شرف الدین بوصیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شرف الدین بوصیری
(عربی میں: محمد البوصيري ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 7 مارچ 1212  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محافظہ بنی سیوف  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1294 (81–82 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Mameluke Flag.svg سلطنت مملوک  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابو العباس المرسی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر، الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری، تصوف  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں قصیدہ بردہ شریف  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

شیخ شرف الدین امام بوصیری شہرہ آفاق قصیدہ بردہ کے خالق ہیں

پیدائش اور تعلق[ترمیم]

امام بوصیری کی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ (1211ء) میں ہوئی پورا نام شرف الدین ابو عبد اللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبد اللہ الصنہاجی،البوصیری ایک مصری شاعر تھے جو نسلاً بربر تھے۔ وہ مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں، جہاں اُنہوں نے ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔

بیعت[ترمیم]

امام بوصیری سلسلہ شاذلیہ میں ابو العباس احمد المراسی جو خلیفہ تھے ابو الحسن شاذلی کے سے بیعت کی

شاعری[ترمیم]

اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔

وفات[ترمیم]

امام بوصیری کے سال وفات میں اختلاف ہے 694ھ یا 695ھ یا 696ھ 1294ء میں وفات اسکندریہ میں ہوئی فسطاط میں امام شافعی کے قرب میں مدفون ہیں

قصیدہ بردہ[ترمیم]

قصیدہ بردہ کے لکھنے پر بھی ایک واقعہ ہے کہ اس قصیدے کو لکھنے سے پہلے، امام بوصیری کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مں ایک قصیدہ کہا۔ رات کوخواب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خوش ہو کر اپنی چادر مبارک ان پر ڈال دی ہے۔ صبح کو اٹھے تو بالکل تندرست تھے۔ بردہ عربی میں چادر کو کہتے ہیں۔ اس لیے یہ قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اسے قصیدہ میمیہ بھی کہتے ہیں۔ اس میں 162 شعر ہیں۔ اس کے بعد بھی بوصیری نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کئی قصیدے کہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13518677t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13518677t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. شرح قصیدہ بردہ پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، مکتبہ دانیال،لاہور