محمد زکریا کاندھلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد زکریا کاندھلوی
محمد زکریا کاندھلوی
Muhammad Zakariya Kandhalvi.jpg
معروفیت شیخ الحدیث
قطب الاقطاب
برکات العصر
پیدائش Muhammad Zakariya2 فروری 1898(1898-02-02)Kandhla, North-Western Provinces, British India
وفات 24 مئی 1982(1982-50-24) (عمر  84 سال)Medina, Saudi Arabia
رہائش Jannat al-Baqi`
Medina, Saudi Arabia
قومیت ہندوستانی (1898ء-1976ء)
سعودی (1976ء- مئی1982ء)
نسل Indian
پیشہ Islamic scholar, Sufi shaykh, Author, Teacher
مذہب اسلام
فرقہ Muslim
فقہ حنفی
تحریک دعوہ
شعبۂ عمل علم حدیث، تصوف
کارہائے نماياں شیخ الحدیث
قطب الاقطاب
برکات العصر
مادر علمی Mazahir Uloom Saharanpur
سلسلۂ تصوف سلسلہ چشتیہ
پیر/شیخ Khalil Ahmad Saharanpuri
(Granted khilafah)

محمد زكريا کاندھلوی، اكابرین علمائے ديوبند ميں سے تھے۔ محمد یحیی کاندھلوی کے بیٹے، محمد الیاس کاندھلوی کے بھتیجے اور محمد یوسف کاندھلوی کے چچا زاد بھائی ہیں۔

ان کی مشہور تصنیف فضائل اعمال ہے۔ یہ کتاب تبلیغی جماعت کا تبلیغی نصاب (فضائل اعمال) ہے۔ اس کتاب میں اعمال اسلامی کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ جنہیں تبلیغی جماعتیں گھر، محلہ، مسجد اور تبلیغی سفر میں بطور خاص اسکی تعلیم کرتے ہیں۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

قاعدہ[ترمیم]

مظفر نگر کے ایک نیک صالح بزرگ ڈاکٹر عبدالحی سے قاعدہ بغدادی پڑھا۔[1]

حفظ القرآن[ترمیم]

اپنے والد ماجد محمد یحیی کاندھلوی سے قرآن حفظ کیا۔ مولانا زکریا فرماتے ہیں کہ قرآن یاد کرانے کا والد صاحب کا طریقہ انوکھا تھا کہ ایک صفحہ یاد کرنے کو دے دیتے اور فرماتے کہ 100 مرتبہ پڑھو پھر چھٹی۔ اس طرح مولانا نے قرآن پاک حفظ کر لیا۔[1]

علوم اسلامیہ[ترمیم]

اردو اور فارسی کتب[ترمیم]

1328ھ یعنی 12 یا 13 سال کی عمر تک گنگوہ میں قیام رہا ، اس دوران اردو کے دینی رسائل بہشتی زیور وغیرہ اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھ لیں جو زیادہ تر شفیق اور بزرگ چچا مولانا محمد الیاس نے پڑھائیں۔[1]

عربی کتب[ترمیم]

عربی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ سہارنپور آکر 1328ھ میں شروع ہوا۔ مولانا یحییٰ عام متعارف درسی کتب کے خلاف تھے انکا اپنا انداز تعلیم تھا۔ صرف و نحو کی درسی کتابیں خاص طرز اور ترمیم و اضافہ کے ساتھ پڑھیں، کافیہ کے ساتھ مجموعہ اربعین اور پارہ عم کا ترجمہ پڑھایا،نفحۃ الیمن کےصرف باب ثالث کے قصائد پڑھے، اسکے بعد قصیدہ بردہ ، بانت سعاد، قصیدہ ہمزیہ پڑھے۔

مدرسہ[ترمیم]

حضرت گنگوہیؒ کی وفات کے بعد مولانا یحیٰ ؒ کو مولانا خلیل احمدؒ نے اپنے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں بطور استاذ و مدرسین کے بلوا لیا۔ اس طرح مولانا زکریاؒ کی تعلیم کا سلسلہ سہارنپور میں شروع ہوگیا، آپ نے بقیہ درسیات کی تکمیل کی ، کتب منطق مولانا عبدالوحید سنبھلی (استاذ مظاہر العلوم) اور ناظم الامور مولانا عبدالطیف سے پڑھیں۔[1]

درسیات کی تکمیل[ترمیم]

مولانا زکریا نے نصاب کی منتہیانہ کتب مولانا یحییٰ سے ختم کیں مولانا یحیٰ کا پڑھانے اصول پرانے اساتذہ جیسا تھا۔ مولانا کے یہاں طالب علم کا مطالعہ کرکے سبق کو پورے طور پر حل کرکے لانے کی پابندی تھی وہ صرف وہیں رہنمائی اور مدد فرماتے تھے طالب علم کی قوت مطالعہ اور فہم کی رسائی نہ ہو اور شرح حواشی سے مدد نہ ملتی۔ اس طرز پر شیخ زکریا نے اپنے والد سے درسیات کی تکمیل کی۔

حدیث کا آغاز[ترمیم]

7 محرم الحرام 1332ھ کو ظہر کی نما زکے بعد مشکوٰۃ شریف شروع ہوئی، پہلے مولانا یحیٰ نے غسل فرمایا، پھر مشکوٰۃ شریف کی بسم اللہ کرائی، خطبہ پڑحا، پھر قبلہ رو ہوکر دیر تک دعاکی ، شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ یہ تو نہیں معلوم ہوسکا کہ والد صاحب نے کیا کیا دعائیں کیں، لیکن میری ایک ہی دعا تھی اور وہ یہ کہ حدیث کا سلسلہ دیر سے شروع ہوا، اللہ کرے کبھی چھوٹے نہیں۔

دورہ حدیث[ترمیم]

1333ھ میں دورہ حدیث کی ابتدا ہوئی ، یہی سال تھا جب مولانا سہارنپوری نے طویل قیام کے ارادہ سے حجازکا قصد کیا۔ شیخ کا خیال تھا کہ مجھے نہ ملازمت کرنی ہے اور نہ کوئی عجلت ہے، ایک سال میں دورہ حدیث مکمل کرنے کی کوئی پابندی نہیں اسلیئے اپنے والد مولانا یحییٰ کے درس میں ابوداؤد شروع کردی ، ترمذی شریف کو حضرت سہارنپوری کی واپسی پر ملتوی رکھا تھا لیکن بعض اسباب کی بنا پر ترمذی، بخاری اور ابن ماجہ کے سواء بقیہ کتب صحاح والد صاحب ہی سے پڑھیں یہ سال بڑی محنت اور انہماک کا تھا اس کا بڑا اہتمام تھا کہ کوئی روایت بھی بے وضو نہ پڑھی جائے۔ مسلسل پانچ چھ گھنٹے سبق ہوتا تھا ، اس میں کبھی کبھی ہفتہ عشرہ میں سبق کے درمیان وضو کی ضرورت پیش آتی تھی اور صرف اتنی دیر کے لیے اٹھنا ہوتا تھا تو ہم درس سبق مولانا کے سبق کے حرج کی وجہ سے اپنا سبق روک لیتے۔[1]

بیعت[ترمیم]

شوال 1333ھ میں حضرت سہارنپوری حجاز مقدس کے طویل قیام کا اردہ فرمارہے تھے اور لوگ کثرت کیساتھ بیعت ہو رہے تھے۔ شیخ زکریا فرماتے ہیں کہ اپنے اندر بھی بیعت جذبہ پیدا ہوا اور حضرت سہارنپوری سے مولانا عبداللہ اور شیخ زکریا کو بیعت کیا۔ مولانا عبداللہ صاحب کی دھاڑیں مار مار کو رونے کی وجہ سے مولانا یحیٰ اور شاہ عبدالرحیم چھت کی منڈیر پر منظر دیکھنے آگئے۔ مولانا یحیٰ کو تعجب ہوا کہ بلا علم و اطلاع کے انہوں نے اتنا برا کاجم کرلیا لیکن حضرت رائے پوریؒ نے اس جرات بڑی تصویب فرمائی اوو بہت دعائیں دیں۔[1]

والد کا انتقال[ترمیم]

1334ھ میں مولانا محمد یحییٰ کا انتقال ہوا۔والد صاحب نے 8000 روپے قرضہ میں چھوڑے تھے جسے مولانا زکریا نے والد کی وفات کے بعد اپنے ذمہ لے لیا اور سب کو خطوط کے ذریعے اطاع دی اور رفتہ رفتہپ تمام قرضہ اتاردیا۔

تدریس پر تقرر[ترمیم]

یکم محرم 1335ھ کو حضرت شیخ زکریا کا بحثیت مدرس مدرسہ مظاہرالعلوم میں تقرر ہوا اور 15 روپے تنخواہ مقرر ہوئی۔

ابتدائی اسباق[ترمیم]

بطور مدرس ابتداء "اصول الشاشی" ، "علم الصّیغہ" ،نحو، علم منطق ، فقہ اور عربی کی ابتدائی کتابوں سے ہوئی۔ اس وقت شیخ زکریاؒ کی عمر 20 سال تھی۔

اہم اسباق[ترمیم]

اگلے تعلیمی سال شوال 1335ھ میں پہلے سال سے اونچی اور درسی و فنی لحاظ سے اہم کتابیں پڑھانے کو ملیں، تیسرے سال شوال 1336ھ میں "مقامات حریری" اور "سبع معلقہ" بھی درس میں آئے۔[1]

بخاری و مشکوٰۃ[ترمیم]

1337ھ میں ہدایہ اوّلین ، حماسہ وغیرہ اور رجب 1341ھ میں بخاری شریف کے تین پارے بھی حضرت سہارنپوریؒ کے حکم و اصرار سے منتقل ہوکر آئے اور انکے پڑھانے میں بھی شیخ سے غیر معمولی اہلیت، قوت، مطالعہ اور فنی مناسبت کا اظہار ہوا، اسکے بعد آپ کو مشکوٰۃ شریف مل گئی 1344ھ تک مشکوٰۃ آپ کے زیر سایہ رہی۔

مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ سے قرابت[ترمیم]

شیخ زکریا فرماتے ہیں کہ مولانا خلیل احمد سہارنہوریؒ سے قرابت کا یہ عالم تھا کہ:

ایک اجنبی نے میرے ہر وقت کی حاضری پر حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سے کہا یہ حضرت کے صاحجزادے ہیں؟

حضرت نے فرمایا صاحجزادہ سے بڑھ کر۔[2]

عقد نکاح[ترمیم]

مولانا یحییٰ کے انتقال کے بعد انکی اہلیہ کو ہمیشہ بخار رہتا یہاں تک کہ اس بخار نے بعد میں تپ دق کی صورت اختیاع کرلی۔ اس اثنا میں شیخ زکریا ؒ کی والدہ کے اصرار پر مولانا رؤف الحسن صاحبؒ کی صاحجزادی بی بی امۃ المتین صاحبہ سے نسبت نکاح طے پاگیا۔ مولانا رؤف الحسن کی دوسری صاحجزادی مولانا الیاس کے نکاح میں تھیں۔ اس طرح شیخ زکریا اور مولانا الیاس چچا اور بھتیجا آپس میں ہم زلف ہوئے۔

والدہ کا انتقال[ترمیم]

1335ھ کو والدہ کا انتقال ہوا، محمد خلیل سہارنپوری نے نماز جنازہ پڑھائی۔

عقد ثانی[ترمیم]

شیخ زکریا کی پہلی اہلیہ کی وفات جو مولانا رؤف الحسن کی صاحجزادی تھی 5 ذی الحجہ 1355ھ بمطابق 17 فروری 1937ء میں ہوئی، انکی طبیعت اب بالکل یکسوئی اور علمی و تصنیفی انہماک کی طرف مائل تھی اور عقد ثانی کا کوئی خیال نہیں تھا[3]۔ اپنی آپ بیتی میں شیخ زکریاؒ لکھتے ہیں کہ:

"مرحومہ کے انتقال کے بعد مین اپنے مشاغل علیمہ کی وجہ سے بالکل ہی یہ طے کرچکا تھا کہ دوسرا نکاح نہیں کروں گا کہ بڑا حرج ہوگا"[2]۔ لیکن شفیق چچا نے جو باپ کے قائم مقام تھے شیخ کی اس تجرد کو پسند نہیں کیا دوسرے شفیق بزرگوں کی بھی یہی خواہش تھی کہ شیخ کا گھر پھر آباد ہوجائے۔ اس لیے چار مہینے بھی پورے نہیں گزرے تھے کہ شیک کا عقد ثانی شفیق چچا مولانا الیاس کی صاحجزادی (مولانا یوسف کی ہمشیرہ) عطیہ صاحبہ سے 8 ربیع الثانی 1354ھ بمطابق 18 جون 1937ء کو ہوگیا۔ نکاح نطام الدین دہلی میں ہوا ، اس موقع پر حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ بھی تشریف لے آئے، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کو سہارنپور اسٹیشن پر معلوم ہوا تو پیغآم بھیجا کہ نکاح مین پڑھوں گا، چنانچہ دہلی تشریف لائے اور بعد نماز جمعہ نکاح پڑھایا۔[4]

پہلا حج[ترمیم]

1338ھ میں محمد خلیل سہارنپوری نے دوبارہ حج کا عزم کیا تو مرشد کی ہم رکابی کا جذبہ رفاقت کا محرک ہوا، یہ شیخ زکریا پہلا حج تھا۔ شعبان 1338ھ کو روانہ ہوئے۔بمبئی میں اپنے تمام رفقاء کو دعوت طعام پر بلوایا۔بحری سفر تھا راستہ میں رمضان کا مہینہ آیا تراویح کا اہتمام جہاز ہی میں کیا۔ حضرت سہارنپوری اور شیخ زکریا دونوں حضرات نے قرآن سنایا مکہ معظمہ حاضری ہوئی تو مولانا محب الدین نے جلد ہندوستان جانے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ یہاں تو قیامت آنے والی ہے۔[5] مولانا محب الدین حاجی امداداللہ مہاجرمکی کے ممتاز خلیفہ اور بڑے صاحب کشف و ادراک بزرگ تھے۔ مکہ میں قیامت سے مراد شریف مکہ حسین بن علی کی بغاوت اور نجدیوں کے حملہ کی طرف اشارہ تھا۔[6]

مدینہ طیبہ حاضری[ترمیم]

اس زمانے میں حجاز میں سخت بدامنی تھی۔ مدینہ طیبہ کے راستہ میں قافلوں کو بے دھڑک دن دیہاڑے لوٹ لیا جاتاتھا۔ حجاج بہت سخت خطرات و مصائب کیساتھ مدینہ منورہ پہنچتے تھے۔ شوال کا مہینہ شروع ہوا حضرت شیخ قافلہ کے امیر مقرر ہوکر مدینہ ھاضری کے لیے پہنچے۔ تاہم راستہ سکون سے طے ہوا۔مدینہ میں ایک ماہ تک قیام کیا۔

وفات[ترمیم]

24 مئی 1982ء 05:40 منٹ پر مغرب سے پہلے مکۃالمکرمہ کے ہسپتال میں چند روز زیر علاج رہنے کے بعد دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

تدفین[ترمیم]

مسجد الحرام میں نماز جنازہ کے بعد مدینۃ منورہ میں واقع قبرستان جنت البقیع میں آپ کی تدفین کی گئی۔ مقامی افراد کے مطابق اتنا بڑا جنازہ شاید ہی کہیں دیکھا گیا ہو۔[5]

خلفاء[ترمیم]

http://www.scribd.com/doc/112008074/Khulafa-e-Hazrat-Shaykhul-Hadith-Muhammad-Zakariyya-r-a

شجرہ نسب[ترمیم]

شجرہ نسب شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 1.4 1.5 1.6 حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ، از مولانا ابوالحسن علی الندویؒ
  2. ^ 2.0 2.1 رسالہ فضائل زبان عربی ، از شیخ زکریا ؒ
  3. آپ بیتی ، نمبر 3، صفحہ 87، از شیخ زکریا کاندھلویؒ
  4. آپ بیتی ، نمبر 3، صفحہ 161-162، از شیخ زکریا کاندھلویؒ
  5. ^ 5.0 5.1 حضرت مولانامحمد زکریا کاندھلوی، صفحہ 73، از ابوالحسن علی الندوی
  6. حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، صفحہ 73 ، حاشیہ 2 ،از مولانا ابوالحسن علی الندوی