بیت الحکمت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عباسیہ کتب خانے میں سائنسداں، مقامات الحریری۔

عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے عہد میں ایک ایسے مرکز کا اہتمام اور قیام کیا جو سائنسی علوم پر تحقیقات کرتا اور علمی تحقیقات کے ذریعے عوام کو جدید نظریات سے آگاہ کرتا۔ اس کو شہر بغداد میں قائم کیا گیا۔

عباسی خلیفہ مامون الرشید کے عہد میں بغداد میں بیت الحکمت ایک کتب خانہ تھا۔ جہاں فلسفی، سائنس دان اور علماءِ دین تحقیقی کام کیا کرتے تھے۔

عباسی دور کے سائنسی تحقیقات پر مبنی کتابیں اور تحریریں۔


بیت الحکمت آج ایک خیالی جگہ لگتی ہے۔ اب اس قدیم لائبریری کی کوئی نشانیاں باقی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اس عظیم لائبریری کو 13ویں صدی میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس لیے اب ہمیں یہ نہیں معلوم کہ بغداد میں اس کا اصل مقام کہاں تھا اور یہ کیسی دکھائی دیتی تھی۔

لیکن یہ لائبریری مسلمانوں کے سنہرے دور میں علم و دانش کا گہوارہ تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ریاضی کے انقلابی تصورات نے جنم لیا جن میں کامن زیرو یا صفر کا ہندسہ اور ہمارے جدید دور کے 'عربی' اعداد جیسی دریافتیں شامل ہیں.


یہ آٹھویں صدی میں اس وقت کے مسلمان خلیفہ ہارون الرشید عباسی کی ذاتی لائبریری کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ تاہم 30 سال بعد اسے ایک عوامی اکیڈمی بنا دیا گیا.

وسعت[ترمیم]

کتابوں کی تعداد کے لحاظ سے بیت الحکمت کا موازنہ آج لندن کی برٹش لائبریری اور پیرس کی ببلیوتھک نیشنل لائبریری سے کیا جا سکتا ہے۔ بیت الحکمت اپنے زمانے میں دنیا کا ایک ایسا ادارہ بن گیا تھا جس کا سائنس کی مختلف شاخوں اور سماجی علوم کی تعلیم میں کوئی ہمسر نہیں تھا۔ وہاں ریاضی، فلکیات، طب، کیمسٹری، ارضیات، فلسفہ، ادب اور آرٹس کے علاوہ کیما گری اور علمِ نجوم جیسے مشکوک مضامین بھی میسر تھے


منگول حملے[ترمیم]

بیت الحکمت کو سنہ 1258 میں منگولوں کے حملے کے دوران تباہ کر دیا گیا تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اُس وقت دریائے دجلہ میں اتنی کتابیں اور قلمی نسخے پھینکے گئے کہ دریا کا پانی کالا ہو گیا۔ تاہم اس عظیم الشان ادارے میں ہونے والے علمی کام اور دریافتوں نے آج کی جدید دنیا کی بنیاد رکھی جیس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ریاضی کی ایک ایسی موثر اور تجریدی زبان متعارف کر دی جسے بعد میں اسلامی سلطنت، یورپ اور بالآخر پوری دنیا نے اپنا لیا.


جدید ریاضی کی بنیاد[ترمیم]

الخوارزمی نے پہلی مرتبہ کواڈریٹک اکویشنز کو حل کرنے کا ایک باقاعدہ طریقہ پیش کیا یعنی ایک ایسا فارمولا جو صرف ایک تبدیل پذیر شے کی دو درجی مساوات کو حل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس شعبے میں اپنی دریافتوں کی وجہ سے الخوارزمی کو بابائے الجبرا کہا جاتا ہے۔ ریاضی کے اس شعبے کا نام الجبرا بھی الخوارزمی نے ہی رکھا تھا۔ عربی کے اس لفظ کے معنی ہیں ٹوٹے ہوئے حصوں کو جوڑنا۔ سنہ 821 میں عباسی خلیفہ نے الخوارزمی کو بیت الحکمت میں ماہرِ فلکیات اور چیف لائبریرین مقرر کیا.

برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر جم الخلیلی کہتے ہیں کہ 'ہمارے لیے یہ مکمل تفضیلات اہم نہیں ہیں کہ بیت الحکمت کہاں اور کب قائم کیا گیا تھا۔ اس سے بہت زیادہ دلچسپ خود وہاں کے سائنسی نظریات کی تاریخ ہے اور یہ کہ اس کے نتیجے میں وہ کیسے پروان چڑھے.

جم الخلیلی کا کہنا ہے کہ الخوارزمی نے اپنے مقالے میں مسلمانوں کو ڈیسیمل یعنی اعشاریہ کے عدد کا نظام متعارف کرایا اور لیونارڈو ڈا پیسا سمیت دوسرے دانشوروں نے اسے یورپ میں پھیلایا.

جدید ریاضی پر فیبوناچی کے انقلابی اثر کا سہرا بڑی حد تک الخوارزمی کے سر جاتا ہے۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً چار صدیوں کا فاصلہ ہے لیکن یہ دونوں ایک قدیم لائبریری کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ قرونِ وسطی کے زمانے کا سب سے مشہور ماہرِ ریاضی ایک دوسرے بڑے مفکر کے کندھوں پر کھڑا ہے، ایک ایسا مفکر جس نے اپنا بے مثال علمی کام اسلام کے سنہرے دور میں قائم کیے جانے والے ایک عظیم ادارے میں کیا.

تاریخ[ترمیم]

بنو امیہ کے دور خلافت میں ملک شام شہر دمشق میں، علم کی طرف زور دیتے ہوئے کتابوں کو ذخیرہ کرنے اور کتب خانے قائم کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ جب خلیفہ منصور امیہ خلافت کی جگہ سنبھالا تو اپنا دار الخلافہ شہر بغداد کیا۔ شہر بغداد کی بنیاد اور آباد بھی منصور نے ہی کیا تھا۔ کتب خانوں کا سلسہ جاری رہا۔ ہارون الرشید کے دور میں مستحکم ہوا تو مامون کے دور میں منظم ہوا اور شہرہ آفاق بھی ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]