ابو الحسن اشعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابوالحسن الاشعری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ابو الحسن اشعری
(عربی میں: أبو الحسن الأشعري خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
الأشعري.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 873[1][2][3][4][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 935 (61–62 سال)[2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،  فلسفی،  مفسر،  فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات،  علم کلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ابو الحسن اشعری عباسی دور کے مشہور مسلمان عالم دین اور علم کلام کے بانی تھے۔ 873ء میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔ چالیس برس تک معتزلی عقائد کے حامی رہے۔ پھر مسئلہ قدر کے بارے میں معتزلہ سے اختلاف ہو گیا۔ اور اس کے خلاف کئی کتب لکھیں۔ اسلام کے علمی عروج کے زمانے میں فلسفے کے دو مکاتب فکر کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ ایک مکتب فکر معتزلہ کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسرا اشاعرہ یا اشعرئیین کے نام سے۔ آخرالذکر مکتب فکر اپنے بانی ابوالحسن اشعری کی طرف منسوب ہے۔ اشعری نے تقریباً اپنی تمام تصانیف میں معتزلہ کا جواب دیا ہے اور ان کے دلائل کو بے بنیاد ثابت کیا ہے۔ ان کی تصانیف بے شمار تھیں مگر بیشتر ضائع ہوگئیں۔

آپ نے پہلی مرتبہ دلائل سے اور عقلی بنیاد پر اسلامی عقائد اور نظریات کی صداقت ثابت کی اور ایک نئے علم کی بنیاد ڈالی جو علم کلام کہلاتا ہے۔ جس کا مقصد عقلی دلائل سے اسلام کی سچائی ثابت کرنا ہے۔ وہ تقریباًً ڈھائی سو کتب کے مصنف تھے جن میں اَلاِبَانہ عن اصول الدیانۃ، مقالات الاسلامیین اور کتاب اللمع فی الرد علی الزیع والبدع مشہور ہیں۔ آخری کتاب کا ترجمہ 1953ء میں انگریزی میں شائع ہوا۔ اشعری مکتب فکر کے مبلغین میں امام غزالی کا نام سرفہرست ہے۔ آپ نے 935ء میں بغداد میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ عنوان : Новая философская энциклопедия
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12184603x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12184603x — اخذ شدہ بتاریخ: 9 نومبر 2017 — مدیر: کتب خانہ کانگریس
  4. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/abu-al-hasan-al-ashari — بنام: Abu al-Hasan al-Ashari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  5. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6sz0hkf — بنام: Abu al-Hasan al-Ash'ari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. آسٹریلیا شخصی آئی ڈی: https://trove.nla.gov.au/people/898732 — بنام: Abū al-Ḥasan ʻAlī ibn Ismāʻīl Ashʻarī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12184603x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ