جاحظ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جاحظ
(عربی میں: أبو عثمان عمر ابن بحر)،(عربی میں: الجاحظ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Al-Jaahith - African Arab Naturalist - Basra - al jahiz.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 775[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 868 (92–93 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات بلندی سے گرنا  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ابراہیم النظام  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ادیب
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں الرسائل (کتاب)، البیان والتبیین، کتاب الحیوان، البخلاء، المحاسن والاضداد  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ابو عثمان عمر بن بحر بن محبوب کنانی بصری عہد عباسی کا عربی زبان کا نامور ادیب تھا۔ اس کی آنکھیں بد وضع اور ابھری ہوئی تھیں اس لیے جاحظ کہلایا۔

ولادت[ترمیم]

جاحظ160ھ بمطابق 775ء بصرہ میں پیدا ہوا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

ان کا خاندان بےحد غریب تھا اور ان کے دادا ساربان تھے۔جاحظ خود بچپن میں بصرہ کی نہروں کے کنارے مچھلیاں بیچا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بدہیت تھے جس کی وجہ سے لوگ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔عربی لفظ جاحظ کا مطلب ایسا شخص ہے جس کے دیدے باہر کو نکلے ہوئے ہوں لیکن جاحظ نے ان رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا اور تہیہ کر لیا کہ اپنے مخالفوں کو علم کی روشنی سے شکست دیں گ[4]ے۔

معتزلہ سے تعلق[ترمیم]

اسے اصمعی اور ابو عبیدہ جیسے نعت و روایت کے بلند پایہ علما اور نقادوں کی سرپرست حاصل رہی۔ ابو اسحق نظام معتزلی سے علم کلام میں سند حاصل کی اور انہی کا ہم خیال ہو گیا۔ اپنی تحریروں میں بھی معتزلہ کی حمایت کرتا۔ اس نے عرب انشاء پردازوں سے بھی استفادہ کیا۔

مقبولیت[ترمیم]

اپنی عمر کا بیشتر حصہ بے فکری اور آسودگی کے ساتھ اپنے وطن میں رہ کر تصنیف و تالیف میں گزارا۔ اس نے انشاء پردازوں کو پرانی طرز سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے کلام میں اشارہ کا بُعد، عبارت کا قُرب اور استعارہ کی قلت ہے۔ وہ اپنے خطوط و رسائل، مضامین و تصانیف کی وجہ سے گورنروں میں مقبول اور شہر کے باعزت لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔

وہ طنز و مزاح کا خوگر اور مروجہ رسومات و آداب کی ہنسی اڑانے کا عادی تھا۔

مامون الرشید، معتصم باللہ، واثق باللہ، متوکل علی اللہ کے زمانہ میں تلاش معاش کے چکر میں رہا۔ اس کے بعد محمد بن عبدالملک کی تینوں وزارتوں میں رہا۔

وفات[ترمیم]

جاحظ کی وفات 255ھ بمطابق 868ء میں ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

جاحظ کی تصانیف کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔

  • البیان والتبیین
  • کتاب الحیوان
  • البخلا
  • المحاسن والاضداد یہ غلط طور پر منسوب ہے [5]
  • العدید من الرسائل یا رسائل الجاحظ
  • البرصان والعرجان
  • التاج فی الاخلاق الملوک
  • الامل ولمامول
  • التبصرہ فی التجارہ
  • البقال
  • فضل السودات علی البیضات
  • اخلاق الشطار
  • اخلاق الملوک
  • البیان و التبیین
  • تحصین الاموال
  • جوابات کتاب المعرفہ
  • حانوت عطار
  • الرد علی اصحاب الالہام
  • الرد علی المشبہ
  • ردالنصاری
  • رسالہ فی الحسد
  • سحر البیان
  • سلوہ الحریف بمناظرہ الربیع و الخریف
  • عناصر الادب
  • فضیلہ المعتزلہ
  • کتاب آی القرآن
  • کتاب الابل
  • کتاب الاخبار
  • کتاب الاخوان
  • کتاب الاستبداد و المشاورہ فی الحروب
  • کتاب الاستطاعہ
  • کتاب الاصنام
  • کتاب الاعتزال
  • کتاب الامامہ
  • کتاب الامثال
  • کتاب الامصار
  • کتاب الانس و السکن
  • کتاب البخلا
  • کتاب البغل
  • کتاب البلدان
  • کتاب التربیع
  • کتاب التسویہ بین العرب و العجم
  • کتاب التعبیر
  • کتاب التفکر و الاعتبار
  • کتاب الجواری
  • کتاب الحجر و الفتوہ
  • کتاب الحزم و الجزم
  • کتاب الحیوان
  • کتاب الخطاب فی التوحید
  • کتاب الدلال
  • کتاب السلطان
  • کتاب السلوک
  • کتاب السودان
  • کتاب الشارب و المشروب
  • کتاب الصرحاء و الہجناء
  • کتاب صناعہ الکلام
  • کتاب الصولجان
  • کتاب الطبایع
  • کتاب الطفیلیین
  • کتاب العثمانیہ
  • کتاب العُرْس و العرائس
  • کتاب الفتیان
  • کتاب الفخر بین عبد شمس و بنی مخزوم
  • کتاب فخر القحطانیہ و العدنانیہ
  • کتاب القرآن
  • کتاب اللصوص
  • کتاب المزاح و الجد
  • کتاب المعرفہ
  • کتاب المعلمین
  • کتاب المغنیین
  • کتاب مناقب ضدالخلافہ و فضائل الاتراک
  • کتاب الناشی و المتلاشی
  • کتاب النبی و المتنبی
  • کتاب النجم و جوابہ
  • کتاب النرد و الشطرنج
  • کتاب النساء
  • کتاب الوعد
  • کتاب الوکلا و المتوکلین
  • کتاب الہدایا
  • مسائل کتاب المعرفہ
  • معانی القرآن
  • مقالہ فی اصول الدین
  • نظم القرآن
  • نقض الطب
  • نوادر الجن:[6]
  • الحَیَوان
  • البُخَلا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118680919 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11903850b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119038 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. ڈارون سے ہزار برس قبل نظریۂ ارتقا پیش کرنے والا مسلمان مفکر کون تھا؟
  5. دائرہ معارف اسلامیہ جلد 12، صفحہ 798،لاہور
  6. انسائیکلوپیڈیا اسلامیکا، جاحظ