امام بوصیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ شرف الدین امام بوصیری شہرہ آفاق قصیدہ بردہ کے خالق ہیں

پیدائش اور تعلق[ترمیم]

امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہکی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ (1211ء) میں ہوئی پورا نام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنہاجی،البوصیری ایک مصری شاعر تھے جو نسلاً بربر تھے۔ وہ مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں، جہاں اُنہوں نے ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔

بیعت[ترمیم]

امام بوصیری سلسلہ شاذلیہ میں ابو العباس احمد المراسی جو خلیفہ تھے ابو الحسن شاذلی کے سے بیعت کی

شاعری[ترمیم]

اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جوکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔

وفات[ترمیم]

امام بوصیری کےسال وفات میں اختلاف ہے 694ھ یا 695ھ یا 696ھ 1294ء میں وفات اسکندریہ میں ہوئی فسطاط میں امام شافعی کے قرب میں مدفون ہیں

قصیدہ بردہ شریف[ترمیم]

قصیدہ بردہ شریف کے لکھنے پر بھی ایک واقعہ ہے کہ اس قصیدے کو لکھنے سے پہلے، امام بوصیری کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مں ایک قصیدہ کہا۔ رات کوخواب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خوش ہو کر اپنی چادر مبارک ان پر ڈال دی ہے۔ صبح کو اٹھے تو بالکل تندرست تھے۔ بردہ عربی میں چادر کو کہتے ہیں۔ اس لیے یہ قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اسے قصیدہ میمیہ بھی کہتے ہیں۔ اس میں 162 شعر ہیں۔ اس کے بعد بھی بوصیری نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کئی قصیدے کہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح قصیدہ بردہ پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی،مکتبہ دانیال لاہور