محمد یعقوب نانوتوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد یعقوب نانوتوی
معلومات شخصیت
پیدائش 2 جولا‎ئی 1833  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نانوتہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 21 دسمبر 1884 (51 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش نانوتہ
دہلی
اجمیر  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
مہتمم دارالعلوم دیوبند   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1867  – 21 دسمبر 1884 
عملی زندگی
پیشہ عالم، محدث، فقیہ، مفسر، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

مولانا محمد یعقوب دار العلوم کے اس عظیم منصب پر سب سے پہلے حضرت مولانا محمد یعقوب نا نو توی فائز ہوئے انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا مملوک علی اور حصرت شاہ عبد الغنی مجددی دہلویؒ سے تحصیل علوم کی تھی۔ حضرت مولانا محمد یعقوب نا نو توی 13صفر 1394مطابق 1834ء کو نا نو تہ میں پید ا ہوئے۔ منظور احمد غلام حسین اور شمس الضحی ان کے تا ریخی نام ہیں قران مجید نا نو تہ میں حفظ کیا محرم 1206ہ مطابق 1844ء میں جب ان کی عمر گیا رہ سال کی تھی ان کے والد ماجد ان کو دہلی لے گئے میزان منشعب اور گلستاں سے انکی تعلیم شروع ہوئی تمام علوم متدا ولہ اپنے والد سے حاصل کیے البتہ علم حدیث کی تحصیل حضرت شاہ عبد الغنی مجددی سے کی علوم منقول و معقول میں اپنے والد ماجد کے مثل تھے۔ ذی الحجہ 1267ہ مطا بق 1851ء میں حضرت مولانا مملوک علی کا انتقال ہو گیا اس کے ایک سال بعد تک قیام رہا بعد ازں اجمیر کے کو ر منٹ کا لج میں ان کا تقرر ہو گیا مکتوبات یعقوبی میں لکھا ہے : اجمیر میں 30روپے پر ملا ز م ہو کر تشریف لے گئے اس وقت آپ بہت کم سن تھے پر نسپل اجمیر کا لج نے دیکھ کر کہا مو لوی تو اچھا ہے مگر نو عمر اور کم سن ہے پر نسپل کی سفارش پر اپ کو ڈپٹی کلکٹر ی کا عہد ہ دیا گیا مگر اپ نے قبول نہیں کیا اس کے بعد اپ کو سو رو پیے ماہوا را پر بنارس بھیجا گیا وہاں سے ڈیڑ ھ سو روپیکی تنخواہ پر ڈپٹی انسپکٹر بنا کر سہا رنپور میں تقرر ہو ا ہیہیں عزر کا وا قعہ پیش آیا اس زمانے میں نا نو تہ میں قیام رہا سرکاری ملازم سے استفا دے کر سبکدوش ہو گئے اور میرٹھ میں منشی ممتاز علی کے مطبع میں ملا زم ہو گئے سوا نح قا سمی میں خود لکھتے ہیں منشی ممتاز علی صاحب نے میر ٹھ میں چھا پہ خا نہ قائم کیا مولوی محمد قاسم صاحب کو پرانی دو ستی کے سبب بلا لیا وہی تصحیح کی خدمت تھی یہ کام برائے نام تھا مقصود ان کا مو لوی صاحب کو اپنے رکھنا تھا احقر اس زمانے میں بریلی اور لکھنوء ہو کر میر ٹھ میں اسی چھاپہ خا نے میں نو کر ہو گیا 1283ہ مطابق 1866ء میں دیو بند تشریف لائے اور یہاں تدریس کی منصب پر فائز ہوئے دار العلوم کے پہلے شیخ الحدیث تھے ان کے فیص و تعلیم و تر بیت نے بہت سے ممتاز علما پیدا کیے جو آسمان و علم وفضل کے آفتاب و ما ہتا ب بن کر چمکے 19سال مدرسہ میں 77طلبہ نے آپ سے علوم نبو یہ کی تحصیل کی جن میں مولا نا عبد الحق پور قا ضوی 249 مولانا عبد اللہ 249مولانا فتح محمد تھا نوی 249 شیخ الہند مولانا محمود حسن دیو بندی 249مولانا خلیل احمد 249 مولانا احمد حسن امرو ہوئی 249 مولانا فخر الحسن گنگو ہی 249 مولانا حکیم منصور خاں مراد آباد ی 249 مفتی عزیزالرحمان دیو بندی 249 مولانا حا فظ محمد احمد اور مولانا حبیب الر حمان عثمانی رحہماللہ جیسے مشا ہیر اور یگانہ ء علما شا مل ہیں حضرت مولانا یعقوب او ران کے تلا مزہ کے فیض و تعلیم کو دیکھتے ہو ئے اگر یہ کہا جا ئے تو مبا لغہ نہ ہو گا کہ اس وقت ہند و پاک 249 بنگلہ دیش 249افغا نستان اور وسط ایشیامیں جس قدر علما ء مو جو د ہیں ان کی بڑی تعداد اسی خوان علم کی ز لہ رہا ہے ان کیک حلقہ ء درس کی نسبت اشرف السوا نح میں لکھا ہے کہ : حضرت مولانا یعقوب جو علاوہ ہر فن میں ماہر ہو نے کے بہت بڑے صا حب با طن اور شیخ کا مل بھی تھے حضرت مولانا اشرف علی تھا نوی نے مولانا ممدوح سے بڑے بڑ ے فیو ض و بر کات حا صل کیے اور زیادہ تر علوم عجبیہ و غر یبہ انہیں سے حا صل کیے اور مو لانا کے اکثر اقوال او احوال و حقا ئق و معارف نہا یت لطف لے کر بیان فر ما یا کرتے ہیں اور آنکھو ں سے زار و قطار آنسوجا ری ہیں حضرت مولانا محمد یعقوب نے حضرت حاجی امدا داللہ مہا جر مکی سے سلوک و معرفت کے مقا مات طے کیے تھے اکثر جزکیف کی حا لت طاری رہتی تھی دنوی علا ئق کے جا نب مطلق تو جہ نہ تھی انہوں نے جو خطوط اپنے ایک مرید منشی محمد قا سم نیا نگری کے نام لکھے ہے وہ سلوک و معرفت کامر قع اور حقا ئق تصوف کا دستور العمل ہیں مسالک کے لیے وہ ایک جا مع ہدا ہت نامہ ہیں با و جو د کہ مزاج میں جلال اور جزب کا غلبہ تھا اور اس رعب اور اثر کا یہ عالم تھا کہ لو گ بات کر تے ہو ئے گھبر تے تھے مگر اپ ہر شخص سے نہایت اخلاق و توضع کے سا تھ پیش آتے تھے اپنے بزرگو ں کی طرح مزاج میں بڑا استغنا تھا جس کا اندا ز اس و ا قعہ سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک صاحب نے جن کو مولانا کے مزاج میں برا دخل تھا عرص کیا فلاں نواب صاحب کی بڑی خوا ہش ہے کہ ایک مر تبہ اپ ان کے یہاں تشریف لے جا ئیں مولانا نے فرما دیا ہم نے سنا ہے کہ جو مو لوی نواب صاحب کے یہاں جا تاہے نواب صاحب اس کو سو رو پہ دیتے ہیں اس لیے وہ شا ید دو سو رو پئے دے دیں سو دو سو ہمارے کتنے دن کے لیے ہیں ہم وہاں جا کر مو لویت کے نام پر دھبہ نہ لگا ئیں گے مکتوبات یعقوبی کے دیبا چہ نگار حکیم امیر احمد کلھتے ہیں اپ کے صد ہا شا گرد بلاد ہندوستان کا بل و بخارا وغیرہ میں مو جود ہیں آپ جامع علوم معقول و منقول ہیں فا صل اجل اور عالم ہو نے کے علاوہ سالک و مجزوب بھی تھے اور جسیے کہ اپ رو حانی طیب تھے اسی طرح امراص ظا ہری کا بھی علاج کر تے تھے اپ نہا یت خوش وضع 249خوش خلق 249 خوش خو 249 خوش لہجہ 249و خوش گفتگو تھے بڑ ے صا حب کمال و مکا شفات تھے ا پ سے بہت پشین گو ئیاں صادر ہو ئیں جن میں بعض کا صدور ہو چکا ہے جو باقی ہے ان کا انتظار ہے اپ نے دو حج کیے پہلا حج 1277ہ مطا بق 1860ء میں حضرت مولا نا قا سم قدس سر ہ کی معیت میں کیا گیا حضرت مولانا مظفر حسین کا نددھلوی اور حضرت حاجی عا بد دیو بندی بھی ساتھ تھے یہ سفر پنجاب اور سندھ کے را ستے سے کیا گیا بیاض یعقوبی میں خود انہوں نے اس سفر کی مفصل یا دا شت لکھی ہے درسرے حج کے لیے 1294دہ میں تشریف لے گئے اس مرتبہ بھی علما کی ایک جماعت کی معیت میں رہی حضرت مولانا نا نو توی حضرت مولانا گنگوہی حضرت مولانا مظہر نا نو توی اور حضرت مو لا نا منیر نا نو توی حضرت مولانا حکیم ضیاء الدین اور حضرت مو لانا محمود حسن دیو بندی وغیرہ حضرات کے علاوہ اس مقدس قا فلے میں تقریباً سو آدمی تھے مو لوی جما ل الدین بھو پالی 249حضرت مولانا مملو ک علی کے شا گرد تھے انہوں نے اس تعلق کے بنا پر حضرت مولانا یعقوب کو ایک بڑے مشا ہرہ پر بھو پال طلب فرما یا مگر اٖپ نے دار العلوم کی قلیل تنخواہ کے با و جو د دار العلوم سے ترک تعلق کو پسند نہ فرما یا اور اپنے بھانجے مو لانا خلیل اختر کو بھو پال بھیج دیا ۔ مولانا یعقوب شعر و شا عری سے ذوق رکھتے تھے گمنام تخلص تھا انہو ں نے دہلی میں بزمانے طا لب علمی غالب مو من 249 ذوق 249 اور آزردہ جیسے یگانہ روز گار شعرا کو دیکھا تھا اور ان کی مجا لس سخن کی ہنگا موں سے ان کے کان آشنا تھے اپنے ایک خط میں مستر شد منشی محمد قا سم نیا نگری کو مشو رہ دیا ہے کہ وہ دررسودا اور ذوق کے کلام کوبڑھا کریں اس میں درد واثر ہے مولانا کا فا رسی اور اردو کلام بیاض یعقوبی میں درج ہے اشعار میں قدر کلام کے ساتھ سو زو گدا ز اور دد ر وا ثر پا یا جا تا ہے تصانیف میں تین رسا لے ان کی یاد گار رہیں سوانح قا سمی اگر چہ بہت مختصر حیات ہے مگر زبان اور بیان اور حالات اور وا قعات کے لحاظ سے بہت قا بل قدر۔ ان کا دوسر ا مجموعہ مکتوبات یعقوبی ہے جو 64خطو ط پر مشتمل ہے خطوط استفسارات کے جو ا بات میں لکھے گئے ہیں ان میں راہ سلوک کی دشوا ریوں کا حل مسا ئل شرعیہ کا ذکر اور طریقت و سلوک کا دستور العمل بیان کیا گیا ہے ۔

تیسرا مجموعہ بیاض یعقوبی ہے یہ سفر حج کے حا لات 249 کتب و احا دیث کی اسا نید منظو مات اور عملیات و غیر ہ پر مشتمل ہے آخر میں طبی نسخے درج ہیں حضرت مولانا اشرف علی تھا نوی نے دونوں مجموعوں پر حسب ضرورت خواشی تحریر فر مائے ہیں وفات سے چند دن پہلے وطن ما لوف نا نو تہ تشریف لے گئے تھے و ہیں بمرض طا عون 3ربیع الاول 1302ہ مطابق 1885ء کو داعی اجل کو لیبک کہا ۔