سید احمد دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید احمد دہلوی نہایت جلیل القدر علما میں سے تھے ، منقولات کے ساتھ معقولات میں امام وقت تھے ، خصوصا فن ریاضی اور علم ہیئت میں تو انا کا آوازہ یورپ تک پہنچا ہوا تھا ، محمد قاسم نانوتوی کہتے تھے :

مولوی سید احمد کو خداوند کریم نے فنون ریاضی میں وہ استعداد اور مناسبت عطا فرمائی ہے کہ ان فنون کے موجدوں کو بھی شاید اتنی ہی ہو ۔

اشرف علی تھانوی اپنی کتاب مثنوی زیر و بم میں ان کے بارے میں رقمطراز ہیں :

جناب مولانا (سید احمد ) بالخصوص در فن ریاضیہ ید طولیٰ می داشتند و کمال مہارت این فنون مشہور و معروف ۔

[1]

دار العلوم دیوبند میں[ترمیم]

قیام دار العلوم کےتیسرے سال 1285ھ مطابق 1868ء میں مدرس دوم کی حیثیت سے بلایے گئے ، محمد یعقوب نانوتوی کی وفات کے بعد دار العلوم دیوبند کے صدر المدرسین بنایے گئے ، 6 سال تک اس وہدہ پر رہے ، اس عرصہ 28 طلبہ نے ان سے دروہ حدیث کی تکمیل کی ۔

حج و بیعت[ترمیم]

صدر مدرسی کے دوران 1306ھ میں حج کیا ، محمد قاسم نانوتوی سے باطنی استفادہ کیا ۔[2]

وفات[ترمیم]

1307ھ مطابق 1885ء میں دار العلوم سے علیحدگی اختیار کرکے بھوپال گئے اور وہیں انتقال کیا ۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]