بیان القرآن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیان القرآن حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی یہ تفسی رہے

بیان القرآن[ترمیم]

بیان القرآن تقریباً چھ سال کی مدت میں مکمل ہوئی اور پہلی بار 1326ھ میں "اشرف المطابع" تھانہ بھون سے طبع ہوئی،

خصوصیات[ترمیم]

تفسیر بیان القرآن کی خصوصیات یہ ہیں:

  1. قرآن مجید کا نسبتاً آسان اور سلیس ترجمہ کیا ہے جو بامحاورہ ہونے کے باوجود الفاظِ قرآنی سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے،
  2. ترجمہ میں خالص محاورات استعمال نہیں کیے گئے ہیں؛ کیونکہ محاورات ہرجگہ ومقام کے الگ الگ ہوتے ہیں، یہ ترجمہ شاہ رفیع الدین کے ترجمہ کے قریب ہے،
  3. نفس ترجمہ کے علاوہ جس مضمون پر توضیح کی ضرورت تھی یاکوئی شبہ خود قرآن کے مضمون سے بظاہر پیدا ہوتا ہے اس جگہ" ف"بناکر اس کی تحقیق ووضاحت کردی گئی ہے، لطائف ونکات یاطویل وعریض حکایات وفضائل اور فقہی احکام کی تفصیلات سے تفسیر کو طویل نہیں کیا گیا ہے، # جس آیت کی تفسیر میں بہت سے اقوال مفسرین کے ہیں، ان میں جس کو ترجیح معلوم ہوئی صرف اس کو نقل کیا گیا ہے،
  4. خلافیات کی تفسیر میں صرف مذہب حنفی کو لیا گیا ہے اور دوسرے مذاہب بشرط ضرورت حاشیہ میں لکھ دیے گئے ہیں،
  5. نفعِ عوام کے ساتھ افادہ خواص کا خیال کرتے ہوئے ایک حاشیہ عربی میں بڑھادیا گیا ہے، جس میں غیر مشہور لغات، وجوہ بلاغت، مغلق تراکیب، خفی استنباط، فقہیات وکلامیات اور اسباب نزول وغیرہ پر گفتگو کی گئی ہے، یہ نہایت ہی عالمانہ تفسیر ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے لیے بہت ہی نفع بخش ہے؛ بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اُردو کی "جلالین" ہے۔