امام بوصیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش اور تعلق[ترمیم]

امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ (1211ء-1294ء) پورا نام شرف الدین ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری ایک مصری شاعر تھے جو نسلاً بربر تھے۔ وہ مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں، جہاں اُنہوں نے ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔

شاعری[ترمیم]

اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جوکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔

قصیدہ بردہ شریف[ترمیم]

قصیدہ بردہ شریف کے لکھنے پر بھی ایک واقعہ ہے کہ اس قصیدے کو لکھنے سے پہلے، امام بوصیری کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مں ایک قصیدہ کہا۔ رات کوخواب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خوش ہو کر اپنی چادر مبارک ان پر ڈال دی ہے۔ صبح کو اٹھے تو بالکل تندرست تھے۔ بردہ عربی میں چادر کو کہتے ہیں۔ اس لیے یہ قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اسے قصیدہ میمیہ بھی کہتے ہیں۔ اس میں 162 شعر ہیں۔ اس کے بعد بھی بوصیری نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کئی قصیدے کہے۔