حکیم ترمذی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امام ترمذی سے مغالطہ نہ کھائیں۔
حکیم ترمذی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 820[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترمذ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 905 (84–85 سال) اور سنہ 910 (89–90 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترمذ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ سنی صوفی
فقہی مسلک حنفی
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تصوف، حنفی  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

حکیم ترمذی مشہور صوفی ہیں جو حکیم ترمذی کے نام سے مشہور ہیں،

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسمِ گرامی ابو عبد اللہ محمد بن علی بن الحسن بن بشر حکیم ترمذی تھا۔ کنیت: ابوعبداللہ تھی۔آپ کا پورا نام ہے، آپ کاشمار اکابر صوفیا میں ہوتا ہے

تحصیلِ علم[ترمیم]

آپ نے اپنے والد، قتیبہ بن سعید، صالح بن عبد اللہ ترمذی، علی بن حجر سعدی، یعقوب دورقی اور دیگر ائمہ سے اکتسابِ علم کیا۔

سیرت وخصائص[ترمیم]

مشائخ و اولیاء میں آپ بہت بلند مقام پر فائز تھے۔ صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ حدیث پر عبور تھا۔ امام ابوحنیفہ کی صحبت کے فیض یافتہ تھے خضرعلیہ السلام سے ملاقات تھی۔ آپ کی تصانیف میں سے ختم الاولیاء ، ’نوادر الاصول من احادیث الرسول‘‘ اور ’’ الریاضۃ و ادب النفس‘ تو یادگار زمانہ کتابیں ہیں۔ آپ نے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھنا شروع کی مگر مکمل نہ کرسکے۔ ابتدائی زمانہ میں ایک ساتھی طالب علم کے ساتھ طلب علم میں روانہ ہوئے اپنی والدہ سے اجازت حاصل کی، والدہ رو پڑیں اور کہنے لگیں مجھے کس کے حوالے کرتے جا رہے ہو؟ یہ بات آپ کے دل پر اثر انداز ہوئی، سفر کا ارادہ ترک کر دیا، آپ کے ساتھی روانہ ہو گئے پانچ ماہ گزر گئے مگر طلب علم اور حکم والدہ کی کشمکش باقی تھی۔ ایک دن قبرستان میں بیٹھے تھے کہ زار زار رو رہے تھے اور افسوس کر رہے تھے کہ میں نے اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیا ہے۔ میرے دوست عالم فاضل بن کر واپس آئیں گے میں ان کے سامنے جاہل اور شرمسار رہوں گا ناگاہ ایک نورانی شکل نمودار ہوئی اور فرمانے لگے علم کے حصول کے لیے یہ بے قراری واقعی قابلِ قدر ہے۔ میں ہر روز یہاں آیا کروں گا اور تمہاری علمی تشنگی دور کرتا رہوں گا تم اپنے ساتھیوں سے پیچھے نہیں رہو گے۔ آپ نے کہا یہ تو آپ کی عنایت ہوگی۔ چنانچہ اس بزرگ نے آپ کو لگاتار تین سال تک پڑھایا۔ یہ ساری محنت اور عنایت ان کے شوقِ علم اور خدمتِ والدہ کے صلے میں تھی۔ حقیقت میں یہ استاد بزرگ حضرت خضر تھے ،تعلیم مکمل ہونے کے بعد حضرت خضر ہفتہ وار تشریف لاتے اور اپنے شاگرد کی مجلس کو تازہ فرماتے۔ ۔ خواجہ ترمذی نے اپنی عمر میں ایک ہزار ایک بار اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا۔

تاریخِ وصال[ترمیم]

آپ کا سن وفات21 صفر المظفر 255ھ لکھا ہے۔ [3]

دو شخصیات[ترمیم]

بعض لوگ امام ترمذی اور حکیم ترمذی کو بھی ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی دو شخصیات ہیں امام ترمذی مشہور امام حدیث ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ السلمی الترمذی ( ولادت 209ھ وفات 279ھ) ہیں جو جامع الترمذی اور الشمائل النبویہ کے جامع اور مرتب ہیں-[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.ibnarabisociety.org/articles/hakimtirmidhi.html
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb124598267 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ۔سفینۃ الاولیاء
  4. الاعلام مؤلف: خير الدين زركلی الدمشقی