عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبد المطلب بن هاشم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عبد المطلب
عبد المطلب

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 497  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 578 (80–81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت المعلیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
مذہب کثرت پرستی[1]،  بت پرستی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ فاطمہ بنت عمرو
ہالہ بنت وہب
صفیہ بنت جندب
لبنىٰ بن ہاجر
نتیلہ بنت جناب
ممنعہ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد اللہ بن عبد المطلب،  ابو طالب،  زبیر بن عبد المطلب،  عباس بن عبد المطلب،  حارث بن عبدالمطلب،  حمزہ بن عبد المطلب،  صفیہ بنت عبد المطلب،  ابولہب،  عاتکہ بنت عبد المطلب،  غیداق بن عبد المطلب،  مقوم بن عبد المطلب،  ضرار بن عبد المطلب،  قثم بن عبد المطلب،  حجل بن عبد المطلب،  امیمہ بنت عبد المطلب،  بیضاء بنت عبد المطلب،  برہ بنت عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد ہاشم بن عبد مناف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ سلمیٰ بنت عمرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ تاجر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبد المطلب (پیدائش: 480ء، مدینہ منورہ – وفات: 578ء، مکہ) (عربی میں عبد المطّلب ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ ان کو عبد المطلب (درست تلفظ: عبد المطَلِّب) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کو ان کے چچا مطلب نے پالا تھا۔ کیونکہ ان کے والد ھاشم کی وفات ان کی پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہو گئی تھی۔ حضرت عبد المطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انہوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔

فہرست

تعارف[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی عامر ، لقب شیبہ(بوڑھا) [3] عبدالمطلب ، فیاض اور مطعم طیر السماء (آسمانی پرندوں کی ضیافت کرنے والا) ، کنیت ابو حارث اور ابو بطحاء ہے۔ [4] آپ کے والد ماجد کا نام گرامی عمرو لقب عمر والعلا (اعلیٰ ، بلند اور بزرگوار) اور ہاشم (چورہ کرنے والا) اور کنیت ابو نضلہ [5] ، ابو یزید اور بعض کے نزدیک آپ کی کنیت ابو اسد ہے [6] اور والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سلمی ہے۔ امام سہیلی کہتے ہیں کہ درست بات یہی ہے کہ آپ کا نام شیبہ ہے۔ آپ انتہائی حسین و جمیل تھے۔ حذافہ بن غانم عدوی نے آپ کے بارے میں کہا ہے :

وَ أَلَادُہُ بِیْضُ الْوُجُوہٍ وُ جُو ھُھُمْ

تُضِیِءُ ظَلَامُ اللَیْل کَاالْقَمْرِ الْبَدْرٍ

ان (شیبہ) کی اولاد کے چہرے سفید ہیں۔ وہ چودھویں کے چاند کی طرح رات کی تاریکی کو روشن کر دیتے ہیں۔ [7]

سلسلہ نسب[ترمیم]

والد ماجد کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب والدہ ماجدہ کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے سلمی بنت عمرو بن زید بن لبید خداش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار دادی جان کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے عاتکہ بنت مرہ بن ہلال بن فالج بن ذکوان بن ثعلبہ نانی جان کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے عمیرہ بنت صخر بن حبیب بن الحارث بن ثعلبہ بن مازن بن النجار [8]

شیبہ کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

جب آپ پیدا ہوئے تھے تو آپ کی پیشانی کے چند بال سفید تھے تو اس لیے شیبہ (بوڑھا یا بڑھاپے والا) نام پڑھ گیا۔ [9] چونکہ آپ نیک کاموں میں سبقت لے جاتے تھے اس لیے شیبۃ الحمد کے لقب سے پکارے جانے لگے اور بعض کے نزدیک لوگ آپ کی بہت تعریف کرتے تھے اس لیے یہ نام مشہور ہو گیا۔ واللہ اعلم

عبد المطلب کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

جب حضرت مطلب بن عبد مناف حضرت عبد المطلب کو مدینہ سے مکہ لے کر آ رہے تھے تو راستے میں جو بھی مطلب سے پوچھتے کہ یہ پیچھے کون ہے تو حضرت مطلب بتاتے یہ میرا غلام (عبد) ہے جو مدینہ سے خرید کر لا رہا ہوں اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبدالمطلب مناسب لباس بھی نہیں پہنے ہوئے تھے ، راستے میں آفتاب کی تمازت سے اور تکلیف بھی اٹھائی تھی اس لیے تکان کی وجہ سے چہرہ کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ مکہ میں آ کر مطلب نے شیبہ کو عمدہ لباس پہنا کر بنو عبدمناف کے اشراف کی مجلس میں لا کر بیٹھایا۔ اور سب کو بتایا یہ میرا بھتیجا شیبہ بن ہاشم ہے۔ چونکہ راستے میں حضرت مطلب نے شیبہ کو عبد کہا تھا اس لیے آپ عبد المطلب مشہور ہو گئے۔ [10]

بہن اور بھائی[ترمیم]

حضرت عبد المطلب کے تین بھائی اور پانچ بہنیں تھیں۔ ان میں رقیہ بنت ہاشم آپ کی حقیقی بہن ہے جو بچپن میں ہی فوت ہو گئی۔ ان کے علاوہ بھائیوں میں اسد بن ہاشم ، ابو صیفی بن ہاشم جن کا نام عمرو تھا اور نضلہ بن ہاشم شامل ہیں۔ آپ کی بہنوں میں شفاء بنت ہاشم ، حیہ بنت ہاشم ، ضعیفہ بنت ہاشم اور خالدہ بنت ہاشم شامل ہیں۔ ان سب میں سے ابو صیفی اور حیہ کی والدہ کا نام ہند بنت عمرو ہے ، اسد کی والدہ کا نام قیلہ ملقب بہ جزور بنت عامر ، نضلہ اور شفاء کی والدہ کا نام امیہ بنت عدی ضعیفہ اور خالدہ کی والدہ کا نام واقدہ بنت ابوعدی تھا۔ حضرت عبد المطلب کی بہن بھائیوں کی مذکورہ تفصیل ابن ہشام کے مطابق ہے جبکہ طبقات ابن سعد کے مطابق ابو صیفی نام عمرو ہے اور ان کے ایک اور بھائی صیفی بن ہاشم کا ذکر کرتے ہیں لیکن حیہ کا ذکر نہیں کرتے اور وہ خالدہ کی ایک اور بہن رقیہ بنت ہاشمکا ذکر کرتے ہیں اور اس کے علاوہ حضرت عبد المطلب کے ایک اور بہن کا حنہ بنت ہاشم کا ذکر کرتے ہیں جن کی والدہ کا نام عُدی بنت حبیب ہے۔ ابن سعد کی پیش کردہ محمد بن سائب کلبی کی روایت کے مطابق حضرت ہاشم بن عبد مناف کے پانچ بہٹے اور چھ بیٹیاں بنتی ہیں جبکہ کلبی کی روایت کے آغاز میں یہ عبارت ہے : ہاشم کی اولاد چار بیٹوں اور پانچ بیٹیوں پر مشتمل ہے اس لیے ابن ہشام کی تفصیلات ہی درست معلوم ہوتی ہیں۔ واللہ اعلم [11]

پیدائش و بچپن[ترمیم]

آپ کے والدہ ہاشم بن عبد مناف نے آپ کی والدہ ماجدہ سلمی بنت عمرو سے اس شرط پر نکاح کیا تھا کہ وہ جو بھی بچہ جنے گی وہ میکے میں جنے گی چنانچہ جب حضرت عبد المطلب کی ولادت کا وقت قریب آیا تو حضرت ہاشم نے اپنی زوجہ کو اس کے میکے مدینہ میں چھوڑ کر خود تجارت کی غرض سے ملک شام چلے گئے اور وہی غزہ میں وفات پائی۔ حضرت عبد المطلب کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ سات آٹھ برس تک مدینہ منورہ میں ہی رہے۔ ایک مرتبہ بنو الحارث بن عبد مناة کا ایک شخص مدینہ آیا۔ یہاں اسے چند لڑکے تیر اندازی کرتے ہوئے ملے۔ شیبہ جب نشانے پر تیر مارتے تھے ، وہ فخر سے کہتے تھے ، میں ہاشم کا بیٹا ہوں ، میں بطحا کے ریئس کا بیٹا ہوں۔ حارثی نے ان سے پوچھا تم کون ہوں؟ انہوں نے کہا میں شیبہ بن ہاشم بن عبد مناف ہوں۔ حارثی نے مکہ آ کر حضرت مطلب بن عبد مناف سے جو حجر میں بیٹھا ہوا تھا کہا اے ابو الحارث سنو! میں نے یثرب میں چند لڑکوں کو تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے ایک ایسا لڑکا تھا کہ جب اس کا تیر نشانے پر لگ جاتا تو وہ اظہار فخر میں کہتا ، میں ہاشم کا بیٹا ہوں ، میں بطحا کے ریئس کا بیٹا ہوں۔ حضرت مطلب نے کہا بخدا! میں اب اپنے گھر نہیں جاؤں جب تک کہ اس بچے کو نہ لے آؤں گا۔ حارثی نے کہا کہ اگر اس قدر مستعد ہو تو میری ناقہ صحن میں بندھی ہے اس پر چلے جاؤ۔ مطلب اسی اونٹنی پر سوار ہو کر یثرب گئے۔ سر شام وہ آبادی میں پہنچے۔ پھر بنو عدی بن النجار کے محلے میں آئے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ قبیلہ کی چوپال میں لڑکے گیند کھیل رہے تھے ، اس نے اپنے بھتیجے کی شناخت کر کے وہاں والوں سے پوچھا کہ یہ ہاشم کا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ تمہارا بھتیجا ہے۔ اگر تم اسے لینا چاہتے ہو تو ابھی پکڑ لو اس کی ماں کو اس کی خبر نہ ہونے پائے ، ورنہ اگر اسے معلوم ہو گیا تو وہ اسے کبھی نہیں جانے دے گی اور پھر ہم بھی اسے نہ جانے دیں گے اور روک لیں گے۔ مطلب نے شیبہ کو آواز دی اور کہا کہ اے میرے بھتیجے میں تمہارا چچا ہوں ، تم کو تمہاری قوم کے پاس لے جانے آیا ہوں اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی اور وہ تیرکی کی طرح اچھل کر ناقہ کے پچھلے حصہ پر بیٹھ گیا۔ مطلب اسی وقت لے کر مکہ روانہ ہو گئے۔ اس کی ماں کو رات ہونے تک اس کے جانے کی اطلاع نہ ہوئی ، جب رات کو اسے اس کی اطلاع ہوئی ، تو اس نے شور مچایا کہ کوئی شخص میرے بچے کو بھاگا لے گیا پھر اسے اطلاع کی گئی کہ اس کا چچا اسے لے گیا ہے۔ [12]

ایک اور روایت کے مطابق محمد بن عمرو بن واقد الاسلمی کہتے ہیں کہ ثابت بن المنذر بن حرام صحابی رسول حسان بن ثابت کے والد عمرہ کے لیے مدینہ سے مکہ مکرمہ گئے وہاں حضرت مطلب بن عبد مناف سے ملے جو ان کے دوست تھے (باتوں باتوں میں) ان سے کہا: اگر تو اپنے بھتیجے شیبہ کو ہمارے قبیلہ میں دیکھتا تو اس کے شکل و شمائل میں تجھے خوبی و خوبروئی و ہیبت و شرافت نظر آتی ، میں نے دیکھا ہے کہ وہ اپنے ماموں زاد بھائیوں میں تیر اندازی کر رہا ہے کہ نشان آموزی (وہ کمزور تیر ہے جس سے لڑکے تیر اندازی سیکھتے) کے دونوں تیر میرے کف دست جیسے مقدار کے ہدف میں داخل ہو جاتے ہیں ، جب تیر نشانہ پر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے

انا ابن عمرو العلی

میں بلند و مرتبہ عمرو (ہاشم) کا فرزند ہوں

مطلب:میں تو جب تک وہاں نہ جاؤں اور اس کو ساتھ نہ لاؤں اتنی بھی تاخیر نہیں کر سکتا کہ شام ہو جائے (اتنی جلدی ہے کہ آج دن کے اختتام ہونے کا بھی انتظار نہیں کر سکتا)۔ ثابت: میری رائے میں اسے نہ تو سلمی تیرے سپرد کر دے گی اور نہ اس کے ماموں تجھے لے جانے دیں گے۔ اگر تو اسے وہیں رہنے دیں کہ اپنے ننھیال میں اس وقت تک رہے کہ خود بخود تیرے پاس برضا و رغبت آ جائے تو اس میں تیرا کیا حرج ہے؟ مطلب نے کہا کہ وابواؤس میں تو اسے وہاں نہ چھوڑوں گا کہ اپنی قوم کے ماثر و فضائل سے بیگانہ بنا رہے ، تجھے یہ تو معلوم ہی ہے کہ اس کا حسب و نسب و مجد و مشرف سب کچھ اس کی قوم کے ساتھ ہے۔ حضرت مطلب بن عبد مناف مکہ سے مدینہ گئے اور ادھر ایک گوشہ میں فروکش رہے۔ شیبہ کو دریافت کرتے رہے حتی کہ اپنے ننھیالی لڑکوں میں تیر اندازی کرتے ہوئے وہ مل گئے۔ مطلب نے انہیں دیکھا تو باپ کی شباہت ان میں نظر آئی ، پہچان لیا ، آنکھیں اشکبار ہوئیں ، گلے سے لگایا ، حلہ یمانی پہنایا اور کہنے لگے :

عرفت شیبة والنجار قد حفلت

ابناؤھا حولہ بالنبل تنتضل

"میں نے شیبہ کو پہچان لیا اور ایسی حالت میں پہچانا کہ قبیلہ بنی نجار کے لڑکے اس کے ارد گرد تیر اندازی کے لیے مجمع کیے ہوئے تھے"

عرفت اجلادہ منا و شیمتہ

ففاض منی علیہ وابل سبل

"میں نے پہچان لیا کہ اس کا زور بازو و طور و طریق ہم ہی میں سے ہے اور یہ پہچان کر میری آنکھیں اس پر آنسوؤں کے ڈونگرے برسانے لگیں" سلمی نے پیغام بھیج کر مطلب بن عبد مناف کو اپنے ہاں فروکش ہونے کی دعوت دی جس کے جواب میں مطلب نے کہا: میری حالت اس (تکلف) سے بہت ہی سبک واقع ہوئی ہے ، میں جب تک اپنے بھتیجے کو نہ پاؤں گا اور اسے اس کے شہر و قوم میں نہ لے جاؤں گا اس وقت تک گرہ بھی نہیں کھولنا چاہتا۔ سلمی نے کہا: میں تو اس کو تیرے ساتھ بھیجنے کی نہیں۔ سلمی نے اس جواب میں مطلب کے ساتھ درشتی و خشونت ظاہر کی تو انہوں نے کہا ایسا نہ کر میں تو بغیر اس کے ساتھ لیے واپس جانے والا نہیں۔ میرا بھتیجا سن شعور کو پہنچ چکا ہے اور غیر قوم میں ہے اور اجنبی ہے۔ ہم لوگ اس کے خاندان کے ہیں کہ ہماری شرافت اور اپنے قومی شہر میں قیام کرنا یہاں کی اقامت سے اس کے لیے بہتر ہے اور وہ جہاں کہیں بھی ہو بہرحال تیرا ہی لڑکا ہے۔ [13] لوگوں کا دعوی ہے کہ شیبہ نے اپنے چچا المطلب سے کہا کہ میں اپنی ماں کو جب تک وہ اجازت نہ دے نہ چھوڑوں گا۔ تو پھر سلمی نے اجازت دے دی اور شیبہ کو مطلب کے حوالے کر دیا۔ [14]

مکہ مکرمہ آمد اور مکہ کی سرداری[ترمیم]

مطلب دن چڑھتے ہی شیبہ کو مکہ لے کر آئے اس وقت سب لوگ اپنی نشست گاہوں پر موجود تھے وہ پوچھنے لگے کہ مطلب یہ تمہارے پیچھے کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ میرا غلام ہے۔ اسی طرح مطلب اسے لیے ہوئے اپنے گھر پہنچے تو ان کی بیوی خدیجہ بنت سعید بن سہم نے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے جواب دیا یہ میرا غلام ہے۔ گھر سے نکل کر مطلب حزدرہ آئے۔ یہاں سے انہوں نے ایک حلہ خریدا اور اسے شیبہ کو جا کر پہنایا پھر سر شام اسے لے کر بنی عبد مناف کی مجلس میں آئے اس کے بعد وہ لڑکا اسی حلہ کو پہنے ہوئے مکہ کی گلی کوچوں میں پھرا کرتا تھا۔ [15] شیبہ کو عبد کہنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبدالمطلب مناسب لباس بھی نہیں پہنے ہوئے تھے ، راستے میں آفتاب کی تمازت سے اور تکلیف بھی اٹھائی تھی اس لیے تکان کی وجہ سے چہرہ کی رنگت اڑی ہوئی تھی۔ مکہ میں آ کر مطلب نے شیبہ کو عمدہ لباس پہنا کر بنو عبدمناف کے اشراف کی مجلس میں لا کر بیٹھایا اور سب کو بتایا کہ یہ میرا بھتیجا شیبہ بن ہاشم ہے۔ چونکہ راستے میں حضرت مطلب نے شیبہ کو عبد کہا تھا اس لیے آپ عبد المطلب مشہور ہو گئے۔ [16] ایک اور روایت کے مطابق محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ مطلب شیبہ کو لیے ہوئے ظہر کے وقت مکہ پہنچے تھے۔ قریش نے یہ دیکھ کر کہا: ھذا عبدالمطلب (یہ مطلب کا غلام ہے)۔ مطلب نے کہا : ہائیں افسوس! یہ تو حقیقت میں میرا بھتیجا شیبہ بن عمرو (ہاشم) ہے۔ لوگوں نے (بنظر غائر) شیبہ کو جب دیکھ لیا تو (پہچان کے) سب نے کہا : ابنہ لعمری (میری جان کی قسم یہ عمرو کا لڑکا ہے)۔ اس وقت سے لے کر حضرت عبد المطلب برابر مکہ میں ہی مقیم رہے ، تا آنکہ سن بلوغت کو پہنچے اور جوان ہو گئے۔ [17]

متولی کعبہ[ترمیم]

جناب مطلب بن عبد مناف یمن کے ایک تجارتی سفر کے دوران میں بردمان (یمن) میں ایسے بیمار ہوئے کہ پھر جاں بر نہ ہو سکے۔ انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا اور مکہ مکرمہ میں خاندانی قیادت و سیادت کی ذمہ داریاں حضرت عبد المطلب کے کندھوں پر آ گئی۔ اس طرح آپ نوجوانی ہی میں سردار قریش تسلیم کر لیے گئے۔ [18] حضرت ہاشم کی وفات کے بعد ان کی جانشینی کا شرف مطلب بن عبد مناف کو ملا اور وہی قریش کے سردار مقرر ہوئے اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام کے تبرکات مثلاً کمان ، نذار کا عَلم ، خانہ کعبہ کی کنجیاں وغیرہ سب مطلب کو ملی اور مطلب کی وفات کے بعد سب کچھ حضرت عبد المطلب کو مل گیا۔ [19]

نوفل کے ساتھ تنازع[ترمیم]

مکہ آ کر مطلب نے حضرت عبد المطلب کو باپ کی املاک کی نشان دہی کر دی اور ان کو اس کے سپرد کر دیا ۔ نوفل بن عبد مناف نے ایک کنوئیں کے بارے میں اس سے تنازع کیا اور زبردستی اسے غصب کر لیا۔ عبدالمطلب نے اپنی قوم کے کئی آدمیوں کے پاس جا کر اس کی شکایت کی اور اپنے چچا کے مقابلہ میں مدد مانگی مگر ان لوگوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ ہم تمہارے چچا کے درمیان میں نہیں پڑتے۔ اس جواب پر عبدالمطلب نے اپنی حالت اپنی ننھیال کولکھی اور خط میں چند ایسے شعر بھی لکھے جس میں اپنے چچا نوفل کی شکایت کی تھی۔ چنانچہ اس خط کے موصول ہونے کے بعد ابو اسعد ابن عدس النجاری اسی نا قہ سواروں کے ساتھ یثرب سے روانہ ہو کر مکہ آیا۔ عبدالمطلب کو اس کے آنے کی اطلاع ہوئی وہ اس کے استقبال کو آئے اور انھوں نے کہا ماموں صاحب قیام فرمایئے۔ ابو اسعد نے کہا جب تک نوفل سے میری مڈبھیڑ نہ ہو جائے گی میں فروکش نہ ہوں گا۔ عبد المطلب نے کہا میں اسے بحر میں قریش کے مشائخ کے ساتھ بیٹھا ہوا چھوڑ آیا ہوں۔ ابو اسعد بحرآیا نوفل کے سرہانے آ کر کھڑا ہوا اور اس نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی اور پھر نوفل سے کہا کہ رب کعبہ کی قسم ہے یا تو میرے بھانجے کو اس کا کنواں واپس دے دے ورنہ میں ابھی اس تلوار سے تیرا کام تمام کر دیتا ہوں۔ نوفل نے کہا رب کعبہ کی قسم ہے میں نے وہ کنواں اسے واپس دے دیا۔ اس پر تمام حاضرین کی شہادت ہوئی۔ اس کے بعد ابو اسعد نے کہا اے میرے بھانجے اب میں تمہارا مہمان بنا ہوں۔ تین دن اس نے عبد المطلب کے ہاں قیام کیا اور اسی اثناء میں اس نے عمرہ بھی ادا کیا۔ اس واقعہ کے بیان میں عبد المطلب نے چند شعر کہے اور سمرہ بن عمیر ابوعمرو الکنانی نے بھی کچھ شعر کہے۔ اس واقعہ کا خود نوفل پر بھی اثر ہوا کہ اس نے تمام بنوعبد شمس سے بنو ہاشم کے خلاف ایک سمجھوتہ کر لیا۔ [20]

باہمی اتفاق و اتحاد کا معاہدہ[ترمیم]

ہشام بن محمد نے اپنے والد سے ، عبدالمجید بن ابی عبس سے اور ابوالمقوم وغیرہم سے روایت کی ہے کہ ان سب نے بیان کیا کہ تمام قریش میں عبدالمطلب سب سے زیادہ خوش رو ، سب سے زیادہ بلند و بالا ، سب سے زیادہ بردبار (تحمل مزاج) ، سب سے زیادہ فیاض اور سب سے زیادہ ان مہلکات سے دور رہنے والے شخص تھے جولوگوں کی حالت وحیثیت بگاڑ دیا کرتے ہیں۔ کبھی ایسا اتفاق نہیں پیش آیا کسی بادشاہ نے انہیں دیکھ کے ان کی تعظیم وتکریم نہ کی ہو اور ان کی سفارش نہ مانی ہو وہ جب تک زندہ رہے قریش کے سردار بنے رہے۔ قبیلہ خزاعہ کے کچھ لوگوں نے آ کے ان سے کہا: نحن قوم متبادرون في الدار ھلم فلها نعك (ہم سب لوگ گھر کے اعتبار سے آپس میں ہمسایہ وہم جوار ہیں یعنی آؤ مخالفہ یعنی باہمی امداد ونصرت کا عہدہ پیمان کر لیں)۔ عبدالمطلب نے یہ درخواست قبول کر لی اور سات شخصوں کو لے کے چلے جو اولا د مطلب بن عبد مناف و ارقم بن نضلہ بن ہاشم و ضحاک وعمرو فرزندان ابوصیفی بن ہاشم تھے۔ اس میں سے نہ تو فرزاندان عبد شمس بن عبد مناف میں سے کوئی شریک ہوا اور نہ نوفل بن عبد مناف کی اولاد میں سے کسی نے شرکت کی۔ عبد المطلب اپنی جماعت کو لیے ہوئے دارالندوہ میں آئے۔ جہاں دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کی مدد مواسات کے لیے عہد و پیمان کیے اور ایک عہد نامہ لکھ کے خانہ کعبہ میں لٹکا دیا۔ عبدالمطلب اس باب میں کہتے ہیں:

سادمی زبيرا أن توافت منیتی بامساك ما بيني و بين بني عمرو
وأن يحفظ الحلف الذي مسين شخہ ولا يلحدن فيہ بظلم ولا عذر
هم حفظوا لآل القديم و حالفوا اباك فكانوا دون قومك من فهر

ترجمہ:

  1. اگر میری موت آ گئی تو میں زبیر کو وصیت کر جاؤں گا کہ میرے اور فرزندان عمرو و خزاعی کے درمیان میں جو معاہد ہ تھا وہ اس پر قائم رہے اورٹوٹنے نہ دے۔
  2. میں وصیت کر جاؤں گا کہ اس کے بزرگ نے جو عہد کیا ہے اس کی حفاظت کرے اور ایسا نہ ہو کسی طرح کے ظلم وعذر کے باعث اس کی خلاف ورزی ہو۔
  3. اے زبیر! خاندان فہر کہ وہی تیری قوم والے ہیں ان سب میں سے یہی لوگ ہیں کہ انہوں نے پرانی قسم کی حفاظت کی اور تیرے باپ کے حلیف بنے۔

اسی بنا پر عبد المطلب نے اپنے بیٹے زبیر بن عبد المطلب کو اس عہد و پیمان کی وصیت کی۔ زبیر نے ابوطالب سے اور ابوطالب نے یہی وصیت عباس بن عبد المطلب سے کی تھی۔ [21]

طائف میں کامیابی[ترمیم]

ابومسکین کہتے ہیں: طائف میں ایک کنواں (یا چشمہ ) عبد المطلب کی ملکیت میں تھا۔ جسے ذوالهرم کہتے تھے یہ ایک زمانے سے قبیلہ ثقیف کے قبضے میں تھا۔ عبد المطلب نے مطالبہ کیا توانہوں نے انکار کر دیا۔ جندب بن الحارث بن خبیب بن الحارث بن مالک بن حطيط بن جشم بن ثقيف (ان دنوں) قبیلہ ثقیف کے سردار تھے جو منکر ہو گئے اور عبد المطلب سے لڑنے لگے ۔ دونوں کو مناظرے کی ضرورت پڑی جس کے لیے کاہنہ بنی عذرہ منتخب ہوا کہ اس کو عزی سلمہ کہتے تھے اور وہ شام میں رہتا تھا۔ منافرہ چند اونٹوں پر قرار پایا جو نامزد کر لیے گئے (یہ شرط ہوئی کہ جیتنے والے کو اتنے اونٹ دیے جائیں گے)۔ عبدالمطلب چند قریشیوں کو لے کر چلے اور ساتھ میں حارث بن عبد المطلب تھے کہ ان کے علاوہ عبد المطلب کے ان دنوں اور کوئی لڑکا نہیں تھا۔ جندب چلے تو ان کے ہمراہ ثقیف کے کچھ لوگ تھے۔ عبد المطلب اور ان کے ساتھیوں کے پاس (راستہ میں) پانی ختم ہو گیا ثقفیوں سے پانی مانگا تو انہوں نے نہ دیا۔ اللہ تعالی نے خود ہی عبد المطلب کے اونٹ کے نیچے ان کے لیے ایک چشمہ جاری کر دیا۔ عبد المطلب نے خدائے عزوجل کی حمد کی اور جان لیا کہ یہ اسی کا احسان و منت ہے۔ سب نے سیر ہو کے پانی پیا اور بقدر ضرورت لے لیا۔ جب بعد میں ثقفیوں کا بھی پانی ختم ہو گیا تو انہوں نے عبد المطلب سے التجا کی تو انہوں نے سب کو پانی پلوایا۔ کاہن کے پاس آ ئے تو انہوں نے عبدالمطلب کے حق میں فیصلہ کیا۔ عبدالمطلب نے شرط کے اونٹ لے کر ذبح کر ڈالے۔ ذوالہرم کو اپنے قبضے میں لے لیا اور واپس آئے۔ خدا نے عبدالمطلب کو جندب پر اور عبدالمطلب کی قوم کو جندب کی قوم پر فضیلت بخشی۔ [22]

زم زم کی دوبارہ کھدائی[ترمیم]

حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے ساتھ بیت اللہ کے پاس سب سے پہلے آباد ہونے والے بنو جرہم کی بے اعتدالیاں جب حد سے بڑھ گئیں، مکہ آنے والے حاجیوں پر ان کے ظلم اور زیادتیوں میں بہت اضافہ ہو گیا تو اللہ تعالی نے ان سے اقتدار چھیننے اور انھیں مکہ سے نکالنے کے اسباب مہیا کر دیے۔ ان کے آخری سردار عمرو بن حارث جرہمی نے کعبے کے نفیس اور قیمتی تحائف اور رکن یمانی کا پتھر چاہ زمزم میں پھینک دیے اور چاہ زمزم کو توڑ پھوڑ کر اس طرح بھرا کہ اس کا نشان ہی مٹا دیا اور خود بیان کی طرف بھاگ گیا۔ اس پر مدتیں بیت چکی تھیں۔ زمزم اور اس کا محل وقوع لوگوں کے ذہنوں تک سے محو ہو گیا تھا۔ لیکن اب ابراہیم علیہ اسلام کی نسل میں سے وہ فرد فرید اس دنیا میں آنے والا تھا جو خود اور اس کے ماننے والے سیدنا اسماعیل کے بعد آب زمزم کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔

خواب[ترمیم]

سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں: عبد المطلب کو خواب کے ذریعے سے اس جگہ کے کھودنے کا حکم دیا گیا اور اس جگہ کی علامات اور نشانات خواب ہی میں بتائے گئے۔ عبدالمطلب نے بیان کیا: میں حطیم میں سو رہا تھا۔ خواب میں ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: برہ کھودو۔ میں نے دریافت کیا: برہ کیا ہے؟ تو وہ شخص چلا گیا۔ اگلے روز میں پھر اسی جگہ سویا۔ میں نے پھر خواب میں دیکھا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے: مضنونہ کھودو ، میں نے دریافت کیا: مضنونہ کیا ہے؟ وہ شخص جواب دیے بغیر چلا گیا۔ تیسرے روز پھر اسی جگہ خواب میں دیکھا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے: طیبہ کھودو ، میں نے پوچھا: طیبہ کیا ہے؟ وہ شخص پھر چلا گیا۔ چوتھے روز پھر اسی جگہ یہ خواب دیکھا تو وہ شخص کہنے لگا: زمزم کھودو ، میں نے کہا: زمزم کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: وہ (کنواں ہے جس کا پانی) نہ کبھی ختم ہوگا نہ کبھی کم ہوگا اور وہ حاجیوں کی بہت بڑی تعداد کو سیراب کرے گا۔ پھر اس جگہ کے کچھ نشانات اور علامات بتائی گئیں کہ وہاں چیونٹیوں کا بل ہوگا اور وہ گوبر اور خون کے درمیان میں ہے جہاں سفید پروں والا ایک کوا چونچ مار رہا ہوگا۔ یہ جگہ دو بتوں اساف اور نائلہ کے درمیان میں تھی جہاں قریش اپنے جانوروں کو ذبح کیا کرتے تھے۔ اس طرح بار بار دیکھنے اور نشانات أجاگر ہونے سے عبدالمطلب کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب سچا ہے۔ یہ واقعہ رسول اللہ کے والد جناب عبد اللہ کی پیدائش سے بھی پہلے پیش آیا۔

خواب کی عملی تعبیر[ترمیم]

عبدالمطلب نے قریش کو اپنا خواب سنایا اور کہا: میرا ارادہ اس جگہ کو کھودنے کا ہے ۔ قریش نے مخالفت کی مگر عبدالمطلب نے مخالفت کی کوئی پروا نہ کی۔ وہ اپنے بیٹے حارث (اس وقت آپ کا یہی ایک بیٹا تھا) کے ساتھ اس جگہ پہنچ گئے اور بتائے گئے نشان کے مطابق وہ جگہ کھودنی شروع کر دی ۔ عبد المطلب کھودتے جاتے تھے اور حارث بن عبد المطلب مٹی اٹھا اٹھا کر پھینکتے جاتے تھے۔ جب باپ اور بیٹا کنواں کھود رہے تھے تو اس موقع پر جب قریش نے ان کا مذاق اڑایا تو حضرت عبد المطلب نے نذر مانی کہ اللہ تعالی نے اگر انہیں دس بیٹے عطا کیے اور وہ ان کے لیے قوت کا ذریعہ بنے اور دشمن سے مدافعت میں کام آئے تو وہ ایک بیٹے کو کعبہ کے پاس ذبح کر دیں گے۔ تین روز کی کھودائی کے بعد اس کے کچھ آثار نظر آئے تو عبدالمطلب نے خوشی سے نعرہ لگایا: هذا طوى إسمعيل یہی اسمعیل کا کنواں ہے۔ جب قریش کو پتہ چلا کہ عبد المطلب اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں تو وہ سب مل کر آئے اور کہنے لگے: اے عبد المطلب ! یہ کنواں ہمارے باپ اسماعیل کا ہے۔ اس پر ہمارا بھی حق ہے، اس لیے اس کے جملہ حقوق میں ہمیں بھی شرکت کا موقع دو- عبد المطلب نے جواب دیا: ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ یہ فضیلت میرے ہی لیے خاص کی گئی ہے۔ تمھارا اس میں کوئی حصہ نہیں لیکن قریش اپنے دعوے پر اصرار کرتے رہے، آخر کار یہ طے پایا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ بنو سعد بذیم کی ایک کاہنہ سے کرایا جائے ۔ یہ عورت شام کی سرحد کے پاس رہتی تھی۔

زمزم کی تولیت[ترمیم]

عبدالمطلب اور قریش کے چند دیگر افراد کاہنہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب یہ قافلہ شام اور حجاز کے درمیان میں پہنچا تو ان کے پانی کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔ جب حمرا کی شدید گرمی اور پیاس نے انھیں ستایا تو انھیں اپنی موت یقینی نظر آنے گئی ۔ عبد المطلب نے یہ صورت حال دیکھی تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ہمیں کیا کرنا چا ہے؟ وہ کہنے لگے: موجودہ اضطراب انگیز حالت میں تو ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ،تم ہی کچھ بتاؤ۔ عبد المطلب کہنے لگے : ہمیں باقی ماندہ توانائی مجمتع کر کے اپنی اپنی قبریں کھودنی چا ہیں۔ ہم میں سے جو شخص فوت ہو جائے ، اس کے ساتھی مل کر اسے دفن کر دیں یہاں تک کہ آخر میں جو شخص بچ جائے، وہ دفن ہونے سے رہ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ سب کے ضائع ہونے سے بہتر یہی ہے کہ کوئی ایک ضائع ہو۔ انھوں نے کہا: تمھاری بات ٹھیک ہے، چنانچہ وہ سب اپنی اپنی قبر کھودنے لگے ۔ انھیں موت سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد عبد المطلب نے ان سے کہا: اس طرح بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے سے بہتر ہے کہ ہم پانی کی تلاش جاری رکھیں، ہوسکتا ہے اللہ تعالی پانی کی طرف ہماری رہنمائی کر دے۔ وہ اس ارادے سے اپنی سواریوں کی طرف بڑھے۔ جب عبد المطلب نے اپنے اونٹ کو اٹھایا تو اس کے پاؤں کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔ یہ دیکھ کر سب نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ انھوں نے خود بھی پانی پیا، اپنی سواریوں کو بھی پلایا اور اپنے مشکیزوں میں بھی بھر لیا، پھر وہ سب کہنے لگے: اے عبد المطلب ! ہمارے اور تمھارے درمیان میں فیصلہ ہو گیا ہے۔ اب اس کاہنہ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم تم سے زمزم کے بارے میں بھی نہیں جھگڑیں گے۔ اب زمزم پر تمھارا ہی حق مسلم ہے

زمزم کا خزانہ[ترمیم]

ابن ہشام کے مطابق زمزم کی کھدائی کے وقت سونے کے دو ہرن اور کچھ تلواریں اور زرہیں بھی ملیں۔ یہ دیکھ کر قریش نے کہا: اے عبد المطلب ! ان چیزوں پر ہمارا بھی حق ہے۔ عبدالمطلب نے ان چیزوں میں ان کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: اگر تم حصہ لینے پر مصر ہوتو آؤ فال کے تیر نکلوائیں۔ جس کا تیر نکل آئے، وہ حقدار ہو گا اور جس کا نہ نکلے، وہ محروم تصور کیا جائے گا۔ انھوں نے پوچھا: یہ فال گیری کیسے ہوگی؟ عبدالمطلب نے کہا: دو تیر کعبہ کے، دو میرے اور دو تمھارے لیے ہوں گے۔ جس کے تیر جس چیز پر نکل آئے، وہ چیز اسے مل جائے گی اور جس کے نہ نکلے، وہ اس سے محروم رہے گا۔ سب نے کہا: یہ ٹھیک ہے اور انصاف کی بات ہے۔ اس پر عبد المطلب نے دو زرد تیر کعبہ کے لیے اور دو سیاہ تیر اپنے لیے اور دو سفید تیر قریش کے لیے تیار کیے، پھر سب سے بڑے بت ہبل کے پاس جا کر وہ تیر پانسا دار کے حوالے کیے اور خود عبد المطلب کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے۔ پانسا دار نے فال نکالی تو کعبہ کے دو زرد تیر ہرنوں کے نام نکلے اور عبدالمطلب کے دو سیاہ تیر تلواروں اور زرہوں کے لیے نکلے مگر قریش کے تیر نا کام رہے۔ عبد المطلب نے ان تلواروں سے بیت اللہ کا دروازہ بنادیا اور سونے کے دو ہرن، جو کعبے کے حصے میں آئے تھے، انھیں پگھلا کر کعبے کا دروازہ سونے سے مرصع کر دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کعبے کا دروازہ سونے سے مزین کیا گیا۔ عبدالمطلب نے زمزم کو بلاتخصیص سب لوگوں کے لیے وقف کر دیا۔

حرب بن امیہ سے تنازع[ترمیم]

علامہ بلاذری بیان کرتے ہیں: عبد المطلب انتہائی بردبار، دانا اور انصاف کے علمبردار تھے۔ حرب بن امیہ ان کا ہم نوالہ و ہم پیالہ تھا۔ عبدالمطلب کی پناہ میں ادینہ نامی ایک یہودی رہتا تھا۔ وہ تہامہ کے بازار میں خرید وفروخت کیا کرتا تھا۔ حرب کو یہ بات اچھی نہیں لگتی تھی۔ اس نے قریش کے نوجوانوں کو ترغیب دی : اگرتم اس یہودی کو قتل کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لو تو یہاں کوئی اس کے خون کا مطالبہ کرنے والا ہے نہ اس کا مال طلب کرنے والا۔ دو نوجوانوں ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار اور صخر بن عامر بن کعب نے حرب کی باتوں میں آکر اسے قتل کر دیا۔ عبدالمطلب کو اس جرم سے بہت تکلیف پہنچی۔ انھوں نے اس قتل کا سراغ لگا لیا اور حرب بن امیہ سے اس یہودی کے قاتلوں کو پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ حرب نے قاتلوں کو چھپا دیا اور انھیں عبدالمطلب کے حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ دونوں کے درمیان میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا تو ان دونوں نے نجاشی کو حُکم مان لیا کہ وہ جو فیصلہ کرے گا، ہمیں منظور ہوگا لیکن نجاشی ان کا فیصل بنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ پھر انھوں نے سیدنا عمر بن خطاب کے جد امجد نفیل بن عبد العزی بن ریاح کوحکم مان لیا۔ نفیل حرب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے : اے ابو عمرو! کیا تم ایک ایسے آدمی سے اختلاف کر رہے ہو جو اقامت میں تم سے لمبا ، صورت میں تم سے زیادہ حسین اور سرداری میں تم سے بڑھ کر ہے۔ اسے ملامت کرنے والے تم سے تھوڑے ہیں، اس کی اولا تم سے زیادہ ہے۔ وہ صلہ رحمی میں تم سے بڑھ کر ہے اور اس کا دسترخوان تم سے وسیع تر ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ تم حلیم ہو، تمھاری عرب میں شہرت ہے۔ تم دور اندیش ہو تمھارے قبیلے والے تم سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن تم ایک ایسے آدمی کے مقابلے میں آئے ہو جو تم سے بہت ممتاز ہے۔ نفیل نے عبد المطلب کے حق میں فیصلہ کر دیا لیکن حرب نے اس کا فیصلہ تسلیم نہ کیا۔ عبد المطلب نے یہ معاملہ عبد اللہ بن جدعان کے سپرد کر دیا۔ عبد اللہ بن جدعان حرب کے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ مقتول بیہودی کے چچازاد کو اس سے دیت دلوائی۔ [23]

نور مصطفوی کی برکات[ترمیم]

مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ کی تربیت عالم غیب سے اس طرح ہوتی کہ ایک دن آپ نے اپنے والد ماجد حضرت عبد المطلب سے عرض کیا کہ جب کبھی میں بطائے مکہ اور کوہ بثیرہ کی طرف جاتا ہوں تو میری پشت سے نور چکمتا دمکتا ظاہر ہوتا ہے اور وہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر مشرق و مغرب کی طرف جاتا ہے پھر مجتمع ہو کر ابر کی شکل اختیار کر کے میرے اوپر سایہ فگن ہو جاتا ہے۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اور یہ ابر پارہ مدور شکل اختیار کر کے آسمان کی طرف جاتا ہے اور فوراً واپس آ جاتا ہے اور میری پشت میں واپس چلا جاتا ہے۔ میں جب زمین پر بیٹھتا ہوں تو زمین سے آواز آتی ہے

اے وہ شخص جس کی پشت میں نور محمدی ﷺ امانت ہے آپ پر سلامتی ہو

آپ نے مزید فرمایا کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ میں ایک خشک درخت کے نیچے بیٹھا ہوں تو وہ سرسبز و شاداب ہو گیا اور مجھ پر سلام کرتا ہے۔

عبد المطلب نے فرمایا کہ اے جان پدر تمہیں مبارک ہو کہ تمہاری صلب سے رحم مادر میں ایسا نطفہ منتقل ہو گا جو تمام مخلوق الہی کی بزرگ ترین شخصیت ہو گا اور میں نے بھی ایسے بہت سے مشاہدات کیے ہیں اور مجھے خواب میں بھی بہت سی بشارتیں دی گئی ہیں۔ [24]

عبد المطلب کی نذر[ترمیم]

ابن اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت عبد المطلب نے زمزم کے کھودنے کے وقت جب قریش کی جانب سے رکاوٹیں دیکھیں تو منت مانی تھی کہ اگر انہیں دس لڑکے ہوں گے اور وہ سن بلوغ کوپہنچ کر قریش کے مقابلے میں ان کی حفاظت کریں گے تو ان میں سے ایک لڑکے کو کعبۃ اللہ کے پاس اللہ تعالی (کی خوشنودی) کے لیے ذبح کر دیں گے۔ جب انہیں پورے دس لڑکے ہوئے اور انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ ان کی حفاظت کریں گے تو ان سب کو جمع کیا اور اپنی نذر کی انہیں خبر دی اور انہیں اللہ تعالی کی نذر پوری کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اپنے والد ماجد کی بات مانی اور دریافت کیا کہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ حضرت عبد المطلب نے کہا کہ تم میں سے ہر شخص ایک ایک تیر لے اور اس پر اپنے نام لکھ کر میرے پاس لائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور عبد المطلب کے پاس آئے۔ حضرت عبد المطلب انہیں لے کعبۃ اللہ کے اندر ہبل کے پاس آئے اور ہبل ایک باولی پر تھا اور یہ باولی وہ تھی جس پر بیت اللہ کی نذر و نیاز میں جو چیزیں آئیں وہاں جمع رہتی تھی اور ہبل کے پاس سات تیر رکھے تھے اور ہر تیر پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ ایک پر خون بہا دوسرے پر ہاں تیسرے پرنہیں چھوتھے پر تمہیں میں سے پانچویں پر تم میں ملا ہوا چھٹے پر تم میں سے نہیں ساتویں پر پانیوں کے متعلق کچھ لکھا تھا۔ حضرت عبد المطلب اس تیروں والے کے پاس آ کر کہا کہ میرے ان بچوں کے یہ تیر ہلا کر نکالو اور جو نذر انہوں نے مانی تھی اس کی کفیت بھی اسے سنا دی۔ ان میں سے ہر ایک لڑکے نے اپنا تیر اس کو دیا جس پر اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ ابن اسحاق نے کہا کہ لوگوں کے خیال کے موافق عبد اللہ عبدالمطلب کے بہت چہیتے فرزند تھے اور یہی دیکھ رہے تھے کہ اگر تیر ان پر سے نکل گیا تو گویا وہ خود بچ گئے۔ جب تیر والے نے تیر لیے تا کہ انہیں حرکت دے کر نکالے تو عبد المطلب ہبل کے پاس کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کرنے لگے۔ جب تیروں والے نے تیر چلائے تو حضرت عبد اللہ کا نام نکلا۔ پھر تو عبدالمطلب نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور چھری لی اور انہیں لے کر لے اساف و نائلہ کے پاس آئے تا کہ انہیں ذبح کریں۔ جب قریش نے دیکھا تو وہ اپنی مجلس چھوڑ کر ان کے پاس آئے اور کہا عبدالمطلب تم کیا کرنا چاہتے پوں۔ انہوں نے کہا میں اسے ذبح کرنا چاہتا ہوں۔ جب قریش اور آپ کے دوسرے لڑکوں نے دیکھا تو کہا خدا کی قسم اس کو ہرگز ذبح نہ کیجئے جب تک آپ مجبور نہ ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ہر ایک شخص ہمیشہ اپنے بچے کو لایا کرے گا کہ اس کو ذبح کرے۔ اس طرح انسانی نسل باقی نہ رہے گی۔ مغیرہ بن عبد اللہ نے کہا خدا کی قسم ایسا ہرگز نہ کیجئے جب تک کہ آپ مجبور نہ ہو جائیں۔ اگر ان کا عوض ہمارے مال سے ہو سکے تو ہم ان کا فدیہ اپنے مال سے دیں گے۔ قریش اور ان کے دوسرے بچوں نے کہا ان کو ذبح نہ کیجئے بلکہ انہیں حجاز لے چلئے وہاں ایک عرفہ (غیب کی باتیں بتانے والی) ہے جس کا کوئی (موکل یا شیطان یا کوئی روح) تابع ہے اس سے آپ دریافت کیجئے۔ اگر اس نے بھی ان کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو آپ کو ان کے ذبح کر ڈالنے کا پورا اختیار ہو گا اور اگر اس نے کوئی ایسا حکم دیا جس میں آپ کے اور اس لڑکے کے لیے اس مشکل سے نکلنے کی کوئی شکل ہو تو آپ اس کو قبول کر لیں۔ پھر وہ سب کے سب وہاں سے چلے اور مدینہ پہنچے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ وہ خیبر میں ہے تو پھر وہاں سے سوار ہو کر خیبر آئے۔ عبدالمطلب نے اس عورت کو اپنے اور اپنے لڑکے کے حالات سنائے اور اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ اس عورت نے کہا آج تو میرے پاس سے تم لوگ واپس جاؤ یہاں تک کہ میرا تابع میرے پاس آئے اور میں اس سے دریافت کر لوں۔ پس سب کے سب اس کے پاس سے لوٹ آئے اور عبدالمطلب اس کے پاس سے آ کر کھڑے اللہ تعالی سے دعا مانگتے رہے۔ دوسرے روز صبح سویرے سب اس کے پاس گئے۔ اس عورت نے کہا ہاں مجھے تمہارے متعلق کچھ معلومات ہوئی ہے۔ تم لوگوں میں دیت کی مقدار کیا ہے۔ سب نے کہا دس اونٹ اور واقعتۃً یہی مقدار تھی۔ اس عورت نے کہا تم لوگ اپنی بستیوں کی جانب لوٹ جاؤ اور تم اپنے اس آدمی کو (اپنے لڑکے کو) اور دس اونٹوں کو پاس پاس رکھو اور ان دونوں پر تیروں کے ذریعے قرعہ ڈالو اگر تیر تمہارے اس لڑکے پر تو اونٹوں کو اور بڑھاتے جاؤ یہاں تک کہ تمہارا پروردگار راضی ہو جائے (اور) اونٹوں پر تیر نکل آئے تو اس کی بجائے اونٹ ذبح کر دو۔ اس طرح تمہارا رب بھی تم سے راضی ہو گیا اور تمہارا لڑکا بھی بچ جائے گا۔ (یہ سن کر) وہ وہاں سے نکل کر مکہ پہنچے۔ جب سب اس رائے پر متفق ہو گئے تو عبدالمطلب اللہ تعالی سے دعا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور حضرت عبد اللہ کو اور دس اونٹوں کو وہاں لے آئے۔ اس حالت میں کہ عبدالمطلب ہبل کے پاس کھڑے ہو کر اللہ عزوجل سے دعا کر رہے تھے۔ پھر تیر نکالا گیا تو حضرت عبد اللہ پر نکلا۔ تو دس اونٹ زیادہ کیے اور اونٹوں کی تعداد بیس ہو گئی اس طرح بڑھتی بڑھتی جب اونٹوں کی تعداد سو ہو گئی تو تب جا کر تیر اونٹوں پر نکلا۔ وہاں پر موجود قریش اور دوسرے لوگوں نے کہا اے عبدالمطلب اب تم اپنے رب کی رضامندی کو پہنچ گئے۔ عبدالمطلب نے کہا اللہ قسم ایسا نہیں یہاں تک کہ تین وقت اونٹوں پر ہی تیر نکلے۔ پھر یہ عمل تین بار کیا گیا اور ہر بار ہی تیر اونٹوں پر نکلا۔ [25] عبدالمطلب نے اللہ اکبر کی تکبیر کہی۔ عبدالمطلب کی لڑکیاں اپنے بھائی حضرت عبد اللہ کو لے گئیں۔ حضرت عبدالمطلب نے صفا و مروہ کے درمیان میں اونٹوں کو لے جا کر قربانی کی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب نے جب ان اونٹوں کی قربانی کی تو ہر ایک کے لیے ان کو چھوڑ دیا (جو چاہیے گوشت کھائے روک نہ رکھی)۔ انسان یا درندہ یا طیور کوئی بھی ہو کسی کی ممانعت نہ کی البتہ خود نہ کچھ کھایا نہ آپ کی اولاد میں سے کسی نے کوئی فائدہ اٹھایا۔ عکرمہ عبد اللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ان دنوں دس اونٹوں کی دیت (خون بہا) ہوتی تھی (دستور تھا کہ ایک جان کے بدلے دس اونٹ دیے جائیں) عبدالمطلب پہلے شخص ہیں جنھوں نے ایک جان کا بدلہ سو اونٹ قرار دیا۔ جس کے بعد قریش اور عرب میں بھی یہی دستور ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کو خود برقرار رکھا۔ [26]

حضرت عبد اللہ کی شادی[ترمیم]

جب وہب بن عبد مناف نے ابلق سواروں کی جانب سے حضرت عبد اللہ کی حفاظت دیکھی تو ان کے دل میں یہ بات گھر کر گئی کہ وہ اپنی بیٹی آمنہ کا نکاح حضرت عبد اللہ سے کرے گے۔ گھر آ کر انہوں نے سارا واقعہ اپنی بیوی کو سنا کر انہیں حضرت عبد المطلب کی کی خدمت میں روانہ کیا کہ جا کر ان سے کہیں میری عفت مآب اور نیک سرشت بیٹی جو اخلاق و اعمال میں بے مثال ہے اگر وہ اس کو اپنے بیٹے عبد اللہ کی زوجیت کے لیے قبول کر لیں تو نہایت مناسب ہو۔ حضرت عبدالمطلب نے حضرت آمنہ بنت وہب کی صفات اپنی بیوی ہالہ سے جو حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی والدہ اور حضرت آمنہ کی چچا زاد بہن تھیں بہت بار سنی تھیں۔ علاوہ ازیں قبیلہ کی عورتیں بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی رہتی تھیں کہ حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کا جوڑ نہایت مناسب ہے۔ درحقیقت حضرت آمنہ اپنے دور کی نہایت عقلمند اور لائق فائق خاتون تھیں اور ان صفات میں ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا۔ لہذا عبدالمطلب نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ علاوہ ازیں یہ بات اس یمنی خبر کے عین مطابق تھیں جو اس نے حضرت عبدالمطلب سے سفر یمن کے موقع پر کہی تھی۔ واقعہ اس طرح ہوا کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالمطلب یمن کے سفر پر گئے اور وہاں یہودیوں کے ایک بڑے عالم نے ان سے ملاقات کے دوران میں دریافت کیا تھا کہ آپ کس قبیلہ سے ہیں۔ آپ نے جواب دیا بنو ہاشم سے ہوں اور ان کا بیٹا ہوں۔ اس نے عبدالمطلب سے اجازت مانگی کہ آپ اگر اجازت عطا فرمائیں تو میں آپ کے جسم کے کچھ حصوں کو دیکھوں۔ آپ نے جواب دیا کہ ایک شرط کے ساتھ جسم کے دیکھنے میں کوئی اخلاقی گراوٹ نہ ہو تو دیکھ سکتے ہو۔ لہذا اس نے آپ کی ناک کے ایک نتھنے کو اپنے ہاتھ سے کھینچا اور اسی طرح دوسرے جانب عمل کیا۔ ایک اور روایت کے مطابق اس نے آپ کے ہاتھ کی ہتھیلیوں کو دیکھ کر کہا کہ ایک سے ملک و سلطنت اور دوسرے سے نبوت کا اظہار ہو رہا اور یہ سعادت دو منافوں کے قران سے ظاہر ہو رہی ہے (پہلے عبد مناف بن قصی دوسرے عبد مناف بن زہرہ) پھر اس نے سوال کیا کہ تمہارے بیٹے عبد اللہ کی شادی ہو گئی ہے۔ عبدالمطلب نے جواب دیا نہیں۔ تب یہودی عالم نے کہا کہ اب تم واپس جا کر ان کی شادی بنی زہرہ میں کر دینا۔ جب حضرت عبدالمطلب مکہ آئے تو یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ وہب بن عبد مناف عبد اللہ سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں کارکنان قضا و قدر نے یہ یہودیوں والا قصہ اس کا سبب بنا دیا۔ لہذا حضرت عبدالمطلب نے حضرت ہالہ سے کہا کہ حضرت عبد اللہ کے لیے حضرت آمنہ کا نکاح ایک مجلس میں کیا گیا۔ لیکن یہ روایت کہ عبدالمطلب اور حضرت عبد اللہ کا نکاح ایک مجلس میں پڑھا گیا محل نظر ہے کیونکہ حضرت عبدالمطلب نے ہالہ سے حضرت آمنہ کی تعریف سنی۔ واللہ اعلم۔ [27]

حضرت عبد اللہ کی وفات[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن عبد المطلب قریش کے ایک قافلے کے ساتھ بغرض تجارت ملک شام گئے۔ دوران میں سفر بیمار ہو گئے۔ واپسی پر یہ قافلہ مدینہ منورہ کے پاس سے گزرا تو حضرت عبد اللہ بیمار ہونے کی وجہ سے مدینہ ہی میں اپنے والد عبد المطلب کے ننھیال بنو عدی بن نجار کے ہاں ٹھہر گئے۔ قافلہ مکہ پہنچا تو حضرت عبد المطلب نے اپنے بیٹے کے بارے میں دریافت فرمایا۔ قافلے والوں نے بتایا وہ بیمار تھے اس لیے واپسی پر مدینہ ٹھہر گئے۔ حضرت عبد المطلب نے اپنے سب سے بڑے بیٹے حارث کو عبد اللہ کی خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن حضرت حارث بن عبد المطلب کے پہنچنے سے پہلے حضرت عبد اللہ فوت ہو چکے تھے اور انہیں دارالنابغہ میں دفن کر دیا گیا تھا۔ حارث نے واپس آ کر یہ افسوس ناک خبر سنائی تو حضرت عبد المطلب ، ان کے بھائی ، بیٹے ، بھتیجے غرض کہ سارا خاندان انتہائی غم زدہ ہو گیا۔ وفات کے وقت حضرت عبد اللہ کی عمر پچیس سال تھی اور رسول اللہ ﷺ اس وقت شکم مادر میں تھے۔ [28]

اصحاب فیل اور عبد المطلب[ترمیم]

حملے کی وجہ[ترمیم]

جب ابرہہ کی حکومت کو یمن میں بہت زمانہ گزرگیا تو اس نے صنعا میں ایک قلیسا بنوایا جو اس زمانہ میں بے مثل مکان تھا۔ بھراس نے نجاشی کو لکھ کہ میں نے تیرے لیے ایک ایسا قلیسا بنایا ہے جو اس وقت بے مثل مکان ہے اور اسی پر میں نے قناعت نہیں کی بلکہ میں ارادہ کرتا ہوں کہ عرب کے حجاج کی زیارت گاہ اسی کو قرار دو۔ جب اس بات کی ملک عرب میں شہرت ہوئی تونساہ کے قبیلہ بنی فقیم میں ایک شخص کو غصہ آیا اور وہ اس قلیسا میں آیا اور اس کو بول و براز سے آلودہ کر گیا اور پھر اس بات کی ابرہہ کو خبردی گئی اور لوگوں نے اس سے کہا کہ یہ کام ان لوگوں میں سے کسی کا ہے جن کے پاس ایام حج میں حجاج آ کرٹھیرا کرتے ہیں۔ اس امر سے ابرہہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے قسم کھائی کہ میں کعبہ جاؤں گا اور اسے منہدم کر دوں گا۔

سردار قریش ابرہہ کے لشکر میں[ترمیم]

چنانچہ ابرہہ حبشیوں کی ایک جرار فوج لیکراسی قصد سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔ ایک ہاتھی جس کا نام محمود تھا وہ اس کے ساتھ تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کے پاس تیرہ ہاتھی تھے اور سب کے سب محمود کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ مگراللہ سبحانہ تعالی نے اپنے کلام پاک میں فیل کو بصیغہ واحد بیان کیا ہے۔ بعض علما کرام فرماتے ہیں کہ اس سے وہی فیل مراد ہے جس کا نام محمود تھا وہ سب سے بڑا اور نہایت شوکت دار تھا۔ ہاتھیوں کی تعداد کتنی تھی اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ جب ابرہہ روانہ ہوا تو عربوں نے یہ خبر سن کر اس سے جہاد کرنا ضروری سمجھا۔ لہذا اشراف یمن میں سے ایک شخص جس کا نام ذونفرتھا وہ اس کے مقابل میں آیا مگرلڑائی میں اس نے شکست اٹھائی اور گرفتار ہوا۔ ابرہہ نے اسے قتل کرنا چاہا مگر پھر اس مہم کے انجام تک اسے قید میں رکھا۔ جب آگے بڑھا تو دوسرا شخص نفیل بن الخشعمی اس کا مقابل ہوا اور اس نے بھی شکست کھائی اور گرفتار ہوا۔ نفیل نے ابرہہ سے راستہ بنانے کے وعدہ پر رہائی پائی۔ جب ابرہہ طائف میں پہنچا تو بنو ثقیف نے اپنا ایک آدمی جس کا نام ابو رغال تھا راستہ بتانے کے لیے ساتھ کر دیا اور جب یہ لشکر مغمس میں آیا تو وہاں ابو رغال مر گیا اسے وہی دفن کر دیا گیا جس پر عرب ہنوز پتھر مارا کرتے ہیں۔ پھرابرہہ نے اسود ابن مقصود کو مکہ کی طرف روانہ کیا اور وہاں سے عرب لوگوں کے اونٹ پکڑ لایا اور انہیں اونٹوں کے ساتھ حضرت عبدالمطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ اس کے بعد ابرہہ نے ایک دوسرے آدمی کو جس کا نام حناط الحمیری تھا مکہ معظمہ کو روانہ کیا اور اس سے کہا کہ قریش کے سردارسے کہو کے میں تم سے لڑنے کونہیں آیا ہوں بلکہ میں صرف اس ارا دہ سے آیا ہوں کہ کعبہ کو گرا دوں اگر تم اس کے گرانے میں میری مزاحمت نہ کرو تومیں تم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ جب یہ بات حناط نے عبدالطلب بن ہاشم سے کی تو آپ نے کہا کہ ہم اس سے لڑنا نہیں چاہتے یہ بیت اللہ ہے اگرخدا کو اس کی حفاظت منظور ہوئی تو وہ آپ اس کی حفاظت کریں گا۔ یہ بیت مکرم اس کا حرم ہے اور اگر اللہ ہی کو اس کی حفاظت منظور نہیں ہے تو ہمیں اس کے بچانے کی قوت نہیں ہے۔ جب یہ تقریر حناط نے عبدالمطلب کی سنی توحناط نے آپ سے کہا کہ اچھا آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے تو آپ اس کے ساتھ ہو لیے۔ جب دونوں بادشاہ کے لشکر میں پہنچے تو وہاں جا کر ذونفر کا پتہ پوچھا جو عبدالمطلب کا دوست تھا۔ لوگوں نے بتا دیا کہ وہ فلاں مقام پر ہے۔ جب آپ اس سے ملے اور مشورہ کیا کہ اس معاملہ میں تم ہماری کیا مدد کر سکتے ہو۔ اس نے کہا کہ ایک قیدی کیا کرسکتا ہے جو ایک بادشاہ کے ہاتھ میں قید ہے جب چاہے اسے مار ڈالے البتہ جو یہاں کا ہاتھیوں کا سردار ہے جس کا نام انیس ہے وہ میرا دوست اس سے میں کچھ کہتا ہو اور آپ کے درجہ اور عزت کا حال بیان کرتا ہوں وہ آپ کو شایستہ تقریب سے بادشاہ کے سامنے پیش کر دے گا اور جو آپ چاہتے ہیں وہ اس سے کہیئے۔ عبدالمطلب نے فرمایا کہ بس اتنا ہی کافی ہے چنانچہ اس نے انیس کو بلایا اور آپ کی اس سے سفارش کی اور کہا کہ قوم قریش کے یہ سردارہیں- انیس نے ابرہہ سے آپ کا ذکر کیا کہ قریش کا سردار آپ کے لشکر میں آیا ہوا ہے۔ ابرہہ نے آپ کو بلالیا۔ حضرت عبدالمطلب بڑے تندرست و توانا اور خوب صورت جوان تھے۔ جب ابرہہ نے آپ کو دیکھا تو آپ کی عظمت و بزرگی اس کے دل میں جگہ کرگئی اور اس نے آپ کی تعظیم کی اور تخت سے اتر پڑا اور فرش پران کے ساتھ آکر بیٹھ گیا اور اپنے برابر ان کو بیٹھایا اور ترجمان سے کہا کہ پوچھو آپ کیا چاہتے ہیں؟ ترجمان نے آپ سے پوچھا کہ آپ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میرے دو سو ناقہ (اونٹ) آپ کے آدمی پکڑ لائے ہیں وہ مجھے دلوا دیجیئے۔ ابرہہ نے ترجمان سے کہا کہ میں نے جب تمہاری صورت دیکھی تھی تو آپ کو بہت اچھا سمجھا تھا لیکن جب آپ سے میری بات چیت ہوئی تو وہ عظمت جو آپ کی میرے دل میں تھی جاتی رہی۔ آپ نے اپنے اونٹون کا مجھ سے سوال کیا اور جو آپ کا اور آپ کے آبا ؤ اجداد کا دین ہے اس کی نسبت کے کچھ نہ کہا جس کے گرانے کے لیے میں آیا ہوں۔ حضرت نے فرمایا کہ میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس بیت کا مالک خدا تعالی ہے وہ اپنے گھر کی حفاظت خود کرے گا۔ ابرہہ نے کہا کہ وہ تو مجھ سے اس کی حفاظت نہ کرسکے گا اور حکم کہ ان کے اونٹ دلا دیے جائیں۔ جب عبدالمطلب نے اونٹ لیے توان اونٹوں کے گلے میں جوتیان ڈال دیں اور ان کو ہدیہ اور قربانی کے طور پر حرم میں چھوڑ دیا۔ یہ عرب کا ایک دستور تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر اس میں سے کوئی اونٹ کھو جائیں گا تو پروردگار عالم کو غصہ آ جائے گا۔

عبد المطلب کی مناجات[ترمیم]

جب عبدالمطلب بن ہاشم قریش کی طرف لوٹ کر آئے تو قوم کو اس معامہ کی خبر دی اور مشورہ ہوا کہ مکہ مکرکہ سے نکل کر چلے جائیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا چھپیں۔ پھر حضرت عبدالمطلب کعبہ کے دروازے کے حلقہ کوپکڑکر کھڑے ہو گئے۔ اشراف قریش بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے اللہ تعالی سے دعا مانگی اور ابرہہ کے مقابلہ میں پروردگار عالم سے مدد چاہی۔ حضرت عبد المطلب نے اس انداز میں رب العالمین کے حضور مناجات پیش کیں۔

یَآٰ رَبِّ لَاَ رْجوْ لَھُمْ سِوَا کَا یَا رَبِّ فَامْنَعْ مِنھُمْ حِمَا کَا
اِنَّ عُدُوَّ الْبَیْتِ مَنْ عَادَا کَا اِمْنَعْھُمْ اَنْ یُّخَرِّبُوْفِنَا کَا
لَا ھُمْ اِنَّ الْعَبْدَ یَمْنَعْ رِحْلَهٗ فَامْنَعْ رِحَالَکَ
لَا یَغْلِبَنَّ صَلَیْبَھُمْ ومُحَالُھُمْ اَبَداً مُحَالَکَ
وَکَئِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّهٗ اَمْرٌ تَتِمُّ بِہ فِعَالَکَ
اَنْتَ الَّذِیْ اِنْ جَاءَ بَاغٍ نَرْ تَجِیْکَ لَهٗ فَذالِکَ
وَلَمْ یَحْوَوْا سِوَی خِزْیٍ وَ تُھْلِکُھُمْ ھُنَالَکَ
لَمْ اَسْتَمِعْ یَوْمًا مَارْ جَس مِنْھُمْ یَبْغُوْا قِتَالِکَ
جَدُوا جُمُوْعَ بِلَادِھِمْ وَالْفِیْلَ کَیْ یَسبُوْا عَیَالَکَ
عَمَدُوْا حِمَاک بِکیدِ ھِمْ جَھْلاً وَمَا رَقَبُوا جَلالَکَ
اِنْ کُنْتَ نَارِ کَھُمْ وَکَعْبَتَا فَامْرٌ بَدَالَکَ
  • ترجمہ:
  1. اے پروردگار مجھ کو تیرے سوا ان دشمنوں کے دفع کرنے کے لیے اور کسی سے امید نہیں ہے ، اے پروردگار تو ہی اپنی چیزوں کو ان حبشیوں سے بچا
  2. بیت کا دشمن وہی ہے جو تیرا دشمن ہے اس لیے تو ان کو روک کہ وہ تیرے صحن کو خراب نہ کریں
  3. اے اللہ ہر ایک بندہ اپنے گھر کی چیزوں کو بچاتا ہے تو اپنے گھر کی چیزوں کی حفاظت کر
  4. ایسا ہرگز نہ کر کہ ان کی صلیب غالب ہو جائے اور ان کی قوت تیری قوت پر بھی غالب آجائے
  5. اور اگر ایسا تو نے کر دیا تو ظاہر ہے کہ یہ ایسا کام ہے جس سے تیرے کام پورے ہوتے ہیں
  6. توہی وہ ہے کہ اگر کوئی باغی آئے تو اس کے دفع کرنے کی ہم تجھ سے ہی امید کر سکتے ہیں چنانچہ یہ ایسا ہی وقت ہے
  7. انہیں ذلت و خواری کے سوا اور کچھ نہیں ملا توانہیں ہلاک کر ڈال
  8. میں نے اس سے زیادہ نجس کبھی کسی کو نہیں سنا اور ایسی پلید قوم تجھ سے لڑنے کی خواہش کرتی ہے
  9. اور اپنے تمام ملک کے لوگوں کو یہاں کھینچ کر لے آئے ہیں۔ اور ان میں ہاتھی بھی ہیں کہ تیری عیال کو مصیبت میں ڈالیں اور لونڈی غلام بنائیں
  10. انہوں نے جہالت کے سبب سے تیرے ننگ وناموس کی تخریب کا ارادہ کیا ہے اور تیرے جلال کا کچھ اندیشہ نہ کیا
  11. اگر تو انہیں اور ہمارے کعبہ کو چھوڑ دے گا کہ جو چاہیں وہ اس کے ساتھ کریں توجو بات ہوگی وہ تجھ پر ظاہر ہے

یہ مناجات تمام کرکے عبدالمطلب نے کعبہ کے حلقہ کو چھوڑ دیا اور وہ اور ان کے ہمراہی پہاڑوں کی گھاٹیوں میں جاکر مخفی ہو گئے۔ ادھر جا کر وہ اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھے ابرہہ بیت کے ساتھ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ اس بیت مقدس کا مالک کیا کرتا ہے۔ [29]

حملہ اور لشکر پر عذاب الہی[ترمیم]

دوسرے دن صبح کو ابھی آفتاب عالم تاب کی کرنیں پوری طرح افق عالم بر نمودار نہ ہو پائی تھیں اور شب کے آثار خاکدان عالم پرباقی تھے کہ حبشہ والوں کا لشکر مکہ مکرمہ سے دو فرسنگ دور وادی مجازسے روانگی کے لیے تیا ر ہوا۔ ابرہہ نے حکم دیا کہ روانگی سے قبل ہاتھیوں کو رنگا رنگ کی جھولوں اوقیمتی زیوروں سے آراستہ کیا جائے۔ روانگی شروع ہوئی ابرہہ نے کہا کہ ہاتھیوں کو ہر اول دستہ رکھا جائے اور محمود نامی ہاتھی سب سے آگے رہے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ فتح و نصرت اس کے قدموں کی رہین منت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نفیل خشمی نے آگے بڑھ کر محمود نامی ہاتھی کے کان میں کہا کہ اے ہاتھی واپس لوٹ جا کیونکہ جس طرف تو جا رہا ہے وہ حرم خدا ہے اور ذات باری کی طرف منسوب ہے خبردار ا س کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچانا۔ جب محمود ہاتھی نے اس ذات مقدس کا نام سنا تو گردن جھکائی اور جب اس کو خانہ کعبہ کی طرف بڑھایا گیا تو شطرنج کے بے جان (فیل) ہاتھی کی طرح خاموش کھڑا رہا اور سونڈ زمین پر رکھ دی۔ فیل بانوں نے امکانی کوشش کی لیکن کارگر نہ ہوئی۔ مہاوت کبھی تو اس کا نام لے کر بڑھاتے ، کھی گالیاں دیتے ، کبھی گردن پر انکس مارتے ، کبھی اس کی پیشانی پر ضربیں لگاتے اور کبھی اس کے ساتھ نرمی و تلطف کے ساتھ پیش آتے لیکن ساری کوششیں عبث و بیکار رہیں۔ محمود نے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھایا لیکن اس کے برخلاف اگر اسے کسی دوسری سمت موڑا جاتا تو وہ رواں دواں ہونے کے لیے تیار تھا۔ البتہ دوسرے ہاتھی اپنے فیل بانوں کے ساتھ مکمل تعاون پر آمادہ تھے لیکن شگون تو اسی محمود نامی سے لینا تھا اور اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ لہذا اس کے اس رویہ سے سخت پریشان تھے کہ ناگہانی زمین پر اندھیرا ہوتا محسوس ہوا اور جب آسمان پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ سمندر کی جانب سے کوے کے پروں کی طرح سیاہ پرندوں کے غول کے غول مصروف پرواز تھے۔ یہ پرندہ کوتا گردن اور گردن پر گہرا سبزرنگ باغ کی تازہ گھاس کے مانند لمبی چونج اور دراز پنجے اور قدوقامت میں قدی سے بڑا اور گوریا سے چھوٹا لاکھوں کی تعداد میں ایک عجیب انداز کے ساتھ فضائے آسمانی پر چھا گئے۔ مشاہدین کا بیان ہے کہ وہ وقت ایسا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آسان پر سیاہ چادر تان دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ایسے پرندے نہ تو مصر و شام کے علاقے سے تعلق تھے اورنہ خشکی وتری میں ایسے پرندے مصروف پرواز دیکھے گئے تھے۔ ہرپرندے کی چونج اور پنجوں میں ایک ایک پتھر جو مسور کے دانہ سے بڑا اور چنے سے چھوٹا تھا دبا ہوا تھا جس پر ہر اس شخص کا نام تحریر تھا جس سے اس شخص کی ہلاکت مقررتھی۔ یہ پرندے فوج در فوج آتے پہلے خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے اور پھرابرہہ کے لشکر کی جانب متوجہ ہو جاتے۔ یہ قدرتی لشکر دنیاوی سازوسامان سے آراستہ لشکر پر حملہ کرتا اور ان پر سنگ باری شروع کر دیتا اور اس چھوٹے سے پتھرمیں قدرت نے یہ طاقت رکھی تھی جس جگہ بھی گرتا وہاں سے گزرتا گیا ہوا آر پار ہو جاتا۔ اگر کسی سوار کے خود پر گرتا تو اس کے مقاہلے کو چھیدتا ہوا سوار اور اس کے گھوڑے کے نیچے سے نکلتا جس کے نتیجہ میں سوار اور سواری دونوں ہلاک ہو جاتے۔ قصہ مختصر تمام لشکری خواہ سوار ہوں یا پیادے قہر الہی اور غضب خداوندی کا شکار ہو کر سرنگوں ہو گئے۔ ابرہہ چونکہ اس معرکہ سے بھاگ گیا لیخن چند روز کے بعد اس کا مرغ روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔ اس کی کیفیت اس طرح ہوئی کہ جب ابابیل کے لشکر نے ابرہہ کے لشکر پر یلغار کی تو یہ اپنے لشکر سے علاحدہ ہوکر سر پر پیر رکھ کر بھاگا اور حبشہ کی راہ پکڑی لیکن بدقسمتی نے یہاں بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا اور راستے میں کوڑھ کا شکار ہو گیا اور اس کے جسم کا جوڑجوڑ الگ ہو گیا۔ ہاتھ سے انگلیاں گل گل کر گرنے لگیں اورجسم کے جوڑوں سے خون بہنے لگا۔ اسی حالت میں وہ گرتا پڑتا نجاشی کے پاس آیا اور صورت حال بتلائی۔ اتفاقا ایک پرندہ جو نجاشی کے قتل پر مامور تھا اپنا مشن پورا کر نے کے لیے وہاں پہنچ گیا جس کے پنجے اور چونج میں ابرہہ کے نام کے پتھر موجود تھے۔ جیسے ہی ابرہہ کی نظر اوپر اٹھی اس کو مصروف پرواز دیکھ کر نجاشی سے کہا کہ وہ ایسے ہی پرندے تھے جنہوں نے میرے لشکر کو تاراج کیا ہے۔ اسی اثناء میں وہ پرندہ اپنا کام کر چکا تھا اور پتھر ابرہہ پر گرائے جا چکے تھے تا کہ ابرہہ بھی اپنے لشکریوں کے ساتھ واصل جہنم ہو جائے۔ قصہ مختصر قریش کے کچھ لوگ ابرہہ کے لشکرکی پسپائی و بربادی اور ان مصائب و ابتلا کے بعد کوہ حرا سے اتر کر تفشیش اور احوال جاننے لگے۔ ابرہہ کے لشکریوں کو دیکھا کہ وہ بے حس و حرکت پڑے ہوئے ہیں اور ان میں زندگی کی رمق بھی باقی نہیں ہے لہذا انہوں نے یہ طے کیا کہ سب کا ایک طرف سے جائزہ لینا شروع کریں اور بعد میں سب کو جا کر بتائیں گے۔ عبد المطلب جو ایک فہیم و فطین اصحاب میں سے تھے انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر ساتھیوں سے کہا ممکن ہے کہ لشکریوں نے مکر کانٹھا ہو اور اس بے حس و حرکت پڑے رہنے میں کوئی سازش ہو جو ہمارے لیے نقصان کا سبب بن سکے لہذا تم یہاں ٹھہرو میں حالات کا جائزہ لے کر آتا ہوں کیونکہ میرے ابرہہ سے ذاتی تعلقات ہے لہذا وہ مجھے نقصان نہ پہنچائیں گے اور میں بخیر و عافیت واپس آ جاؤں گا اور اگر قدرت نے ان سے ان کی بد اعمالیوں کا کا بدلہ لے لیا ہے تو میں صیح خبر تمہیں آ کر بتاؤں گا۔ جب آپ جائزہ لینے گئے تو آپ نے اپنی دانست اور امور ملکی کے تجربہ کی بنا پر سمجھ لیا تھا کہ ابرہہ کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا ہے اور اس کے غرور کا بت پاش پاش ہو چکا ہے لیکن مکہ والوں کو حقیقت حال کا یقین دلانے سے پہلے آپ نے مناسب خیال کیا کہ ابرہہ اور اس کے لشکر کے چھوڑے ہوئے مال و متاع سے کچھ محفوظ کر لیا جائے لہذا آپ ابرہہ کی لشکر گاہ میں آئے اور مرضی کے مطابق تمام کام سر انجام دیے اور قیمتی ساز و سامان کو جمع کر کے اس کو دفن کر دیا۔ اس مال و دولت کی وجہ سے آپ کا معاشرتی مقام بہت بلند ہو گیا۔ اس کام سے فراغت کےبعد آپ نے اعلان کیا کہ

  • اے قوم قریش تمہیں مبارک ہو دشمن کا کام تمام ہو چکا ہے ، ان کا خانہ خراب ہو چکا ہے اور خانہ کعبہ محفوظ ہے۔ اب اطمینان کے ساتھ نیچے اتر آؤ۔

عبد المطلب کا اعلان سن کر تمام لوگ نیچے دوڑتے ہوئے آئے تا کہ مال غنیمت سے جتنا زیادہ مل سکے حاصل کر لیں۔ ایک یا دو دن انہوں نے مال جمع کرنے میں لگایا لیکن جب ابرہہ کے لشکریوں کی لاشوں سے تعفن اٹھنے لگا اور یہ بد بو ناقابل برداشت ہو گئی تو پھر حضرت عبدالمطلب در کعبہ پر آ کر بارگاہ الہی میں مصروف ہوئے اور نہایت الحاح و زاری کے ساتھ بارگاہ الہی میں اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے دعا کی۔ آپ کی دعا بارگاہ الہی میں مقبول ہوئی اور ایک سیلاب آیا جو ان لاشوں کو بہا کر لے گیا اور سرزمین مکہ ان کے ناپاک وجود سے پاک ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد اہل مکہ کے دل میں خانہ کعبہ اور حضرت عبدالمطلب کی عزت و احترام اور بڑھ گیا اور اطراف و کناف میں قریش مکہ کی ہیت و دبدبہ بڑھ گیا کیونکہ رب العالمین نے ان کے دفع و شر کے لیے عالم غیب سے لشکر جرار روانہ کر کے انہیں کیفرار کردار کو پہنچایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارک اسی سال ہوئی۔ اکثر مورخین نے لکھا ہے کہ حضور نبی کریم کی ولادت اس واقعہ کے چھپن دن بعد ہوئی۔ نبی کریم نے خود بھی فرمایا کہ میں عام الفیل میں پیدا ہوا۔ [30]

قرآن پاک میں تذکرہ[ترمیم]

ہاتھی والوں کے بارے میں اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں ایک سورت نازل کر ان حالات کا ذکر اس انداز میں کیا۔

  • ترجمہ: اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ہاتھی والوں کا کیا حال کیا 2 کیا ان کا داؤں تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں ٹکڑیاں بھیجیں کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی [31]

رسول اللہ کی ولادت اور عبد المطلب[ترمیم]

خواب میں پیشن گوئی[ترمیم]

ایک دن حضرت عبدالمطلب اپنے حجرہ میں عزلت نشین تھے کہ نیند کا غلبہ ہوا۔ آپ محو نیند ہوئے تو ایک خواب دیکھا جب نیند سے بیدار ہوئے تو عجیب حالت تھی۔ دلی کیفیات پر اطمینان حاصل کرنے کے لیے رواج کے مطابق کاہنہ کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے عبدالمطلب کو دیکھتے ہی کہا کہ اے عرب کے سردار آپ کے چہرہ پر اضمحلال کے آثار نمودار ہیں کیا وجہ ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میں نے خواب میں ایک عجیب وغریب واقعہ دیکھا ہے جس کی وجہ سے میں سخت پریشان ہوں۔ کاہنہ نے کہا کہ کم از کم اس کی کیفیت بیان کریں تا کہ میں اس سلسلہ میں کچھ عرض کرسکوں۔ عبدالمطلب نے کہا کہ ایک زنجیر میری پشت سے نکلی اور شش جہات میں پھیل گئی۔ ایک کونہ مشرق کے انتہائی سرے تک اور دوسرا مغربی سمت اسی طرح شمال و جنوب میں۔ بالائی سرا ثریا تک اور نچلا حصہ تخت الثری تک چلا گیا۔ میں اس زنجیر کو تعجب سے دیکھتا رہا۔ وہ زنجیر ناگہانی طور پر پھیلی اور ایک درخت کی شکل اختیار کر لی۔ یہ درخت بہت ہی بڑا تھا اور اس میں دنیا زمانہ کے پھل لگے ہوئے تھے۔ اس درخت سے نوری خوشبو کے بھیکے نکل رہے تھے اور نورانی کرنیں اس کی جانب سجدہ ریز تھیں اور لمحہ بہ لمحہ نور و تقدس کے آثار اس سے ظاہر ہو رہے تھے۔ میں نے دیکھ کہ قریش کی ایک جماعت اس درخت کی شاخیں پکڑے لٹک رہے ہے لیکن قریش کی ایک جماعت اس کی شاخیں کاٹنے اوراس کو جڑ سے اکھاڑنے کے در پہ تھی لیکن مخالف جماعت جب کبھی قریب آنے کی کوشش کرتی ایک خوبرو نوجوان کہ اس جسیا آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا انہیں ایسا کرنے سے روک دیتا تھا اورانہیں منتشرکردیتا بعض لوگوں کی آنکھیں بھی حلقہ جسم سے نکال دیتا۔ میں نے بھی کوشش کی کہ اس نورمبارک سے میں بھی مستفیض ہوں لہذا میں نے اسی جوان خوبرو سے ایک سوال کیا کہ اس نور سے کون فیض یاب ہوگا انہوں نے فرمایا وہ لوگ جو اس کی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں اس سے مستفیض ہوں گے۔ اب میرا استعجاب کم ہوا تو اس کے تنے کے قریب دو متبرک اور مقدس شخصیتیں نظر آئیں۔ میں نے ان سے تعارف چاہا تو ایک نے فرمایا کہ میں نوح نجی اللہ ہوں اور دوسرے نے فرمایا میں ابراہیم خلیل اللہ ہوں۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کریہ درخت وہ ہے جو ہمارے آبا ؤ اجداد سے تمہیں پہنچا ہے جو ایک قرن (زمانہ) سے دوسرے قرن اور ایک صلب سے دوسری صلب میں منتقل ہوتا آیا ہے اور اب تمہاری صلب سے ظاہر ہوا ہے۔ جب عبد المطلب نے خواب سنایا تو کاہنہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور سوچ بچار کے بعد کہنے لگی کہ جو واقع تم نے سنایا ہے اگر درست ہے اور اس طرح پیش آئے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ ایک شخصیت تمہاری نسل میں پیدا ہوگی جس پر پاشندگان زبان اورساکنان ملاء اعلیٰ ایمان لائیں گے اور ان کی متابعت اوراطاعت میں کمر باندھیں گے اور زنجیر اس بات کی غمازی کرنی ہے کہ اس دین کو استحکام نظم وضبط ربط اتفاق و اتحاد کی دولت میسر ہوگی۔ شش جہات تک اس کا پھیلنا اس بات پر دلیل ہے کہ وہ دین ہمہ گیر ہو گا جو شش جہات میں پھیلے گا اور لوگوں کا شاخوں کو پکڑنا اس امر پر دلیل ہے کہ اس کی شاخیں انتہائی مضبوط ہوں گی۔ اس دین کے متبعين عزم و ہمت کے پیکر اور صبر و استقلال کے پہاڑ ہو گئے۔ نوح و ابراہیم علیہ السلام کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے مخالف قوم نوح کی طرح عذاب الہی میں مبتلا ہوں گے اوران کی موافقت کرنے والے ملت حنفیہ کی برکت سے اپنے مقاصد پر قبضہ قدرت حاصل کر کے کامیاب و کامران ہوں گے اور ان کی شربیعت قیام قیامت تک باقی اور درخشندہ ہوگی۔ [32]

ولادت مبارک[ترمیم]

  • حضرت عبد المطلب کا بیان ہے کہ حضورعلیہ السلام کی ولادت کے وقت طواف کعبہ میں مصروف تھا۔ جب آدھی رات گزری تو میں نے خانہ کعبہ کو مقام ابراہیم کی طرف سجدہ اور اللہ اکبر کی آوازیں بلند کرتے دیکھا اور کہتے سنا کہ اب مجھے مشرکوں کی نجاست اور زمانہ جہالت کی ناپاکیوں سے پاک و صاف کر دیا گیا ہے۔ پھر اس میں تمام بت جھک گئے۔ میں نے ہبل کی طرف دیکھا جو سب سے بڑا بت تھا وہ بھی اوندھے منہ ایک پتھر پر پڑا ہوا تھا اور منادی نے یہ صدا دی کہ حضرت آمنہ کے بطن سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہو چکے ہیں۔ اس وقت میں صفا پہاڑ پر چلا گیا ۔ صفا پہاڑ کو میں نے پرغوغا دیکھا ۔ مجھے ایسا نظرآتا تھا گویا تمام پرندے اور بادل مکہ پر سایہ کرنے آئے ہیں۔ پھر میں حضرت آمنہ کے گھر کی طرف آیا۔ دروازہ بند تھا۔ میں نے کہا دروازہ کھولو حضرت آمنہ نے کہا ابا جان محمد (علیہ الصلوة واسلام) پیدا ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا : لاؤ ذرا دیکھوں تو کہنے لگیں : اجازت نہیں۔ پھر میں نے کہا اے آمنہ اس (بچے) کو تین دن تک کسی کو مت دکھانا ۔ یہ کہہ کر میں نے تلوار سونتی اور گھر سے باہر چلا گیا۔ میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو تلوار سونتے ہوئے تھا اور چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے تھا کہنے لگا اے عبدالمطلب واپس جا تا کہ ملائکہ ، مقربین اور تمام علیمین کے رہنے والے تیرے بچے کی زیارت سے فارغ ہوں۔ اس سے میرے جسم پر لزرہ طاری ہو گیا۔ میں اسی حالت میں باہر آ گیا کہ تا کہ قریش کو اپنے بچے کی پیدائش کی خبر دو لیکن میری زبان ایک ہفتہ تک بند ہو گئی اور میں کسی سے بات نہ کر سکا۔ [33]

۔

  • ایک اور روایت ہے کہ ولادت کے دوسرے روز احبار یہود نے عبدالمطلب سے پوچھا کہ گذشتہ رات تمہارے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے اس نے جواب دیا کہ ہماری ایک عورت کو حمل ہے لیکن وضع حمل کا کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے توریت میں اس طرح دیکھا ہے کہ کل سیدالاولین والاخرين وادی مقدس جو زیارت گاہ عرب وعجم ہے کی ولادت ہوگی وہ علم رفیع اور سراج منیر گذشتہ رات منتقل ہو گیا ہے۔ عبدالمطلب نے کسی شخص کو آمنہ کے پاس بھیجا تاکہ صورت حالات معلوم کرے۔ آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا کل ختنہ کیا ہوا اور ناف بریدہ ایسا بچہ پیدا ہوا ہے گویا اسے غسل دیا ہوا ہے۔ وہ آلائش جو بچوں کے ساتھ ہوتی ہے سے بالکل پاک وصاف ہے۔ اس سے ایسا نور پیدا ہوتا ہے کہ دنیا اس سے منور ہوگی جیسا کہ اس سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا تھا مجھے کسی قسم کی تکلیف پہنچے بغیر متولد ہوا۔ اس نے انگشت اٹھائی اور آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اس طرح آواز آئی کہ تین دن اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھوں۔ جب یہ خبر عبدالمطلب کی مجلس میں پہنچی تو علما یہود نے کہا اللہ اکبر توریت کی بات درست نکلی۔

عبد المطلب گھر گئے اور خبر دریافت کی پھر کمرہ میں بیٹھ گئے۔ لوگوں نے مبارک باد دی۔ آپ نے اونٹ ذبح کیا اور لوگوں کی دعوت کی۔ لوگوں نے پوچھا کہ اپنے بیٹے کا تم نے کیا نام رکھا ہے؟ آپ نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ انہوں نے پوچھا یہ نام تم نے کیوں اختیار کیا باوجودیکہ تمہارے آباو اجداد میں سے کوئی بھی اس نام سے موسوم نہیں ہوا تھا۔ آپ نے کہا کہ زمین وآسمان میں اس کی تعریف کی جائے۔ تین روز کے بعد آمنہ کے گھر گئے ، حضرت رسالت مآب کو گود میں لیا اورکعبہ میں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں سلا دیا اور یہ رجز پڑھا۔

الحمد اللہ الذی اعطانی ھذا الغلام الطیب الاردان
قد سادَ فی المھد علی الغِمان اُعیذہٗ بِاللہ ذی الارکان
حق راہ بالغ البنیان انت الذی سمیت فی القرآن
اُعیذُہٗ من شر ذی شنئان من حاسدٍ مضطرب العنان

جب آپ اس رجز سے فارغ ہوئے تو آنحضرت کو آمنہ کے گھرواپس لے گئے اور اس کی حفاظت کے لیے تاکید کی اور کہا یہ عظیم الشان فرزند ہوگا۔ [34]

  • ایک اور روایت کہ مطابق یزید بن عبد اللہ بن زمعہ کی بہن کہتی ہیں: آمنہ بنت وہب کے بطن سے رسول اللہ پیدا ہوئے تو آمنہ نے عبد المطلب کو خبر کرائی۔ خوش خبری لانے والا ایسے وقت میں ان کے پاس پہنچا کہ وہ حجر (وہ مقام جس پر حطیم شان ہے جو شمالی جانب سے کعبہ کو میط ہے) میں اپنے بیٹوں اور قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اطلاع دی کہ آمنہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ عبدالمطلب خوش ہوئے اور ان کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب اٹھے۔ آمنہ کے پاس آ ئے تو جو کچھ انہیں نظر آیا تھا ، جو ان سے کہا گیا تھا اور جس کا حکم ملا تھا عبد المطلب کو سب کچھ سنا دیا۔ عبدالمطلب آنحضرت کو لیے ہوئے کعبہ میں آئے ۔ وہاں کھڑے ہوکر خدا سے دعا کی اور خدا نے جو نعمت بخشی اس کا شکر کرتے رہے۔

محمد بن عمروالا سلمی کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ اس دن عبد المطلب نے یہ کہا تھا۔

الحمد اللہ الذی اعطانی ھذا الغلام الطیب الاردان
قد سادَ فی المھد علی الغِمان اُعیذہٗ بِاللہ ذی الارکاب
حق راہ بالغ البنیان اُعیذُہٗ من شر ذی شنئان
من حاسدٍ مضطرب الغنان{{{2}}}

ترجمہ:

  1. ہر طرح اور ہر قسم کی حمد و ثنا خدا کے لیے ہے جس نے مجھے یہ پاک دامن لڑکا عنایت فرمایا
  2. یہ وہ لڑکا ہے کہ گہوارہ ہی میں تمام لڑکوں کا سردار ہو گیا ، اس کو اللہ تعالی کی پناہ میں دیتا ہوں اور اس کے لیے خدا سے پناہ مانگتا ہوں
  3. میری خواہش ہے کہ اس کو تابہ بنیاد رسیدہ دیکھوں ، میں اس کی نسبت بغض رکھنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں
  4. میں اس حاسد سے پناہ مانگتا ہوں جو مضطرب العنان ہو یعنی ایک روش پر اسے قرار نہ رہے

ختنہ ، عقیقہ اور نام[ترمیم]

  • حضرت عبد اللہ بن عباس اپنے والد عباس بن عبد المطلب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ پیدا ہوئے تو ختنہ شدہ ناف بریدہ تھے۔ عبدالمطلب کو اس پر مسرت آمیز تعجب ہوا ان کے نزدیک رسول اللہ کی قدر بڑھ گئی اور انہوں نے کہا: میرے اس لڑکے کی ایک خاص شان ہوگی۔ چنانچہ فی الواقع آنحضرت کی خاص شان ہوئی۔ [35]
  • ایک اور روایت کے مطابق ولادت کے ساتویں روز آپ کے جد امجد حضرت عبد المطلب نے ختنہ کرائی جیسا کہ عرب میں دستور تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی سنت کے مطابق مولود کی ساتویں روز ختنہ کراتے تھے۔ [36]
  • عقیقہ اور نام

ابوالحکم تنوخی بیان کرتے ہیں : جب نبی کریم اسلام کی پیدائش کا ساتواں دن ہوا تو عبدالمطلب نے جانور ذبح کیے اور قریش کو کھانے پر بلایا۔ وہ لوگ کھانا کھا چکے تو انھوں نے پوچھا: اے عبد المطلب ! آپ نے اس بچے کا کیا نام رکھا ہے؟‘‘ عبدالمطلب نے جواب دیا:”میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے۔ وہ بولے: آپ نے اپنے خاندانی ناموں کو نظر انداز کر کے یہ نام کیوں رکھا؟‘ عبدالمطلب نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی آسمانوں میں اس بے مثال بچے کی تعریف کرے اور اللہ کی مخلوق زمین پر اس کے لیے رطب اللسان رہے۔ [37]

رسول اللہ کے لیے رضاعت کا انتظام کرنا[ترمیم]

حلیمہ سعدیہ فرماتی ہے کہ میں جب مکہ پہنچی تو پیر کا دن تھا میرے قبیلے کی دوسری عورتیں پہلے ہی مکے میں پہنچی چکی تھیں اور قریش کے مالدار گھروں میں پہنچ کر اپنے لیے بچوں کی بات کر چکی تھیں۔ بنو مخزوم وغیرہ قبیلے کے بچے انہوں نے اپنے لیے مخصوص کر لیے تھے۔ میرا اپنا بچہ بھی سفر کی تکان کی وجہ سے اس دن بیمار تھا دودھ نہیں پیتا تھا اور نیم بے ہوش سا نظر آتا تھا گویا مردہ ہے۔ ناگاہ میں نے دیکھا کہ بیٹے نے حرکت کی آنکھیں کھولیں اور مسکرایا۔ میں اس کی اس ادا پر بڑی متعجب ہوئی چنانچہ میں اسے گھر چھوڑ کر شہر کی طرف نکل کھڑی ہوئی۔ میں ادهر ادھر مختلف گھروں میں مارے مارے پھرتی رہی تا کہ مجھے کوئی بچہ مل جائے لیکن میری ساری کوششیں بیگار گئیں۔ بنی سعد کی عورتیں اپنی مرضی کے مطابق بچوں کو لے چکی تھیں۔ انہیں بڑے بڑے امرا اور اغنیاء کے بچے مل گئے تھے۔ میں اس صورت حال سے بڑی مغوم اور آزردہ خاطر تھی۔ میں اس سفر پر لعن طعن کر رہی تھی اور دل ہی دل میں اپنی قسمت کو کوس رہی تھی۔ ناگاہ مجھے ایک ایسا شخص نظر آیا جو عظمت حشمت کے آثار پیشانی پر لیے ہوا تھا۔ نور کرامت اور رعب شهامت اس کی شخصیت سے ٹپک رہا تھا۔ وہ زور سے آواز دے رہا تھا کہ بنی سعد کی عورتوں میں سے کوئی ہے جس نے ابھی تک کچھ نہ لیا ہو۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ مکہ کے ایک بزرگ بنو باشم سے عبدالمطلب ہیں۔ میں آپ کے پاس گئی - سلام عرض کیا اور کہا کہ میں بنی سعد کی ایک عورت ہوں۔ آپ نے نام پوچھا تو میں نے بتایا حلیمہ سعدیہ۔ مسکراتے ہوئے فرمانے لگے۔ رخ رخ خصلتان حسنتان سعد و حلم فیھما نمرالدهر و نمرالابد (واہ واہ ۔ تم میں دو چیزیں خوبصوت اوراچھی یکجا پائی جاتی ہیں۔ سعادت اور حلیمی۔ یہ دونوں عادات دنیا و آخرت میں پسندیدہ ہیں۔) پھر کہنے گئے حلیمہ میرا ایک بچہ ہے یتیم اس کا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہے۔ میں نے بنی سعد کی ساری عورتوں کو دکھایا کہ کسی نے قبول نہیں کیا تمام نے کہا جس کا باپ نہیں۔ اس سے کیا فائدہ ہو گا۔ مجھے امید ہے۔ تم اس یتیم بچے کو لے کر فائدہ اٹھاؤ گی۔ میں نے کہا آپ مجھے اجازت دیں میں اپنے شوہر سے بات کر لوں۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا ہاں اس میں کوئی قباحت نہیں۔ میں اپنے شوہر کے پاس آئی۔ ساری بات بیان کی۔ اللہ تعالی نے اس کے دل میں فرحت اور سرور پیدا کیا۔ مجھے کہنے لگا۔ جاؤ اور اس بچے کو فورا قبول کر لو ایسا نہ ہو کہ کوئی دوسری عورت لے جائے لیکن میری ہمشیرہ کے لڑکے نے کہا، افسوس بنی سعد کی عورتوں نے اشراف اور مالداروں کے بچے لے کر جمعیت اوربزرگی حاصل کرلی اورتم تیم بچے کو اپنے ساتھ لیے جارہی ہوں جس کی کفالت محنت ومشقت کی زیادتی کا موجب ہے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ اس بات سے میرے عزم میں تنزل پیدا ہوا۔ اسی وقت میرے دل میں الہام ہوا کہ اگر تو نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ دیا تو ہرگز فلاح نہیں پائے گی۔ میں نے بھانجے کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی ، میں نے کہا قوم کی تمام عورتیں دودھ پلانے کے لیے بچے لے جائیں اور میں کوئی فرزند ساتھ نہ لے جاؤں خدا کی قسم میں اسے ہی لوں گی اگر اس کا باپ نہیں ہے لیکن اس کا دادا عبدالمطلب ہے۔ میں اسے یتیم ہونے کی وجہ سے رد نہیں کروں گی ۔ اگر اس دریتیم کا مرتبہ کوئی اورنہیں پہچانتا تو میں پہچانوں گی۔ مجھے امید ہے کہ جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ وہ میری مدد کرے گا میں واپسی آئی اور عبدالمطلب کے پاس گئی میں نے کہا وہ فرزند کہاں ہے؟ لائیے تاکہ میں اسے دیکھوں۔ اس بات سے ان کا چہرہ چمک اٹھا اور بے پناہ خوشی ومسرت سے کہا حلیمہ کیا تو نے میرے فرزند کو دودھ پلانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ عبدالمطلب سجدہ شکر بجا لائے اور سر اٹھایا اور آسمان کی طرف رخ کرکے کہا، الہی حلیمہ کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سعادت افروز فرما، پھر مجھے آمنہ کے گھر لے گئے، میں نے ایک عورت دیکھی جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا ، عبدالمطلب نے میرا نام اور حال بیان کیا، اس نے کہا اہلا وسهلا يا حلیمہ پھر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اس مکان میں لے گئی جہاں آنحضرت تھے۔ آپ کو سفید سوف کے کپڑے میں لپٹا ہوا تھا،کستوری کی مانند خوشبو آرہی تھی۔ ان کے نیچے ریشم کا سبز کپڑا پڑا ہوا تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے جب میں نے آپ کا چہرہ کھولا تو بچہ دیکھا جس کا چہرہ مبارک خورشید کی مانند چمک رہا تھا اور انوارحسن وجمال ذوالجلال اس کی ذات با کمال کے آئینہ سے تاباں تھے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میری نظر مبارک فرزند دلبند کے جمال پر پڑی میں ہزار جان اس پہ فریفتہ و شفیتہ ہو گئی۔ دفعتاً میں نے دیکھا کہ میرے جسم کی تمام رگوں سے دودھ نے پستان کی طرف جوش مارا اور اس کی محبت میرے روح کی گہرائی میں اس قدر جاگزیں ہوئی یہاں تک کہ میں نے انہیں خواب سے بیدار کیا، آپ نے اپنی آنکھیں کھول دیں میری طرف دیکھا اورتبسم فرمایا میں نے ان کے تبسم میں وہ ملاحت دیکھی جو کسی حسین کی مسکراہٹ میں بھی نہیں دیکھی، میں نے ایک نور دیکھا جو ان کی دونوں آنکھوں سے منعکس ہوا جس کی شعاعیں آسمان کو پہنچیں، میں نے اسی وقت ان کا منہ چوم لیا، میں اپنی اس حالت کو آمنہ سے چھپاتی تھی ایسا نہ ہو کہ اسے اس حال کی خبر ہوجائے۔ اس کے بعد میں نے آپ کو اپنی گود میں لے لیا اور دایاں پستان ان کے منہ میں دیا ۔ انہوں نے دودھ پینا شروع کیا، جب میں نے بایاں پستان ان کی طرف کیا تو وہ رک گئے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاف کی توفیق دی گئی کہ ایک پستان کو اپنے دودھ شریک بھائی کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں اپنا دایاں پستان ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محفوظ رکھتی اور بایاں اپنے فرزند ضمرہ کو دیتی تھی۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ آنحضرت میری گود میں تھے اور دودھ پی رہے تھے میں آپ کی خواب آلودہ آنکھوں کی طرف دیکھ رہی تھی اور خوشی مجھ سے ضبط نہیں ہو رہی تھی میں چاہتی تھی کہ جلد از جلد انہیں اپنے گھر لے جاؤں تا کہ میرا خاوند بھی ان کے دیدار سے سعادت اندوز ہو۔ عبد المطلب نے کہا حلیمہ تجھے بشارت ہو کہ کوئی عورت بھی اپنے قبیلہ کی طرف اس طرح واپس نہیں جائے گی جیسا کہ تو جا رہی ہے۔ [38]

والی یمن کی بارگاہ میں[ترمیم]

ابرہہ کی موت کے بعد اللہ تعالی نے سیف بن ذی یزن کو یمن پر غلبہ عطا فرمایا۔ اس نے اہل حبشہ کویمن سے جلا وطن کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے دو برس بعد وقوع پزیر ہوا۔ قریش مکہ کا ایک وفد اسے کامیابی پر مبارکباد دینے یمن پہنچا اس میں عبد المطلب بن ہاشم امیہ بن عبد شمس اور عبد اللہ بن جدعان وغیرہ شامل تھے۔ سیف حضرت عبدالمطلب کے انداز تقریر اور پروقار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور آپ سے اپنا تعارف کرانے کو کہا۔ آپ نے کہا کہ میں عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہوں۔ بادشاہ نے کہا پھر تو تم ہمارے بھانجے ہوئے۔ اس نے ایک مہینہ تک آپ اور آپ کے ساتھیوں کو مہمان بنائے رکھا نہ جانے دیتا نہ ملاقات کا موقع دیتا پھر ایک روز اس نے علیحدگی میں عبدالمطلب کو بلایا اور کہا کہ ہمارے پاس ایک کتاب موجود ہے جسے ہم خفیہ رکھتے ہیں ، اس میں لکھا ہے کہ تہامہ میں ایک بچہ پیدا ہو گا جس کے کندھوں کے درمیان میں ایک نشان ہو گا اس کے ذریعے تمہیں بھی قیامت کے دن تک سارے عرب کی قیادت نصیب ہوگی۔ سیف نے کہا کہ اس بچے کی پیدائش کا زمانہ آ گیا ہے یا وہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس کا نام نامی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو گا۔ اس کے والد اور ماں فوت ہوں گے اور اس کا دادا اور چچا اس کی کفالت کریں گے۔ وہ خداوند رحمن کی عبادت کرے گا۔ شیطان کو ٹھکرا دے گا۔ آگ کو بجھا دے گا۔ بتوں کو توڑ دے گا۔ اس کی بات فیصلہ کن ہوگی۔ اس کا حکم سراپا انصاف ہوگا۔ حضرت عبدالمطلب نے مزید وضاحت چاہی تو سیف بولا اس غلافوں والے گھر کی قسم اے عبد المطلب تو اس کا دادا ہے۔ اس میں ذرا جھوٹ نہیں۔ عبد المطلب سجدے میں گر پڑے۔ بادشاہ نے کہا کہ سر اٹھایئے۔ آپ کا سینہ ٹھنڈا ہے۔ کیا آپ نے اس چیز کومحسوس کیا ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ عبدالمطلب نے کہا کہ بے شک اے بادشاہ بے شک میرا ایک بیٹا تھا جو مجھے بہت عزیز تھا۔ میں نے اس کی شادی ایک عفت مآب خاتون سے کی جس کا نام آمنہ بنت وهب ہے۔ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ جس کا میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نام رکھا۔ اس کا باپ فوت ہو چکا ہے۔ اس کے کندھوں کے درمیان میں ایک نشان ہے۔ اس میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا۔ سیف نے کہا پھر اپنے اس بچے کی حفاظت کیا کرو اور یہود سے محتاط رہا کرو کیونکہ وہ اس کے دشمن ہیں اور اللہ تعالی انہیں بھی اس پر غالب نہیں ہونے دے گا اور جو باتیں میں نے آپ سے کی ہیں وہ اپنے ساتھیوں کو نہ بتائیے گا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ حسد نہ کرنے لگئیں۔ اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ عنقریب اس کی بعثت سے قبل میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا تو میں اپنے سواروں اور پیدل سپاہیوں کے ساتھ یہاں سے ترک سکونت کر کے یثرب کو اپنا دار السلطنت بناتا کیونکہ میری کتاب میں لکھا ہے کہ یثرب میں اس کا دین مستحکم ہوگا اور اس شہر میں آپ کا مدفن ہوگا۔ سیف بن ذی یزن نے قریش کے وفد کو دوبارہ دربار میں طلب کیا۔ ہر ایک کو ایک ایک سواونٹ ، دس غلام ، دس دس کنیزیں ، دس رطل چاندی ، دس رطل سونا اور عنبر کا ایک بھرا ہوا برتن لیکن حضرت عبدالمطلب کو ہر چیز دس گنا دی۔ [39]

رسول اللہ کا گم ہو جانا[ترمیم]

حلیمہ کہتی ہیں کہ اس امر عجیب و غریب (واقعہ شق صدر) کے ظہور کے بعد میرے شوہر اور دوسرے رشتے داروں نے مجھے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے پہلے کوئی تکلیف پہنچے عبد المطلب کے پاس پہنچا دو۔ جب میں نے پختہ ارادہ کر لیا ، میں نے منادی کو سنا کہتا تھا ، ضیاء ملک یا بطحا مکہ خیر و امن کا موسم بہار بنی سعد سے نکلا جا رہا ہے بلاد بطحا مکہ خوش قسمت ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ جیسی کوئی شخصیت اس جگہ نزول فرمائے بہترین خلالق نے جب مکہ میں نزول فرمایا اہل حوادث سے محفوظ و مامون ہو گئے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میں مرکب پر سوار ہوئی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے سامنے لیے ہوئے تھی اور ایک لحظہ بھی اس سے غافل نہیں ہوسکتی تھی کہ میں نے اپنے اطراف وجوانب سے عجیب آوازیں سنیں اور جب مکہ کے دروازے پر پہنچے ، میں سواری سے اتری اور کسی پیش آمندہ ضرورت کی وجہ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سواری سے اتارا ، وہاں لوگوں کی ایک جماعت تھی ان کے سامنے آنحضرت کو بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے گئی اچانک تیز آواز میرے کانوں میں گونجی میں تیزی سے واپس آئی، آنحضرت کو وہاں میں نے نہ پایا میں نے کہا، لوگو! وہ بچہ کہاں ہے جو میں نے یہاں بٹھایا تھا۔ انہوں نے پوچھا کونسا بچہ؟ میں نے کہا محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس کی برکت سے حق تعالی نے میرے چہرہ کو تازہ اور میری عیش و آسائش کو بے اندازہ رکھتا تھا۔ میں نے اس کی تربیت کی۔ اس کی باتوں سے میرا دل مسرور تھا اور اس کے جمال کے دیدار سے میری آنکھوں کو روشنی حاصل ہوئی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں اسے اس کے دادا کے پاس پہنچا دوں اور اس کی امانت اس کے سپرد کر دوں، اچانک یہ واقعہ پیش آگیا، مجھے لات و عزی کی قسم کہ اگر میں اپنے مقصد کو حاصل نہ کرسکی اور امانت کو اس کے مالک تک نہ پہنچا سکی تو خود کو بلند پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دوں گی اور اپنے اعضا کو پارہ پارہ کر دوں گی۔ القصہ ہر چند میں نے جستجو کی اس راحت جان کی طرف کوئی راہ نہ پا سکی۔ جب میں اس کی جستجو سے مایوس ہو گئی میں نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فریاد و زاری شروع کردی۔ میں کہتی تھی وا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اے میری آنکھوں کے نور ، اے میرے پسندیدہ دوست ، اے بے چین روح کے ریحان ، اے میرے مجروح دل کے مونس ، اے میرے بند دروازوں کی کلید ، اے میری خستہ جان کی شفاء ، اے میرے کاشانہ شادمانی کے چراغ میں تجھ پر قربان ہو۔ میں نے اس قدر گریہ و زاری کی اور اضطراب و بیقراری دکھائی کہ ایک عالم میری سوزجاں سے بیقرار ہو گیا اور پیرو جواں میرے ساتھ مل کر رونے لگے۔ اچانک انہی حالات میں مَیں نے ایک بوڑھا دیکھا جو کمزوری سے ہلال کی مانند نحیف ونزار اور ناتوانی کے خیال سے زیادہ دبلا پتلا تھا ، اس نے کہا کیا بات ہے یہ سوزو ملال کسی وجہ سے ہے، میں نے صورت واقعہ بیان کی میں نے خدائے ابراہیم کی قسم کھا کر کہا کہ اگر مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ مل سکے تو میں خود کو پہاڑ کی چوٹی سے گرا دوں گی۔ بوڑھے نے کہا اے سعدیہ میں تجھے ایسے عالم کا پتہ بتاتا ہوں جو تیرے فرزند کے حالات جانتا ہے اور اگر اس نے چاہا تو وہ اسے تیرے پاس لوٹا سکتا ہے ۔ میں نے کہا میری جان تجھ پر قربان ہو پھرمیں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ اس نے کہا صنم اعظم جس کا نام ہبل ہے۔ میں نے کہا تیری ماں تجھے روئے ، کاش تیری ماں تجھے گونگا پیدا کرتی ، شاید تو اس حالت سے واقف نہیں ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شب ولادت ہبل و لات و عزی پر کیا گزری ، تو نے وہ حالات نہیں سنے۔ اس نے کہا اے سعدیہ شاید تو دیوانی ہوئی ہے ہرزہ گو اورعقل و ہوش سے بیگانہ ہے، میں ابھی آتا ہوں اور تیرے فرزند کو ہبل سے طلب کرتا ہوں اور تیرے فرزند وقت کو تجھ تک پہنچاؤں گا۔ شیخ نے جا کر سات مرتہ ہبل کا طواف کیا ، اس کے سر پر بوسہ دیا اور کہا، اے میرے آقا ! آپ کا لطف و احسان اور فضل و امتنان قریش سے کبھی منقطع نہیں ہوا اور کوئی حاجت مند اس استانہ سے بے نیل مرام واپس نہیں ہوا، یہ بوڑھی سعدیہ گمان کرتی ہے کہ اس کا فرزند گم ہو گیا ہے اس کے گم ہو جانے کی وجہ سے وہ رو رو کر جان ہلاکان کر رہی ہے، اگر آپ اس کے فرزند کو اس تک پہنچا دیں تو بہت مناسب ہوگا۔ جب اس نے آنحضرت کا اسم گرامی زبان سے ادا کیا۔ ہبل اور دوسرے تمام بت زمین پر اوندھے منہ گر پڑے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل وشمائل بیان کرنے لگے انہوں نے کہا اے شیخ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری ہلاکت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ سے ہی ہو گی۔ خدا تعالی معبود برحق ہے اسے ضائع نہیں کرے گا ، بت برستوں سے کہہ دو ذبح اکبر یہی ہے یعنی سوائے اس شخص کے جو اس کی اتباع کرے سب کوقتل کر دے گا۔ حلیمہ کہتی ہیں میں نے اس بوڑھے کو دیکھا کہ رو رہا ہے آتش تاسف سے اس کا دل کباب ہے ، لاٹھی ہاتھ سے گری پڑی ہے اور موت کے کنارے پہنچ چکا ہے ، اس کے منہ میں باتوں کی بجائے دانت بج رہے ہیں، اس کے تمام اعضا ہیبت سے بید کی مانند کانپ رہے ہیں، اس نے کہا اے حلیمہ! تیرے فرزند کا ایک پروردگار ہے جو اسے ضائع نہیں ہونے دے گا، تیری امانت صحیح و سالم تجھے لوٹائے گا، اطمینان سے اس کی تلاش کرو اور دل تنگ نہ ہو اور رخسارہ اقبال بد بختی کے ناخن سے نہ تراش۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں ڈری کہ مجھ سے پہلے ہی یہ خبر عبد المطلب تک نہ پہنچ جائے۔ میں والہ وشفیتہ اس کی طرف بھاگی ، مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا تیرے ساتھ سعادت ہے یا نحوست؟ میں نے کہا اے امیر نحوست ہے اور نحوست بھی ایسی ، اس نے کہا شاید تیرا فرزند گم ہو گیا ہے میں نے کہا ہاں ، عبد المطلب کو خیال ہوا کہ قریش میں سے کوئی اسے اٹھا کر لے گیا ہو گا اور ہلاک کر دیا ہو گا پس اس نے اپنی تلوارکھینچ لی اور غیظ و غضب اس کے چہرہ سے ظاہر ہوا اور اونچی آواز میں پکارا ، اے آل غالب سب لبیک کہہ کر اس کی خدمت میں دوڑے کیونکہ کوئی شخص آپ کے غصہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ عبدالمطلب نے کہا قریش کی عزت اور سرمایہ راحت و عیش میرا فرزند محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غائب ہو گیا ہے۔ قریش نے کہا اے امیرسوار ہوجائے ہم بھی سوار ہوتے ہیں اس عزیز کو آپ کے ساتھ تلاش کرتے ہیں اگر آپ تلاطم دریا میں کودیں گے تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اگر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کریں گے اور وہاں پہنچیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اپنے قبائل کے ساتھ سوار ہوا بیتاب ہو کر ہر طرف بھاگا پھرتا اور بے تحاشا اس مسعوق کی خاطر خود کو تنگیوں اور ہلاکت گاہوں میں ڈالتا تھا اور کہتا تھا

القى عساكرا فوادی ثمہ کي انظر فی اهل ودادی ثمہ
اما قدمی توصلنے مقصو دی واترک راسی کفوادی ثمہ

اپنے بیٹے کی تلاش میں ہر طرف گھوڑا دوڑیا لیکن گم شد کی کوئی خبر نہ ملی تو آپ اپنی قوم کو چھوڑ کر تنہا بیت الحرام کی طرف بھاگے۔

یارب رد راکبی محمدا ردالی واتخذ عندی یدا
انت الذی جعلتہ لي عضدا انت الذی سميتہ محمدا
لا یعبد الدهر بہ فيعبد يارب ان محمد الم توجدا

عبدالمطلب مناجات میں تھے کہ اس نے سنا منادی کرنے والا فضائے آسمان سے ندا کر رہا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار ہے جو اسے ذلیل و ضائع نہیں چھوڑے گا۔ عبدالمطلب نے کہا اے ہاتف وہ کہاں ہے۔ اس نے کہا ، وادی تہامہ میں یمنی درخت کے پاس ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ایک کیلے کے درخت کے پاس ہے عبدالمطلب نے ہتھیار لگائے اور وادی تہامہ کی طرف چل دیے، راستے میں ورقہ بن نوفل ملے دونوں اس طرف چل دیے ، جب کیلے کے درخت کے پاس پہنچے آنحضرت کو کیلے کے درخت کے نیچے کھڑا دیکھا آپ اپنا ہاتھ درخت کی ٹہنیوں پر پھیر رہے تھے۔ عبدالمطلب نے کہا

جان من جان من فدائے تو باد کہ فلک چونتومہ ندارد یاد

اس کے بعد اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ آپ نے فرمایا میں محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابو مسعود ثقفی اور عمرو بن نوفل نے آنحضرت کو کیلے کے درخت کے نیچے دیکھا کہ اس کے پتوں کو چن رہے تھے، انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ ، آپ نے فرمایا میں محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ عمرو بن نوفل انہیں اٹھا کر عبد المطلب کے پاس پہنچایا، اس کے بعد عبدالمطلب نے انہیں اٹھا کر پیار کرتے ہوئے کہا اے بیٹے میں تیرا دادا ہوں، انہیں سوار کرکے مکہ واپس لائے، پھر حلمیہ سے بہت معذرت کی اور بہترین سامان تیار کیا اور بہت سی چیزوں کے ساتھ اسے رخصت کیا۔ حعلیمہ کہتی ہیں کہ عبد المطلب اور آمنہ نے الگ الگ اس قدر مال و دولت دی کہ اس کی توصیف نہیں کی جاسکتی۔ [40]

رسول اللہ کی کفالت[ترمیم]

حضرت آمنہ کی ابواء کے مقام پر تدفین کے بعد ام ایمن نے آنحضرت کو اٹھایا اور مکہ میں لے آئیں اور عبدالمطلب کے سپرد کر دیا۔ حضرت عبدالمطب نے اس گرامی بیٹے کو اپنے گھر میں رکھا اور کماحقہ عزت وتکریم بجا لاتے۔ ان کی تربیت اور دیکھ بھال میں پوری طرح توجہ دی اور ہمیشہ تمام بنی عبد مناف کے اشراف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا تذکرہ واشگاف الفاظ میں بیان کرتے اور کہتے کہ اس فرزند ارجمند کی ذات عالی صفات میں صباحت قریش، ملاحت یثرب اور فصاحت بنی سعد جمع ہو گئی ہے۔

عبدالمطلب اور رسول اللہ کا بارش کے لیے دعا کرنا[ترمیم]

جس سال میں حضرت عبدالمطلب روسائے قریش کی ایک جماعت کے ساتھ سیف ذی الیزن کی تہنیت کے لیے حبشہ کی طرف گئے جب اس سفر سے واپس آئے ، قریش پانی کی کمی سے ان کی احتیاج کی بنا پر فریاد کر رہے تھے۔ اشراف و اہالی مکہ میں مسلسل کئی سال عظیم قحط ظہور پزیر ہوا ، چنانچہ زراعت اور جانوروں کے پستانوں سے دودھ خشک ہو گیا ، لوگ شدید فاقہ اور زحمت میں مبتلا ہو گئے۔ رفیقہ بنت ابی سیف بن ہاشم جو حضرت عبدالمطلب کے بھائی کی بیٹی تھی کہتی ہیں کہ ایک رات دوران میں غنودگی میں نے ایک ہاتف کو کہتے ہوئے سنا کہ اے گروہ قریش پیغمبر آخرالزماں کے ظهور کا وقت ہے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ تم میں سے پیغمبر پیدا ہونے کا وقت ہے عمدہ زندگی اور باران رحمت تمہیں حاصل ہوگی ، احتیاط سے دیکھو کہ تمہارے درمیان میں بزرگ بلند و بالا ، سفید اندام ، ستواں ناک ، تازہ روجس کی پلکیں دراز ہیں ، فخزو حسب والا ہے۔ اسے کہو کہ وہ اپنے فرزند کو لے کر لوگوں کے درمیان میں سے باہر نکلے اور ہر قبیلہ سے ایک لڑکا اور ہر بطن سے ایک مرد لیے ہوئے اور خوشبو لگائے ہوئے اس کے سات ہو۔ کعبہ کے گرد سات مرتبہ طواف کریں اور اس کی معیت میں کوہ ابوقبیسں پر جائیں وہ موصوف بارش کی دعا کرے ان کے ساتھی آمین کہیں تا کہ بارش برسے اور ان کی زندگی اچھی ہو جائے۔ رفیقہ کہتی ہیں کہ صبح ڈرتی اور کانپتی ہوئی بسترخواب سے اٹھی اور جس کے سامنے بھی صورت واقعہ بیان کی قسم ہے حق و حرمت کی کہ اس نے کہا یہ شخص حضرت عبدالمطلب ہے جب یہ خبر مشہور ہو گئی قریش کی ایک جماعت عبدالمطلب کے پاس جمع ہوئی اور ہر بطن سے ایک شخص نے پاک ہو کر خوشبو لگائے ہوئے طواف کیا۔ عبدالمطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر جبل ابو قبیس کی طرف گئے اور دوسرے لوگ بھی ساتھ گئے۔ حضرت عبدالمطلب با وجودیکہ آہستہ چل رہے تھے، دوسرے لوگ اگرچہ بھاگ رہے تھے مگر اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ جب سفر طے کر لیا جبل ابو قبیس پر گئے حضرت عبدالمطلب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کندھے پر بٹھا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا

  • اے حاجات کو پورا کرنے والے ، مصائب کو دور کرنے والے ، بغیر بتائے ہوئے جانے والے ، غیر مختمم عطائے بخشنے والے، اے فکر کو روکنے والے اور اسے اندوہ غم کو زائل کرنے والے یہ تیرے حرم کے بندے اور غلام ہیں تنگی اور قحط کی شکایت کرتے ہیں ، ان کی بھیڑ بکریاں اور اونٹ ہلاکت کے کنارے پر پہنچ گئے ہیں، خدایا بارش بھیج جو سبزے کے اگنے کا سبب ہو اور ہماری زندگی کی بقاء کا باعث بنے۔

راوی کہتا ہے کہ خدا کی قسم، ہم نے ابھی واپس آنے کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا کہ بارش شروع ہو گئی اور اس قدر برسی کہ نہری جاری ہوگئیں اور سرداران قریش مثل عبد اللہ مرعان اورشہاب بن مغیرہ وغیرہ حضرت عبدالمطلب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے ابو البطحی تجھے یہی نعمت خوشگوار ہو۔

عبد المطلب حضور کے مشفق[ترمیم]

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت عبدالمطلب بہت زیارہ خیال رکھتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وتکریم میں مبالغہ کرتے تھے۔ اور آپ کے حالات کی دیکھ بھال میں انتہائی کوشش کرتے ، جہاں تک ہو سکتا اس کی رھایت و محافظت کے جھنڈے بلند رکھتے کہتے ہیں کہ شفقت و محبت اور مہربانی جو حضرت عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کے حق میں رکھتے تھے کسی دوسرے فرزند کے حق میں نہیں کی۔ اگر حضرت عبد المطلب نیند میں ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص انہیں خواب سے بیدار نہیں کر سکتا تھا ، اگر اپنے احباب کے ساتھ یا تنہا کسی جگہ خلوت میں ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص اندر نہیں جا سکتا تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کسی کو آپ کے بستر پر بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے متعلق ام ایمن کو تاکید کی ہوئی تھی کہ خبردار اس کے حال سے غافل نہیں ہونا اور اس کی پرورش اچھی طرح کرنا کیونکہ اہل کتاب کہتے ہیں کہ یہ امت کا پیغمبر ہوگا ۔ کہتے ہیں کہ اسی اثناء میں بنی مدلج کی ایک جماعت نے فن قیافہ میں مہارت حاصل کی وہ بیٹے کو باپ کی طرف منسوب کرتے تھے اور علم قیانہ میں مشہور تھے۔ انہوں نے حضرت عبدالمطلب سے کہا ، ہم نے آپ کے اس فرزند کے قدموں کو ملاحظہ کیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قدم کے ساتھ جس کا نشان مقام ابراہیم میں ظاہر ہے کسی قدم کو اس کے قدم سے زیادہ اس کے مشابہ نہیں دیکھا ۔ عبدالمطلب نے حضرت ابوطالب سے کہا سنو! یہ جماعت کیا کہتی ہے ، پس حضرت ابوطالب اس روز سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محافظت کے لیے کوشاں ہوئے اور ان کا لحاظ کرنے لگے۔ روایت ہے کہ حضرت عبدالمطلب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت تھی کہ اپنے کسی بھی فرزند کے ساتھ اس قسم کی محبت کا اظہار نہیں کرتے تھے چنانچہ آپ سے ملے بغیر سفر نہیں کرتے اور ہمیشہ رسول اللہ کو ذکر خیر میں دوسروں پر ترجیح دیتے۔ حضرت عبدالمطلب کے حجرہ میں اس کی ایک خاص نشست گاہ تھی۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس مسند پر نہیں بیٹھتا تھا۔ شرفائے قریش کو اس نشست گاہ کے ارد گرد بٹھاتے۔ حضرت عبدالمطلب کی اولاد اس مسند کو اس کے ساتھ ہی مخصوص رکھتی چنانہ کسی شخص میں یہ قدرت و جرات نہیں تھی کہ اس مسند کے قریب قدم رکھ سکے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس محفل میں تشريف لاتے ، رگ ہاشمی کی عظمت و جلالت سے حضرت عبدالمطلب کے بساط دولت اور تخت اقبال پر فی الفور بیٹھ جاتے اور حضرت عبدالمطلب بیٹے اور بزرگان قریش حضرت عبدالمطلب کے احترام کی وجہ سے اس نشست گاہ کو عزیز رکھتے تھے اور بعض اوقات وہاں بیٹھنے سے منع کرنا چاہتے تھے حضرت عبد المطلب انہیں آواز دیتے اور کہتے: دعوا انبی فو اللہ ان لہ سشاناً عظیماً میرے بیٹے کو اس مسند پر بیٹھنے دو خدا کی قسم ! اس کا نفس ایک شرف محسوس کرتا ہے جو کسی مسند پر بیٹھے کا تقاضا کرتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس کی بزرگی کے بہت سے نشانات ہیں اور عنقریب وہ تمہارا سردار ہو گا۔ یہ نور جو میں اس کی پیشانی میں دیکھتا ہوں۔ ایسے شخص کا نور ہے جسے لوگوں کی سرداری اور سرداری کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میرا یہ فرزند بہت بڑے ملک کا مالک ہو گا ۔ اور خدا تعالی کا اس کے ساتھ ایک ایسا راز ہے جو کسی کے ساتھ نہیں ، ہمیشہ آپ کے سر پر دست شفقت رکھتے اور آپ کی حرکات و سکنات اور خصائل سے خوش ہوتے تھے۔ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبدالمطلب کی مسند پر مرجع صورت میں تشریف فرما تھے اور اکثر و بیشتر قریش حرم کے گرد و نواح میں موجود تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے سب کو یہ حال دکھایا اور کہا ، دیکھو! سلطنت و وجاہت کے آثار آپ کی حرکات و سکنات سے کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ [41]

عبد المطلب کی بےقراری[ترمیم]

کندیر بن سعید اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ زمانہ جاہلیت میں حج کے لیے گیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آدمی بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے والہانہ انداز میں یہ اشعار پڑھ رہا ہے

رب! رد الی راکبی محمداً یا رب ردہ واصطنع عندی یداً

اے میرے رب! میرے سوار محمد (ﷺ) کو واپس لے آ اے میرے رب! مجھ پر احسان فرما اور اسے لوٹا دے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں۔ انھوں نے اپنے پوتے محمد (ﷺ) کو گم شدہ اونٹ تلاش کرنے بھیجا ہے۔ یہ جب بھی اسے کسی کام کے لیے کہتے ہیں تو وہ ہمیشہ کامیاب لوٹتا ہے۔ آج اسے دیر ہو گئی ہے۔ ابھی تک واپس نہیں آیا۔ یہ بزرگ اسی وجہ سے پریشان ہیں ۔ ابھی عبد المطلب وہیں کھڑے تھے کہ محمد (ﷺ) اونٹ لے کر آگئے۔ عبد المطلب نے آپ کو گلے لگایا اور کہا اے میرے بیٹے! کیا بتاؤں میں تمھارے لیے کس قدر پریشان تھا۔ میں کسی کے لیے بھی اتنا پریشان نہیں ہوا۔ اللہ کی قسم! اب میں تمھیں کسی کام کے لیے نہیں بھیجوں گا، نہ تم مجھ سے کبھی جدا ہونا۔ [42]

رسول اللہ کو آشوب چشم[ترمیم]

علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ جب سات سال کے ہوئے تو آپ کو بہت سخت قسم کا آشوب چشم ہوا (آنکھیں دکھنے والا مرض)۔ مکہ میں آپ کا علاج کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ عبد المطلب سے کسی نے کہا کہ عکاظ کے علاقے میں ایک راہب ہے جو آنکھوں کی تکلیف کا علاج کرتا ہے۔ عبد المطلب آنحضرت کو لے کر وہاں گئے۔ اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا اس لیے عبدالمطلب نے اس راہب کو آواز دی مگر راہب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا اور راہب کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں عمارت اس پر ہی نہ گر جائے۔ اس لیے ایک دم باہر نکل آیا اور اس نے عبد المطلب سے کہا(جنہیں غالباً وہ پہچنتا تھا) "اے عبد المطلب یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے۔ اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ یقیناً میرے اوپر گر پڑتی اس لڑکے کو لے کر فوراً لوٹ جاؤ اور اس کی حفاظت کرو کہ کہیں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے ، اس کے بعد اس نے آپ کی آنکھوں کا علاج کیا اور کچھ دوا ساتھ کردی۔ مگر ایک کتاب ہے جس کا نام کریم الندمآء و ندیم الکرماء ہے میں نے اس میں یہ واقعہ اس طرح دیکھا کہ

  • جب رسول اللہ چھوٹے تھے کہ آپ کو آشوپ چشم کی تکلیف ہو گئی اور کئی دن تک آپ کو تکلیف رہی۔ کسی نے عبد المطلب سے کہا کہ مکے اور مدینے کے درمیان میں ایک راہب ہے جو آشوب چشم کا علاج کرتا ہے اس کے ہاتھوں ایک مخلوق شفاء حاصل کر چکی ہے۔

عبد المطلب یہ سن کر آنحضرت کو ساتھ لے کر اس راہب کے پاس گئے جیسے ہی راہب نے آپ کہ دیکھا وہ فوراً عبادت خانے میں گیا اور نہا دھو کر کپڑے بدلے اور پھر ایک صحیفہ (کتاب) نکال کر لایا۔ پھر کبھی وہ اس کتاب میں کچھ دیکھتا اور پھر آنحضرت صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھتا۔ آخر اس نے کہا:۔ یہ خدا کی قسم خاتم النبیین ہیں“۔ پھر اس نے عبد المطلب سے کہا۔ اے عبد المطلب؟ کیا انہیں آشوب چشم ہو گیا ہے؟ عبد المطلب نے کہا”ہاں“۔ اس نے کہا اس کی دوا تو خود ان کے پاس ہی موجود ہے۔ اے عبدالمطلب ان کا لعاب دہن لو اور ان کی آنکھوں پر لگا دو۔ عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا کہ آپ کا لعاب دہن لے کر آپ کی آنکھوں پر لگا دیا۔ آپ کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہو گئیں۔ پھر راہب نے کہا۔ "اے عبد المطلب خدا کی قسم یہی وہ انسان ہے جس کے نام پر میں اللہ تعالی کی قسم کھاتا ہوں تو بیماروں کو شفاء ہو جاتی ہے اور آشوب چشم ٹھیک ہو جاتا ہے۔ [43]

حذافہ عددی کی رہائی[ترمیم]

ایک مرتبہ جذام قبیلے کے لوگ حج کے لیے آئے تو ان کا ایک فرد مکہ میں قتل کر دیا گیا۔ انھیں راستے میں حذافہ بن غانم عددی ملا، انھوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ عبد المطلب ابولہب کے ساتھ طائف سے واپس آئے تو انھیں اس ماجرے کا پتہ چلا، اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ عبد المطلب نے بنو جذام سے کہا: تمھیں میری تجارت اور مال کا اندازہ ہے۔ میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں بیس اوقیہ سونا یا دس اونٹ یا جس پر تم راضی ہو، ادا کر دوں گا ، تم حذافہ کو چھوڑ دو، میری یہ چادر تمھارے پاس گروی ہے۔ انھوں نے عبدالمطلب کی بات مانتے ہوئے حذافہ کو چھوڑ دیا۔ عبدالمطلب حذافہ کو اپنے ساتھ سواری پر بٹھا کر مکہ لے آئے اور اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ [44]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 579ء میں ہوئی تھی۔ [45] آپ کی وفات یوم الفجار سے بیشتر ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کی عمر 82 سال اور دوسری روایت کے مطابق 110 سال تھی۔ [46] ایک اور روایت کے مطابق آپ کی 92 سال اور روایت کے مطابق 120 سال اور کے مطابق 140 اور 144 سال تک عمر بتائی گئی ہے۔ [47] آپ کو حجون قبرستان میں اپنے جداعلیٰ قصی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات پر کئی دنوں تک بازار بند رہے اور منڈیوں میں کاروبار معطل رہے۔ [48]

رسول اللہ رو دیے[ترمیم]

حضرت ام ایمن بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پلنگ کے پیچھے کھڑے رو رہے تھے ، اس وقت آپ کی عمر مبارک آٹھ سال تھی۔ [49]

مرثیہ[ترمیم]

ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے محمد بن سعيد بن المسیب نے بیان کیا کہ جب عبد المطلب کی رحلت کا وقت آیا اور انہیں اپنی موت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے اپنی لڑکیوں کو جو چھ تھیں جمع کیا جن میں صفیہ ، برہ ، عاتکہ ، ام حکیم البیضاء ، امیمہ اور اروی تھیں اور ان سے کہا تم سب مجھ پر گریہ و زاری کرو تاکہ میں اپنے مرنے سے پہلے سن لوں کہ تم کیسے بین کروگی اور کیا کہو گی ۔ ابن ہشام نے کہا کہ میں نے علما شعر میں سے کسی کو ایسا نہیں دیکھا جو ان اشعار کو جانتا ہو لیکن ان کی روایت محمد بن سعيد بن المسیب نے کی

ارفت لصوت نائحةٍ بليل على رجل بقارعة الصعید
ففاضت عند ذلکم دموعی على خدى کمنحد ارلفريد
على رجل کریم غير وغل لہ الفضل المبين على العبید
على الفیاض شیبة ذی المعالى ابیک الخير وارث کل جود
صدوق في المواطن غير نكس ولا شخت المقام ولا سنید
طویل الباع اروع شیطمی مطاع فی عشیرتہ حميد
رفيع البيت ابلج ذی فضول وغيت الناس في الزمن الحرود
کریم الجد ليس بذی و صوم يروق على المسود والمسعود
عظيم الحلم من نفر كرامٍ خضارمةٍ ملاوثہ الاسود
فلو خلد امرو لقدیم مجد ولكن لا سبيل الى الخلود
لکان مخلدا اخرى الليالى لفضل المجد والحسب التلید

ترجمہ

  1. رات میں ایک رونے والی کی آواز سے میری نیند اچٹ گئی جو ایک بالکل راستے پر کھڑے ہوئے شخص پر رو رہی تھی۔
  2. اس وقت میرے آنسو میرے رخسار پر ڈھلکنے والے موتیوں کی طرح بہنے لگے۔
  3. اس شریف شخص پر جو دوسروں کے نسب میں ملنے کا جھوٹا دعوے دار نہ تھا جس کو بندگان خدا پر نمایاں فضیلت حاصل تھی۔
  4. شیبہ جو بڑا فیاض اور بلند مرتبے والا تھا۔ اپنے اچھے باپ پر جو ہر قسم کی سخاوت والا تھا۔
  5. اس پر جو جنگ کے میدانوں میں خوب لڑنے والا اپنے ہمسروں سے کسی بات میں پیچھے نہ رہنے والا نہ کم رتبہ اور نہ دوسروں کے نسب میں مل جانے والا تھا۔
  6. اس پر جو بہت ہی کشادہ دست عجیب حسن وشجاعت والا بھاری بھر کم گھرانے کا قابل تعریف سردار تھا۔
  7. اس پر جو عالی خاندان روشن چہرہ اقسام کے فضائل والا اور قحط سالی میں لوگوں کا فریا درس تھا۔
  8. اس پر جو اعلیٰ شان والا۔ ننگ و عار سے بری۔ سرداروں اور خادموں پر فضل وانعام کرنے والا تھا۔
  9. اس پر جو بڑے حلم والا اعلیٰ شان والوں میں کا ایک فرد دوسروں کے بار اٹھانے والا سردار شیروں کے لیے پشت پناہ تھا۔
  10. اگر کوئی شخص اپنی دیرینہ عزت و شان کے سبب ہمیشہ رہ سکتا۔
  11. تو ضرور وہ اپنی فضیلت و شان اور دیرینہ خاندانی وقار کے سبب زمانے کی انتہا تک رہتا لیکن بقا کی طرف تو کوئی راستہ ہی نہیں۔
أعینی جودا بدمع درر على طيب الخيم والمعتصر
على ماجد الجد واړى الزناد جميل المحيا عظيم الخطر
على شیبۃ الحمد ذي المكرمات وذي المجد والعز والمفتخر
ولذى الحلم والفضل في انائبات کثیرالمکارم جم الفجر
لہ فضل مجد على قومہ منير يلوح کضوء القمر
اتتہ المنايا قلم تشوی بصرف الليالي وریب القدر

ترجمہ:

  1. اے میری آ نکھو نیک سیرت اورسخی پر موتیوں کے سے آنسووں سے سخاوت کرو۔
  2. اعلیٰ شان والے پر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے والے پر حسین چہرے اور بڑے رہنے والے پر۔
  3. بزرگوں والے شيبتہ الحمد پرعزت و شان والے اور افتخار والے پر۔
  4. آفات میں فضل وعطا و حلم کرنے والے پر بہت خوبیوں والے بڑے سخی مالدار پر۔
  5. اپنی قوم پر اسے بڑے فضیلت حاصل تھی وہ ایسا نور والا تھا کہ چاند کی روشنی کی طرح چمکتا رہتا تھا۔
  6. زمانہ کی گردشوں اور مکروہات تقدیر کو لیے ہوئے موتیں اس کے پاس آئیں اور اس پر اچٹتی ہوئی ضرب نہیں (بلکہ) کاری وار کیا۔
أعیني جودا ولا تبخلا بدمعکما بعد نوم النيام
أعیني واسحنفرا واسکبا وشوبا بکاء کما بالتدام
أعىني واستخرطا واسجما على رجل غیر نکس کھام
على الجحفل الغمر في الانائبات کريم المساعی وفي الذمام
على شبية الحمد واړی الزناډ وذی مصدق بعد ثبت المقام
وسيف لدى الحرب صمصامة ومردى المخاصم عند الخصام
وسهل الخليقة طلق اليدين وفى غد ملي صمیم لھام
تبنك في باذخ بیتہ رفيع الذوابة صعب المرام

ترجمہ:

  1. اے میری آنکھو سونے والوں کے سوجانے کے بعد اپنے آنسو کی سخاوت کرو اور بخل نہ کرو۔
  2. اے میری آنکھو خوب تیز جھڑی لگا دو اور یہ پڑھ اور اپنے رونے کے ساتھ رخساروں پر طمانچے بھی مارو۔
  3. اے میری آنکھو خوب جم کر رو لو اور ایسے شخص پر آنسو بہاؤ جو نہ پیچھے رہنے والا تھا اور نہ کمزور۔
  4. بزرگ سردار پر آفات میں اپنے احسانات میں ڈبو لینے والے پر بزرگانہ کوششوں والے پر ذمہ داری کو پورا کرنے والے پر۔
  5. مہمان نواز شیبتہ الحمد پر اور (اپنے) مقام پر جمے رہ کر صحت حملہ کرنے والے پر۔
  6. اس پر جو جنگ کے وقت ختم نہ ہونے والی تلوار اور جھگڑے کے وقت دشمن کو ہلاک کرنے والا تھا۔
  7. نرم سیرت والے کشادہ ہاتھوں والے وفاردار سخت پختہ ارادے والے کثیر الخیر شخص پر۔
  8. اس پر جس کے گھر کی اساس علوشان پر مستحکم بلند طرے والے اعلیٰ مقاصد والے پر۔
ألا يا عين جودى واستھلى وبکى ذا الندى والمکرمات
الا يا عين و یحك اسعفینی بدمع من دموع ھاطلات
وبکی خير من ركب المطايا أباك الخير تيار الفرات
طویل الباع شیبة ذا المعالى کريم الخيم محمود الهبات
وصولا للقرابة هبرزيا وغيثا في السنين الممحلات
وليثا حين تشتجر العوالى تروق لہ عیون الناظرات
عقيل بنی كنانة والمرجى إذا ما الدهر أقبل بالھنات
و مفزعها إذا ما ھاج ھیج بداھیةٍ وخصم المعضلات
فبکة ولا تسمى بحزن وبکی ما بقیت الباكيات

ترجمہ:

  1. ہاں اے آنکھ سخاوت اور آہ و فغاں کر اور بزرگوں والے اورسخاوت والے پر رو۔
  2. ہاں اے کمبخت آنکھ لگا تا ر برسنے والے آنسووں سے میری امداد کر
  3. سواریوں پر سوار ہونے والوں میں جو سب سے اچھا تھا اس پر آہ وفغاں کر اپنے اچھے باپ پر جو میٹھے پانی کا موج زن دریا تھا۔
  4. شیبہ پر جو بڑا سخی اور بلند رتبوں والا نیک سیرت سخاوت میں قابل مدح وستائش تھا۔
  5. صلہ رحمی کرنے والے پر اس پر جس کے چہرے سے شرافت و جمال ظاہر ہوتا تھا ۔ جو قحط سالیوں میں برستا ہوا بادل تھا۔
  6. جو نیزوں کے ایک دوسرے سے مل کر جھاڑی کی طرح بن جانے کے وقت کا شیر تھا جس کے لیے دیکھنے والوں کی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔
  7. جو بنی کنانہ کا سردار تھا اور زمانے کے اقسام کی آفتیں سر پر پڑنے کے وقت امیدوں کا آسرا تھا۔
  8. جب کوئی سخت آفت آتی تو اس کے خوف کو وہ دور کر دینے والا اور مشکلات کا مقابلہ کرنے والا تھا۔
  9. پس ایسے شخص پرآہ وفغاں کر اور غم کرنے میں سستی نہ کر اور دوسری رونے والیوں کو اس وقت تک رلاتی رہ جب تک تو باقی رہے۔