احتشام الحق تھانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احتشام الحق تھانوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1915  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تھانہ بھون، مظفر نگر، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اپریل 1980 (64–65 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چنائے، بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1915–اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (9 اگست 1947–11 اپریل 1980)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم، محقق، فقیہ، خطیب  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

خطیب پاکستان مولانا احتشام الحق تھانوی (پیدائش: 1915ء — وفات: 11 اپریل 1980ء) تقسیم ہندوستان سے قبل اور بعد ازاں پاکستان کے مشہور نامور خطیب، عالم، فقیہ اور محقق تھے۔ وہ دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل عالم تھے اور 1980ء تک پاکستان کے علما کے حلقوں میں اُن کی موجودگی بطور نمائندہ کے تسلیم کی جاتی تھی۔

سوانح[ترمیم]

عالم دین قصبہ تھانہ بھون (یو۔ پی، بھارت ) میں پیداہوئے۔ دارلعلوم دیوبند سے دینی علوم میں سند فضیلت لی۔ تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔ ١٩٤٧ء میں کراچی آ گئے اور جیکب لائین میں مسجد تعمیر کرائی۔ حافظ قرآن اور خوش الحان قاری تھے۔ ١٩٤٨ء میں ٹنڈوالہ یار (سندھ) میں دیوبند کے نمونے پر ایک دارلعلوم قائم کیا۔ مدراس (ہندوستان) میں، جہاں سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کیا۔[1] اللہ تعالی نے آپ کو بے پناہ کمالات سے نوازا تھا، آپ کی تلاوت اور شعر خوانی میں عجیب حسن پایا جاتا تھا کہ سامع مسحور ہوجاتا تھا۔[2] ان کی تلاوت قرآن شبکہ پر دستیاب ہے۔[3] 15مارچ 2019 کو سانحہ کرائسٹ چرچ (نیوزی لینڈ) مسجد میں 50مسلمانوں کی شہادت کے بعد ہونے والے نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کے اجلاس کے شروع میں آپ کے فرزند مولانا نظام الحق تھانوی نے قرآن کی تلاوت کا شرف حاصل کیا یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا پہلا موقع تھا۔

وفات[ترمیم]

خطیب پاکستان کے مداحوں اور عشاق نے حضرت کے روحانی علوم و فیوض سے خوب استفادہ کیا اور 3 اپریل سے 10 اپریل تک خطیب پاکستان کو روز و شب مصروف رکھا، 10 اپریل 1980 کو بعد نماز عشا ایک عظیم الشان سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولانا کے سحر انگیز بیان نے اہل مدراس کے ایمان کو نئی جلابخشی، یہ خطاب اور عام اجتماع مولانا احتشام الحق تھانوی کی زندگی کا آخری خطاب اور آخری اجتماع بھی ثابت ہوا اور 11 اپریل 1980ء کو نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے کہ اچانک حضرت کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]