محمد تقی عثمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ الاسلام، مفتی

محمد تقی عثمانی
Shaikul Islam Mufti Taqi Usmani Sahib.jpg
ذاتی
پیدائش 27 اکتوبر 1943
مذہب اسلام
اولاد عمران اشرف عثمانی (فرزند)
والدین
دور دورِ جدید
معتقدات دیوبندی حنفی
بنیادی دلچسپی شریعت ، حدیث ، اسلامی مالیات ، تفسیر ، تصوف
قابل ذکر خیالات اسلامی معاشیات کا ارتقاء ، اسلامی بینکاری
قابل ذکر کام آسان ترجمہ قرآن
مادر علمی جامعہ بنوریہ، دارالعلوم کراچی، جامعہ کراچی ، جامعہ پنجاب
مرتبہ
ویب سائٹ آفیشل ویب سائٹ

مفتی محمد تقی عثمانی (پیدائش: 27 اکتوبر 1943ء) عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ آپ کا شمار عالم اسلام کی چند چوٹی کی علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اور دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثت مشیر کام کر رہے ہیں اور البلاغ جریدے کے مدیر بھی ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

مفتی محمد تقی احمد عثمانی تحریک پاکستان کے کارکن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے سب سے چھوٹے فرزند اور موجودہ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کی پیدائش 27 اکتوبر 1943ء کو ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں ہوئی۔ اردو کے مشہور شاعر مولانا ذکی کیفی اور اردو کی مشہور غیر منقوط کتاب ہادی عالم کے مصنف مولانا محمد ولی رازی بھی مفتی محمد تقی عثمانی کے بھائی لگتے ہیں.

تعلیم[ترمیم]

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد تھانوی جیکب لائن کراچی میں حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب کے قائم کردہ مدرسۂ اشرفیہ میں حاصل کی اور پھر آپ نے اپنے والد بزرگوار کی نگرانی میں دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد 1961 میں اسی ادارے سے ہی فقہ میں تخصص کیا۔ بعد ازاں جامعہ پنجاب میں عربی ادب میں ماسٹرز اور جامعہ کراچی سے وکالت کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔

اجازت[ترمیم]

آپ نے اپنے وقت کے تقریباً تمام جید علما سے حدیث کی اجازت حاصل کی۔ ان علما میں خود ان کے والد مفتی محمد شفیع عثمانی کے علاوہ مولانا ادریس کاندھلوی اور محمد زکریا کاندھلوی شامل ہیں۔

تصوف و معرفت[ترمیم]

آپ نے تزکیہ کا سفر مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادی اور مولانا ڈاکٹر عبد الحئی عارفی کی زیرِ نگرانی طے کیا، جو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے مایاناز خلفاء میں شمار ہوتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی دونوں علما کے خلیفہ ہیں اور چاروں سلاسلِ تصوف یعنی قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ اور چشتیہ میں اجازت رکھتے ہیں.[1]

تدریس[ترمیم]

مفتی تقی عثمانی تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔ آپ دار العلوم کراچی میں صحیح بخاری، فقہ اور اسلامی اصول معیشت پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ملکی و غیر ملکی جامعات وقتاً فوقتاً اپنے یہاں آپ کے خطبات کا انتظام کرتی رہتی ہیں۔ آپ چند سالوں سے جامعہ دار العلوم کراچی میں درس بخاری دے رہے، پہلے آپ ایک فقیہ کی حیثیت سے جانے جاتے تھے اور اب دنیا آپ کو ایک محدث کی حیثیت سے بھی جانتی ہےـ آپ کو اپنے ایک استاذ مفتی سحبان محمود نے شیخ الاسلام کا لقب عطا کیا ہے۔

رکن اسلامی نطریاتی کونسل[ترمیم]

جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں 1973 کے دستور سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے 1973ء کے آئین کی روشنی میں ایک مشاورتی اکائی اسلامی نظریاتی کونسل کی بنیاد رکھی، مفتی تقی احمد عثمانی اس کونسل کے بانی ارکان میں سے تھے۔ آپ نے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ کی حدود اور ان کی سزاؤوں پر عملد درآمد کے لیے حدود آرڈینینس کی تیاری میں اہم کردا ر ادا کیا۔ آپ نے سودی نظام بینکاری کے خاتمے کے لیے بھی کئی سفارشات پیش کیں۔

بحثیت جج[ترمیم]

مفتی تقی عثمانی جامعہ کراچی سے وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد طویل عرصے کے لیے پاکستان کے عدالتی نظام سے وابستہ ہو گئے۔ آپ 1980 سے 1982 تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982 سے 2002 تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ شریعت ایپلیٹ بینچ کے منصف اعظم اور پاکستان کے قائم مقام منصف اعظم بھی رہے۔ آپ نے بحثیت جج کئی اہم فیصلے کیے جن میں سود کو غیر اسلامی قرار دیکر اس پر پابندی کا فیصلہ سب سے مشہور ہے۔ 2002 میں اسی فیصلے کی پاداش میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے آپ کو آپ کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

اسلامی بینکاری[ترمیم]

قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے ربا یعنی سود کو حرام قرار دیا ہے۔ ایسی صورت میں جب جدید معاشی نظام کی اساس جدید بینکنگ ہے جس کا پورا ڈھانچہ سود کی بنیادوں پر کھڑا ہے مسلمان ملکوں میں اللہ کی نافرمانی کی زد میں آئے بغیر معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ایک مستقل مسئلہ تھا۔ لیکن اب مفتی صاحب کی مجدادنہ کوششوں کی بدولت یہ مستقل طور پر حل ہوچکا ہے۔ مفتی صاحب نے شریعت کے حدود میں رہ کر بینکاری کا ایسا نظام وضع کیا ہے جو عصر حاضر کے تمام معاشی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ مفتی صاحب کے اس نظام کو اسلامی فقہ اکیڈمی کی منظوری کے بعد ساری دنیا میں نہایت تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
اس وقت مفتی تقی عثمانی صاحب کے اصولوں پر درجنوں اسلامی بینک کام کر رہے ہیں۔ کینیڈا کے کئی اسلامی بینکوں نے ایک سال نہایت کامیابی سے کام کرتے ہوئے دو سو فیصد سے زائد منافع کمایا ہے۔ مفتی صاحب خود آٹھ اسلامی بینکوں کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب اسلامی مالیاتی اداروں کے اکاونٹینگ اور آڈیٹینگ اورگنائزیشن کے چیر مین بھی ہیں۔

ملی و سیاسی کردار[ترمیم]

مفتی تقی عثمانی صاحب کا نام پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب آپ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف بنوری کی ہدایت پر 1974 کی قادیانی مخالف تحریک میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی اس تحریک میں آپ نے مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر ایک دستاویز تیار کی جو قادیانیوں کے خلاف پارلیمان میں پیش کی گئی۔ 9/11 کے بعد جب پرویز مشرف کی حکومت پاکستان کو سامراجی مقاصد کے سامنے قربانی کے بکرے کے طور پر پیش کیا گیا تو مفتی صاحب نے اس معاملے پر اپنے کالموں اور بیانوں کے ذریعہ کھل کر مخالفت کی۔ آپ نے افغانستان کی اسلامی ریاست پر آمریکہ کے حملہ کو طاغوتی سامراج کا تیسری دنیا کے مما لک کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔ حقوق نسواں بل میں ترمیم اور لال مسجد کے معاملے پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا اور حکومتی موقف کو جھوٹ اور دغا کا پلندہ قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور ٹی وی پر آکر ان شیطانی فتنوں کی مذمت کی اور عوام کو توہین کے عمل میں ملوث ممالک کا معاشی بائیکاٹ کرنے کا فتوا دیا۔ مفتی صاحب نے 18 فروری کے انتخابات کے بعد پرویز مشرف سے استعفی کا مطالبہ بھی کیا۔

حدیث کےجامع ترین مجموعے کی تدوین[ترمیم]

گزشتہ اٹھارہ برس سے ان کے زیر نگرانی المدونۃ الجامعۃ کے نام سے تمام احادیث نبویہ پر مشتمل ایک انسائیکلو پیڈیا بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔ جس کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

کتابیں[ترمیم]

  • آسان ترجمہ قرآن (توضیح القرآن) مع تشریحات مکمل تین جلدیں
  • آسان نیکیاں
  • اندلس میں چند روز
  • اسلام اور سیاست حاضرہ
  • اسلام اور جدت پسندی
  • اکابر دیوبند کیا تھے
  • تقلید کی شرعی حیثیت
  • پرنور دین
  • تراشے
  • بائبل کیا ہے
  • جہاں دیدہ
  • دنیا میرے آگے
  • حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق
  • حجت حدیث
  • حضور نے فرمایا
  • فرد کی اصلاح
  • علوم القرآن
  • ہمارا معاشی نظام
  • نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں
  • عدالتی فیصلے
  • عیسائیت کیا ہے
  • درسِ ترمذی
  • بائبل سے قرآن تک (آپ نے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی اظہار الحق کی اردو شرح رقم فرمائی.. یہ تین جلدوں میں طبع ہوئی ہے)ـ
  • تکملہ فتح ملہم

اسلامی بینکاری سے متعلق کتب[ترمیم]

اسلامی بینکاری کی بنیادیں

اسلامی بینکاری کی تاریخ و پس منظر

اسلامی بینکاری پر اعتراضات کے تفصیلی جواب مفتی تقی عثمانی نے اپنی اس کتاب میں دیے ہیں

صوتی بیانات[ترمیم]

مفتی تقی عثمانی کے آڈیو بیانات

قاتلانہ حملہ[ترمیم]

22مارچ 2019ء بروز جمعہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے قاتلانہ حملہ کیا گیا جس سے ان کی گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے[2]

اعزاز[ترمیم]

شیخ الاسلام جسٹس مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی کو اپریل 2019 کو روس میں اعزازی طور پر علمی خلعت زیب تن کرایا گیا جو روس کا بہت اعلیٰ علمی اعزاز ہے۔ مفتی تقی عثمانی اپنی علمی خدمات کی بدولت دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے گئے ہیں۔

حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے انہیں اعلی ترین سول اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں 23 مارچ 2020ء کو دیا جائے گا۔

با اثر ترین مسلمان شخصیت[ترمیم]

حال ہی میں عمان کے عالمی اسلامی تحقیقی ادارے المجمع الملکی للبحوث الاسلامیۃ نے انہیں 2020ء کی اسلامی دنیا کی بااثر ترین شخصیت کے طور پر نامزد کیا ہے۔ جس کی تفاصیل مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:

دنیا کے 500 با اثر ترین مسلمان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "تعارف مولانا محمد تقی عثمانی"۔ Ashrafiya.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جولا‎ئی 2019۔
  2. 23 مارچ2019 کے تمام پاکستانی قومی اخبارات کے سرورق پر یہ خبر شایع ہوئی