فضل الرحمن عثمانی دیوبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فضل الرحمن عثمانی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش دیوبند‍‍، ضلع سہارنپور، برطانوی ہند
مقام وفات دیوبند‍‍، ضلع سہارنپور، برطانوی ہند
مدفن مقبرہ قاسمی، دیوبند
قومیت Flag of India.svg بھارت
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی دہلی کالج
پیشہ ڈپٹی انسپکٹر مدارس
وجۂ شہرت دار العلوم دیوبند کے بانی

فضل الرحمن عثمانی دیوبندی (پیدائش: 1831ء – وفات: 1907ء) دار العلوم دیوبند کے بانیان میں سے ایک، اس کی مجلس شوریٰ کے رکن تاسیسی اور ہندوستان کے مشہور عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں اور گھر کے بزرگوں سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی کالج میں داخل ہوئے جہاں مملوک علی نانوتوی سے منطق و فلسفہ اور دیگر علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں شاہ عبد الغنی دہلوی سے کتب احادیث پڑھیں۔ فارسی اور اردو کے بلند پایہ شاعر تھے، متعدد نظمیں، قصیدے اور مرثیے وغیرہ ان کے ذوقِ شعری کے آئینہ دار ہیں۔ دیوبند میں 1883ء میں ایک زبردست طاعون پھیلا۔ اس طاعون کی تباہ کاریوں کو انہوں نے فارسی زبان میں نظم کیا ہے، اس نظم کا تاریخی نام "قصۂ غمِ دیبن (1301ھ)" ہے جو دیوبند کے حالات میں یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ فضل الرحمٰن عثمانی کو مادۂ تاریخ کے نکالنے میں بھی بڑا کمال حاصل تھا، چنانچہ دار العلوم کی رودادوں میں ان کی بہت سی نظمیں اور تاریخی قطعات درج ہیں۔ علاوہ ازیں وہ محکمۂ تعلیم میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس کے عہدے پر فائز تھے۔ بریلی، بجنور اور سہارنپور وغیرہ اضلاع میں تعینات رہے۔ 1857ء میں بریلی میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس تھے، اس ہنگامے میں جب محمد احسن نانوتوی کو بریلی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تو اپنے بعض معاملات انہی کے سپرد کیے تھے۔[1] سنہ 1907ء میں وفات پائی۔ ندوۃ المصنفین دہلی کے ناظم اعلیٰ عتیق الرحمٰن عثمانی انہی کے پوتے تھے۔

ولادت[ترمیم]

فضل الرحمن عثمانی 1247ھ بمطابق 1831ء کو دیوبند کے مشہور عثمانی خانواده میں پیدا ہوئے۔[2]

ذوق شعری[ترمیم]

فارسی و اردو میں بلند پایا شاعر تھے ، متعدد نظمیں و قصیدے اور مرثیہ وغیرہ ان کے ذوق شعری کے آئینہ دار ہیں ، دیوبند میں 1301ھ مطابق 1883ء میں ایک زبردست ہیضہ کی وبا پھیل گئی تھی ، اس وبا کی تباہ کاریوں کو انھوں نے فارسی میں نظم کیا ہے ، اس نظم کا تاریخی نام قصہ غم دیبن (1301) ہے ، دیوبند کے حالات میں یہ ایک تاریخی دستاویز ہے، مادہ تاریخ نکالنے میں بڑا کمال حاصل تھا ، دار العلوم رودادوں میں ان کی بہت سی نظمیں اور تاریخی قطعات درج ہیں ، محکمہ تعلیم ڈپٹی انسپکٹر مدارس کے عہدے پر فائز تھے ، بریلی ، بجنور اور سہارنپور وغیرہ اضلاع میں تعینات رہے ، 1857ء میں بریلی میں ڈپٹی انسکٹر مدارس تھے ، اس ہنگامے میں جب محمد احسن نانوتوی کو بریلی چھوڑنا پڑا تو اپنے بعض معاملات انہی کے سپرد کیے تھے ۔

تحریک قیام دار العلوم[ترمیم]

1857ھ کی جنگ نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا ، خصوصا دہلی و صوبہ اتر پردیش کی جہاں سے یہ جنگ شروع اور ختم ہوئی ، اس کے سبب دہلی جو علوم کا مرکز تھا یکسر تباہ ہو گیا ، جو لوگ دوسرے مقامات پر ملازمت پر تھے ، چھوڑ چھاڑ کر اپنے وطن کو لوٹنے لگے ، دیوبند محمد قاسم نانوتوی کی سسرال بھی ہوتی تھی ، اس لیے ان کا یہاں آنا جانا کثرت سے تھا ، دیوبند کے سید محمد عابد دیوبندی (حاجی عابد حسین) ، فضل الرحمن عثمانی دیوبندی ذوالفقار علی دیوبندی سے نانوتوی کا مودت و محبت کا رشتہ قائم تھا ، ان حضرات کا وقت علم کے احیاء اور امت کی حالت پر غور و حل تلاش کرنے میں صرف ہونے لگا ، یہ بات دہرائی جانے لگی کہ دہلی کے بجایے اب دیوبند کو علم ، اصلاح ، اجتماعیت کا مرکز بنایا جایے ۔ سابقہ طرز یہ ہوا کرتا تھا کہ شاہی خزانوں سے علما کی خدمت کی جاتی تھی ، ان کے وطائف مقرر ہوتے تھے ، لیکن انگریز کے دور میں یہ ممکن نہ تھا ، بلکہ وہ تو ہندوستان و مسلمانوں کی دشمنی پر آمادہ تھے یا اوقاف ہوا کرتے تھے جس سے ضروریات کی تکمیل ہو ، مگر اس وقت اتنی گنجائش نہ تھی کہ اس کی بھی کوئی شکل ہو سکے ، ادھر قیام مرکز کا داعیہ بھی شدید تھا ، اس لیے اب ضرورت کہ سابقہ طرز بھروسا کرنے کے بجایے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا جایے ، نانوتوی کے اصول ہشت گانہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اکابر کے سامنے وہ طریقہ عوامی چندہ کا تھا ، جس میں نہ حکومت کی مالی امداد شامل ہو اور نہ جاگیر داروں کی ، تاکہ سرکاری اثرات سے یہ تعلیم بالکل آزاد رہے ۔[3]

چندے کی تحریک[ترمیم]

چندے کی فراہمی کے سلسلہ میں جس نے سب سے پہلے عملی اقدام کیا وہ حاجی عابد حسین تھے ، حاجی فضل حق نے نانوتوی کی سوانح مخطوطہ میں دار العلوم دیوبند کے لیے چندے کا طریقہ کار اختیار کرنے کی تفصیل بیان کرتے ہویے لکھا ہے کہ :

ایک دن بوقت اشراق حضرت سید محمدعابد سفید رومال کی جھولی بنا اور اس میں تین روپیے اپنے پاس سے ڈال چھتے کی مسجد میں تن تنہا مولوی مہتاب علی مرحوم کے پاس تشریف لایے ، مولوی صاحب نے کمال کشادہ پیشانی سے چھ روپے عنایت کئے اور دعا کی، اور بارہ روپے مولوی فضل الرحمن صاحب نے ، اور چھ روپے اس مسکین (سوانح مخطوطہ کے مصنف حاجی فضل حق صاحب) نے دیے ، وہاں سے اٹھ کر مولوی ذوالفقار علی سلمہ اللہ تعالیٰ کے پاس آیے ، مولوی صاحب ماشاء اللہ علم دوست ہیں، فورا بارہ روپے دیے ، اور حسن اتفاق سے سید ذوالفقار علی ثانی دیوبندی وہاں موجود تھے ، ان کی طرف سے بھی بارہ روپے عنایت کیے ، وہاں سے اٹھ کر یہ درویش بادشاہ صفت محلہ ابو البرکات پہنچے ، دو سو روپے جمع ہوگیے ، اور شام تک تین سو روپے ، پھر تو رفتہ رفتہ خوب چرچا ہوا اور جو پھل پھول اس کو لگے وہ ظاہر ہیں، یہ قصہ بروز جمعہ دوم ماہ ذی قعدہ 1282ھ میں ہوا ۔

[4]

وفات[ترمیم]

فضل الرحمن عثمانی نے 1325ھ بمطابق 1907ء میں وفات پائی اور محمد قاسم نانوتوی کے قبر کے نیچے ان کی تدفین ہوئی۔

اولاد و احفاد[ترمیم]

فضل الرحمن عثمانی نے کل تین شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی کو چھوڑ کر بقیہ دو بیویوں سے دس اولادیں یعنی 9 لڑکے اور ایک لڑکی ہوئیں۔ چند بیٹوں کے نام حسب ذیل ہیں:

  1. عزیز الرحمن عثمانی مفتی اعظم دار العلوم دیوبند
  2. حبیب الرحمن عثمانی دیوبندی مہتمم دار العلوم دیوبند
  3. شبیر احمد عثمانی محدث و مہتمم دار العلوم دیوبند[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مولانا احسن نانوتوی از حاجی فضل حق، صفحہ 53
  2. تاریخ دار العلوم دیوبند جلد 1 صفحہ 135
  3. http://www.besturdubooks.net/2014/03/23/tareekh-e-darul-uloom-deoband/
  4. تاریخ دار العلوم دیوبند جلد 1 صفحہ 150 و 151
  5. http://www.darululoom-deoband.com/urdu/