امام علی مسجد
ظاہری ہیئت
| حرم پاک امام علی | |
|---|---|
| |
امام علی مسجد، جہاں شیعہ کا خیال ہے کہ علی ابن ابو طالب دفن ہے۔ | |
عراق میں مقام | |
| بنیادی معلومات | |
| مقام | نجف |
| متناسقات | 31°59′46″N 44°18′51″E / 31.996111°N 44.314167°E |
| مذہبی انتساب | اسلام |
| رسم | شیعہ |
| صدر مقام | عراق |
| صوبہ | محافظہ نجف |
| ملک | عراق |
| مذہبی یا تنظیمی حالت | مسجد اور مزار |
| حیثیت | Built |
| سنہ تکمیل | 977 CE |
| گنبد | 1 |
| گنبد کی اونچائی (داخلی) | 42 میٹر (138 فٹ) |
| مینار | 2 |
| مینار کی بلندی | 38 میٹر (125 فٹ) |
| مزار/مقبرہ | 1 |
امام علی کا حرم (عربی:حَرَم ٱلْإِمَام عَلِيّ)، جسے مسجد علی بھی کہا جاتا ہے۔ جسے بہت سے مسلمان سمجھتے ہیں کہ خلیفہ اور امام علی ابن ابی طالب کی قبر ہے، یہ شیعہ کے لیے مقدس ہے۔ وہ اسلامی پیغمبر محمد کے چچا زاد بھائی تھے اور بعد میں ان کے داماد بھی بنے۔ شیعہ علی ابن ابی طالب کو اپنا پہلا امام مانتے ہیں اور سنی انھیں اپنا چوتھا خلیفہ راشدہ مانتے ہیں۔[1] ہر سال لاکھوں زائرین مزار پر جاتے ہیں اور خلیفہ علی ابن ابی طالب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور عثمانی سلطان عبد العزیز نے چوتھے خلیفہ کے مقدس مقام کو تحائف بھی پیش کیے۔
شیعہ عقیدے کے مطابق[2] ، اس مسجد کے اندر حضرت علی کے ساتھ آدم و حوا اور نوح علیہ السلام دفن ہیں۔[2][3]
نگارخانہ
[ترمیم]- مسجد کا فضائی منظر
- امام علی علیہ السلام کی قبر کا احاطہ
- سنہری ایوان
- 2015 میں اربعین کے دوران۔
حوالہ جات
[ترمیم]زمرہ جات:
- عراق کی مساجد
- امام علی مسجد
- دسویں صدی کی مساجد
- شیعہ مزارات
- صفوی معماری
- عراق کے سیاحتی مقامات
- عراق میں شیعہ مساجد
- عراق میں مزارات
- عراق میں مقبرے
- مزار نوح
- 1630ء کی دہائی میں مکمل ہونے والی مساجد
- 970ء کی دہائی میں مکمل ہونے والی مذہبی عمارات
- 977ء کی تاسیسات
- صحابہ کرام کے مزارات
- مقدس مقامات
- شیعہ اثناعشری
- 1500ء میں مکمل ہونے والی مذہبی عمارات
- 977ء میں مکمل ہونے والی عمارات و ساخات
- محافظہ نجف
- شیعہ مقدس شہر
- مزارات
- پندرہویں صدی کی مساجد
- تاریخی مساجد
- شیعہ مساجد
- شیعیت
- 1500کی معماری
- سولہویں صدی کی مساجد