عیسیٰ بن ابان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام عیسیٰ بن ابانفقہائے احناف میں سے ہیں اصحاب حدیث تھے لیکن فقہ غالب آگئی۔عراق کے فقیہ ہیں۔محمد بن الحسن کے شاگرد ہیں اور بصرہ کے قاضی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

نام عیسیٰ والد کانام ابان اورداداکانام صدقہ ہے،پورانسب نامہ یہ ہے۔عیسیٰ بن ابان بن صدقة بن عدی بن مرادن شاہ۔کنیت ابوموسی ہے۔ [1]

کنیت[ترمیم]

اکثر ترجمہ نگاروں نے آپ کی کنیت ابوموسیٰ ذکر کی ہے، محض حافظ ابن حجر نے آپ کی کنیت ابومحمد ذکر کی ہے [2]

تحصیل فقہ[ترمیم]

حافظ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلاء میں اس کی وضاحت کی ہے کہ امام عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے تحصیل فقہ کیاتھا۔ چنانچہ وہ سیر اعلام النبلاء جلد10،صفحہ 440میں لکھتے ہیں۔فقیہ العراق، تلمیذ محمد بن الحسن:( وہ عراق کے فقیہ اورامام محمد کے شاگرد تھے)۔حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں وتفقہ علیہ یعنی عیسیٰ بن ابان کے فقہ میں خصوصی استاد محمد بن الحسن ہیں۔ عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے چھ مہینے براہ راست استفادہ کیا، بعد میں جب امام محمدکو ہارون رشید اپنے ساتھ رقہ لے گئے تو عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے خط وکتابت کے ذریعہ استفادہ کیا۔عیسیٰ بن ابان کے امام محمد سے استفادہ کی کل مدت گیارہ مہینے ہے اور عیسیٰ بن ابان کاانتقال 220ہجری میں ہوا۔

تلامذہ[ترمیم]

مختلف ذمہ داریوں بالخصوص کارقضاکے نازک فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ عیسیٰ بن ابان نے درس وتدریس کا فریضہ بھی انجام دیا، عیسیٰ بن ابان کی بہتر تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھاکہ آپ کے شاگرد آگے چل کر آسمان علم وفضل کے آفتاب وماہتاب ہوئے، عیسیٰ بن ابان کے چند ممتاز شاگردوں کا یہاں ذکر کیاجاتاہے۔

ہلال بن یحییٰ الرائے (۰۰۰-245ھ = ۰۰۰-859م)

ابوخازم(۰۰۰-292ھ=۰۰۰-905م)آپ کا نام عبدالحمید اوروالد کانام عبدالعزیز ہے، ابوخازم کنیت ہے، بکاربن قتیبہ (182-270ھ=798-884م) [3]

حسن بن سلام السواق: [4]

عہدہ قضاء[ترمیم]

قضاء کی ذمہ داری بہت بھاری اورگرانقدر ذمہ داری ہے، اس میں مسائل واحکام کی واقفیت کے ساتھ ساتھ مردم شناسی اورلوگوں کے مزاج سے واقفیت،بیداری مغزی اورکسی کی ظاہری صورت سے متاثرنہ ہونے کی شرطیں شامل ہیں۔عیسیٰ بن ابان ان اوصاف سے متصف تھے لہٰذاان کی انھیں خوبیوں کودیکھتے ہوئے عباسی خلافت میں مامون الرشید کے دور میں قاضی القضاة یحییٰ بن اکثم نے ان کواپنانائب بنایا اور پھر واپسی پران کو مستقل طورپر بصرہ کاقاضی بنادیا۔ خطیب بغدادی نے بیان کیاہے کہ ان کو211ہجری میں اسماعیل بن حماد کی معزولی کے بعد بصرہ کاقاضی بنایاگیاتھااورانتقال تک وہ بصرہ کے قاضی رہے۔اس زمانہ میں بصرہ علمی لحاظ سے عالم اسلام کے گنے چنے شہروں میں شمار ہوتاتھا،ایسے میں ان کوبصرہ کاقاضی بنانایہ بتاتاہے کہ قاضی یحییٰ بن اکثم ان کے علم وفضل سے کتنے متاثر تھے۔

قضاکے باب میں ان کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ اپنے حکموں کا اجراء اورفیصلوں کانفاذ بہت جلد کرایاکرتے تھے؛چنانچہ ابن ندیم ان کی اس خصوصیت کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔"کان فقیہا سریع الانفاذ للحکم"وہ فقیہ تھے اورحکم کو جلد نافذ کرتے تھے۔(الفہرست لابن الندیم)

تصنیفات وتالیفات[ترمیم]

انھوں نے تصنیف وتالیف کی خدمات بھی انجام دی ہیں،اوربہ طورخاص اصولِ فقہ میں گراں قدر اضافہ کیاہے،ان کے تقریباًتمام ہی ترجمہ نگاروں نے ان کے نام کے ساتھ ”صاحب التصانیف“ کااضافہ کیاہے،جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ تصنیف وتالیف میں بہت مشہور تھے اوران کی تصانیف کی خاصی تعداد رہی ہوگی، اصول فقہ کے مختلف موضوعات پر انھوں نے مستقل کتابیں لکھی ہیں،

1- کتاب الحجة

2- کتاب خبر الواحد

3- کتاب الجامع

4- کتاب اثبات القیاس

5- کتاب اجتہاد الرائے [5]

امام جصاص رازی درج ذیل کتاب کا اضافہ کیاہے:

6- الحجج الصغیر (الفصول فی الاصول)

صاحب ہدیة العارفین نے درج ذیل کتابوں کا اضافہ کیاہے۔

7-الحجة الصغیرة فی الحدیث.(اس کاپتہ نہیں چلاکہ آیا یہ وہی الحجج الصغیر ہے جس کا تذکرہ جصاص رازی نے کیاہے یاپھر الگ سے کوئی اورکتاب ہے)

8- کتاب الجامع فی الفقہ.

9- کتاب الحج.

10-کتاب الشھادات.

11-کتاب العلل.

12-فی الفقہ.[6]

انتقال[ترمیم]

امام عیسیٰ بن ابان کاانتقال کب ہوا، اس بارے میں مورخین کے اقوال مختلف ہیں،بعض نے 220ہجری قراردیاہے؛جب کہ بعض نے 221ہجری بتایاہے؛لیکن 221کاقول زیادہ معتبرہے؛ کیونکہ خلیفہ بن خیاط جن کا انتقال عیسیٰ بن ابان کے محض۱۹-۲۰سال بعد ہوا ہے،انھوں نے عیسیٰ بن ابان کی تاریخ وفات۲۲۱ ہجری ہی بتائی ہے،علاوہ ازیں خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں سند کے ساتھ نقل کیاہے کہ ماہ صفر کی ابتداء 221ہجری میں ان کاانتقال ہوگیا۔اسی طرح حافظ ذہبی نے تاریخ الاسلام اورسیر اعلام النبلاء میں بھی تاریخ وفات 221ہجری ہی ذکرکیاہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الفہرست لابن الندیم1/255، دارالمعرفة بیروت،لبنان
  2. لسان المیزان 6/256
  3. الاعلام للزرکلی2/61
  4. سیراعلام النبلاء
  5. الفہرست لابن الندیم
  6. ھدیة العارفین أسماء المؤلفین وآثارالمصنفین1/804،دار إحیاء التراث العربی، بیروت-لبنان