جعفر بن محمد ابوالمعشر البلخی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو محشر
ابو محشر، جعفر بن محمد البلخی
ایک لاطینی زبان میں ترجمہ De Magnis Coniunctionibus ("Of the great conjunctions")، وینس، 1515.
ایک لاطینی زبان میں ترجمہ De Magnis Coniunctionibus ("Of the great conjunctions")، وینس، 1515.

معلومات شخصیت
پیدائش 10 اگست 787  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 مارچ 886 (99 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
محافظہ واسط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بلخ، بغداد
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہر فلکیات،منجم،ریاضی دان،فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ماہرِ فلکیات اور ماہرعلم نجوم جعفر بن محمد ابوالمعشر البلخی جسے انگریزی میں Albumasar کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابو معشر جعفر بن محمد بن عمر البلخی، اسلام میں علمائے نجوم کے سب سے بڑے اور یورپ میں قرونِ وسطی میں سب سے زیادہ شہرت رکھنے والے سائنس دان سمجھے جاتے ہیں، وہ البوماسر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بلخ (مشرقی خراسان) میں 787ءم یں پیدا ہوئے اور طلبِ علم کے لیے بغداد آئے، الفہرست کے مطابق ان کا گھر باب خراسان کے مغربی جانب میں تھا، وہ پہلے اصحابِ حدیث میں سے تھے پھر علمِ حساب اور ہندسہ کی طرف آئے اور پھر علمِ نجوم کی طرف راغب ہو گئے، وہ واسط میں بھی رہے اور وہیں پر 28 رمضان 272ھ کو وفات پائی۔

علمی دور[ترمیم]

ابو معشر نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بغداد میں خلیفہ المامون کے دورِ خلافت میں بحیثیت محدث شروع کیا۔ انہوں نے قبل از اسلام عربی تقویم اور خلفائے راشدین کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کیا۔ 820ء میں اس کی زندگی میں ایک اہم واقعہ رونما ہوا جس سے اس کی علمی سرگرمیوں کا رخ بدل گیا۔ یہ واقعہ ایک مباحثہ تھا جو اس کے اور مشہور فلسفی ابو یوسف یعقوب بن اسحاق الکندی کے مابین رونما ہوا۔ الکندی بیک وقت مشہور دانشور و فلسفیوں، افلاطون، ارسطو، شارمین ارسطو، نوافلاطینیوں، حران کے صائبوں کی ہرمیس اور اغوٹاڈیمون سے منسوب کتابوں جیومیٹری، موسیقی، ہیئت اور علمِ نجوم میں دلچسپی رکھتاتھا۔ اُس نے ابومعشر کی سوچ میں وسعت پیدا کی۔ ابو معشر کی شہرت بطور ماہرِ نجوم اپنے معاصرین میں اور بعد کے دور میں بھی بہت زیادہ تھی ’’اثراتِ کواکب‘‘ کے ضمن میں وہ مسلمانوں کا استاد تھا۔ اس نے علم نجوم کی ضرورت اور اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ جو فلسفیانہ دلائل دیے انہیں اپنی کتاب ’’اثبات علم نجوم‘‘ میں پیش کیے۔ ابومعشر کی تصانیف میں وہ سب اثرات نمایاں ہیں جو ایران اور ہندوستان کی ثقافتی تحریکوں سے عربی علوم پر مرتب ہو رہے تھے، لیکن ابو معشر نے اپنے معاصرین کے علم وفضل سے خوب استفادہ کیا۔ اس کی متعدد

تالیفات[ترمیم]

علمِ نجوم پر انہوں نے بہت ساری تصانیف چھوڑی ہیں، ابن الندیم نے تیس سے زائد کتب کا تذکرہ کیا ہے، مگر جو تصانیف ہم تک پہنچی ہیں وہ یہ ہیں: کتاب المدخل الکبیر جو کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہوچکی ہے، کتاب احکام تحاویل سنی الموالید یہ کتاب بھی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر کئی بار شائع ہوچکی ہے۔

  • کتاب موالید الرجال والنساء
  • کتاب الالوف فی بیوت العبادات
  • کتاب الزیج الکبیر
  • کتاب الزیج الصغیر
  • کتاب الموالید الکبیر
  • کتاب الموالید الصغیر
  • کتاب الجمہرہ
  • کتاب الاختیارات
  • کتاب الانوار
  • کتاب الامطار والریاح وتغیر الاہویہ
  • کتاب السہمین واعمار الملوک والدول
  • کتاب اقتران النحسین فی برج السرطان
  • کتاب المزاجات، کتاب تفسیر المنامات من النجوم
  • کتاب الاقالیم۔
  • زیجات: یہ فلکی جد اول اور نقشوں کا مجموعہ ہے جو بدقسمتی سے ضائع ہوچکا ہے، اس میں اہلِ ہند کے نظریہ ہزار سالہ ادوار کے مطابق سیاروں کی حرکات کا حساب لگایا گیا ہے۔
  • المدخل الکبیر: یعنی علم نجوم کا عظیم مقدمہ۔ یہ عربی زبان کی ایک تالیف ہے۔ لاطینی زبان میں اس کا ترجمہ دو مرتبہ ہوچکاہے۔

ابومعشر اس نے لمبی عمر پائی تھی۔ 886ء میں اس کا انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Arrival of the Pagan Philosophers in the North:A Twelfth Century Florilegium in Edinburgh University Library, Charles Burnett, Knowledge, Discipline and Power in the Middle Ages, ed. Joseph Canning, Edmund J. King, Martial Staub, (Brill, 2011), 83;"...prolific writer Abu Ma'shar Ja'far ibn Muhammad ibn 'Umar al-Balkhi, who was born in Khurasan in 787 A.D. and died in Wasit in Iraq in 886..."
  2. Yamamoto 2007.