ارشد القادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ارشد القادری ہندوستان میں ایک حنفی سنی اسلامی مسلم عالم دین تھے۔ ان کا تعلق بریلوی مسلک سے تھا۔

نام[ترمیم]

اصل نام غلام رشید ہے لیکن قلمی نام ارشد القادری سے مشہور ہیں والد عبد اللطیف رشیدی

ولادت[ترمیم]

آپ5 مارچ 1925ء اتر پردیش کے ضلع بلیا کے سیدپورہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم گھر کے علمی ماحول میں حاصل کی ، پھر تقریباً آٹھ سال حافظ ملت عبدالعزیز اشرفی بانی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کی آغوش تربیت میں رہ کر اکتساب علم کیا ۔۱۹۴۴ء میں دارالعلوم اشرفیہ کے سالانہ جلسہ ٔ دستار بندی میں آپ کو سند فضیلت سے نوازا گیا ۔اس کے بعد آپ تدریس کے لیے ناگ پور پھر وہاں سے 1952 میں جمشید پور تشریف لے آئے۔ نصف صدی سے زائد پر محیط تدریسی دور میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ نے آپ سے اکتساب علم کیا آپ ایک صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ تحقیقی ذہن وفکر رکھنے والے صاحب قلم بھی تھے ۔آپ کی نثر میں بلا کی جاذبیت وہ کشش پائی جاتی ہے میرے اس دعوے کی واضح دلیل

تصنیفات[ترمیم]

آپ کی تین درجن سے زائد تصنیفات وتالیفات ہیں جن میں

  • زلزلہ ،
  • زیروزبر،
  • لالہ زاربطور خاص قابل ذکر ہیں ۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

  • آپ نے پورے ملک میں مدارس ومساجد کا ایک جال بچھا دیا ہے۔
  • آپ کی دو درجن سے زائد تصانیف متعدد کتب پر مقدمہ اور تقریظ جام نور،جام کوثر،رفاقت، شان ملت کے علاوہ ملک کے مختلف جرائد و رسا ئل میں آپ کے شہہ پار ے آپ کی ادبی حیثیت کا ثبوت ہیں۔
  • ملک سے باہر بھی آپ نے کئی ادارے قائم کئے ہیں ۔جن کی مجموعی تعداد تین درجن سے زائد ہے جن میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیا دہلی،ادارۂ شرعیہ ،عالمی دعوتی، اصلاحی تحریک دعوت اسلامی ،ورلڈ اسلامک مشن لندن، جامعہ مدینۃالاسلام ہالینڈ، دارالعلوم علیمیہ سورینام امریکا، مدرسہ فیض العلوم جمشید پور وغیرہ کاقیام آپ کے زرین کارنامے ہیں ۔
  • انہوں نے ملی ،جماعتی ،مفاد میں ملک وبیرون ملک سینکڑوں مضبوط ومستحکم قلعہ تعمیر کرنے کے باوجود اپنے اور اپنے اہل و عیال کیلئے ایک جھونپڑی بھی نہیں بنا ئی ۔

القابات[ترمیم]

قائد اہل سنت، رئیس القلم

وفات[ترمیم]

ارشد القادری 29 اپریل 2002ء) کو وفات پا گئے۔

بیرونی روابط[ترمیم]