محمد سالم قاسمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خطیب الاسلام

مولانا محمد سالم قاسمی
دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم
عہدہ سنبھالا
25 مارچ 1982 سے 3 ستمبر 2014
جانشینمحمد سفیان قاسمی
ذاتی
پیدائش8 جنوری، 1926
وفات14 اپریل 2018(2018-40-14) (عمر  92 سال)
مدفنقاسمی قبرستان، دیوبند
مذہباسلام
والدین
دور حکومتبھارت
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیعلم الکلام، اسلامی فلسفہ
قابل ذکر کاممبادی التربیت الاسلامی
مرتبہ
استاذاشرف علی تھانوی
اعزازاتامام شاہ ولی اللہ ایوارڈ، امام محمد قاسم نانوتوی ایوارڈ، نشانِ امتیاز (مصر)

محمد سالم ابن محمد طیب ابن محمد احمد ابن محمد قاسم صدیقی نانوتوی (1926—2018) بھارت کے جید علما میں شمار ہوتے تھے، آپ نے 1982 میں مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیری کے ہم راہ چل کر دار العلوم وقف دیوبند کی بنیاد ڈالی۔ آپ کے علوم و معارف کی وجہ سے لوگ آپ کو خطیب الاسلام کہتے ہیں۔[1]

تمہید[ترمیم]

محمد سالم قاسمی؛ خانوادۂ قاسمی کے گل سر سبد اور قاری محمد طیب قاسمی کے خلفِ اکبر و جانشین اور دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم اور اس کے سرپرست تھے۔ نیز اشرف علی تھانوی کے صحبت یافتہ اور شاگرد بھی ہیں، زمانۂ تعلیم کے ان کے رفقا میں کئی ممتاز شخصیات میں سے ایک نام سید رابع حسنی ندوی کا بھی ہے، جو ہدایہ کے سبق میں ان کے ساتھ تھے، ان کے معاصرین اور رفقائے تعلیم میں فدائے ملت مولانا اسعد مدنی اور مولانا عتیق الرحمن نعمانی ابن منظور نعمانی وغیرہ شامل ہیں۔[2]

ولادت باسعادت[ترمیم]

اس علمی خانوادہ اور بزرگ والدین کی گود میں آپ کی ولادت بروز جمعہ بتاریخ 22 جمادی الثانی 1344ھ مطابق 8 جنوری 1926ء کو دیوبند میں ہوئی۔[2]

تعلیمی مرحلہ[ترمیم]

آپ نے 1367ھ مطابق 1948ء میں فراغت حاصل کی، آپ کے دورۂ حدیث شریف کے اساتذہ میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا اعزاز علی صاحبؒ، علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ اور سید فخر الحسن صاحبؒ وغیرہ ہیں ـ[2]

درس و تدریس[ترمیم]

تعلیمی مراحل سے فراغت کے فوراً بعد ہی دار العلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس مقر ر ہوئے اور ابتداً نور الایضاح اور ترجمۂ قرآن کریم کا درس آپ سے متعلق رہا، پھر بعد میں بخاری شریف، ابوداؤد شریف، مشکوٰۃ شریف، ہدایہ، شرح عقائد وغیرہ کتابیں آپ سے متعلق رہیں۔[3]

دار العلوم وقف دیوبند کی جانب سفر[ترمیم]

1403ھ مطابق 1982ء میں دار العلوم دیوبند میں پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد آپ نے انظر شاہ مسعودی کشمیری کے ہمراہ ہوکر دار العلوم وقف دیوبند کے نام سے دوسرا دار العلوم قائم کیاـ آپ 1982 سے تادمِ حیات دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم رہے ـ[3][4][5]

تعلق بیعت و ارشاد[ترمیم]

مولانا محمد سالم نے بیعت و ارادت کا تعلق شاہ عبد القادر رائے پوری سے قائم کیا، لیکن اصلاح و تربیت اپنے والد ماجد مولانا قاری طیب صاحب سے لی اور ان کے مجازِ بیعت و ارشاد ہو کر ان کے متوسلین اور خلفاء کی تربیت فرمائی۔ مولانا کے سلوک و ارشاد میں تربیت و اجازت پانے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے، اجازت یافتہ حضرات کی تعداد 100 سے متجاوز ہے۔

تصانیف[ترمیم]

مولانا محمدسالم قاسمی کی کچھ مایاناز کتابیں درج ذیل ہیں [3][6]

  • مبادی تربیت الاسلامی (عربی)
  • جائزہ ترجمہ قرآن کریم
  • تاجدار ارضِ حرم کا پیغام
  • مردانِ غازی
  • ایک عظیم تاریخی خدمت
  • سفر نامہ برما
  • خطبات خطیب الاسلام (آپ کا مختلف بیانات کا مجموعہ، 5 جلدوں میں چھپ چکا)ـ

عہدے و مناصب[ترمیم]

مولانا محمدسالم قاسمی نے اپنی زندگی میں درجِ ذیل مناصب پع خدمات انجام دیں:[2]

انعامات و اعزازات[ترمیم]

  • مصری حکومت کی طرف سے برِّصغیر کے ممتاز عالم کا نشانِ امتیاز۔[2]
  • امام قاسم نانوتوی ایوارڈ۔ [8]
  • حضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈ چہارم[1][9]

اور بہت سے انعامات و اعزازات سے آپ کو نوازا گیا ہے ۔

وفات[ترمیم]

مولانا محمد سالم قاسمی کا انتقال 14اپریل 2018 کو دوپہر 2 بجے کے قریب ہوا۔ اور اسی رات کو دیوبند کے قاسمی قبرستان میں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔[5] [10]

ضروری نوٹ[ترمیم]

1 ^ آپ کو شاہ ولی ایوارڈ چہارم شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ سے ملا جو کاکانگر، نئی دہلی میں واقع ہےـ یہ ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف ابجکٹیو اسٹڈیز، جامعہ نگر، نئی دہلی سے مختلف ہے اور اس ادارے سے بھی شاہ ولی اللہ ایوارڈ جاری ہوتا ہےـ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dr. Mohammad Shakaib Qasmi؛ Sheikh Ghulam Nabi Qasmi. The Life and Times of Hakimul Islam Mawlana Qari Muhammad Tayyib (PDF) (بزبان انگریزی). Hujjat al-Islam Academy, Darul Uloom Waqf, Deoband. صفحہ 194. اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2019. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ "Obituary: Maulana Muhammad Salim Qasmi, an ocean of knowledge". TwoCircles.net. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  3. ^ ا ب پ "Hazrat Maulana Muhammad Salim Qasmi (RA)". dud.edu.in. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  4. M. Burhanuddin Qasmi. MAULANA MOHAMMAD SALIM QASMI AND HIS CONTRIBUTION THROUGH ALL INDIA MUSLIM PERSONAL LAW BOARD (AIMPLB). اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  5. ^ ا ب "Deoband rector Maulana Salim Qasmi no more". RisingKashmir.com. 24 جولا‎ئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  6. "Maulana Muhammad Salim Qasmi: Distinguished, Respected and Accomplished Theologian, Islamic Scholar and Guide". Medium.com. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  7. A Brief Report (Islamic Fiqh Academy) Year 1989-2014 (PDF). Islamic Fiqh Academy, India. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. [مردہ ربط]
  8. "Imam Muhammad Qasim Nanotwi award to Maulana Salim Qasmi". MilliGazette.com. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  9. "Waliullah Award presented to Maulana Salim". MilliGazette.com. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019. 
  10. "Rector Darul Uloom Waqf, Deoband Maulana Mohammad Salim Qasmi dies at 92". Ummid.com. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2019.