ابو الخیر اقطع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ ابوالخیر تیناتی الاقطع اکابر اولیاء میں شمار ہوتے ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی حماد تھا، تینات نزدِ مصر آپ کا گاؤں تھا، آپ کا ایک ہاتھ کٹ گیا تھا ایک ہاتھ سے زنبیل بُنا کرتے تھے اور اس کی مزدوری سے گزر اوقات کرتے تھے کسی دیکھنے والے کو محسوس تک نہ ہوتا کہ آپ ایک ہاتھ سے زنبیل بنتے ہیں آپ کو شیروں سے بہت محبت تھی، جنگل میں نکل جاتے تو شیر آپ کے ارد گرد آکر آرام کرتے۔

اقطع کی وجہ[ترمیم]

صاحب نفحات الانس نے آپ کے ہاتھ کٹنے کا واقعہ لکھا ہے کہ آپ نے ایک بار اپنے اللہ سے عہد کر لیا کہ میں زمین سے کوئی بھی چیز ہاتھ بڑھا کر نہ اٹھاؤں گا نہ کھاؤں گا تاوقتیکہ کوئی پھل یا فصل خود زمین سے اٹھ کر میرے منہ تک نہ آجائے یا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے پہنچا نہ دے اس طرح گیارہ روز گزر گئے کوئی چیز نہ آئی اور نہ آپ نے کچھ کھایا نقاہت اور کمزوری سے آپ اس قدر مضمحل ہو گئے کہ نوافل پڑھنے ترک کردیے بارہ دن گزرے تو قیام نماز کی بھی ہمت نہ رہی حتی کہ سنتیں بھی ترک ہونے لگیں پھر مزید دن گزرے تو ادائے فرائض سے بھی محروم ہونے لگے، آپ نے اللہ سے پناہ طلب کی، تو پردۂ غیب سے دو روٹیاں اور تھوڑا سا سالن برآمد ہوا، آپ نے کھاکر اللہ کا شکر ادا کیا، اس طرح ہر روز رات کو دو روٹیاں اور کچھ نہ کچھ چیز آنے لگی، آپ کھالیتے اور یاد الٰہی میں وقت گزارتے، ایک بار لشکر اسلام کے ساتھ بار اوۂ جہاد نکلے اور انطاکیہ پہنچے، آپ نے وہاں لشکر کے ساتھ ہی قیام کیا، جس وادی میں اترے وہاں کچھ پھلدار درخت پھلوں سے لدے نظر آئے، پکے ہوئے پھل اپنی خوبصورتی سے دلوں کو دعوتِ خورش دے رہے تھے، آپ نے دریا کے کنارے نماز ادا کی تو چاروں طرف سے سرخ و سبز پھل جن پر شبنم کے قطرے پڑے ہوئے تھے، نگاہوں کو خیرہ کر رہے تھے نماز سے فارغ ہوئے تو بلا اختیار آپ نے ہاتھ بڑھایا اور کچھ پھل توڑ کر کھانے لگے، ابھی کھا ہی رہے تھے کہ آپ کو وہ عہد یاد آیا جو آپ نے خدا سے کیا تھا آپ نے پھل پھینک دیے، کھایا ہوا تھوکا اور اللہ کے خوف سے کانپنے لگے، اسی اثنا میں لوگوں کا ایک مجمع ٹوکے ہاتھ میں لاٹھیاں اور کلہاڑیاں پکڑے آپہنچے وہ اپنے ایک چور کی تلاش میں تھے، انہوں نے آپ کو چور سمجھ کر پکڑ لیا اور اپنے حاکم کے پاس لے گئے، حاکم نے آپ کو پوچھا کہ تم کون ہو، آپ نے بتایا میں اللہ کا ایک بندہ ہوں، اب حاکم نے دوسرے چوروں سے پوچھا تم اسے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا ہم نے انہیں آج تک نہیں دیکھا حاکم نے کہا: میں خوب جانتا ہوں یہ شخص تمہارا سردار ہے تم اسے بچانے کے لیے جھوٹ بول رہے ہو اور اس کے بچانے کے لیے اپنی قربانی دینا چاہتے ہو چنانچہ حاکم نے فیصلہ کر دیا کہ ہر ایک کا ایک ہاتھ ایک پاؤں کاٹ دیا جائے سب کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور حضرت ابوالخیر کا بھی ہاتھ کاٹ دیا گیا جب پاؤں کاٹنے کی نوبت آئی تو آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر کہا، اللہ میرے ہاتھ نے گناہ کیا تھا کٹ گیا پاؤں نے تو کوئی غلطی نہیں کی، یہ کہتے ہی ایک سوار دوڑا دوڑا آیا اور اتر کر آپ کے پاؤں میں گر گیا اور امیر کو کہنے لگا آپ کیا کر رہے ہیں کیا آسمان کو اللہ کی زمین پر گرانا چاہتے ہو، یہ تو ولی اللہ ہیں بلا وجہ ان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہے امیر خود اٹھا اور آپ کا کٹا ہوا ہاتھ اٹھایا اور چوما اور قدم بوسی کرنے لگا اور معذرت کرنے لگا آپ نے فرمایا: میرے ہاتھ نے ایک خیانت اور بدعہدی کی تھی، اسی وجہ سے کٹا ہے، شامت گناہ کی وجہ سے میرا ہاتھ بھی گیا اور غائب سے آنے والا وظیفہ بھی گیا، آپ لوگوں کا کوئی قصور نہیں۔

اس دن سے آپ نے ایک ہی ہاتھ سے زنبیلیں بنانا شروع کیں اور مزدوری سے گزر اوقات کرنے لگے، ایک ہاتھ سے زنبیل بُننا بھی مجھے اللہ کی مہربانی سے ہوئی ہے ورنہ ظاہراً ناممکن ہے۔

وفات[ترمیم]

آپ 343ھ میں فوت ہوئے۔[1] [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نفحات الانس عبد الرحمن جامی، صفحہ 248شبیر برادرز لاہور
  2. خزینۃ الاصفیاء مفتی غلام سرور قادری مکتبہ نبویہ لاہور