ابولہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابو لہب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ابولہب
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 549  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 624 (74–75 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام جمیل  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عتبہ بن ابی لہب  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد المطلب  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ لبنىٰ بن ہاجر  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ تاجر، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو لہب (پیدائش: 549ء— وفات: 624ء) قریشی سردار تھا۔ اس کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب اور اس کی کنیت ابو عتبہ تھی۔ حسن اور چہرہ کی چمک کی وجہ سے عبد العزیٰ کی دوسری کنیت ابولہب ہو گئی تھی (شعلہ رو) مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ابولہب کے لفظ سے اس کی کنیت ۔۔۔ مراد نہیں ہے۔ جس کے ساتھ وہ مشہور تھا۔ بلکہ اس سے اس کے دوزخی ہونے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ اس کے علاوہ ذات لہب کے مناسب بھی لفظ ابولہب تھا (عبد العزیٰ کہنا بے جوڑ تھا)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی چچا مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ قرآن نے اسے ابولہب (آگ کا باپ یعنی جہنمی) کا خطاب دیا۔ اس کی بیوی جمیل بنت حرب بن امیہ، ابوسفیان کی بہن تھی۔ وہ شوہر سے بھی زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمن تھی۔ قرآن شریف کے تیسویں پارہ کی سورۃ اللھب میں ان دونوں کا ذکر ہے اور ان کے واسطے عذاب دوزخ کی خبر دی گئی ہے۔ باوجود سخت مخالفت کے بدر کی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بیماری کی وجہ سے معذور تھا۔ تین دن کے اندر ہی عدسھ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرگیا۔ ابولہب کا نام عبد العزیٰ بن عبد المطلب تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]