوں میں منقسم ہے۔ ان میں سب سے بڑی اور معروف شاخ اثنا عشری ہے جسے یہ نام انکے بارہ آئمہ سے وفاداری کی بناء پر دیا جاتا ہے۔ انکی آبادی ایران، آزر بائیجان، بحرین اور عراق میں اکثریت میں ہیں۔ دوسری چھوٹی شاخوں میں اسماعیلی اور زیدیہ شامل ہیں جن کا بارہ آئمہ کے سلسلے اور عقائد میں اختلاف ہے۔

اثنا عشری شیعہ کی اکثریت ایران میں 90٪، آزربائیجان میں 85٪، بحرین میں 70٪، عراق میں 65٪، لبنان میں 40٪، کویت میں 25٪، البانیہ میں 20٪، پاکستان میں 25٪ اور افغانستان میں 20٪ ہے۔

زیدیہ کا اثنا عشری سے پانچویں امام میں اختلاف ہے۔ یہ امام محمد باقر کی بجائے زید ابن علی کو پانچواں امام مانتے ہیں کیونکہ امام محمد باقر نے بد عنوان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا تھا۔ وہ عمومی سلسلہ امامت میں یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کے نزدیک حسن ابن علی یا حسین ابن علی کی اولاد میں سے امام وہ ہے بد عنوان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے۔ زیدیہ کی اکثریت یمن میں رہتی ہے۔

اسماعیلی کا اثنا عشری سے ساتویں امام میں اختلاف ہے۔ یہ موسیٰ کاظم کی بجائے ان کے بڑے بھائی اسماعیل بن جعفر کو انکے والد جعفر صادق کا جانشین مانتے ہیں۔ اثنا عشری کے عقیدہ کے برعکس وہ اسماعیل بن جعفر کی شہادت کو نہیں مانتے۔ اسماعیلی اقلیت میں افغانستان، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان، ہندوستان، مصر، برطانیہ، کینیڈا، یوگینڈا، پرتگال، یمن، چین، بنگال اور سعودی عرب میں پائے جاتے ہیں اور انکی بہت سی ذیلی شاخیں ہیں۔

اہل تشیع کی شاخیں ایک نظر میں
اثنا عشری[ترمیم]

اثنا عشری بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ بارہویں امام محجوب ہیں اور قیامت کے قریب دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ شیعہ کی احادیث اماموں کے اقوال پر مشتمل ہیں۔ بہت سے سنی مسلمان اہل تشیع کو انکے کچھ عقائد اور اعمال بشمول محرم کے ماتم کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اثنا عشری اہل تشیع کا 93٪ ہونے کے باعث سب سے بڑا گروہ ہیں؛ ازربائیجان، ایران، عراق، لبنان اور بحرین کے علاقوں میں اکثریت میں ہونےکےعلاوہ یہ پاکستان، ہندوستان، افغانستان، کویت اور سعودی عرب کے مشرقی صوب میں معقول تعداد میں آباد ہیں۔ اثنا عشری فقہ میں جعفری یا باطنیہ مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔

فقہ جعفریہ[ترمیم]

فقہ جعفریہ کے پیروکار مندرجہ ذیل ذیلی گروہوں میں تقسیم ہیں اگرچہ یہ الگ فرقے نہیں سمجھے جاتے۔

  • اصولی - اصولی اثنا عشری میں غالب اکثریت میں ہیں۔ وہ تقلید اور فقہ یں ممرجع تقلید کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ایران، پاکستان، آزر بائیجان، ہندوستان، عراق اور لبنان میں بڑی تعداد میں ہیں۔
  • اخباری - اصولیوں کی طرح اخباری بھی حدیث کے مقابل اجتہاد کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ بحرین میں اکثریت میں ہیں۔
  • شیخیہ - شیخیہ ایک مذہبی اسلامی تحریک ہے جو شیخ احمد نے انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں قاجاریہ اور ایران میں شروع کی؛ اب اسکے پیروکار ایران اور عراق میں بھی اقلیت میں ہیں۔ یہ صوفی، شیعہ اور اخباری شاخوں کے مجموعہ سے شروع ہوئی۔ انیسویں صدی کے وسط میں بہت سے شیخیہ نے اپنا مذہب تدیل کر کے ببابیہ اور بہائیہ مذاہب کو اختیار کر لیا جو شیخ احمد کا بیحد احترام کرتے ہیں۔
باطنیہ[ترمیم]

دوسری جانب باطنیہ مذہب کے پیروکاروں میں علویہ اور نصاریہ ہیں جنہوں نے اپنا فقہی نظام بنایا ہے اور فقہ جعفریہ کی پیروی نہیں کرتے۔

علویہ (الکاسبی، ابن نصر اور علویہ)[ترمیم]

علوی - علویہ کے علاوہ یہ نصاریہ، نماریہ اور انصاریہ کے ناموں سے بھی معروف ہیں۔ اس مذہب کی بنیاد ابن نصر نے رکھی اور اسکے عقائد الکاسبی نے ظاہر کیئے۔ یہ میمن بن ابو القاسم سلیمان بن احمد بن الطبرانی کے عقائد سلیہ اورعلویہ کے فقہ کی پیروی کرتے ہیں۔ دس لاکھ سے کچھ زائد علویہ مصر اور لبنان میں رہائش پزیر ہیں۔

علویہ (قزلباش اور علویہ)[ترمیم]

علویہ کو کبھی اثنا عشری شیعہ کے جز اور کبھی انکی ذاتی مذہبی روایت پر تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ انکے فلسفہ، روایات اور عبادات بہت مختلف ہیں۔ ان میں بہت سی صوفیانہ خصوصیات ہیں؛ قرآن اور بارہ آئمہ میں اپنا اعتقاد بیان کرتے ہیں لیکن ترکی شمانیہ کی طرح تعدد ازدواج کی نفی اور اسلام سے پہلے جاری متعہ کی اباحت کے قائل ہیں۔ انکی زیادہ تعداد مشرقی وسطی ترکی میں ہے۔ کئی مرتبہ انکو صوفی مذاہب میں سے بھی سمجھا جاتا ہے اور انکا مذہبی امارت کا طریقہ غیر روائیتی ہے جو دوسرےسنی اورشیعہ گروہوں کی طرح علمیت پر مبنی نہیں ہے۔ دنیا میں انکی آبادی تقریباً چوبیس (24) ملین ہے جس میں سے سترہ ملین ترکی میں جبکہ باقی بلقانیہ، البانیہ، آزربائیجان، ایران اور مصر میں ہیں۔

اناطولی قزلباش اور علوی فقہ و عقائد[ترمیم]
علوی عقائد[ترمیم]
اسماعیلی[ترمیم]
طیبی مستعالی[ترمیم]
نزاری[ترمیم]
درزی[ترمیم]
زیدی[ترمیم]
انصاری[ترمیم]
تاریخی تحریک غالیان[ترمیم]

صوفی تحریکات[ترمیم]

متن پرست نظریہ[ترمیم]

غیر مسلم تفرقات[ترمیم]

متعلقہ تصورات[ترمیم]

  1. Note: قاری کو معلوم ہونا چاہیے کہ جعفری، علاوی اور علوی فرقے اثنا عشری فرقہ کی ہی ذیلی شاخیں سمجھی جاتی ہیں۔