اسرار الحق قاسمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسرار الحق قاسمی
تفصیل=

رکن پارلیمان
کشن گنج سے
مدت منصب
2009 – 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png تسلیم الدین
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1942  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کشن گنج  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 7 دسمبر 2018 (76 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش تارابری گاؤں، کشن گنج ضلع
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت انڈین نیشنل کانگریس[1]  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 5   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان[1]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد اسرار الحق قاسمی (15 فروری 1942ء7 دسمبر 2018ء) بھارت کے صوبہ بہار کے ایک عالم دین، سیاست دان، کالم نگار اور کشن گنج نشست سے رکن پارلیمان تھے۔[2] نیز جمعیت علمائے ہند کے صوبائی صدر، آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر، دار العلوم دیوبند کے رکن شوریٰ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن بھی رہے۔ سیمانچل کے پسماندہ علاقے کی ترقی و بہبود کے لیے انہوں نے آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن قائم کیا۔ ساتھ ہی کشن گنج میں ایک بڑے قطعہ اراضی پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ بھی قائم کی۔ بھارت کے اردو اخبارات میں اکثر ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے۔

تعلیم[ترمیم]

محمد اسرار الحق نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور 1964ء میں دار العلوم دیوبند سے سند فراغت پائی۔

ازدواجی زندگی[ترمیم]

اسرار الحق کا نکاح 16 مئی 1965ء کو ہوا، جس سے انہیں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ ان کی زوجہ کا انتقال 9 جولائی 2012ء میں ہوا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

سنہ 2009ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی ٹکٹ پر کشن گنج کی نششت سے عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔

2014ء کے عام انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کے امیدوار دلپ جیسوال کے خلاف مقابلہ کیا اور اپنی نشست برقرار رکھی اور پورے صوبہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

عہدے و رکنیت[ترمیم]

اسرار الحق قاسمی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سرگرم رکن رہے، جمعیت علمائے ہند کے دیرینہ کارکن اور اس کے سکریٹری بھی رہے۔ نیز آل انڈیا ملی کاونسل کے نائب صدر اور اس کے علاوہ مختلف ملی و سماجی اداروں کے بانی، روح رواں اور سرگرم رکن رہے۔

خدمات[ترمیم]

اسرار الحق قاسمی کی سرپرستی میں کئی مدارس، اسکول اور ادارے اپنے کام انجام دے رہے ہیں اور ان کی مدت کار میں ہی کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے 224 ایکڑ (91 ہیکٹر) زمین پر مرکز قائم ہوا۔

سیمانچل میں آئے سیلاب سے پریشان حال عوام کی بھی انہوں نے زبردست خدمت کی اور ان تک ہر ممکن امداد پہنچائی گئی۔ نیز سیمناچل میں تعلیم کو فروغ دیا اور پسماندہ لوگوں کی مختلف طور سے مدد کی۔

آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ملی گرلز کالج جس میں فی الوقت 500 بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

قلمکاری[ترمیم]

اسرار الحق قاسمی نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور ان کا حق ادا کیا۔ ان کے مضامین بھارت کے مختلف اخبارات، جرائد و رسائل میں شائع ہوا کرتے تھے۔

بحیثیت مقرر[ترمیم]

اسرار الحق قاسمی ایک اچھے مقرر بھی تھے۔ دینی جلسوں میں عوام کو خطاب کرتے اور پارلیمینٹ اور دیگر سیاسی تقریبات میں بھی تقریریں کیا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

6 دسمبر، 2018ء کی رات سیرت کے ایک جلسہ میں تقریر کی۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد صبح 3 بجے کے قریب دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور 7 دسمبر 2018ء کو 76 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]