برہان الدین مرغینانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
برہان الدین مرغینانی
(عربی میں: برهان الدين المرغينانيخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اپریل 1136  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رشتون، ازبکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 اکتوبر 1197 (61 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سمرقند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سمرقند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ
خانان قاراخانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد نجم الدین نسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،فقیہ،مؤلف،منصف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ب رہان الدين ابو الحسن علی بن ابی بكر بن عبد الجليل فرغانی مرغينانی (پیدائش: 15 اپریل 1136ء– وفات: 28 اکتوبر 1197ء) صاحب الہدایہ سے معروف ہیں۔

نام[ترمیم]

علی بن ابی بکر بن عبد الجلیل بن خلیل بن ابی بکر فرغانی مرغینانی: ابو الحسن کنیت ابو بکر صدیق کی اولاد میں سے تھے۔ خطاب برهان الدين تھا۔

ولادت[ترمیم]

ان کی ولادت 11رجب530ھ مطابق 15 اپریل 1136ء کو مرغینان میں ہوئی مرغینان جو بلاد فرغانہ میں سے ایک شہر ولایت ماوراء النہر میں واقع ہے جس کے شرق میں کاشغر اور غرب میں سمرقند ہے۔

خطاب[ترمیم]

ان کا خطاب ب رہان الدین اور فقہائے حنفیہ میں بڑے عظیم المرتبت فقیہ ہیں ان کی کتاب الہدایہ فقہ حنفی کی  بنیادی اور امہات الکتب میں شامل سمجھی جاتی ہے۔ مذہب حنفی میں بطور حافظ، مفسر،محقق ،اديب اور کبار مجتہدين میں شمار ہوتے ہیں۔

اساتذہ[ترمیم]

ان کے مشائخ میں نجم الدین ابو حفص عمر بن محمدبن احمد النسفی صدر الشہید حسام الدین عمر بن عبد العزیز بن عمر مازہ اور ابو عمر عثمان بن علی ہیں کہتے ہیں کہ آپ نے ماہِ ذیعقدہ 573ھ میں چہار شنبہ کے روز بعد نماز طہر کے ہدایہ تصنیف کرنا شروع کیا اور 13 سال کے عرصہ میں ختم کیا،اس مدت میں آپ ہمیشہ روزہ دار رہے اور سوائے ایام مہینہ کے کبھی افطار نہ کیا اور کسی کو اپنے روزہ سے خب ر دار نہ کرتے تھے،جب خاد م کھانا لاتا تو آپ اس کو فرماتے کہ رکھ کر چلا جا،جب وہ چلا جاتا تو آپ کسی طالب علم کو بلا کر کھلا دیتے اور ہدایہ کی تصنیف کی وجہ یہ تھی کہ ابتدائے حال میں آپ نے چاہا کہ کوئی مختصر کتاب فقہ میں تالیف کی جائے جس میں ہر طرح کے مسائل ہوں پس آپ نے مختصر قدوری اور جامع صغیر کو پسند کر کے ان کے مسائل تبر کا جامع صغیر کی ترتیب پر فراہم کر کے ہدایۃ المبتدی اس کا نام رکھا اور اس میں اس بات کا وعدہ کیا کہ بشرط فرصت اس کی شرح کفایۃ المنتہیٰ کے نام سے لکھی جائے گی سو حسب وعدہ کفایۃ المنتہیٰ اس مجلد میں تصنیف کی لیکن پھر اندیشہ کیا کہ شاید اس قدر بڑی شرح کو کوئی نہ دیکھے اس لیے اس کی دوسری مختصر شرح حاوی اور نافع ہدایہ نام سے لکھی اور اس میں عیون روایت اور متون ورایت کے جمع کیے۔ آپ کے بعد ایک جم غفیر علما و فضلاء نے آپ کے ہدایہ کی شرحیں لکھیں اور جو احادیث اس میں بطور استناد واقع ہوئی تھیں،ان کی تخریج کی۔ آپ سے ایک جم کی غفیر علما نے تفقہ کیا جن میں سے آپ کی اولاد امجاد شیخ الاسلام جلال الدین محمد اور نظام الدین عمر اور شیخ الاسلام عماد الدین بن ابی بکر بن صاحب ہدایہ اور شمس الائمہ کردری اور جلال الدین محمود بن حسین استروشنی والد مفتی صاحب فصول استر و شینہ وغیرہم ہیں۔

مجتہد[ترمیم]

ابن کمال پاشا انہیں مجتہدین فی الکمال میں شمار کرتے ہیں اپنے والد اور چچا صدر الشہید سے علم حاصل کیا[3] آپ کی بزرگی اور تقدم کا آپ کے معاصرین مثل امام فخر الدین قاضی خان اور محمود بن احمد بن عبد العزیز مؤلف محیط و ذخیرہ اور شیخ زین الدین ابو نصر احمد بن محمد بن عمر عتابی اور ظہیر الدین محمد بن احمد بخاری مؤلف فتاویٰ ظہیریہ وغیر ہم نے اقرار کیا۔

تالیفات[ترمیم]

انکی مشہور تالیفات میں سے چند کے نام یہ ہیں

  • كتاب مجموع مختارات النوازل
  • كتاب التجنيس والمزيد
  • كتاب فی الفرائض
  • كتاب المنتقی
  • كتاب بدایۃ المبتدی
  • كتاب کفایۃ المنتہی
  • كتاب الہدایہ یہ کتا ب تو آپ کی اشہر تالیفات سے ایسی معتمد علیہ ہے کہ علمائے حنفیہ کے فتویٰ کا مدارا سی پر ہے۔
  • مناسك الحج
  • کتاب نشر المذہب

وفات[ترمیم]

ان کی وفات 14 ذی الحجہ593ھ مطابق 28 اکتوبر 1197ء کو ہوئی۔ تدفین سمرقند میں ہوئی تھی۔[4]  [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16257195v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16257195v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. موسوعہ فقہیہ ،جلد11 صفحہ 445، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
  4. كتاب الفوائد البہیہ - صفحہ 141 شيخ محمد بن عبد الحي لکھنوی
  5. اردو دائرہ معارف اسلامیہ، جلد20، صفحہ 457،جامعہ پنجاب لاہور