بوکوحرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بوکوحرام
رہنماہان ابو بکر شیکاؤ[1]
Dan Hajia (جنگی قیدی)
Abba 
Abatcha Flatari 
Momodu Bama 
محمد یوسف 
کاروائیوں کے علاقے شمالی نائجیریا, شمالی کیمرون, جنوبی نائجر, چاڈ
اتحادی Ansaru
Al-Qaeda in the Islamic Maghreb
مخالفین Flag of نائجیریا نائجیریا
Civilian Joint Task Force (CJTF)
Flag of کیمرون کیمرون
Flag of چاڈ چاڈ
Flag of نائجر نائجر
لڑائیاں اور جنگیں Nigerian Sharia conflict
2009 Nigerian sectarian violence
نائجیریا کی وہ ریاستیں جہاں بوکو حرام کا عمل دخل ہے اور ان ریاستوں میں شریعت کے کچھ قوانین بھی نافذالعمل ہیں۔ (ہرے رنگ میں نشان دہی کی گئی ہے۔
نائجیریا کی وہ ریاستیں جہاں بوکو حرام نے اب تک حملے کئے ہیں

بوکوحرام نائجیریا کی شدت پسند مسلح تنظیم ہے[2]۔ اس تنظیم کا پورا نام جماعۃ اہل السنۃ للدعوة والجہاد ہے۔ یہ تنظیم مغربی طرز تعلیم کو حرام سمجھتی ہے اس لیے اس کا نام بوکو حرام پڑ گیا اور اسی نام سے یہ مشہور ہے۔ ہاؤسا زبان میں بوکو حرام کا لفظی مطلب ”مغربی تعلیم حرام ہے“ ہوتا ہے۔

ابتدا[ترمیم]

اس کی ابتدا محمد یوسف نامی سکالر نے رکھی جو 2009 میں مارے گئے۔ اس کے بعد اس گروپ کے کئی دھڑے ہو گئے۔ سب سے مضبوط دھڑا ابوبکر شیخاؤ کا ہے۔ نائجیریا کے صوبوں مدو غری، قدونہ، کانو اور یوبے میں ان کا زیادہ اثر ہے۔ اس کی ابتدا اپنے مخالفین کے بے رحمانہ طور پر ٹارگٹ کلنگ سے شروع ہوئی اور اکثر واردات کے بعد فرار ہونے کے لیے موٹرسائیکل استعمال کی جاتی تھیں۔ ہلاک ہونے والے مخالفین کی اکثریت نمایاں اسلامی رہنما تھے۔

کارروائیاں[ترمیم]

اس تنظیم نے 2009 سے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ 2009 میں بوکوحرام کی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
مختلف پولیس تھانوں اور فوجی بیرکوں پر حملہ کر کے وردیاں اور ہتھیار لوٹنے کے بعد ان کی مدد سے نہ صرف دہشت گرد حملے کیے بلکہ بینک بھی آسانی سے لوٹے۔[3]
شیخاؤ کی قیادت میں بوکوحرام نے بم دھماکوں اور اغوا کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران کئی غیر ملکی بھی اغوا کیے گئے ہیں۔ اپریل2014 میں شمالی نائجیریا کے ایک سکول سے تین سو طالبات کو اغوا کیا گیا اور بعد میں اس بارے میں شیخاؤ نے جو بیان دیا اس کے مطابق اس نے ان لڑکیوں کو فروخت کر دیا۔ اپنی اس حرکت کے لیے اس نے جو جواز پیش کیا، اس میں کہا کہ یہ لڑکیا ں اللہ کی ملکیت تھیں، مجھے اللہ نے حکم دیااور میں نے اللہ کی ملکیت ان لڑکیوں کو فروخت کر دیا۔[4]

تنقید[ترمیم]

بوکو حرام کا نظریہ جہاد اور دیگر نظریات تعلیمات اسلامی کے برعکس ہیں۔ متعدد علما نے اس سلسلے میں باقاعدہ بوکوحرام کے طرزِ استدلال کو باطل قرار دیتے ہوئے، فتاوی بھی جاری کیے ہیں۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Profile of Nigeria's Boko Haram leader Abubakar Shekau"۔ BBC News۔ 22 جون 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2013۔
  2. "بوکوحرام کے سربراہ 'ہلاک' کر دیے گئے"۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت)
  3. شدت پسند تنظیم بوکوحرام کیسے وجود میں آئی - BBC News اردو
  4. کالم:محمد عام رہاشم خاکوانی
  5. سعودی مفتی اعظم نے بوکو حرام کو گمراہ قرار دے دیا

بیرونی روابط[ترمیم]