مدرسہ مستنصریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مدرسہ مستنصریہ خلافت عباسیہ کے اواخر عہد کی تعمیرات میں سے ایک ہے اورسقوط بغداد سے 30 سال قبل اِس کی بنیاد رکھی گئی اور اِن تیس سالوں میں اِس کی شان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اِس کے سامنے تو نظام الملک طوسی کا تعمیر کروایا ہوا مدرسہ نظامیہ بھی ماند پڑ گیا۔ یہ مدرسہ بغداد کے مدرسوں میں اِنتہائی جامع و عالیشان طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔اسلامی عہد زریں میں یہ مدرسہ اپنے عروج کو پہنچا ہوا تھا۔ اب تک مسلم دنیا کے قدیم ترین مدارس میں شامل ہے۔

مدرسہ کی بنیاد[ترمیم]

اِس مدرسہ کی بنیاد سنہ 625ھ مطابق 1227ء میں رکھی گئی جبکہ خلیفہ عباسی المستنصر باللہ کی خلافت کو مکمل 2 سال گزر چکے تھے۔ مدرسہ کی تعمیر سنہ 631ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یوں تعمیر میں کل 7 سال صرف ہوئے۔ یہ مدرسہ دریائے دجلہ کے قریب تعمیر کیا گیا۔ موجودہ مقام اِس مدرسہ کا شارع المتنبی کے قریب ہے جو بغداد میں واقع ہے۔

مدرسہ عہد عباسی میں عروج پر[ترمیم]

مورخ اسلام امام ذہبی بیان کرتے ہیں کہ مدرسہ مستنصریہ کے وقف کا میزان ہی صرف 70 ہزار مثقال سے زائد تھا۔ اِس مدرسہ کی بنیاد 625ھ مطابق 1228ء میں رکھی گئی اور یہ عمارت 631ھ مطابق 1234ء میں مکمل ہوئی۔ تعمیر پر سات سال صرف ہوئے۔ اِس مدرسہ میں ایک کتب خانہ قائم کیا گیا تھا جس میں 160 اونٹوں پر کتب لاد کر لائی گئی تھیں جو نہایت نفیس و عمدہ تھیں۔ 248 فقہا چاروں مذاہب کے اِس مدرسہ میں طالب علم تھے اور اِس میں 4 مدرس تھے۔ حدیث، نحو اور طب، فرائض کے علاحدہ علاحدہ اُساتذہ مقرر تھے۔ اِن سب کے طعام و قیام اورخوراک اعلیٰ کا بندوبست کا پورا پورا اِنتظام کیا جاتا تھا۔ 300 یتیم بچے اِس مدرسہ میں تعلیم حاصل کیا کرتے تھے اور اُن کی پرورش و تعلیم کی خاطر بے اِنتہاء مال وقف کیا جاتا تھا۔ امام ذہبی نے اُن گاوں اور زمینوں کی فہرست بھی دی ہے جن کی آمدن صرف اِس مدرسہ کے لیے وقف تھی۔[1]

کتب خانہ[ترمیم]

مدرسہ مستنصریہ کے کتب خانہ کے لیے خود خلیفہ المستنصر باللہ نے 80 ہزار کتب فراہم کیں۔ کتب نادرہ کا یہ مجموعہ آئندہ تیس سالوں میں 4 لاکھ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ بعض علمائے اسلام نے بھی اپنی تصانیف اِس مدرسہ کو فراہم کیں تاکہ طلبہ اُن سے مستفید ہوسکیں۔

گھڑیال نصب کیا جانا[ترمیم]

632ھ مطابق 1235ء میں مدرسہ نظامیہ کے داخلی دروازہ کے سامنے پانی کی مدد سے چلنے والا گھڑیال نصب کیا گیا جو اوقات صلوٰۃ کی نشان دہی کے لیے گھنٹہ بجایا کرتا تھا۔ یہ گھڑیال رات اور دن کے گھنٹوں کا تعین کرتا تھا جس سے وقت معلوم کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔[2]

مدرسہ سقوط بغداد میں[ترمیم]

ماہ محرم الحرام 656ھ مطابق جنوری 1258ء میں جب ہلاکو خان نے بغداد پر لشکر کشی کی اور خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو گیا تو شہر بغداد میں تاتاریوں کی غارت گری عام ہوئی۔ اِسی لوٹ مار اور غارت گری کے نتیجے میں شہر بغداد کی قدیمی عمارات سمیت کئی نادر تعمیراتی عمارات بھی منہدم کر دی گئیں مگر سقوط بغداد کے اِس حملہ میں مدرسہ مستنصریہ منہدم ہونے سے بچ گیا جو بغداد میں تاتاریوں کی غارت گری میں محفوظ رہنے والی ایک دو عمارات میں سے ہے۔

مدرسہ نظامیہ کے ساتھ الحاق[ترمیم]

سال 795ھ مطابق 1393ء میں مدرسہ مستنصریہ کا الحاق مدرسہ نظامیہ کے ساتھ کر دیا گیا۔ اُس وقت مدرسیہ مستنصریہ کی بنیاد کو 170 سال گزر چکے تھے۔ اِس الحاق کے نتیجے میں مدرسیہ مستنصریہ کے کتب نادرہ کا مجموعہ بہت متاثر ہوا۔ کئی کتب منتشر ہوگئیں اور بعض غائب کر دی گئیں۔ اِس کام میں کئی انفرادی شخصیات شامل تھیں۔ بعد ازاں یہ کتابوں کے نادر نسخے اُن کے ہمراہ دوسرے ممالک منتقل ہو گئے۔

سلطنت عثمانیہ کے عہد میں[ترمیم]

سال 940ھ مطابق 1534ء میں عثمانی سلطان سلیمان اول نے جب بغداد پر حملہ کیا اور صفویوں کو شکست ہوئی تو بغداد براہِ راست سلطنت عثمانیہ کا صوبہ بن گیا۔ عثمانی حکومت قائم ہو جانے پر مدرسہ مستنصریہ کو بند کر دیا گیا اور مدرسہ سے تمام کتب نادرہ کے مجموعہ کو عثمانی دار الحکومت استنبول لے جایا گیا جہاں وہ شاہی کتب خانہ کی زینت بن گئیں۔

مدرسہ موجودہ دور میں[ترمیم]

1345ھ مطابق 1927ء میں اِس مدرسہ کو جدید علوم سے آراستہ کیا گیا اور 1382ھ مطابق 1963ء میں جامعۃ المستنصریہ کا حصہ بنا دیا گیا جو ابھی تک قائم ہے۔ اس مدرسہ کو مزید تعمیرات کے مراحل سے گزرتے ہوئے دوبارہ اصل شکل میں ڈھال دیا گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، تذکره المستنصر باللہ جعفر، صفحہ 501۔
  2. Donald Routledge Hill (1991), "Arabic Mechanical Engineering: Survey of the Historical Sources", Arabic Sciences and Philosophy: A Historical Journal (Cambridge University Press) 1: 167–186 [180]