سید ابراہیم دسوقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابراہیم دسوقی
Mausoleum of Saint Ibrahim El-Desouki.JPG
مسجد دسوق میں مزارِ ابراہیم دسوقی
الدسوقی، ابا العينين، برہان الملہ والدين، شيخ الاسلام، امام الدين، قطب الاقطاب، القطب الامجد، الامام الاوحد، سيد السادات، رافع المہمات، صاحب الولا والكشف والاطلاعات، بحر الورود والبركات، لسان الحضرات، كعبہ الحقيقہ، سلطان اہل العون والصون، الحسيب، النسيب، الشريف، قاضی العشاق، صاحب السيفين، صاحب الرمحين، عريس المملکہ
ولادت: 633ھ - 1236ء/653ھ - 1255ء
مقام ولادت: دسوق، Mameluke Flag.svg سلطنتِ مملوکیہ
وفات: 676ھ - 1277ء/696ھ - 1296ء
مقام وفات: دسوق، Mameluke Flag.svg سلطنتِ مملوکیہ
مزار: مسجد سيد ابراہيم الدسوقی
فقہ: شافعی
فرقہ: اہل سنت
درجہ: قطب
عرس: 2 اکتوبر
2 اپریل (رگبی)
مؤثر شخصیات: نجم الدين اصفہانی
ابوالحسن شاذلی
متاثر شخصیات: احمد عرب شرنوبی
احمد بن ادریس فاسی
جلال الدین سیوطی
محمد عثمان عبده البرہانی
مسجدِ سید ابراہیم دسوقی

سید ابراہیم دسوقی اِمام شیخ ابراہیم الدسوقی بہت بڑے اقطاب میں شمار ہوتے ہیں۔

نام و لقب[ترمیم]

سید ابراہیم الدسوقی القرشی الہاشمی (عربی میں نام السید إبراھیم الدسوقي) شجرۂ نسب یوں ہے: العارف باللہ السید ابراہیم ابن ابو المجد ابن قریش ابن محمد ابن محمد ابن النجا ابن عبد الخالق ابن ابو القاسم الزکی ابن علی ابن محمد الجواد ابن علی الرضا ابن موسیٰ الکاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد الباقر ابن علی زین العابدین ابن الحسین ابن الامام سیدنا علی۔

ولادت[ترمیم]

تذکرہ نگاروں نے سید اِبراہیم دسوقی کا سن ولادت 623ھ لکھا ہے۔ دریائے نیل کے کنارے پر واقع مصر کے مشہور شہر دسوق میں آپ نے شرفِ تولد حاصل کیا۔ آپ کے والد گرامی عارف باللہ ابوالمجد عبد العزیز ولی صفت، اور اپنے وقت کے چنیدہ اہل اللہ میں سے تھے۔ ولایت و معرفت کی اس منزل تک پہنچنے میں عارفِ کبیر محمد بن ہارون سنہوری کی صحبت و رفاقت کا بڑا حصہ تھا۔ والدۂ ماجدہ فاطمہ بھی وقت کی ولیہ اور مشہور عابدہ تھیں۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد ابراہیم الدسوقی کے والد ماجد نے انہیں پورے طور پر اپنی تربیت و تعلیم میں لے لیا، اور ان پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دی۔ حفظ قرآن کی سعادت پانے کے بعد انہوں نے فقہ شافعی میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔

والد گرامی نے تربیت و سلوک کے مراحل طے کرنے کی خاطر دسوق ہی میں اُن کے لیے ایک خلوتِ خاص بنا دی، جہاں ابراہیم دسوقی کوئی بیس سال تک خلوت گزیں رہے۔ اس دوران والدِماجد کا اِنتقال ہو گیا تواُن کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے خلوت سے باہرتشریف لائے۔

پھر جب خلوت گزینی کے خیال سے خلوت گاہ کی طرف بڑھے تو لوگوں نے آپ کا دامن تھام لیا، اور خدا کی قسمیں دینے لگے کہ اب آپ اندر نہ جائیں، ہمارے حال پر کرم فرمائیں، خلق خدا آپ کے فیض کی پیاسی ہے۔ تاہم آپ نے تحصیل علم وفضل کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ تصوف و طریقت کے اَسرار ورموز حاصل کرنے کے لیے عارف باللہ عبد الرزاق بن محمود جزولی کے درس سے وابستہ ہو گئے۔ مزید تشنگی عارف باللہ نجم الدین بکری اور نور الدین طوسی سے پوری کی۔ جو اس وقت آسمانِ سہروردیت کے دوچمکتے ستارے تصور کیے جاتے تھے۔ جب سید ابراہیم دسوقی نے فضل وکمال کے زینے طے کر لیے، تو اَب درس و اِفادہ کی بساط بچھائی، اور خلق خدا کی ہدایت وتعلیم کا آغاز فرمایا۔

اسناد طریقت[ترمیم]

شیخ ابراہیم الدسوقی نے خرقہ خلافت شیخ نجم الدین محمود الاصفہانی کے ہاتھوں زیب تن کیا۔ انہوں نے الشیخ نور الدین عبد الصمد النظری سے۔ انہوں نے الشیخ نجیب الدین علی الشیرازی سے۔ انہوں نے الشیخ شہاب الدین السہروردی سے۔ انہوں نے الشیخ ابو نجیب ضیا الدین عبد القاہر السہروردی سے۔ انہوں نے الشیخ وجیہ الدین سے۔ انہوں نے الشیخ فرج الزنجانی سے۔ انہوں نے الشیخ ابو العباس النہاوندی سے۔ انہوں نے الشیخ محمد بن حفیف الشیرازی سے۔ انہوں نے الشیخ القاضی رویم ابو محمد البغدادی سے۔ انہوں نے ا مام الطریقہ و سید الطائفہ ابو القاسم الجنید البغدادی سے۔ انہوں نے اپنے ماموں سری السقطی سے۔ انہوں نے الشیخ معروف الکرخی سے۔ انہوں نے الشیخ داؤد الطائی سے۔ انہوں نے الشیخ حبیب العجمی سے۔ انہوں نے الشیخ الحسن البصری سے۔ انہوں نے قائد الاولیاء سیدنا الامام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے۔ اور انہوں نے سید الخلق و سید الانبیاء الکرام سیدنا و مولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے حاصل کیا۔

القاب[ترمیم]

الدسوقی،السید السند، الحسیب النسیب، قطب الاولیاء، مرشد العلماء، تاج العارفین، امام الزاہدین، شیخ الاسلام، عارف باللہ، بحر شریعت۔ابا العينين، برہان الملہ والدين، امام الدين، قطب الاقطاب، القطب الامجد، الامام الاوحد، سيد السادات، رافع المہمات، صاحب الولا والكشف والاطلاعات، بحر الورود والبركات، لسان الحضرات، كعبہ الحقيقہ، سلطان اہل العون والصون، ، الشريف، قاضی العشاق، صاحب السيفين، صاحب الرمحين، عريس المملکہ

اہل علم کی شہادتیں[ترمیم]

عارف باللہ علامہ شیخ ابوبکر الانصاری شیخ کی سیرت بیان کرتے ہوئے عقود اللآل میں فرماتے ہیں : شیخ سید ابراہیم الدسوقی فضل و کمال کے مرتبہ بلند پر فائز تھے۔ اور روحانیات کے اَحوال میں ماہرانہ شان کے مالک تھے۔ علم موارد میں انہیں ید طولیٰ حاصل تھا۔ اور تصرف و نفاذ میں اپنی نظیر آپ تھے۔ کشف و کرامات کے بے تاج بادشاہ تھے۔ وہ خداوند قدوس کے ان برگزیدہ بندوں میں سے ایک تھے جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نعمت وجود سے نوازا۔ خلق خدا کے لیے رحمت بنا کر ظاہر کیا۔ خاص وعام میں یکساں مقبولیت سے سرفراز کیا۔ عالم میں تصرف کا اختیار بخشا۔ ولایت کے احکام پر متمکن فرمایا۔ حقیقتوں کو ان کے لیے بے نقاب کر دیا۔ خرقِ عادات ان کے ہاتھوں کی دھول بنا دیا۔ غیبی خبروں کو اُن کی زبان سے بلوایا۔ ان کے ہاتھوں سے عجائب قدرت کا ظہور فرمایا۔ اور (مہد) گہوارے میں اُن سے روزہ رکھوایا۔

اِرشادات و فرمودات[ترمیم]

عارف باللہ شیخ امام سید اِبراہیم الدسوقی ارشاد فرماتے ہیں :

من صدق في الإقبال علی اللّٰہ، انقلبت لہ الأضداد فعاد من کان یسبہ یحبہ، ومن کان یقاطعہ یواصلہ .
یعنی جو ٹوٹ کر اللہ سے لو لگائے ( اور بس اُسی کا ہو رہے پھر دیکھے کہ) ناممکن چیزیں اس کے لیے کیسے ممکن ہو جاتی ہیں، حتیٰ کہ گالیوں سے نوازنے والا بھی اسے محبت کے تحفے پیش کرے گا۔ اور قطع تعلق کرنے وال ارشتہ خاطر میں بندھتا نظر آئے گا۔
لا یکمل رجل حتی یفرَّ عن قلبہ وسرہ وعلمہ ووہمہ وفکرہ، وعن کل ما خطر ببالہ غیر ربہ .
یعنی مرد اُس وقت تک درجۂ کمال پر فائز نہیں ہوتا جب تک یادِ مولا کے سوا اپنے قلب وباطن (کے وسوسوں )، علم (کے جھمیلوں )، وہم وفکر(کے بکھیڑوں ) حتیٰ کہ دل پر گزرنے والے جملہ خطرات سے بھی باہر نہ نکل آئے۔

من لیس عندہ شفقۃ ولا رحمۃ للخلق، لا یرقی مراتب أہل اللّٰہ .

یعنی جس شخص کے دل میں خلق خداکے لیے شفقت و رحمت کے جذبات انگڑائیاں نہ لے رہے ہوں، اُس کے لیے مرتبہ اہل اللہ تک پہنچنے کی ساری راہیں بند ہیں۔

کل من وقف مع مقام، حُجِب بہٖ .

یعنی جوکسی ایک مقام پر جا کر رُک جائے، وہ اس سے محروم کر دیاجاتا ہے۔

ما دام لسانک یذوق الحرام، فلا تطمع أن تذوق من الحکم والمعارف شیئا .

یعنی اگر تیری زبان حرام لذتوں کی رسیاہو، توپھر تجھے حکمت ومعرفت کی حلاوت ولذت چکھنے کا خیال ترک کر دینا چاہیے۔

الطریق کلہا ترجع إلی کلمتین، تعرف ربک وتعبدہ .

یعنی راہِ(سلوک) کارازبس دو کلمے ہیں : معرفتِ الٰہی اورعبادتِ الٰہی۔

رأس مال المرید المحبۃ والتسلیم .

یعنی (ایک سچے) مرید کا کل سرمایہ محبت اورتسلیم ہے۔

لا یکمل الفقیر حتّٰی یکون محبا لجمیع الناس مشفقا علیہم ساتراً لعوراتہم فمن ادعی الفقر وھو یضد ذٰلک فھو غیر صادق۔

یعنی کوئی فقیر کامل بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا دل سارے لوگوں کی محبت سے معمور نہ ہو جائے، خلق خدا کے لیے اس کے دل میں شفقت ورحمت نہ آ جائے، اور وہ ان کے عیبوں کا پردہ پوش نہ ہو، لہٰذا اگر کوئی دعوائے فقر کرے، اور اس کی حرکتیں اِس کے متضاد ہوں تو سمجھ لینا کہ وہ جھوٹا ہے۔

ملفوظات و تالیفات[ترمیم]

شیخ ابراہیم الدسوقی نے فقہ و تصوف پرایک بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے، لیکن یہ بظاہر ان کی تصانیف معلوم نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے ملفوظات لگتے ہیں جو انھوں نے اپنی مجلسوں کے اندر مریدین کو اِملا کروائے ہیں، کیوں کہ ان کتابوں کا اسلوب تالیفانہ نہیں بلکہ ملفوظانہ ہے۔

  • کتب في فقہ السادۃ الشافعیۃ،
  • الحقائق،
  • الرسالۃ،
  • الجوہرۃ ،
  • الجلیل الفائق الموسوم بالحقائق،
  • برہان الحقائق۔

ان میں جوہرہ زیادہ مشہور ومعروف، اورضخیم ہے۔

آپ کی کرامتیں اس قدر بڑھی ہوئی ہیں کہ ان کا بیان وشمار مشکل ہے۔

وفاتِ حسرت آیات[ترمیم]

شیخ الدسوقی کی سیرت وسوانح پر لکھنے والے جملہ تذکرہ نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ نے صرف تینتالیس(43) سال کی عمر پائی۔ اور 676ھ میں اس دنیا ہی سے انتقال کر گئے۔ مصر میں آپ کی قبر زیارت گاہِ خلائق ہے[1]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مناقب الاقطاب الاربعہ شیخ یونس بن اِبراہیم السامرائی