تکفیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

کسی شخص کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اس کو کافر قرار دینا اسلامی اصطلاح میں تکفیر کہلاتا ہے۔[1] مسلح بغاوت اور دہشت گردی کرنے والے خوراج کی تکفیر سے متعلق علما کی دو آراء ہیں، لیکن ان کے قتل پر کوئی اِختلاف نہیں ہے کیونکہ اس کا حکم صریح خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے، جس کے بعد کسی مسلمان کے لیے اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ درج ذیل اِرشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے خاتمہ پر نص ہیں :

قوله صلی الله عليه وآله وسلم : ’’فإذا لقيتموهم فاقتلوهم، فإن فی قتلهم أجرا‘‘ هذا تصريح بوجوب قتال الخوارج والبغاة وهو إجماع العلماء۔ قال القاضی : أجمع العلماء علی أن الخوارج وأشباههم من أهل البدع والبغی متی خرجوا علی الإمام وخالفوا رأی الجماعة، وشقوا العصا وجب قتالهم بعد إنذارهم والإعتذار إليهم۔

وهذا کله ما لم يکفروا ببدعتهم فان کانت البدعة مما يکفرون به جرت عليهم أحکام المرتدين، وأما البغاة الذين لا يکفرون فيرثون ويورثون ودمهم فی حال القتال هدر، وکذا أموالهم التی تتلف فی القتال۔[2]

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی۔ ’’اگر تم انہیں ملو تو ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں قتل کر دو کہ یقینا ان کو قتل کرنے میں اجر ہے‘‘۔ خوارج اور باغی دہشت گردوں کے ساتھ جنگ کے واجب ہونے پر صراحت ہے اور اسی پر علما کا اجماع ہے۔ ’’یہ سب کچھ اس وقت تک ہے جب تک وہ اپنی بدعات کے سبب کافر قرار نہ دیے جائیں۔ لیکن اگر ان کے کرتوت ایسے ہوں جن کی بنا پر انہیں کافر قرار دیا گیا ہے تو ان پر مرتدین کے احکام لاگو ہوں گے۔ البتہ وہ باغی جن کو کافر قرار نہیں دیا گیا تو وہ خود بھی وارث بنیں گے اور دوسرے بھی ان کے وارث بنیں گے البتہ حالت جنگ میں ان کا خون رائیگاں جائے گا اور ان کے اموال پر بھی کوئی ضمان نہیں ہوگی۔‘‘

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتنہءتکفیر
  2. (2) نووی، شرح صحيح مسلم، 7 : 169، 170