زبیر ابن عوام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(زبیر ابن العوام سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زبیر ابن عوام
الزبیر بن العوام
تخطيط اسم الزبير بن العوام.png
اہم معلومات
پورا نام الزبیر بن العوام الاسدی القرشی، ابو عبد الله
نسب قرشی اسدی
لقب حواری رسول الله اور اسلام کے لیے سب سے پہلے تلوار اٹھانے اولے
تاريخ ولات 28 قبل ہجری / 594ء
مقام ولادت
تاريخ وفات 36ھ / 656ء
مقام وفات بصرہ
مقام دفن بصرہ
شریک حیات اسماء بنت ابی بكر
زینب بن مرثد
ام خالد بنت خالد بن سعید
الرباب بنت انیف
ام كلثوم بنت عقبہ
عاتكہ بنت زید
تماضر بنت الاصبغ
اولاد بیٹے: عبد الله، عروہ، المنذر، عاصم، المهاجر، جعفر، عبیدہ، عمرو، خالد، مصعب، حمزہ

بیٹیاں: خدیجہ، ام الحسن، عائشہ، حفصہ، حبیبہ، سودہ، هند، رملہ، زینب

نسبی رشتے والد: العوام بن خویلد
والدہ: صفیہ بنت عبد المطلب بن هاشم
بھائی:السائب،عبد الرحمن،عبد الله
اسلام میں
جنگیں غزوہ بدر، غزوہ احد، جنگ جمل
فرمان نبوی لكل نبی حواری وحواریی الزبیر - محمد رسول الله

(ترجمہ: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے)

خصوصیت حواری رسول، عشرہ مبشرہ

نام زبیر۔ کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی ۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔ جنگ جمل میں حضرت علی اور امام حسن کے مخالفین کے ساتھ شامل ہوئے۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ کی ایک پیشین گوئی کو یاد کرکے آپ نے اس جنگ سے علیحدگی اختیار کی ۔ جس پر مخالفین حضرت علی میں ایک شخص جرموز نامی نے نماز میں آپ کو شہید کر دیا۔ رسول اللہ سے قربت رکھنے کے باعث بے شمار احادیث جانتے تھے۔ لیکن بہت کم بیان کر سکے۔ مروجہ کتب احادیث میں بعض احادیث آپ سے مروی ہیں۔

آپ ایک بڑے عالم، حد سے زیادہ شجاع اور دلیر، مستقل مزاج اور مساوات پسند تھے۔ تاجر ہونے کی وجہ سے کافی دولت مند تھے آپ صاحب جائداد بھی تھے۔ ایک مکان کوفہ، ایک مصر اور دو بصرہ میں اور گیارہ مکان مدینہ میں تھے۔ علاوہ ازیں زمین اور باغات تھے۔ اس کے باوجود بہت سادہ لباس پہنتے اور سادہ غذا کھاتے تھے۔ البتہ میدان جنگ میں ہمیشہ اعلی قسم اورعمدہ ریشمی لباس پہن کر جاتے۔ آپ کا شمار رسول اللہ کے ان دس صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں حضور نے نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی۔

حوالہ جات[ترمیم]